Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3026

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَتِهِ الْأَدْنَيْنَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ إِلَّا خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ وَغَفَرْتُ لَهُ ما لا تعلمون" 1. [2:1]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو بھی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھر کے افراد اس کے حق میں یہ گواہی دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں بھلائی کا علم رکھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس شخص کےبارے میں ، میں نے تم لوگوں کے علم کو قبو ل کیا اور میں نےاس کی ان چیزوں کی مغفرت کر دی جن سے تم واقف نہیں ہو۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3026

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3027

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ فَمَرُّوا بِجَنَازَتِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "وجبت" وَمَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجَبَتْ" فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "أَنْتُمْ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأرض" 1.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا لوگ اس کا جنازہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے لوگوں نے اس کی برائی بیان کی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: واجب ہو گئی پھر لوگ ایک دوسرے جنازے کو لے کر گزرے لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

"أَنْتُمْ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأرض" ← ذَلِكَ ← النَّبِيُّ "وَجَبَتْ" فَسَأَلَهُ عُمَرُ ← النبي "وجبت" وَمَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ← مَاتَ رَجُلٌ فَمَرُّوا بِجَنَازَتِهِ عَلَى النَّبِيِّ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3027

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3028

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ1 قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبُهَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ قَالَ: "وَثَلَاثَةٌ" قَالَ: فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قال: "واثنان" ولم نسأله عن الواحد2. [2:1]

ابو اسود دیلی بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا وہاں وباء پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تیزی سے اموات ہو رہی تھیں میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس مرحوم کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: واجب ہوگئی پھر ایک اور جنازہ گزرا اس مرحوم کی برائی بیان کی گئی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ ابو اسود نے دریافت کیا: اے امیر المومنین ! کیا چیز واجب ہوگئی، تو انہو ں نے بتایا: یہ بالکل اسی طرح ہے، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: " جس بھی مسلمان کے بارے میں چار افراد اچھائی کی گواہی دے دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا، تو ہم نے عرض کی: اگر تین دے دیں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تین دے دیں ، تو بھی یہ اجرو ثواب حاصل ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اگر دو دے دیں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فر مایا: اگر دو دے دیں(تو بھی یہ اجرو ثواب حاصل ہو گا)" (حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں) ہم نے نبی اکرم ﷺ سے ایک شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← الْمُقْرِئُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3028

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3029

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ بن عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وهو ميت2. [49:5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کو بوسہ دیا تھا۔

بن عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ وهو ميت2. ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3029

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3030

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بن أبي عتيق عن بن شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ حِينَ دَخَلَ بَيْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَهُوَ بَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ فَوَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ لَقَدْ مِتَّ الموتة التي لا تموت بعدها1. [49:5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ مسجد میں داخل ہوئے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اس گھر کے اندر تشریف لے گئے جہاں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تھا۔ یہ نبی اکر م ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ کے چہرہ مبارک سے "حبرہ" کی بنی ہوئی چادر ہٹائی جس کے ذریعے آپ ﷺ کو ڈھانپ دیا گیا تھا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا پھر وہ آپ ﷺ پر جھکے اور آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور یہ بات ارشاد فرمائی: میرے والد آپ ﷺ پر قربان ہوں اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپﷺ پر دو مرتبہ موت کو جمع نہیں کرے گا آپ ﷺ نے وہ موت پا لی ہے ، جس کے بعد آپ ﷺ کو موت نہیں آئے گی۔

دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← بن شِهَابٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3030

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3031

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ قُطْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَمَّرْتُمُ الْمَيِّتَ فأوتروا" 1. [78:1]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تم میت کی (لحد میں) پتھر لگاو تو طاق تعداد میں لگاو۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← قُطْبَةَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3031

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3032

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ اَیُّوْبَ ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَہُ ، فَقَالَ : اغْسِلْنَھَا ثَلَاثًا ، اَوْخَمْسًا ، اَوْ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ اِنْ رَاَیْتُنَّ ذٰلِکَ بِمَاءٍ وَّسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِی الْاٰخِرَۃِ کَافُورًا ، اَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، فَاِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنِّنِیْ قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا ، آذَنَّاہُ قَالَتْ : فَاَلْقَی اِلَیْنَا حِقْوَہُ ، وَقَالَ : اَلشْعِرْنَھَا اِیَّاہُ قَالَ : وَقَالَتْ حَفْصَۃُ ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ: اغْسِلْنَھَا مَرَّتَیْنِ ، اَوْ ثَلَاثَا ، اَوْخَمْسًا ، اَوْسَبْعًا قَالَتْ اُمُّ عَطِیَّۃَ : وَمَشَطْتُھَا ثَلَاثَۃَ قُرُوْنٍ ، وَکَانَ فِیْہِ اَنَّہٗ قَالَ : ابْدَاْنَ بِمَیَا مِنِھَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوْءٍ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْاَمْرُ بِغُسْلِ الْمَیِّبِ فَرْضٌ ، وَالشَّرْطُ الَّذِی قُرِنَ بِہٖ ھُوَ الْعَدَدُ الْمَذْکُورُ فِی الْخَبَرِ قُصِدَ بِتَعْیینِہِ النَّدْبُ لَا الْحَتْمُ

سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت آپ ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دینے لگیں تھیں تو آپ ﷺ نے فرما یا: تم اسے پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ ، اگر تم مناسب سمجھو، غسل دینا اور آخر میں کافور بھی شامل کر لینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ کافور شامل کر لینا جب تم اس سے فارغ ہو جاو، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئے اور ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر ہمیں دی اور فرمایا: یہ اس کےجسم پر لپیٹ دو۔ حضصہ نامی خاتون نے سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: تم اسے دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا۔ سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس صاحبزادی کی تین چٹیا بنا دیں۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکر مﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا: " تم اس کے دائیں طرف کے اعضاء اور وضو کے مقامات سے (غسل کاآغاز کرنا)" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) میت کو غسل دینے کا حکم فرض ہے اور وہ شرط جو اس کے ہمراہ ذکر کی گئی ہے۔ یعنی اس روایت میں مذکور عدد کو متعین طور پر ذکر کرنے سے مقصود استحبا ب کا بیان ہے۔ یہ لازم نہیں ہے۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3032

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3033

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ وَحَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "اغْسِلْنَهَا بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ ثَلَاثًا أَوْ خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِهِنَّ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي" فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: "أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا اَوْ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ اِنَّ رَاَیْتُنَّ ذٰلِکَ ، وَاجْعَلْنَ فِیْ اٰخِرِ ھِنَّ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، فَاِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِیْ فَآذَنَّاہُ فَاَلْقَی اِلَیْنَا حِقْوَہُ ، وَقَالَ : اَشْعِرْ نَھَا اِیَّاہُ۔ قَالَ اَیُّوْبُ ، وَقَالَتْ حَفْصَۃُ : اغْسِلْنَھَا ثَلَاثًا ، اَوْ خَمْسًا ، اَوْ سَبْعًا ، وَاجْعَلْنَ لَھَا ثَلَاثَۃَ قُرُوْنِ

سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا، اگر تم مناسب سمجھو، تو اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا اور آخر میں کچھ کافور بھی ملا دینا جب جب تم فارغ ہو جاو، تو مجھے اطلاع دینا ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے اپنی چادر ہمیں دی اور ارشاد فرمایا: یہ اس کے جسم پر لپیٹ دو۔ ایوب نامی راوی نےیہ بات بیان کی ہے حفصہ نامی راوی خاتون نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: "تم اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا اور اس کی تین چوٹیاں بنا دینا۔"

تُوُفِّيَتِ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ وَهِشَامٌ وَحَبِيبٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3033

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr