Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 421

حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يا رسول الله أتأذنذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مُجَاهَدَةَ الْمَرْءِ فِي بِرِّ وَالِدَيْهِ هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي بِرِّهِمَا [421] حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يعلى بن عطاء عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ اَتَاْذَنُ لِیْ فِی الْجِھَادِ ؟ قَالَ اَلَکَ وَالِدَانِ قَالَ نعم قال اذھب فبر ھما فذھب وھو یحمل الرکاب ۔ (2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیاآپ مجھےجہاد کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘ تو وہ شخص چلا گیا حالانکہ وہ رکاب اٹھا کر آیا تھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو أَنَّ رَجُلًا، ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 421

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 422

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ حدثنا أبو الطاهر بن السرح حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي هَاجَرْتُ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَدْ هَجَّرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ" قَالَ أَبَوَايَ2 قَالَ "أَذِنَا لَكَ" قَالَ لَا قَالَ "ارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلَّا فبرهما" 3. [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص یمن سےہجرت کر کے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ہجرت کر لیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کی ہے‘ لیکن جہاد ( کامعاملہ باقی ہے) کیا یمن میں تمہارا کوئی عزیز ہے اس نے عرض کی میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی؟ اس جے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم واپس جاؤ اور ان دونوں سے اجازت لو اگر وہ تمہیں اجازت دیدیں ‘ تو تم جہاد میں حصہ لو ورنہ تم ان کی خدمت کرو‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْيَمَنِ فقَالَ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ

Hadith 422

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 423

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ1 بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ وَقَدْ أَسْلَمَ وَقَالَ قَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ "قَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا" وَأَبَى أَنْ يخرج معه"2. [5: 28]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتےہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ہجرت کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ اس نے اسلام قبول کیا : تو اس نے عرض کی: میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان دونوں کو ہنساؤ۔ نبی اکرمﷺ نے اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ آپ کے ساتھ (جہاد کے لئے ) جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 423

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 424

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَأَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فيشتريه فيعتقه" 1. [1: 2]

حضرت ابوہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’کوئی بھی شخص اپنے باپ کو بدلا نہیں دے سکتا‘ ماسوائے اس صورت حال کے ‘ کہ وہ اس ( باپ ) کو غلام کی حیثیت میں پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدٌ وَأَبُو عَوَانَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 424

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 425

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أبو خثيمة قال حدثناذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَّانِ لِلْمَرْءِ بِالْمُبَالَغَةِ فِي بِرِّ الْوَالِدِ [425] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خثيمة قال حدثنا اَنَّ رَجُلًا اَتَی اَبَا الدَّرْدَاءِ فقَالَ اِنَّ اَبِیْ لَمْ یَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجْتُ وَاِنَّہٗ الْاٰنَ یَاْمُرُنِیْ بِطَلَاقِھَا قَالَ مَا اَنَا بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تَعُقَّ وَالِدَکَ وَلَا اَنَا بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَ امْرَاَتَکَ غَیْرَ اَنَّکَ اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَحَافِظْ عَلٰی ذٰلِکَ اِنْ شِئْتَ اَوْدَعْ قَالَ فَاَحْسِبُ عَطَاءً قَالَ فَطَلَّقَھَا ۔ (2:1)

ابو عبد الرحمان سلمی بیان کرتے ہیں :ایک شخص حضرت ابو درداء ؓ کے پاس آیا اور بولا : میرے والد نے بہت اصرار کر کے میری شادی کروائی اور اب وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں اس عورت کو طلاق دیدوں۔ حضرت ابو درداء ؓ ‘ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی ہدایت نہیں کروں گا کہ تم اپنے باپ کی نافرمانی کرو اور میں تمہیں یہ بھی کہوں گا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو‘ البتہ اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں وہ بات سنا دیتا ہوں جو میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہے۔ میں نے آپﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہونے سنا ہے: ’’والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ اب اگر تم چاہو ‘ تو اس کی حفاظت کرو اور اگر چاہو‘ تو چھوڑ دو‘‘۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے ‘ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی تھی :پھر اس شخص نے اس عورت کو طلاق دیدی تھی۔

فَطَلَّقَھَا ← فَاَحْسِبُ عَطَاءً ← اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَحَافِظْ عَلٰی ذٰلِکَ اِنْ شِئْتَ اَوْدَعْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَ امْرَاَتَکَ غَیْرَ اَنَّکَ اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ مَا ← بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تَعُقَّ وَالِدَکَ وَلَا ← مَا ← اِنَّ اَبِیْ لَمْ یَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجْتُ وَاِنَّہٗ الْاٰنَ یَاْمُرُنِیْ بِطَلَاقِھَا ← اَنَّ رَجُلًا اَتَی اَبَا الدَّرْدَاءِ ← أبو خثيمة ← أَبُو يَعْلَى ← حدثناذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَّانِ لِلْمَرْءِ بِالْمُبَالَغَةِ فِي بِرِّ الْوَالِدِ ← أبو خثيمة ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 425

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 426

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ وعمر بن علي عن بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ فَأَمَرَهُ بِطَلَاقِهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ "أطع أباك" 1.

حمزہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ حضرت عمرؓ کو وہ عورت اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ ہدایت کہ کہ وہ اس عورت کو طلاق دیدیں۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ نے کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اپنے والد کی بات مان لو۔

أَطِعْ أَبَاكَ ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← تَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ فَأَمَرَهُ بِطَلَاقِهَا ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانُ وعمر بن علي ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 426

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 427

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ حَدَّثَنَا علي بن الجعد أنبأنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي بِطَلَاقِهَا فَأَبَيْتُ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَا عَبْدَ اللَّهِ طلقها" 1. [1: 2]

حمزہ بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری ایک بیوی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا ‘ لیکن میرے والد اسے پسند نہیں کرتےتھے ۔ انہوں نے مجھے اسے طلاق دینے کی ہدایت کی۔ میں نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ حضرت عمرؓ نے اس کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عبد اللہ ! تم اس عورت کو طلاق دیدو۔

رَسُولُ اللَّهِ "يَا عَبْدَ اللَّهِ طلقها" ← ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ← كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي بِطَلَاقِهَا فَأَبَيْتُ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Hadith 427

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 428

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي بن سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ "فقَالَ قَدْ غبر علينا بن أَبِي كَبْشَةَ" فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبد الله والذيذكر اسْتِحْبَابِ بِرِّ الْمَرْءِ وَالِدَهُ وَإِنْ كَانَ مُشْرِكًا فِيمَا لَا يَكُونُ فِيهِ سَخَطُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا [428] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي بن سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ "فقَالَ قَدْ غبر علينا بن أَبِي كَبْشَةَ" فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي وَالَّذِیْ اَکْرَمَکَ وَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ لَئِنْ شِئْتَ لَآتِیَنَّکَ بِرَاْسِہِ فقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا وَلَکِنْ بِرَّ اَبَاکَ وَاَحْسِنْ صُحْبَتَہٗ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ اَبُوْ کَبْشَۃَ ھٰذَا وَالِدُ اُمِّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَدْ خَرَجَ اِلَی الشَّامِ فَاسْتَحْسَنَ دِیْنَ النَّصَاریٰ فَرَجَعَ اِلٰی قُرَیْشٍ وَاَظْھَرَہُ فَعَاتَبَتْہُ قُرَیْشٌ حَیْثُ جَاءَ بِدِیْنٍ غِیْرِ دِیْنِھِمْ فَکَانَتْ قُرَیْشٌ تُعَیّرُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَنْسِبُہٗ اِلَیْہِ یَعْنُونَ بِہٖ اَنَّہٗ جَاءَ بِدَیْنٍ غَیْرِ دِیْنِنِمْ کَمَا جَاءَ اَبُوْ کَبْشَۃَ بِدَیْنِ غَیْرِ دِیْنَھِمْ

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کا گزر عبد اللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا۔ وہ اس وقت ایک گنجان درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بولا ابن ابی کبشہ ( یعنی نبی اکرمﷺ نے ) ہم پر غبار اڑایا ہے‘ تو اس کے بیٹے عبد اللہ نے ( نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ) عرض کی اس ذات کی قسم! جس نے ّپ کو عزت عطا کی ہے۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔اگر آپ چاہیں ‘ تو میں اس کا سر لے کر آپ کی خدمت میں آجاؤں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں۔ تم اپنےباپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کی خدمت کرو۔ ابو کبشہ نبی اکرمﷺ کی نانی کے والد تھے یہ شام تشریف لے گئے تھے۔ انہیں عیسائیوں کا دین اچھا لگا ‘ جب یہ قریش کی طرف واپس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی ‘ تو قریش نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ ان لوگو ں کے دین سے مختلف دین پیش کر رہے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ قریش نبی اکرمﷺ کو ان کے حوالے سے عاردلاتے تھے اور ان کی طرف منسوب کیا کرتےتھے ‘ اس سے قریش کی مراد یہ ہوتی تھی کہ نبی اکرمﷺ بھی ان لوگوں کے دین کے علاوہ نیا دین کے کے آئے ہیں۔ جس طرح جناب ابو کبشہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین لے کے آئے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ، ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 428

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 429

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ1 يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رِضَاءُ اللَّهِ فِي رِضَاءِ الْوَالِدِ وَسَخَطُ اللَّهِ في سخط الوالد" 2. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 429

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ عن عبد الله بن دينار عن بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يصل الرجل أهل ود أبيه" 1.

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’بیشک سب سے عمدہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘۔

"إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يصل الرجل أهل ود أبيه" ← رَسُولِ اللَّهِ ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 430

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 431

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عبد الله بن دينار عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بیشک سب سے بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اس کے (دنیا سے ) چلے جانے کے بعد اچھا سلوک کرے‘‘۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 431

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فقَالَ أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ" وَإِنَّهُ كَانَ بَيْنَ أَبِي عُمَرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصِلَ ذاك"1. [1: 2]

ابو بردہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا حضرت عبد ا للہ بن عمرؓ میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے دریافت کیا : تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہےکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ اس کی قبر میں اچھا سلوک کرے‘ اسے اپنے باپ کے بعد اپنے باپ کے بھائیوں سے چھا سلوک کرنا چاہئے‘‘۔ (حضرت ابن عمر نے بتایا ) میرے والد حضرت عمر ؓ اور رتمہارے والد کے درمیان بھائی چارگی اور دوستی تھی‘ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس حوالے سے ( تمہارےساتھ ) اچھا سلوک کروں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قُلْتُ: لَا ← أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 432

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr