صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3014
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَتَقُولُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا یَشُمُّونَہٗ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ بَابَ السَّمَاءِ ، فَیَقُوْلُوْنَ : مَا ھٰذِہِ الرِّیحُ الطَّیِّبَۃُ الَّتِیْ جَائَتُ مِنَ الْاَرْض؟ وَلَا یَاْتُونَ سَمَاءً اِلَّا قَالُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ اَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنِ فَلَھُمْ اَشَدُّ فَرَحًا بِہٖ مِنْ اَھْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِھِمْ ، فَیَقُوْلُوْنَ مَا : فَعَلَ فُلَانٌ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : دَعُوہُ حَتّٰی یَسْتِرِیحَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ فِیْ غَمِّ الدُّنْیَقا ، فَیَقُوْلُ قَدْ مَاتَ ، اَمَاتَکُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : ذُھِبَ بِہٖ اِلٰی اُمِّہِ الْھَاوِیَۃِ ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیَاْتِیہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ ، فَیَقُوْلُوْنَ : اخْرُ جِی اِلٰی غَضِبِ اللہِ ، فَتَخْرُجُ کَاَنْتَنِ رِیحِ جِیفَۃٍ فَتَذْھَبُ بِہٖ اِلٰی بَابِ الْاَرْضِ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے، تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کراس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: (اس جسم سے نکل کر) اللہ تعالیٰ کی مہربانی کر طرف آجاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں، تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے، جو زمین کی طرف سے آئی ہے وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آجاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو، تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے اس کا، تو انتقال ہو چکا ہے کیا توہ تمہارے پاس نہیں آیا، تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا(نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھر دی چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اس لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 3014
