Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4243

أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے، جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یعنی جسے کرنے کے بعد بھی آدمی خوشحال رہے) اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم (خرچ کرتے ہوئے) ان سے آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں “۔

ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» ← «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ، ← ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 4243

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4244

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ، [ص:55] بِالْمَوْصِلِ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّا أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي، قَالَ: «مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے ہاں زیر پرورش یتیم بچے کو کس چیز کے ذریعے ماروں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس چیز سے جس کے ذریعے تم اپنے بیٹے کو مارتے ہو تم اس زیر پرورش یتیم کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے کی کوشش نہ کرو اور اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے کی کوشش نہ کرو۔

رَجُلٌ: ← جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ،

Hadith 4244

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4245

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: «كَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ، وَكَالْقَائِمِ لَا يَنَامُ» «أَبُو الْغَيْثِ: سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ قَالَهُ الشَّيْخُ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیوہ عورتوں اور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے (راوی کہتےہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ایسے روزہ دار کی مانند ہے، جو کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کرتا اور ایسے نفل پڑھنے والے کی مانند ہے ، جو سوتا نہیں ہے “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابوالغیث نامی راوی کا نام سالم مولیٰ ابن مطیع ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4245

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4246

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، فَإِنِّي أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا تَقُولُ: كَانَ لِي أَجْرٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ»

سیّدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بچوں کے حوالے سے مجھے کوئی اجر ملے گا، کیونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں وہ میری اولاد ہیں میں انہیں اس حال میں ترک نہیں کر سکتی۔ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا مجھے اس کا اجر ملے گا یا نہیں ملے گا، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تمہیں ان کے بارے میں اس چیز کا اجر ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرتی ہو۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4246

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4247

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْخَصِيبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ رَيْطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعًا، وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَرَةِ صَنْعَتِهَا، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَهِيَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ وَلِيَ صَنْعَةٌ فَأَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي، وَلَا لِزَوْجِي، وَلَا لِوَلَدِي شَيْءٌ، وَشَغَلُونِي فَلَا أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْرٍ؟، فَقَالَ: «لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ، فَأَنْفِقِي عَلَيْهِمْ»

عبیداللہ بن عبداللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ام ولد سیّدہ ریطہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: وہ ایک کاریگر خاتون تھیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں تھا تو وہ خاتون حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنے ہنر کی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھے صدقہ کرنے کے قابل نہیں دہنے دیا میں آپ کی موجودگی میں صدقہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس میں اجر نہیں ہے، تو مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، تم ایسا کرو تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ان کی اہلیہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں ایک عورت ہوں جسے ایک ہنر آتا ہے میں اس کام کو فروخت کر دیتی ہوں میرا، میرے شوہر اور میری اولاد کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی، تو کیا ان پر خرچ کرنے کا مجھے اجر ملے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ان پر جو خرچ کرتی ہو اس کا تمہیں اجر ملے گا تم ان پر خرچ کرتی رہو۔

رَيْطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُمِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْخَصِيبُ،

Hadith 4247

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4248

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ [ص:59] النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَتْ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَتْ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، فَقَالَ: لَا بَلْ سَلِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا عَلَى الْبَابِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي اسْمُهَا زَيْنَبُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْتُ لَهُ: سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُجْزِئُ عَنَّا مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِنَا، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الْبَابِ زَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ »، قَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، تَسْأَلَانِ عَنِ النَّفَقَةِ عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا أَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ»

حضرت عبداللہ بن مسعوردرضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہم (خواتین) کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے خواتین کے گروہ تم سدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیور ہی کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت قیامت کے دن تمہاری ہو گی وہ خاتون بیان کرتی ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی آمدن بہت کم تھی اس خاتون نے (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ) کہا آپ نبی اکرمﷺ سے میرے بارے میں دریافت کیجئے کہ اگر میں اپنے شوہر اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرتی ہوں، تو کیا ایسا کرنا میری طرف سے جائز ہو گا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ کا رعب بہت زیادہ تھا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ تم خود نبی اکرمﷺ سے سوال کرو وہ خاتون کہتی ہیں میں (نبی اکرم ﷺ کے ہاں) آئی تو وہاں دروازے پر انصار سے تعلق رکھنے والی ایک اور عورت بھی موجود تھی اس کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا اس عورت کا نام بھی زینب تھا حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ باہر تشریف ہائے میں نے ان سے کہا آپ نبی اکرمﷺ سے ہمارے لیے مسئلہ دریافت کریں کہ ہم اپنے شوہروں اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر جو خرچ کرتےہیں کیا ہماری طرف سے یہ صدقہ کرنے کی جگہ کافی ہو گا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: حضرت بلال رضی اللہ عنہ اند ر گئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! دروازے پر زینب موجود ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کون سی زینب؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب اور انصار سے تعلق رکھنے والی زینب ان دونوں نے اپنے شوہروں اور پانے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے بارے میں دریافت کیا ہے: کیا یہ ان کی طرف سے صدقہ کی جگہ کافی ہو گا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں ان دونوں کو دگنا اجر ملے گا رشتہ داری کے حقوق کی پاسداری کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر۔

زَيْنَبَ، ← ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4248

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4249

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، [ص:61] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: الشَّطْرُ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةَ، يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي، قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ أَقْوَامٌ بِكَ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ امْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ»

عامر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے سال میں مکہ میں شدید بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا نبی اکرم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے دوتہائی مال کے بارے میں وصیت کر دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں میں نے دریافت کیا: نصف؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی کر دو ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے، تم انہیں تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کہ منہ کی طرف بڑھاؤ گے (اس کا بھی اجر ملے گا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے تو اس کے نتیجے میں تمہاری قدرومنزلت اور درجے میں اضافہ ہو گا۔ ہو سکتا ہے تم میرے بعد زندہ رہو، یہاں تک کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے لوگوں کو تم سے نقصان بھی ہو۔ اے اللہ ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو برقرار رکھنا اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹا دینا البتہ سعد بن خولہ پر افسوس ہے(راوی کہتےہیں: ) نبی اکرمﷺ نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4249

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4250

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، «أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى»، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَلَا سُنةَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں خرچ اور رہائش کا حق نہیں دیا۔ راوی کہتےہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا، تو انہوں نے بتایا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتےہیں۔ ”ہم اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے ایسی عورت کو خرچ اور رہائش ملے گی “۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4250

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4251

أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ» ← فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 4251

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4252

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ، قَالَتْ: «فَخَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ [ص:65] لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نبی اکرمﷺ کے فیصلے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں: رہائش اور خرچ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، تو نبی اکرمﷺ نے مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا اور آپﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کروں۔

طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ، ← قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ ← دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا ← الشَّعْبِيِّ، ← سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4252

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4253

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَأَمَرَ لَهَا بِنَفَقَةٍ، وَاسْتَقَلَّتْهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلَاثًا، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلَا سُكْنَى»، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا: أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، فَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّكِ إِنْ وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ، وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور انہیں خرچ دینے کی ہدایت کر دی، لیکن اس خاتون نے اس خرچ کو تھوڑا شمار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو یمن کی طرف بھیجا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ اس وقت سیّدہ میمونہ کے گھر میں موجود تھے انہوں نے عرض کی: اب عمروبن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں کیا اسے خرچ ملے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے خرچ اور رہائش نہیں ملے گی پھر نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے پھر آپ نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ ام شریک کے ہاں مہاجرین اولین آتے جاتے رہتےہیں تم ابن ام مکتوم کے گھر میں منتقل ہو جاؤ، کیونکہ وہاں اگر تم اپنی چادر اتار دوگی ، تووہ تمہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو پیغام بھوایا تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھ سے آگے نہ نکلنا (یعنی عدت گزرنے کے بعد شادی کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لینا) تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کی شادر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دی۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4253

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4254

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي، وَأَرْسَلَ إِلَيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَالِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا، وَلَا أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كَمْ طَلَّقَكِ؟ »، قُلْتُ: ثَلَاثَةً، قَالَ: «صَدَقَ، [ص:67] لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تَلْقِينَ ثَوْبَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي»، قَالَتْ: فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ: مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُعَاوِيَةَ خَفِيفُ الْحَاذِ وَأَبُو جَهْمٍ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ، - أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ، أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر ابوعمرو بن حفص نے مجھے طلاق بھجوا دی انہوں نے ”جو“کہ پانچ صاع مجھے بھجوائے اور کھجور کے پانچ صاع بھی بھجوائے میں نے کہا: مجھے صرف یہی خرچ ملے گا؟ میں تمہارے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی انہوں نے کہا: جی نہیں۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے چادر لی اور میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں میں نے جواب دیا: تین۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر اس شخص نے سچ کہا ہے تمہیں خرچ نہیں ملے گا۔ تم اپنے چچا زاد ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت بسر کرو، کیونکہ وہ نابینا ہیں وہاں تم اپنی چادر اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: متعدد لوگوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: معاویہ غریب آدمی ہے اور ابوجہم خواتین کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) خواتین کو مارتا ہے یا اس کی مانند کچھ اور الفاظ ہیں، البتہ تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4254

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr