Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4231

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذِمَّةَ الرَّضَاعِ، قَالَ: «غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ»

حجاج بن حجاج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں رضاعت کا معاوضہ کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پیشانی یعنی غلام یا کنیز کی شکل میں ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4231

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4232

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْجِعْرَانَةَ يَقْسِمُ لَحْمًا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عُضْوَ الْبَعِيرِ، قَالَ: فَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ، فَلَمَّا دَنَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ، فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذِهِ؟، قَالُوا: أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ”جعرانہ “کے مقام پر گوشت تقسیم کیا میں ان دنوں لڑکا تھا میں نے اونٹ کا ایک عضو اٹھایا ہوا تھا ایک دیہاتی عورت آئی جب وہ نبی اکرمﷺ کے قریب پہنچی تو نبی اکرمﷺ نے اس کے لیے اپنی چادر کو بچھا دیا وہ عورت اس پر بیٹھ گئی میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے، تو لوگوں نے بتایا: یہ نبی اکرم ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔

عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ ← جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4232

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4233

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَمَا أَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ فَمَا أَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ فَمَا أَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ فَمَا أَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: «أَنْتَ أَعْلَمُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میرے پاس ایک دینار ہے میں اس کا کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنی ذات پر خرچ کرو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے میں اس کا کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے تم اپنی بیوی پر خرچ کرو۔ اس نے دریافت کیا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنی اولاد پر خرچ کرو اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے میں اس کا کیا کروں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے تم اپنے خادم پر خرچ کرو اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے میں اس کا کیا کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں زیادہ پتہ ہو گا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4233

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4234

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ مِنْ بَعْدَهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ، وَقَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ عَنْهُ غَنِيٌّ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اپنے مرنے کے بعد اپنے غلام کو آزاد کرنے کی (وصیت کی) ان صاحب کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت انہوں نےاس غلام کو فروخت کیا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس کی قیمت کے زیادہ حق دار ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4234

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4235

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ: «[ص:48] تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكِ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ»، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ»، قَالَ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْتَ أَبْصَرُ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک دن صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنی ذات پر خرچ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے تم اپنی بیوی پر خرچ کرو اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنے خادم پر خرچ کرو اس نے عرض کی : میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں زیادہ سمجھ ہو گی (کہ تم اسے کہاں خرچ کرو)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4235

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4236

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ كَسْبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ فَأَطْعَمَ نَفْسَهُ أَوْ كَسَاهَا فَمَنْ دُونَهُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَإِنَّ لَهُ بِهَا زَكَاةً»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حلال مال کو کماتا ہے اور اسے خود کھاتا ہے یا اسے پہنتا ہے یا اپنے علاوہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی دوسرے پر خرچ کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے لیے طہارت کے حصول کا باعث ہو گی “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4236

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4237

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزِّبْرِقَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِمَرْطٍ فَاسْتَغْلَاهُ، فَمَرَّ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ فَاشْتَرَاهُ وَكَسَاهُ امْرَأَتَهُ سُخَيْلَةَ بِنْتَ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ الْمِرْطُ الَّذِي ابْتَعْتَ؟، قَالَ عَمْرٌو: تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى سُخَيْلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ، فَقَالَ: أَوَكُلُّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكِ صَدَقَةٌ؟، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، فَذُكِرَ مَا قَالَ عَمْرٌو لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ عَمْرٌو كُلُّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِمْ»

عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک چادر کے پاس گزرے انہیں وہ چادر مہنگی لگی پھر عمر وبن امیہ ضمری اس چادر کے پاس سے گزرے انہوں نےوہ چادر خریدی اور اپنی اہلیہ سخیلہ بنت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو وہ پہننے کے لیے دے دی پھر حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا۔ اس چادر کا تم نے کیا کیا جو تم نے خریدی تھی؟ تو عمرو نے بتایا: وہ میں نے (اپنی اہلیہ) سخیلہ بنت عبیدہ کے دے دی ہے ان صاحب نے دریافت کیا: تم نے اپنی بیوی کو جو کچھ دیا ہے کیا یہ سب صدقہ شمار ہو گا، تو عمرو نے کہا: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا جو عمرو نے بیان کی تھی، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عمرو نے ٹھیک کیا ہے تم اپنی بیوی کے ساتھ جو بھی اچھائی کرتے ہو یہ ان کے لیے صدقہ ہو گئی (یعنی تمہیں اس کا اجرو ثواب ملے گا)؎

عمرو بن أُمية ← أَبِيهِ ← الزِّبْرِقَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَمْرِيِّ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4237

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4238

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً»

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک جب کوئی مسلمان اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے (یعنی اسے اس کا اجرو ثواب ملے گا) “۔

«إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً» ← النَّبِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4238

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4239

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلَّانَ، بِأَذَنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا لُوَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:51] عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً»

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے خرچ کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے “۔

«إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً» ← النَّبِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:51] ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← لُوَيْنٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلَّانَ، بِأَذَنَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4239

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4240

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى [ص:52] بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے لیے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، جس کا خرچ اس کے ذمے ہو وہ اس کا خرچ ادا نہ کرے “۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4240

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4241

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَاءَهُ [ص:53] قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّا يَمْلِكُ قُوتَهُمْ»

خثیمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ان کا منشی ان کے پاس آیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم نے غلاموں کو ان کی خوراک دے دی ہے اس نے جواب دیا: جی نہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور وہ انہیں ادا کر دو، کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کہ گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، وہ ان لوگوں کو ادائیگی نہ کرے جن کی خوراک اس کے ذمے ہو۔

فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ ← لَا۔ ← أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ، ← خيثمة ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4241

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4242

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»، - قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: بَدَأَ بِالْعِيَالِ - ثُمَّ قَالَ: «وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ لَهُ صِغَارٍ يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمُ اللَّهُ بِهِ»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: سب سے فضیلت والا دینار وہ ہے، جسے آدمی اپنے بال بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جسے آدمی اللہ کی راہ میں اپنی سوری پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے ، جسے آدمی اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نامی راوی کہتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے پہلے بال بچوں کا ذکر کیا پھر ابوقلابہ نے یہ کہا: اس شخص سے زیادہ اجر اور کسے ملے گا، جو اپنے چھوٹے بال بچوں پر خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کی وجہ سے انہیں مانگنے سے محفوظ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی وجہ سے انہیں (دوسرے لوگوں سے) بے نیاز کر دیتا ہے۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4242

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr