Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4255

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَتْ هِنْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ لِي إِلَّا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ، قَالَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ ہند رضی اللہ عنہا نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: حضرت ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے میرے پاس وہی کچھ ہوتا ہے، جو وہ مجھے دیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اتنا مال حصل کر لو، جو تمہاری اور تمہاری اولاد کی بنیادی ضروریات کے لیے کفایت کر جائے۔

هِنْدٌ لِلنَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4255

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4256

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ أَبَا بَكْرٍ، بِوَاسِطَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ مُضَيِّقٌ عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ؟، قَالَ: «خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ ہند رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی: ابوسفیان نے مجھ پر اور میری اولاد پر (خرچ کے حوالے سے )تنگی کی ہوئی ہے، تو کیا میں ان کے مال میں سے ان کی لاعلمی میں کچھ حاصل کر سکتی ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس کی لاعلمی میں اس کے مال میں سے مناسب طور پر لے لو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ← مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ أَبَا بَكْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4256

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ [ص:71] خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ الْيَوْمَ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ، أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ عَلَيْهِمْ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہند بنت عتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی قسم ! (پہلے ہی یہ حالت تھی) کہ روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔ پھر اس نے عرض کی: یار سول اللہ ﷺ! ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے، تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر اس کے بال بچوں پر خرچ کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم مناسب طریقے سے ان پر خرچ کرتی ہو، تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔

جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4257

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4258

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:72] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أُصِيبَ مِنْ مَالِهِ فَأُنْفِقَ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي؟، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تَأْخُذِي مِنْ مَالِ أَبِي سُفْيَانَ فَتُنْفِقِيهِ عَلَيْكِ وَعَلَى وَلَدِكِ، بِالْمَعْرُوفِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابو سفیان کی اہلیہ ہند نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے، تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں ان کا کچھ مال حاصل کر کے اسے اپنے اوپر اپنی اولاد پر خرچ کر لوں۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم ابو سفیان کا مال لے کر اسے اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر مناسب طریقے سے خرچ کرتی ہو۔

جَاءَتْ هِنْدُ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4258

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4259

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ فِي حُجْرِ عَمَّةٍ لِي ابْنٌ لَهَا يَتِيمٌ، وَكَانَ يَكْسِبُ، فَكَانَتْ تَحْرَجُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ كَسْبِهِ، فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ»

عمارہ بن عمیر بیان کرتے ہیں: میری پھوپھی کا ایک یتیم بچہ ان کے زیر پرورش تھا وہ بچہ (کام کر کے) کماتا تھا، لیکن وہ خاتون اس کی آمدن میں سے کچھ کھانا گناہ سمجھتی تھی اس نے اس بارے میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا ہے: سب سے پاکیزہ چیز ہو ہے ، جو انسان اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔

كَانَ فِي حُجْرِ عَمَّةٍ لِي ابْنٌ لَهَا يَتِيمٌ، وَكَانَ يَكْسِبُ، فَكَانَتْ تَحْرَجُ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4259

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4260

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْيَبُ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں سب سے پاکیزہ چیز وہ ہے، جو آدمی اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔

«أَطْيَبُ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ» ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4260

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4261

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ چیز اس کی اپنی کمائی ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے“۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4261

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4262

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:75] يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الْأَجْنَبِيِّينَ، وَأَمْرَ بِبِرِّهِ، وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا، إِلَى أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ مَالُهُ، فَقَالَ لَهُ: «أَنْتَ، وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» لَا أَنَّ مَالَ الِابْنِ يَمْلِكُهُ أَبُوهُ فِي حَيَاتِهِ عِنْ غَيْرِ طَيْبِ نَفْسٍ مِنَ الِابْنِ بِهِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا اپنے والد کے ساتھ ایک قرض کے سلسلے میں جھگڑا چل رہا تھا جو اس نے اپنے والد سے لینا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس کا مطلب یہ ہے: نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو اس بات پر ڈانٹا ہے، اس نے اپنے والد کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے، جو رویہ اجنبی لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے کا ھکم دیا ہے اور اپنے والد کے ساتھ بات چیت اور طرز عمل میں نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ آپ نے اس شخص کے مال کو اس کے والد کے ساتھ ملا دیا اور اس سے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے اس سے یہ مراد ہے ، بیٹے کا باپ اپنے بیٹے کی زندگی میں ہی اس کے مال کا مالک بن جاتا ہے، جب کہ بیٹے کی اس حوالے سے کوئی رضامندی بھی نہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4262

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4263

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: «مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ، فَإِذَا حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى فَطَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا»

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران ایک طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: انہوں نے عرض کی: عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: عبداللہ سے کہو وہ اس عورت سے رجوع کر لے پھر وہ اسے اپنے ساتھ رکھے، یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے جب اس عورت کو دوسری مرتبہ حیض آ جائے اور پھر وہ پاک ہو جائے پھر اگر وہ چاہے، تو اسے اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے طلاق دیدے اور اگر چاہے ، تو اپنے ساتھ رکھے۔

إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، ← أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ ← نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4263

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4264

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، «فَرَدَّ عَلَيَّ [ص:82] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقْتُهَا وَهِيَ طَاهِرٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : میں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے میری طرف لوٹا دیا، یہاں تک کہ میں نے اسے اس وقت طلاق دی جب وہ تو طہر کی حالت میں تھی۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4264

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4265

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَلْعَبُ بِحُدُودِ اللَّهِ يَقُولُ: قَدْ طَلَّقْتُ، قَدْ رَاجَعْتُ؟! »

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا وجہ ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص اللہ کی حدود سے کھیلتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کر لیا “۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4265

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4266

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَنَا مِنْهَا، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ»، قَالَ الزُّهْرِيُّ: «الْحَقِي بِأَهْلِكِ تَطْلِيقَةٌ»

امام اوزاعی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ کی وہ کون سی زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پناہ مانگی تھی، تو زہری نے بتایا: عروہ بن زبیر نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے، جون کی صاحبزادی کے پاس جب نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے اور آپﷺ اس کے قریب ہوئے (تو وہ خاتون نبی اکرمﷺ کو پہچانتی نہیں تھی) اس نےکہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ۔ امام زہری بیان کرتے ہیں: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ اس سے مراد ایک طلاق تھی۔

الزُّهْرِيُّ: «الْحَقِي بِأَهْلِكِ تَطْلِيقَةٌ» ← أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ»، ← عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَدَنَا مِنْهَا، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4266

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr