Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3014

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَتَقُولُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا یَشُمُّونَہٗ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ بَابَ السَّمَاءِ ، فَیَقُوْلُوْنَ : مَا ھٰذِہِ الرِّیحُ الطَّیِّبَۃُ الَّتِیْ جَائَتُ مِنَ الْاَرْض؟ وَلَا یَاْتُونَ سَمَاءً اِلَّا قَالُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ اَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنِ فَلَھُمْ اَشَدُّ فَرَحًا بِہٖ مِنْ اَھْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِھِمْ ، فَیَقُوْلُوْنَ مَا : فَعَلَ فُلَانٌ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : دَعُوہُ حَتّٰی یَسْتِرِیحَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ فِیْ غَمِّ الدُّنْیَقا ، فَیَقُوْلُ قَدْ مَاتَ ، اَمَاتَکُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : ذُھِبَ بِہٖ اِلٰی اُمِّہِ الْھَاوِیَۃِ ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیَاْتِیہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ ، فَیَقُوْلُوْنَ : اخْرُ جِی اِلٰی غَضِبِ اللہِ ، فَتَخْرُجُ کَاَنْتَنِ رِیحِ جِیفَۃٍ فَتَذْھَبُ بِہٖ اِلٰی بَابِ الْاَرْضِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے، تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کراس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: (اس جسم سے نکل کر) اللہ تعالیٰ کی مہربانی کر طرف آجاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں، تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے، جو زمین کی طرف سے آئی ہے وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آجاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو، تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے اس کا، تو انتقال ہو چکا ہے کیا توہ تمہارے پاس نہیں آیا، تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا(نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھر دی چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اس لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3014

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3015

أخبرنا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمْ الْمَوْتَ وَلَا یَدْعُوبِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَہُ ، اِنَّہٗ اِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُہُ ، وَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُہُ اِلَّا خَیْرًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کے بارےمیں دعا مانگے، کیونکہ جب وہ انتقال کر جائے گا ، تو ا س کا عمل منقطع ہو جائے گا اور مومن کی عمر صرف بھلائی میں اضافہ کرتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Hadith 3015

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3016

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ به أو ولد صالح يدعو له" 1. [39:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب انسان مر جاتا ہے، تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے صرف تین اعمال (کا اجرو ثواب منقطع نہیں ہوتا ) صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ الْهَرَوِيُّ

Hadith 3016

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3017

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ1 فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى حِصْنٍ وَعَدَدٍ وَعِدَّةٍ- قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: حِصْنٌ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ لَا يُؤْتَى إِلَّا فِي مِثْلِ الشِّرَاكِ- فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَعَكَ مَنْ وَرَاءَكَ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي فَأَعْرَضَ عَنْهُ2 فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِهِ فَحُمَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ حمى شَدِیدَۃً ، فَجَزِعَ ، فَاَخَذَ شَفْرَۃً ، فَقَطَعَ بِھَا رَوَاجِبَہُ فَتَشَخَّبَتْ حَتّٰی مَاتَ ، فَدُفِنَ ، ثُمَّ اِنَّہٗ جَاءَ فَیمَا یَرَی النَّائِمُ مِنَ اللَّیْلِ اِلَی الطُّفَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِیْ شَارَۃٍ حَسَنَۃٍ وَّھُوَ مُخَمِّرٌ یَدَہٗ ، فَقَالَ لَہٗ الطُّفَیْلُ : اَفْلَانٌ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ :کَیْفَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : صَنَعَ بِیْ رَبِّیْ خَیْرًا ، غَفَرَ لِی بِھِجْرَتِی اِلٰی نَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَا فَعَلَتْ یَدَاکَ ؟ قَالَ : قَالَ لِی رَبِّی : لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا اَفْسَدْتَ مِنْ نَفْسِکَ قَالَ : فَقَصَّ الطُّفَیْلُ رُؤْیَاہُ عَلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ : اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ ، اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ ، اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہہ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اس طرف تشریف لائیں جہاں قلعہ بھی ہے اور لوگوں کی تعداد بھی ہے اور متعدد (قسم کا سازو سامان) بھی ہے، یہاں ابوزبیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ قلعہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا جہاں انتہائی مشکل سے پہنچا جا سکتا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا: تمہارےپیچھے جو لوگ ہیں کیا وہ تمہارے ساتھ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے اعراض کیا جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہہ بھی ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ہمراہ ان کے قبیلے کا ایک شخص موجود تھا اس شخص کو شدید بخار ہو گیا وہ گریہ وزاری کرنے لگا اس نے چھری لی اور اس کے ذریعے اپنی رگ کا ٹی اس کا خون بہنے لگا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا اسے دفن کر دیا گا پھر رات کو خواب میں ایک شخص حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہہ کے پاس آیا جو انتہائی عمدہ حلیے میں تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا تھا طفیل نے اس سے دریافت کیا: تم فلاں ہو؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے اس نے بتایا: میرے پروردگار نے میرے ساتھ عمدہ سلوک کیا ہے اور میرے اس کے نبی کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے میری مغفرت کر دی ہے۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا : تمہارے ہاتھ کا کیا ہوا، تو اس نے بتایا: میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ہم تمہاری اس چیز کو ہر گز ٹھیک نہیں کریں گے جسے تم نے خود خراب کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ کو سنایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے (اور یہ دعا کی) " اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھ کی بھی مغفرت کر دے۔"

قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ بِمَكَّةَ1 فَقَالَ: ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3017

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3018

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ : حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ ،ع َنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ ،ع َنْ اَبِیْہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ فَدَعُوْہُ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے ، تو تم لوگ اسے چھوڑدو۔

عَائِشَةَ ← ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ ،ع َنْ اَبِیْہِ ← مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ ،ع َنْ سُفْیَانَ ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 3018

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3019

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إذا مات صاحبكم فدعوه" 1. [43:2]

سّیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے ، تو تم اسے چھوڑ دو۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَوَكِيعٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 3019

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3020

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 عَنْ عَطَاءٍ عَنِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مساوئهم" 2. [43:2]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے مر حومین کی اچھی چیزوں کا ذکر کرو اور ان کی برائیوں ( کو بیان کرنے) سے باز آجاو۔"

بن عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3020

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3021

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْشَرٌ ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ مُّجَاھِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃَ : مَا فَعَلَ یَزِیدُ بْنُ قَیْسٍ عَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ ؟ قَالُوْا قَدْ مَاتَ ۔ قَالَتْ : فَاَسْتَغْفِرُاللہَ ، فَقَالُوْا لَھَا : مَالَکَ لَعَنْتِیہِ ، ثُمَّ قُلْتِ : اَسْتَغْفِرُ اللہَ ؟ قَالَتْ : اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَسُبُّوا الْاَمْوَاتَ ، فَاِنَّھُمْ اَفْضَوْا اِلٰی مَا قَدَّمُوا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَاتَتْ عَائِشَۃُ سَنَۃَ سَبْعٍ وَّخَمْسِینَ ، وَوُلِدَ مُجَاھِدٌ سَنَۃَ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ فِیْ خِلَافَۃِ ، عُمَرَ ، فَذَلَکَ ھٰذَا عَلٰی اَنَّ مَنْ زَعَمَ اَنَّ مُجَاھِدًا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ کَانَ وَاھِمًا فِیْ قَوْلَہٖ ذٰلِکَ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے دریافت کیا: : یزید بن قیس کے ساتھ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے لوگوں نے بتایا: وہ مر گیا ہے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں لوگوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا۔ کیا وجہ ہے کہ پہلے آپ نے اس پر لعنت کی تھی اور پھر آپ نے یہ کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بتایا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ " تم لوگ مردوں کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا تھا۔" (امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 57 ہجری میں ہوا اور مجاہد کی پیدائش حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے عہد خلافت میں 21 ہجری میں ہوئی تو یہ چیز تمہاری رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی۔ جو شخص اس بات کی طرف کرے گی۔ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ مجاہد نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع نہیں کیا ۔ اسے اپنی اس رائے میں وہم ہوا ہے۔

فَاَسْتَغْفِرُاللہَ فَقَالُوْا لَھَا مَالَکَ لَعَنْتِیہِ ثُمَّ قُلْتِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ ← قَدْ مَاتَ ← عَائِشَۃَ مَا فَعَلَ یَزِیدُ بْنُ قَیْسٍ عَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْشَرٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3021

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3022

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تسبوا الأموات فتؤذوا الأحياء" 1. [43:2]

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ مرُدوں کو برا کہہ کر زندہ لوگوں کو اذیت نہ پہنچاو۔"

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْمُلَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3022

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3023

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجَبَتْ" وَمَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا, فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجَبَتْ" فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: "مَرُّوا بِتِلْكَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَوَجَبَتِ النَّارُ وَمَرُّوا بِھٰذِہِ ، فَاَثْنَوْا عَلَیْھَا خَیْرًا فَوَجَبَتِ الْجَنَّۃُ ، وَاَنْتُمْ شُھَدَاءُ اللہِ فِی الْاَرْضِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: لوگ ایک جنازہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، تو اس کی برائی بیان کی گئی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: واجب ہو گئی پھر لوگ دوسرا جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: واجب ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ اسے لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی برائی بیان کی، تو جہنم واجب ہو گئی یہ لوگ اس لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی تعریف بیان کی، تو جنت واجب ہو گئی ، تم لو گ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

عُمَرَ، ← ((وجبت))، ← "وَجَبَتْ" وَمَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا, ← مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 3023

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3024

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَّ عَلَيْهَا خَيْرًا مِنْ مَنَاقِبِ الْخَيْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ اَنْتُمْ شُھُودُ اللہِ فِی الْاَرْضِ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:- نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، تو بھلائی کے مناقب کے حوالے سے اس کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: واجب ہو گئی تم لو گ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

رَسُولُ اللَّهِ وَجَبَتْ اَنْتُمْ شُھُودُ اللہِ فِی الْاَرْضِ۔ ← مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَّ عَلَيْهَا خَيْرًا مِنْ مَنَاقِبِ الْخَيْرِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 3024

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3025

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ صلى الله عليه وسلم: "وَجَبَتْ" ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: "وَجَبَتْ" فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ قُلْتَ لِهَذَا: "وَجَبَتْ"؟ وَقُلْتَ لِهَذَا: "وَجَبَتْ"؟ فَقَالَ: "شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ" 1. [65:3]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کےپاس ایک جنازہ گزرا اس کی اچھائی کے ہمراہ تعریف کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر آپ ﷺ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا اس کی برائی بیان کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے اس کے لیے بھی فرمایا واجب ہو گئی اور اس کے لیے بھی فرمایا واجب ہو گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی گواہی کی وجہ سے ( میں نے ایسا کہا ہے) اہل ایمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔

النَّبِيُّ "وَجَبَتْ" فَقِيلَ: ← "وَجَبَتْ" ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ← مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3025

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr