Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اسے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا“۔

«الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ» ← النَّبِيِّ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4291

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4292

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانَ، وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ، فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ، وَلَا نَفَقَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي، أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتِ؟ »، قَالَتْ: فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، فَقَالَ: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ، وَقَضَى بِهِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، «وَالْقَدُومُ: مَوْضِعٌ بِالْحِجَازِ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي رُوِيَ فِي بَعْضُ الْأَخْبَارِ: أَنَّ إِبْرَاهِيمَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ»

سیّدہ زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں انہوں نے اس خاتون کو بتایا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپﷺ سے یہ درخواست کی کہ وہ خاتون اپنے میکے بنو خدرہ میں منتقل ہو جائے، کیونکہ ان کا شوہر اپنے کچھ مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا اور طرف قدوم کے مقام پر اس نے ان غلاموں کو پکڑ لیا تھا اور ان غلاموں نے اس قتل کر دیا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا کہ میں اپنے میکے واپس چلی جاتی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی خرچ کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے میں وہاں سے روانہ ہوئی ابھی میں حجرے میں ہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مسجد میں ہی تھی کہ نبی اکرمﷺ نے مجھے بلایا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرمﷺ نے میرے بارے میں حکم دیا، تو مجھے بلا کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے کیا بیان کیا تھا وہ خاتون کہتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو پورا واقعہ بیان کیا جو میں نے اپنے شوہر کی صورت حال کے بارے میں آپﷺ کو بتایا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس گھر میں چار ماہ دس دن تک عدت گزاری۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہا (کا عہد خلافت آیا) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ لیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ روایت زہری کے حوالے سے امام مالک نے نقل کی ہے اور ”قدوم “ حجاز میں ایک جگہ کا نام ہے یہ وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں بعض روایات میں یہ بات منقول ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قدوم کے مقام پر ختنہ کیا تھا۔

سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4292

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4293

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ، تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا كَانَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ، وَأَنَّهُ تَبَعَ أَعْلَاجًا، فَقَتَلُوهُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتِ الْوَحْشَةِ، وَذَكَرَتْ [ص:130] أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا، وَأَنَّهَا اسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ تَأْتِيَ إِخْوَتَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ أَعَادَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»

سیّدہ فریعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کے شوہر مدینہ منورہ کے کسی دیہات میں تھے وہ اپنے (کچھ مفرور) غلاموں کے پیچھے گئے ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آبادی سے دور رہنے کی وجہ سے) اپنی وحشت کا تذکرہ کیا اس خاتون نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتی ہے، جو اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس خاتون نے نبی اکرمﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائیوں کے ہاں آ جائے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اجازت دے دی پھر نبی اکرمﷺ نے اسے صورت حال دہرانے کے لیے کہا پھر آپﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: تم اپنے اس گھر میں ٹھہری رہو جہاں اس کے انتقال کی اطلاع آئی تھی اس وقت تک جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔

سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4293

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4294

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيَّ، أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ يَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ مِنْ وَفَاةِ بَعْلِهَا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً، [ص:131] فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ، قَالَتْ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، وَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ»

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ کو خط لکھا کہ تم سیّدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو جو نبی اکرمﷺ نے ان کے حمل کے بارے میں فتویٰ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں ، تو عمر بن عبداللہ وہاں گئے انہوں نے اس خاتون سے دریافت کیا: تو اس خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہا ۔۔۔۔ تھیں جو نبی اکرمﷺ کے صحابی تھے جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ان کا انتقال حجۃ الوداع کے موقع پر ہو گیا تو اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی بچے کو جنم دے دیا جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو بنو عبدالدار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ابو سنابل بن بعکک ان کے پاس آئے انہوں نے اس خاتون کو بنے سنورے دیکھا تو اس خاتون سے کہا شاید تم چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میں نے ابونابل کی زبانی یہ بات سنی تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپﷺ کو یہ بات بتائی اور مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم نے بچے کو جنم دیا تھا تو اس وقت تمہاری عدت ختم ہو گئی تھی۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4294

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4295

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقُلْتُ: أَمَا قَالَ اللَّهُ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4]، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي» - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُرَيْبًا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلَهُنَّ، هَلْ سَمِعْتُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ سُنَّةً؟، فَأَرْسَلْنَ إِلَيْهِ «أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دونوں طرح کی عدت میں سے جو بعد میں پوری ہو گی وہ اس کے مطابق عدت گزارے گی۔ ابو سلمہ کہتے ہیں میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے۔ ”حمل والی عورتوں کی عدت اس وقت ختم ہو گی جب وہ بچے کو جنم دے دیں “۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کریب کو نبی اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف بھجوایا تا کہ وہ ان سے س بارے میں دریافت کریں کہ کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرمﷺ کی زبانی کوئی حدیث سن رکھی ہے، تو ان ازواج نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہعنہ کو یہ جواب بھجوایا کہ سیّدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا تو نبی اکرمﷺ نے (چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی) ان کی شادر کروا دی تھی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← اللَّهُ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: ← أَبُو سَلَمَةَ: فَقُلْتُ: أَمَا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، ← امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ← سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4295

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4296

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، قَالَ: فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: «قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي»

سیلمان بن یسار بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان ایسی خاتون کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو عدت بعد میں ختم ہوگی (وہ عورت اس کے مطابق عدت گزارے گی) ابو سلمہ نے کہا: جیسے ہی وہ نفاس والی ہو گی (یعنی بچے کو جنم دے گی) تو وہ حلال ہو جائے گی (یعنی اس کی عدت ختم شمار ہو گی) راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام کریب کو سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں اس نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: اور پھر ان حضرات کے پاس واپس آ کر انہیں یہ بتایا کہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: سبیعہ اسلمیہ نامی عورت نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا اس خاتون نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہاری عدت ختم ہو گئی ہے تم (دوسرا ) نکاح کر لو۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4296

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4297

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرُ الْأَجَلَيْنِ»، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ»، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلُلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غَيْبًا وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ»

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسی بیوہ عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو حاملہ ہو، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو عدت بعد میں پوری ہو گی (وہ عورت وہ والی عدت پوری کرے گی) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ بچے کو جنم دے گی، تو اس کی عدت ختم شمار ہو گی پھر ابو سلمہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچے کو جنم دیا دو آدمیوں نے اس نکاح کا پیغام بھیجا ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا عمر رسیدہ تھا وہ عورت نوجوان کی طرف مائل ہوئی تو عمر رسیدہ شخص نے کہا: تمہاری تو عدت ہی ختم نہیں ہوئی اس خاتون کے خاندان کے افراد وہاں موجود نہیں تھے اس بوڑھے کو یہ امید تھی کہ جب اس کے گھر کے افراد وہاں آ جائیں گے تو اسے (نوجوان پر) ترجیح دیں گے وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم حلال ہو چکی ہو (یعنی تمہاری عدت ختم ہو چکی ہے) اب تم جس سے چاہو شادی کر لو۔

ذَلِكَ ← لَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ»، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا ← أَبُو هُرَيْرَة إِذا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، ← الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، ← سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عبد ربه بن سعيد بن قيس ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4297

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4298

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ قَلَائِلَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي النِّكَاحِ، «فَأَذِنَ لَهَا»

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دے دیا وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرمﷺ سے نکاح کرنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرمﷺ نے اسے اجازت دے دی۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4298

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4299

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا [ص:136] جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا وَضَعَتْ تَشَوَّفَتِ الْأَزْوَاجَ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَمَا يَمْنَعُهَا وَقَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا»

ابو سنابل بیان کرتے ہیں: سیّدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تئیس یا شاید پچیس دن بعد بچے کو جنم دے دیا جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو شادی کرنے کے لیے آراستہ ہوئی اس پر اعتراض کیا گیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اب اس کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہے، جب کہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔

أَبِي السَّنَابِلِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4299

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4300

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، [ص:137] عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، فَمَرَّةً يُحَدِّثُ عَنْ هَذَا، وَأُخْرَى عَنْ ذَلِكَ

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تم لوگ ہمارے لیے ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو مشتبہ نہ کرو ام ولد کی عدت وہی ہو گی جو بیوہ عورت کی عدت ہوتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابن ابو عروبہ نے یہ روایت قتادہ سے سنی ہے اور مطروراق نے یہ روایت رجاء بن حیوہ سے سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس سے نقل کر دیا اور ایک مرتبہ اس سے نقل کر دیا۔

ذَلِكَ ← هَذَا، وَأُخْرَى ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، فَمَرَّةً ← قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ ← لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا «عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، [ص:137] ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مَطَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4300

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:138] الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى هَالِكٍ أَكْثَرِ مِنْ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے انتقال پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی“۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:138] الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4301

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4302

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمَ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہو گا“۔

عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، ← صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4302

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr