Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4303

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے “۔

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4303

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4304

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبِ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِهِ بَطْنَهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» وَقَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا [ص:141] زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَاهَا فَنُكَحِّلُهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا»، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لَا، إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ. [قَالَ حُمَيد: فَقُلتُ لِزَينَبَ وَمَا تَرْمِي بِالبَعرَة عَلَى رَأس الحَوْل؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ المَرأةُ إِذَا تُؤتى بِدَابَّة - حِمَارٌ، أَوْ شَاةٌ، أَوْ طَائِرٌ - فَتَفتضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفتَضُّ بِشَيء إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخرج فتُعطي بعرة، فترمي، ثُمَّ تُراجع - بَعدُ - مَا شَاءت مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالكٌ: مَا تَفْتَضُّ بِهِ؟ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا] *.

سیّدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین روایات نقل کی ہیں۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے والد حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا تو سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے زرد رنگ منگوایا جس میں خلوق یا شاید کوئی دوسری خوشبو ملی ہوئی تھی انہوں نے اس کا کچھ حصہ کسی لڑکی کو لگایا اور پھر تھوڑا سا اپنے پیٹ پر لگا لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک کرے گی“۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ میں سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا انہوں نے خوشبو منگوائی اور تھوڑی سی خوشبو لگا لی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آپﷺ نے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ وہ چار ماہ دس دن تک کرے گی“۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی والدہ حضرت ام سلمہرضی اللہ عنہا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میری بیٹی بیوہ ہے اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں ایسا شاید دو یا تین مرتبہ ہوا ہر مرتبہ نبی اکرمﷺ یہی فرماتے رہے جی نہیں یہ (یعنی اس کی عدت کی مدت) چار ماہ دس دن ہے پہلے زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی (پھر اس کی عدت پوری ہوتی تھی) حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ایک سال کے بعد مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: (بیوہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد ) عورت کے پاس کوئی جانور جیسے گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی۔ عام طور پر وہ جانور مرجایا کرتا تھا۔ پھر وہ عورت (اپنی کوٹھڑی سے ) باہر نکلتی تھی، اسے ایک مینگنی دی جاتی تھی، جسے وہ پھینک دیتی تھی۔ اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ استعمال کرنا شروع کرتی تھی۔ امام مالک سے سوال کیا گیا: روایت کے الفاظ، تَفتَضُّ بِہِ سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ وہ عورت اپنا ہاتھ اس جانور کی کھال پر پھیرتی تھی۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4304

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4305

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، لَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى [ص:143] طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ مَحِيضِهَا نُبْذَةَ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ» *

سیّدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی (اپنی عدت کے دوران) وہ سرمہ نہیں لگائے گی، رنگین کپڑے نہیں پہنے گی البتہ پٹی باندھنے والے کپڑے کا حکم مختلف ہے اور وہ خوشبو نہیں لگائے گی البتہ جب حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر رہی ہو گی اس وقت وہ تھوڑی سی قسط یا اظفار (یعنی مخصوص قسم کی خوشبو) لگا لے گی“۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4305

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4306

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا الْحُلِيَّ، وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ»

سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ (عدت کے دوران) رنگین کپڑا نہیں پہنے گا، آراستہ کپڑا نہیں پہنے گی، زیور نہیں پہنے گی، خضاب نہیں لگائے گی اور سرمہ نہیں لگائے گی “۔

النَّبِيِّ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← بُدَيْلٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4306

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4213

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ»، قَالَ رَبِيعَةُ: «فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیّدہ سہلہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضر ت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دیں تا کہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مزاج کی تیزی (یعنی ناراضگی) ختم ہو جائے، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو دودھ پلا دیا جا پورا مرد تھا۔ ربیعہ نامی راوی کہتے ہیں: یہ سالم کے لیے رخصت تھی۔

«أَمَرَ النَّبِيُّ سَهْلَةَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4213

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4214

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَالِمًا يُدْعَى لِأَبِي حُذَيْفَةَ وَيَأْوِي مَعَهُ، وَيَدْخُلُ عَلَيَّ فَيَرَانِي فُضُلًا، وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ، وَقَالَ اللَّهُ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سہلہ بنت سہیل نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سالم کو حضرت ابو حذیفہ کے منہ بولے بیٹے کے طور پر بلایا جاتا ہے وہ ان کے ساتھ رہتا ہے وہ میرے پاس بھی آ جاتا ہے مجھے (سر پر چادر وغیرہ کی موجودگی کے بغیر) دیکھ لیتا ہے ہمارا گھر بھی چھوٹا سا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان کو ان کے حقیقی باپ کے حوالے سے بلاؤ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ انصاف کے زیادہ مطابق ہے “۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے دودھ پلا دو تم اس کے لیے حرمت والی ہو جاؤ گی۔

جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4214

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، [ص:28] وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمُ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5]، رَدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِمَّنْ تَبَنَّى أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوْلَاهُ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِكِ». فَفَعَلَتْ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ: مَا نَرَى الَّذِي أَمْرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ [ص:29] إِلَّا رُخْصَةً فِي سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ، فَعَلَى هَذَا مِنَ الْخَبَرِ كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ

امام مالک ابن شہاب زہری کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ان سے بڑی عمر کے فرد کی رضاعت کا مسئلہ دریافت کیا گیا: توانہوں نے بتایا: عروہ بن زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا یہ وہ سالم ہے جہیں سالم مولیٰ ابو حذیفہ کہا جاتا ہے یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم کی شادی اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کی تھی اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اسے اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ لڑکی اس وقت ابتدائی طور پر ہجرت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں اور قریش کی بیوہ عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی خاتون تھیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن حارثہرضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم نازل کر دیا اور ارشاد فرمایا۔ ”تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاؤ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ مطابق ہے اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باپ کے بارے میں علم نہ ہو، تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور آزاد کردہ غلام ہیں “۔ تو ہر وہ شخص جس نے منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اس نے اس بچے کی نسبت اس کے باپ کی طرف کر دی اور اگر کسی کے باپ کے بارے میں پتہ نہیں تھا تو اسے اس کے آزاد کرنے والے آقا کی طرف منسوب کیا گیا۔ سہلہ بنت سہیل جو ابو حذیفہ کی اہلیہ تھیں اور ان کا تعلق بنو عامر بن لوی سے تھا وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے ہیں وہ میرے پاس آیا کرتا تھا ہمارا صرف ایک ہی گھر ہے، تو اس کے معاملے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو تمہارے دودھ کی وجہ سے وہ حرمت والا ہو جائے گا۔ اس خاتون نے ایسا ہی کیا وہ خاتون اس لڑکے کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھتی تھی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حکم حاصل کیا جس مرد کے بارے میں وہ یہ بات پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آجایا کرے تو وہ اپنی بہن سیّدہ ام کلثوم بنت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یا اپنی کسی بھتیجی کو یہ ہدایت کرتی تھیں کہ وہ اس لڑکے کو دودھ پلا دے جس کے بارے میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے۔ نبی اکرمﷺ کی دیگر تمام ازواج نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نوعیت کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ان کے ہاں داخل ہو، وہ ازواج یہ کہا کرتی تھیں: ہم یہ سمجھتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ سہلہ بنت سہیل کو یہ حکم اس حوالے سے دیا تھا کہ یہ صرف سالم کے لیے رخصت تھی جو نبی اکرمﷺ کی طرف سے تھی اس طرح کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ہمارے ہاں نہیں آ سکتا۔ تو بڑی عمر کے شخص کی رضاعت کے بارے میں نبی اکرمﷺ کی ازواج کی یہ رائے تھی جو اس روایت میں منقول ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، ← رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ؟ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4215

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4216

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا [ص:30] جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ بِهَا وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ؟، دَعْهَا عَنْكَ»

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابو اہاب سے شادی کر لی ایک سیاہ فام عورت ہمارے ہاں آئی اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ہم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اس با ت کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے، جب کہ اس عورت نے یہ بات بیان کر دی ہے، تو تم اس عورت (یعنی اپنی بیوی) کو چھوڑ دو۔

تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَذَكَرَتْ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4216

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4217

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَزَعَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَجِئْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: «فَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا»، فَنَهَاهُ عَنْهَا، « أَخْبَرَنَاهُ هَذَا الشَّيْخُ فِي وَسَطِ أَحَادِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَشَايخِهِ»

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ابواہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی تو ایک سیاہ فام عورت نے یہ بات بیان کی کہ اس نے ان دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا میں دوسری طرف سے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! وہ عورت جھوٹ کہتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے، جب کہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے، اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے اس صاحب کو اس خاتون سے منع کر دیا (یعنی انہیں اس خاتون سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم دیا) (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : ) اس شیخ (یعنی ابن حبان کے استاد محمد بن عمر) نے نصر بن علی کی یزید بن زریع کے حوالے سے ان کے مشائخ کے حوالے سے منقول روایات کے درمیان ہمیں اس روایت کے بارے میں بتایا۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَزِيدُ: ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4217

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4218

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِينِي وَلَا أَخْبَرْتِينِي، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَاهَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟ »، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی ایک خاتون ان کے پاس آئی اور ان سے کہا میں نے عقبہ کو دودھ پلایا ہے اور جس عورت کے ساتھ اس نے شادی کی ہے اسے بھی دودھ پلایا ہے، تو عقبہ نے اس عورت سے کہا مجھے تو اس بات کا علم نہیں ہے، تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے پہلے اس بارے میں بتایا ہے پھر عقبہ نے ابواہاب کے خاندان والوں کی طرف پیغام بھجوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو ان لوگوں نے بھی یہی بتایا کہ ہمیں یہ علم نہیں ہے، اس عورت نے اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے پھر حضرت عقبہ سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے، جب کہ یہ بات بیا ن کی جا چکی ہے، تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے علیحدگی اختیار کی اور اس عورت نے دوسری شادی کر لی۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4218

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4219

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، وَإِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي قُعَيْسٍ وَلَمْ يُرْضِعْنِي أَبُو قُعَيْسٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو قعیس رضی اللہ عنہ کے بھائی نے میرے ہاں اند آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے، تو میں نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرم ﷺ تشریف نہیں لے آتے جب نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے، تو میں نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں اجازت مانگی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ابو قعیس کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے آپ سے اجازت لینے سے پہلے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ مجھے ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا ابوقعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے اجازت دے دینی تھی وہ تمہارا چچا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4219

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4220

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، وَإِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي قُعَيْسٍ وَلَمْ يُرْضِعْنِي أَبُو قُعَيْسٍ، فَقَالَ: «ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو قعیس رضی اللہ عنہ کے بھائی نے پردے کا ھکم نازل ہوجانے کے بعد میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرم ﷺ تشریف نہیں لے آتے جب نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے، تو میں نے نبی اکرمﷺ سے اجازت مانگی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ابو قعیس کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں آپ سے اجازت نہ لے لوں کیونکہ مجھے ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ابوقعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے اجازت دے دینی تھی وہ تمہارا چچا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4220

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr