Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الظِّهَارِ · حديث 4279

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ: فِي وَاللَّهِ وَفِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادِلَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ، وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ، فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَإِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لَا تَخْلُصُ إِلَيَّ، وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ، قَالَتْ: فَوَاثَبَنِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ، فَأَلْقَيْتُهُ تَحْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ [ص:108] إِلَى بَعْضِ جَارَاتِي، فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابًا، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا خُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ»، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَتَغَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَغْشَاهُ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: «يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ»، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ} [المجادلة: 1]، إِلَى قَوْلِهِ: {وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 104]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً»، قَالَتْ: وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَهُ مَا يَعْتِقُ، قَالَ: «فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ، مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: «فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ»، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ذَلِكَ عِنْدَهُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، فَقَالَ: «أَصَبْتِ، وَأَحْسَنْتِ، فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا»، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ

سیّدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے اور (میرے شوہر) اوس بن صامت کے بارے میں سورۃ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل کی تھیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں ان کی بیوی تھی وہ ایک بڑی عمر کے بزرگ آدمی تھےجن کے اخلاق اچھے نہیں تھے وہ ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے ہاں تشریف لائے میں نے (لڑائی کے دوران) کسی بات کا جواب دیا: تو وہ غصے میں آ گئے اور بولے: تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح (قابل احترام) ہو پھر وہ گھر سے باہر چلے گئے وہ اپنی قوم کی چوپال میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر میرے ہاں تشریف لائے وہ میری قربت حاصل کرنا چاہتے تھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نےکہا: ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں خویلہ کی جان ہے آپ جو بات کہہ چکے ہیں اس کی وجہ سے اب آپ میرے پاس اس وقت تک نہیں آ سکتے جب تک اللہ اور اس کا رسول اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے دیتے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی وہ خاتون اس پر اتنا غالب آ گئی جتنی کوئی عورت ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص پر غالب آ سکتی ہے میں نے انہیں اپنے نیچے کر لیا، پھر میں اپنی پڑوسن کے گھر آ گئی میں نے اس سے چادر عاضی استعمال کے لیے لی پھر میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے سامنے بیٹھ گئی میں نے آپ کے سامنے ساری صورت حال کا ذکر کیا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کی بھی شکایت کی مجھے ان کی طرف سے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ تمہارے چچا زاد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ خاتون نے عرض کی: اللہ کی قسم ! میں ابھی وہیں تھی، یہاں تک کہ قرآن کا حکم نازل ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کے اوپر وہ خاص کیفیت طاری ہوئی(جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی) پھر آپﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے، جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی “۔ ”یہ آیت یہاں تک ہے کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے (یعنی اپنے شوہر کو) کہو کہ وہ کوئی گردن آزاد کرے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جسے وہ آزاد کریں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہﷺ! وہ بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں ان میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھجوروں کا یک وسق کھلائے میں نے عرض کی: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہﷺ! ان کے پاس یہ بھی نہیں ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم کھجوروں کے ایک عرق کے ذریعے اس کی مد د کریں گے وہ خاتو ن بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں ایک اور عرق کے ذریعے ان کی مدد کروں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے اور تم نے اچھا کیا ہے تم جاؤ اور ان کی طرف سے صدقہ کر دو اور اپنے چچازاد کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو، تو وہ خاتون کہتی ہیں، تو میں نے ایسا ہی کیا۔

خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Noon door · Hadith 4279

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْخُلْعِ · حديث 4280

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُكِ؟ »، فَقَالَتْ: لَا أَنَا، وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ - لِزَوْجِهَا -، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ»، قَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ: «خُذْ مِنْهَا»، فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا

سیّدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ حضرت ثابت بن قیس شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرمﷺ صبح کی نماز کے لیے گھر سے نکلے، تو انہوں نے اندھیرے میں حبیبہ بن سہل کو اپنے دروازے پر موجود پایا ، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: میرا اور ثابت بن قیس کا گزارا نہیں ہو سکتا یعنی اس نے اپنے شوہر کے بارے میں یہ بات کہی جب ثابت آئے، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل اس نے جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا ہے، تو سیّدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! انہوں نے جو بھی (مہرکے طور پر) دیا تھا وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت ثابت بن قیس سے فرمایا: وہ تم اس سے لے لو، وہ انہوں نے اس سے لے لیا اور وہ خاتون اپنے میکے واپس چلی گئی۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The door of divorce · Hadith 4280

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4281

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَإِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَوَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَإِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ افْتَحْ، فَنَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: 6]، هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِي اللِّعَانِ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ»، فَالْتَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «[ص:113] فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا»، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا، قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قُلْتُ لِجَرِيرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، قَالَ: «لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے، توآپ لوگ اس قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے، تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا، جس پر غصہ کیا جانا چاہئے) اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے ضرور دریافت کروں گا اگلے دن وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: انہوں نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو آپ لوگ قتل کر دیں گے اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے، تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے، تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے، جس پر غصہ کرنا چاہئے پھر نبی اکرمﷺ نے (یا اس شخص نے) دعا کی اے اللہ! تو کشادگی عطا کر تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں “۔ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے لعان کیا اس مرد نےچار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، لیکن اس عورت نے لعان کیا جب وہ چلی گئی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے، یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتےہیں: یحییٰ بن معین نے یہ بات بیان کی ہے میں نے جریرسے کہا آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے، تو جریرنے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئ ہے۔

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4281

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4282

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہﷺ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں ، تو کیا میں اس شخص کو مہلت دو ں گا تا کہ پہلے چار گواہ لے آؤں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔

لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4282

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4283

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، [ص:115] أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قُضِيَ فِيكَ، وَفِي امْرَأَتِكَ»، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، فَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا

حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایسے شخص کے بارے میں آپﷺ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے ایسے شخص کو کیا کرنا چاہئے (راوی کہتےہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر کی جو لعان کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرمﷺ نے اس شخص سے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ راوی کہتےہیں، تو ان دونوں نے لعان کیا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! اگر اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو اس شخص نے عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ روایت پا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرو ا دری جاتی ہے وہ خاتون حاملہ تھیں اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کے حوالے سے بلایا جاتا تھا اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4283

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4284

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ [ص:116] جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلَ عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا»، فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ انہ بیان کرتے ہیں: حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان سے کہا: اے عاصم اس بارے میں آ پ کی کیا رائے ہے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے تو اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ اے عاصم آپ میرے لیے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے اس نوعیت کے سوالات کو ناپسند یدہ اور اسے معیوب قرار دیا۔ یہ بات حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی جب عاصم اپنے گھر واپس آئے، تو عویمر ان کے پاس آئے انہوں نے کہا: اے عاصم نبی اکرمﷺ نے تم سے کیا فرمایا تو عاصم نے عویمر سے کہا تم میرے پاس بھلائی لے کر نہیں آئے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا جس کے بارے میں ، میں نے آپﷺ سے دریافت کیا تھا، تو عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں باز نہیں آؤں گا، جب تک میں خود نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کر لیتا پھر حضرت عویمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے تم جاؤ اور اسے لے آؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو ان دونوں نے لعان کیا میں لوگوں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ دونوں لعان کر کے فارغ ہو گئے ، تو حضرت عویمر نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو نبی اکرمﷺ کے انہیں کچھ ہدایت کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4284

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4285

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدُ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَأَتَى عُوَيْمِرًا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ [ص:118] الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ»، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا بِمَا سَمَّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: فَلَاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ سُنَّةٌ لِمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحْرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا»، قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِلَى أُمِّهِ

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ انہ بیان کرتے ہیں: حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو بنو عجلان کے سردار تھے انہوں نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور مرد کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اس شخص کو قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا: آپ میرے لیے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نےعرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک اور شخص کو پاتا ہے، تو کیا وہ اسے قتل کر دے اس طرح تو آپ اسے قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اسے معیوب قرار دیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ حضر عویمررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا نبی اکرمﷺ نےاس سوال کو ناپسندیدہ اور معیوب قرار دیا ہے، تو حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا، جب تک اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے دریافت نہیں کر لیتا تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (حکم) نازل کر دیا ہے، نبی اکرمﷺ نے ان دونوں (میاں بیوی) کو ہدایت کی تو ان دونوں نے لعان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اس عورت کے ساتھ لعان کر لیا، پھر اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو میں اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو جاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ رائج ہو گیا (کہ مرد آخر میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے) راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا اگر اس عورت نے کالے رنگ کے کالی آنکھوں والے بڑے سرین والے اور موٹی ایڑیوں والے بچے کو جنم دیا، تو میرااندازہ ہے، عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہو گا اور اگر اس نے سرخ رنگ کے بچے کو جنم دیا یوں جیسے وہ چھپکلی ہوتی ہے ، توپھر مجھے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت نے اس شکل و صورت کے بچے کو جنم دیا جس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے یہ بیان کیا تھا کہ اس صورت میں عویمر کا سچ ہونا ثابت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4285

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنِينَ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟، فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَائِلٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، [ص:120] فَقَالَ الْغُلَامُ: إِنَّهُ قَائِلٌ، فَقُلْتُ: مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ فَسَمِعَ صَوْتِي، فَعَرَفَهُ، وَقَالَ: أَسَعِيدٌ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، فَدَخَلْتُ، وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، «فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، «ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، «فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

لعان کے اس طریقے کا تذکرہ جو ان دو میاں بیوی کے درمیان کرنا ضروری ہے جن کی حالت ہم نے بیان کی ہے

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4286

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4287

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: «لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے (آپﷺ نے مرد سے فرمایا) تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے اس نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پردیا تھا) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے، تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4287

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4288

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، «فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا اور اس عورت کے بچے (کے نسب کی) نفی کر دی تو نبی اکرمﷺ نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان علیحدگی کروادی اور بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر دیا۔

نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4288

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، «أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ حضرت ابو عمروبن حفص بن مغیرہ کی اہلیہ تھیں انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرمﷺ سے اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا ہیں ان کے ہاں منتقل ہو جائے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4289

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4290

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: «لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ»، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ حَيْثُ شِئْتِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ»، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ»، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابوعمرو بن حضص رضی اللہ عنہ انہیں طلاق بتہ دے دی وہ اس وقت (مدینہ منورہ) میں موجود نہیں تھے اور شام میں تھے انہوں نے اس خاتون کی طرف اپنے وکیل کو کچھ ”جو “ دے کر بھیجا اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے لیے ہمارے ذمہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کرے پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تو ایک ایسی خاتون ہیں جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے تم جہاں چاہو اپنی چادر وغیرہ اتار سکتی ہو جب تمہاری عدت ختم ہو جائے ، تو تم مجھے اطلاع دے دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کی کہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے، تو وہ اپنی گردن سے عصا کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے، تو وہ کنگال شخص ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو وہ خاتون کہتی ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں آئی پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو تو میں نے ان ک ساتھ شادی کر لی اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4290

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr