Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4267

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ» فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلَاقًا؟

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں اختیار دیا ، تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا تو کیا یہ چیز طلاق شمار ہوئی تھی؟

«خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ فَاخْتَرْنَاهُ» فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلَاقًا؟ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَائِشَةَ، وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 4267

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4268

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4]، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ فَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ لِيَتَوَضَّأُ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ أَتَانِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4]، فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ثُمَّ قَالَ: هِيَ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: كُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَاهُمْ قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ فِي الْعَوَالِي، قَالَ: فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعْنِي، فَأَنْكَرْتُ [ص:86] أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَانَا الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: قَدْ قُلْتِ، قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ، وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، - يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ: وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا، وأَنْزِلُ يَوْمًا، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَأَنْزِلُ فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، قَالَ: فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا ثُمَّ أَتَانِي، فَضَرَبَ عَلَى بَابِي، ثُمَّ نَادَانِي، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: مَاذَا؟ أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟، قَالَ: بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءَهُ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا أَدْرِي، هُوَ ذَا، هُوَ مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ، [ص:87] قَالَ: فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، وَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَوْمٌ حَوْلَ الْمِنْبَرِ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَسَكَتَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، وَيَقُولُ: ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: «لَا»، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ، وَخَسِرَتْ، أَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا [ص:88] رَسُولَ اللَّهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكَ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ، وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى، فَقُلْتُ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَجَلَسْتُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلَّا أُهُبًا ثَلَاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَهُ، قَالَ: فَاسْتَوَى جَالِسًا، وَقَالَ: «أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا»، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ أَقْسَمَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک طویل عرصے سے اس بات کا خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں: جو نبی اکرمﷺ کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں ، توبہ کر لو( تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے “۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ان کے ہمراہ میں بھی حج کے لیے گیا راستے میں کسی جگہ پر وہ ایک طرف ہٹ گئے (انہوں نے قضائے حاجت کی) پھر وہ وضو کرنے لگے میں بھی ان کے ہمراہ ایک برتن لے کر ہٹ گیا تھا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المومنین ! نبی اکرمﷺ کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کو ن سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں ، توبہ کر لو( تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے “۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) پھر انہوں نے بتایا: عائشہ اور حفصہ تھیں اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا : ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے، تو ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا میری رہائش نواحی علاقے میں بنو امیہ بن زید کے محلے میں تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں اس کے پلٹ کر جواب دینے پر بہت حیران ہوا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آپ کو جواب دے رہی ہوں حالانکہ! اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ کی ازواج بھی نبی اکرم ﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے لاتعلق (یا ناراض) رہتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس آیا میں کہا: کیا تم پلٹ کر نبی اکرمﷺ کو جواب دیتی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اور ہم میں سے ایک تو صبح سےلے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے لاتعلق رہتی ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ بات کہہ رہی ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرتی ہے وہ رسواء ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تم نبی اکرم ﷺ کو پلٹ کر جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرمﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو تمہاری جو ضرورت ہو مجھے کہہ دیا کرو ار یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرمﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ہم لوگ باری باری نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ایک دن وہ چلا جاتا تھا ایک دن میں آ جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ وحی یا اس سے متعلق دیگر کسی چیز کی اطلاع لے آتا تھا جب میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آتا تھا تو اس طرح اطلاع میں بھی لے آتا تھا (اور اسے بتا دیتا تھا) ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ لڑائی کی تیاریاں کر رہے ہیں ایک دن میرا ساتھی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ میرے پاس آیا اس نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں نکل کر اس کے پاس آیا، تو اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہو ا ہے کیا غسان قبیلے کے لوگ آ گئے ہیں اس نے کہا : نہیں اس سے زیادہ بڑا اور زیادہ لمبا واقعہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، تو میں نے کہا: حفصہ رسو ا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی، مجھے اندازہ تھا کہ یہ ہو کے رہے گا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو میں نے چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ کی طرف آ گیا) میں حفصہ کے پاس آیا وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم وہ وہاں ہیں، آپﷺ اس بالا خانے میں علحدہ رہ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ لڑکا اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا ہے، لیکن نبی اکرمﷺ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں وہاں سے چلا اور مسجد میں آ گیا اور وہاں منبر کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رو رہے تھے میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر نکل کر باہر آیا اور بولا میں میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا تھا، لیکن نبی اکرمﷺ خاموش رہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں وہاں سے واپس آیا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نےکہا: تم عمر کے لیے اند آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرمﷺ خاموش رہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں مڑ کر واپس آیا اسی دوران اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا آپ اند تشریف لے جائیں نبی اکرم ﷺ نے آپ کو اجازت د ےدی ہے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں اندر داخل ہوا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا نبی اکرمﷺ اس وقت چٹائی پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جس کا نشان آپﷺ کے پہلو پر موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: جی نہیں، تو میں نے اللہ اکبر کہا (میں نے عرض کی) یا رسول اللہﷺ! آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ہے ہم قریش کے لوگ ایسے لوگ تھے جو اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے، تو ہم نے وہاں ایسے لوگوں کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان کی خواتین سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں اپنی بیوی پر غضب ناک ہوا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: آپ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں نے آپ کو پلٹ کر جواب دیا ہے: اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ کی ازواج نبی اکرمﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم ﷺ سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہے، تو میں نے کہا: ان میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراجگی کی وجہ سے اس سے ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائےگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اس سے کہا تم نبی اکرم ﷺ کو آگے سے جواب نہ دیا کرو او ر نبی اکرمﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ تمہیں جو چاہئے ہو مجھ سے کہہ دیاکرو، اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرمﷺ کے نزدیک تمہارے مقابلے میں زیادہ خوب صورت اور زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: تو نبی اکرمﷺ دوسری مرتبہ مسکرا دئیے۔ میں نے عرض کی: یار سول اللہﷺ! کیا میں ٹھہر جاؤں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں ، تو میں بیٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لیا اللہ کی قسم ! میری نگاہ صرف تین کھالوں پر پڑی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپﷺ کی امت کو کشادگی عطاکرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل فارس روم کو کشادگی عطا کی ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے! کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لے جائیں گے یہ آپﷺ نے ان سے شدید ناراضگی کی وجہ سے فرمایا تھا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں: جب انتیس دن گزر گئے، تو نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف ہائے آپﷺ نے سب سے پہلے مجھے شرف بخشا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے اور آپﷺ انتیس دن کےبعد تشریف لے آئے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہون میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اس بارے میں جلد بازی کا مظاہر ہ کرو جب تک تم اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ نہیں کر لیتی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اے نبی! تم اپنی ازواج سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت حاصل کرنا چاہتی ہو، تو آگے آؤ میں تمہیں مال و دولت دیتا ہوں اور مناسب طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والوں کے لیے عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے“۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ یہ بات جانتے تھے کہ اللہ کی قسم ! میرے والدین مجھے کبھی بھی نبی اکرمﷺ سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کریں گے میں نے عرض کی: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔

لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 4268

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4269

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَتْ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كُلُوا فَإِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ معاملے میں تین فیصلے سامنے آئے اس کے مالکان نے اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے ولاء کی شرط عائد کی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپﷺ نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے ، جو آزاد کرتا ہے پھر بریرہ آزاد ہو گئی پھر نبی اکرمﷺ نے اسے یہ اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے) تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کیا، (تیسری بات یہ ہے) بریرہ کو کوئی چیز صدقہ دی جاتی تھی، تو وہ اس میں کوئی چیز ہمیں تحفے کے طور پر دے دیتی تھی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے کھالو کیونکہ تو یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہے اور یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 4269

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4270

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا (یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی)

«خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ بَرِيرَةَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4270

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4271

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ، إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ»، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَوْ [ص:92] أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ، قَالَ الْأَسْوَدُ: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے بریرہ کو خرید لیا اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق انہیں حاصل ہو گا، تو نبی اکرمﷺ نے (سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا تم اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے ملتا ہے، جو قیمت ادا کرتا ہے اور نعمت کا ولی بنتا ہے۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس آزاد کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے اختیار دیا ، تو اس نے کہا: اگر مجھے اتنا مال بھی دیا جائے ، تو میں (اپنے شوہر) کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نامی راوی کہتے ہیں: اس کا شوہر ایک آزاد شخص تھا۔

الأَسْوَدُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. ← لَوْ [ص:92] أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ، ← فَأَعْتَقْتُهَا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ ← «اعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ»، ← عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ، إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4271

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4272

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَاتَبَتْ بَرِيرَةَ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعَةِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةً، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَشَاؤُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ، فَكَلَّمَتْ بِذَلِكَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا، فَقَالَتْ: لَاهَا: اللَّهِ إِذًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟ »، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُنِي عَلَى كِتَابَتِهَا، فَقُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ يَشَاؤُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ». ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى [ص:94] عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَقُولُونَ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ»، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا، وَكَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا. قَالَ عُرْوَةُ: «فَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بریرہ نے اپنی ذات کے بارے میں نواوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی تھی وہ مدد حاصل کرنے کے لیے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جی نہیں اگر وہ لوگ چاہیں، تو میں انہیں ایک ساتھ ساری ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ گئی اس نے اس بارے میں اپنے مالکان سے بات چیت کی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا وہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ ولاء کا حق انہیں حاصل رہے۔ بریرہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت نبی اکرمﷺ بھی وہاں تشریف لے آئے۔ بریرہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا جو اس کے مالکان نے کہا تھا تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا: جی نہیں اللہ کی قسم ! یہ اسی صورت میں ہو گا، جب ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! بریرہ میرے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے آئی جو اس کی کتابت کے معاوضے کی ادائیگی کے سلسلے میں تھی، تو میں نے کہا: جی نہیں اگر وہ لوگ چاہیں، تو ان کو ایک ساتھ ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے مالکان سے کیا، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا وہ مصر تھے کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے خرید ہو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو اور پھر تم اس آزاد کر دو ولاء کا حق اسے حاصل ہوتاہے، جو آزاد کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے لوگ یہ کہتےہیں تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا حالانکہ اللہ کی کتاب اس کی زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی اگرچہ وہ ایک سو شرطیں ہوں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار دیا و ہ شوہر ایک غلام شخص تھا اس عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا۔ عروہ کہتے ہیں اگر ان کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو نبی اکرم اسے اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار نہ دیتے۔

لَا إِلَّا ← كَاتَبَتْ بَرِيرَةَ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعَةِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4272

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4273

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا»، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ»، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ»، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا اس کا نام مغیث تھا یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ اس کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرمﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا نا پسند کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو اس خاتون نے کہا : مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4273

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4274

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ »، قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: «آللَّهِ؟ »، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: «هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُمُّهُ: حَمَادَةُ بِنْتُ يَعْقُوبَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مَاتَ فِي وِلَايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ»

عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دے دی وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لی تھی انہوں نے جواب دیا: ایک (طلاق) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے) انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! (ایسا ہی ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے مطابق شمار ہو گی جو تم نے ارادہ کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) زبیربن سعید نامی راوی زبیر بن سعید بن سلیمان بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں ان کی والدہ حمادہ بنت یعقوب بن سعید بن نوفل بن حارث بن عبدالمطب ہیں ان کا انتقال خلیفہ ابو جعفر کے عہد خلافت میں ہوا تھا۔

"هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ" ← اللہُ ← اللہُ ← «وَاحِدَةً» ← «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ ← جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزبير بن سعيد ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4274

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، «أَنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةُ، ثُمَّ رَاجَعَهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلا ق دے دی تھی پھر آپﷺ نے ان سے رجوع کر لیا تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Hadith 4275

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4276

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ، لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ، إِنَّهُ قَدْ كَانَ طَلَّقَكِ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي، فَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لَا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے وہ رو رہی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ شاید نبی اکرمﷺ نےتمہیں طلاق دے دی ہے، اگر نبی اکرمﷺ نے تمہیں طلاق دے بھی دی ہے، تو میری وجہ سے وہ تم سے رجوع کر لیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر نبی اکرمﷺ تمہیں طلاق دے دیں (یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کی گنجائش نہ ہو) تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات نہ کرتا۔

دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، ← ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 4276

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْإِيلَاءِ · حديث 4277

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا، قَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا آپ کی ٹانگ پر بھی چوٹ آئی ہوئی تھی، تو نبی اکرمﷺ انتیس دن تک بالا خانے میں مقیم رہے پھر آپ اس سے نیچے اترے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مہینہ (کبھی ) انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 4277

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْإِيلَاءِ · حديث 4278

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا آپﷺ نے حرام کو حلال کیا (یعنی اس سے رجوع کر لیا) اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔

«آلَى رَسُولُ اللَّهِ مِنْ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً» ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4278

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr