Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7371

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم! (ارشاد باری تعالیٰ ہے: ) "جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا کیا جائے گا۔ ا س سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد پیش کرنا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7371

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7372

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا»، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي سَيِّئَاتِهِ وَيَتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ هَلَكَ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ»

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "اے اللہ مجھ سے آسان حساب لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم! آسان حساب سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے ) کہ آدمی کے نامہ اعمال کی طرف پروردگار دیکھے اور پھر اس کے گناہوں سے درگزر کرے کیونکہ اس دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ مومن کو جو بھی مصیب لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا لگتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کو ختم کرتا ہے )"۔

قُلْتُ ← «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرٌ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 7372

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ، إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْسَرَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، وَسَمِعَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ مِنْ [ص:374] أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ الْأَعْمَشِ بَعْدَ الثَّوْرِيِّ، وَكَذَلِكَ وَكِيعٌ فِي وَصْلِهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، رَوَى قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا صَحِيحَانِ.

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا، اور اس شخص کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا پھر وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، جو اس نے آگے بھیجی ہو (یعنی کوئی نیک کام کیا ہو) پھر وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، جو اس نے آگے بھیجی ہو پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا، تو اس کے سامنے آگ ہوگی۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے جو شخص اپنے چہرے کو آپ سے بچا سکتا ہو (اسے بچانے کی بھر پور کوشش کرے) خواہ وہ کھجور کے نصف حصے کے ذریعے ایسا کرے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) یہ روایت اعمش نے خیثمہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عمرو بن مرہ کے حوالے سے بھی خیثمہ سے سنی ہے یہ روایت ابو معاویہ نے نقل کی ہے، اور وہ اعمش کی روایات کے بارے میں ثوری کے بعد سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص ہیں۔ اسی طرح وکیع نے بھی اسے موصول روایت کے طور پر اعمش کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کیا ہے۔ قطبہ بن عبد العزیز اور جریربن عبد الحمید نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے عمر و بن مرہ کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق مستند ہیں۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 7373

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7374

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ يَشْكُو أَحَدُهُمَا الْعَيْلَةَ، وَيَشْكُو الْآخَرُ قَطْعَ السَّبِيلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ: فَلَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعِيرُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَأَمَّا الْعَيْلَةُ: فَإِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ لَيْسَ بَيْنَهُ، وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ، وَلَا تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، فَيَقُولَنَّ لَهُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَلَيَقُولَنَّ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا؟ فَلَيَقُولَنَّ: بَلَى، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ [ص:375] أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے تنگدستی کی شکایت کی اور دوسرے نے لوٹ مار کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک لوٹ مار کا تعلق ہے، تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک قافلہ حیرہ سے روانہ ہوگا، اور مکہ تک آجائے گا، اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک تنگدستی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا نہیں اور پھر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو اس سے اس زکوٰۃ کو قبول کرلے۔ تم میں سے ہر شخص کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اس شخص اور اللہ کی بارگاہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوگا، جو رکاوٹ بن رہا ہو۔ کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو درمیان میں واسطہ ہو، تو پروردگار اس سے فرمائے گا کیا میں نے تمہیں مال عطا نہیں کیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا جی ہاں۔ پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہاری طرف رسول کو نہیں بھیجا تھا۔ وہ بندہ عرض کرے گا جی ہاں پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا، تو اسے جہنم نظر آئے گی۔ وہ بائیں طرف دیکھے گا، تو اسے صرف جہنم نظر آئے گی، تو تم میں سے ہر ایک شخص کو جہنم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے، اور اگر یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ← سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدَانِ بن مُحَمَّد الْوَكِيل ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ

Hadith 7374

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ يُؤْتَى بِرَجُلٍ، فَيُقَالُ: سَلُوهُ عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَدَعُوا كِبَارَهَا، فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَعَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَاهُنَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "میں جنت میں داخل ہونے والے سب سے آخری جنتی سے واقف ہوں اور جہنم سے نکلنے والے سب سے آخری جہنمی سے واقف ہوں۔ ایک شخص کو لایا جائے گا، اور کہا جائے گا: اس سے اس کے چھوٹے گناہوں کے بارے میں حساب لو، اور اس کے بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، تو اس شخص سے دریافت کیا جائے گا: تم نے فلاں، فلاں دن یہ عمل کیا تھا۔ فلاں، فلاں دن یہ، یہ عمل کیا تھا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! میں نے کچھ اور عمل بھی کیے تھے جو مجھے یہاں نظر نہیں آرہے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: اس سے فرمایا جائے گا: تمہیں ہر گناہ کے عوض میں نیکی ملتی ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7375

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7376

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ أَنَا رَابِعُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: سِوَايَ»، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَامَ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: ابْنُ الْجَذْعَاءِ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ (*).

۔ عبد اللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں ان میں سے چوتھا فرد تھا (یعنی میرے علاوہ تین افراد اور تھے) ان میں سے ایک نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

سِوَاكَ ← «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَابِعُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: ← جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 7376

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7377

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمَ صَحْوٍ؟ » قُلْنَا: لَا، قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ إِذَا كَانَ صَحْوًا؟ » قُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا يُنَادِي مُنَادٍ، فَيَقُولُ: لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ أَهْلُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَهْلُ الْأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ، وَيَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، [ص:378] ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَةً، وَلَا وَلَدًا مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ، وَلَا وَلَدٌ مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ فَارَقْنَاهُمْ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَإِنَّا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَلَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ، فَيُقَالُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا؟ فَيَقُولُونَ: السَّاقُ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لَهُ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ يَسْجُدُ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِ الْجَسْرِ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانِي جَهَنَّمَ»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ: «مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ، وَكَلَالِيبُ، [ص:379] وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكٌ عُقَيْفَاءُ تَكُونُ بِنَجْدٍ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، يَجُوزُ الْمُؤْمِنُ كَالطَّرْفِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ، وَكَالرَّاكِبِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا، وَالْحَقُّ قَدْ تَبَيَّنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ يَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، [ص:380] فَأَخْرِجُوهُ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمَيْهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ ثَانِيَةً، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ: اذْهَبُوا، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ حَبَّةً إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «وَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَؤُوا قَوْلَ اللَّهِ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40]، فَتَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: بَقِيَتْ شَفَاعَتِي، فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ، يُقَالُ لَهُ: الْحَيَاةُ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ هَلْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ، أَوْ جَانِبِ الشَّجَرَةِ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ، وَمَا كَانَ إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ، فَيَخْرُجُونَ مَثْلَ اللُّؤْلُؤَةِ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لَكُمْ مَا رَأَيْتُمُوهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «السَّاقُ الشِّدَّةُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آسمان صاف ہو، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: چودھویں رات میں جب آسمان صاف ہو، تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، جس طرح ان دونوں کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ ایک منادی یہ اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے گی، جس کی وہ عیادت کیا کرتے تھے، تو صلیب کی پوجا کرنے والے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے۔ بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ چلے جائیں گے۔ مختلف معبودوں کے پیروکار اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے ان میں سے کچھ لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہوگا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا، اور اسے یوں پیش کیا جائے گا جیسے وہ سیراب ہے یہودیوں سے کہا جائے گا: تم لوگ کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جواب دیں گے ہم اللہ کے بیٹے عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے تم کیا چاہتے ہو۔ وہ یہ کہیں گے ہم یہ چاہتے ہیں، کہ تو ہمیں سیراب کردے، تو ان سے کہا جائے گا: تم (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ جہنم میں گرجائیں گے۔ عیسائیوں سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا تم نے جھوٹ کہا ہے۔ اس کی ، تو کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے۔ تم کیا چاہتے ہو وہ کہیں گے ہم یہ کہتے ہیں، تو ہمیں سیراب کردے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ بھی جہنم میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو۔ دوسرے لوگ، تو چلے گئے ہیں، تو وہ کہیں گے ہم ان سے الگ ہیں۔ ہم نے ایک منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو ہم لوگ بھی اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ زبردست ذات ان کے پاس آئے گی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں اس کے ساتھ کلام صرف نبی کرے گا۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے کے ساتھ کلام صرف نبی کرے گا۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے پہچان لو، تو مسلمان یہ کہیں گے پنڈلی ہے۔ پھر پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا، تو ہر مومن شخص اس کے سامنے سجدے میں چلا جائے گا، اور وہ شخص باقی رہ جائے گا، جس نے دکھاوے اور ریا کاری کے طور پر اس کے لیے سجدہ کیا تھا وہ شخص سجدے میں جانے لگے گا لیکن اس کی پشت اکڑ جائے گی۔ پھر ایک پل لایا جائے گا، اور اسے جہنم کے اوپر لگا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! وہ پل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے۔ اس پر کانٹے، آنکڑے اور نوکیلی چیزیں ہوں گی، جیسے نجد میں موجود ایک مخصوص قسم کے پودے پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اس پودے کو سعدان کہا جاتا ہے کوئی مومن پلک جھپکنے میں اور کوئی برق کی طرح اور کوئی ہوا کی طرح اور کوئی تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور کوئی سوار شخص کی طرف اس پر سے گزرے گا۔ کچھ لوگ سلامتی سے اس پر سے گزر جائیں گے۔ کچھ مخدوش ہوکرگزریں گے کچھ جہنم کے اثرات سے متاثر ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص گھسٹتا ہوا اس پر سے گزرے گا۔ مومنین کی طرف سے حق اس وقت واضح ہوجائے گا۔ جب وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پاگئے ہیں، اور ان کے کچھ بھائی باقی رہ گئے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہیں اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے بھائی ہیں یہ ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو پروردگار فرمائے گا تم جاؤ اور تمہیں جس کے دل میں ایک دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے، اسے (جہنم میں سے) نکال لو، تو اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو جہنم کے لیے حرام قرار دیدے گا۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کے پاس آئیں گے۔ جن میں سے بعض لوگ جہنم می پاؤں تک گم ہوں گے بعض نصف پنڈلی تک ہوں گے۔ پھر وہ جہنم سے نکلیں گے۔ پھر وہ دوبارہ اس میں آئیں گے۔ پھر وہ فرمائے گا تم لوگ جاؤ تمہیں جس کے دل میں نصف دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے، اسے (جہنم سے) باہر نکال لو، تو وہ جہنم سے (ایسے لوگوں کو) باہر نکالیں گے پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے کہا جائے گا تم جاؤ اور جس کے دل میں دانے کے وزن جتنا ایمان تمہیں ملتا ہے، اسے (جہنم سے) نکال لو، تو وہ لوگ انہیں نکال لیں گے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میرے بات کو سچ نہیں سمجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہے۔ "اے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر کوئی نیکی ہوگی، تو وہ اسے کئی گنا کردے گا، اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا"۔ فرشتے ، انبیاء ، صدیقین شفاعت کریں گے۔ پھر زبردست ذات جو برکت والی ا ور بلند و برتر ہے، اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یہ فرمائے گا اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا وہ ان لوگوں کو نکالے گا، جو جل کر کوئلہ ہوچکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا، جس کا نام نہر حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانا پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے، جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمان نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کردے گا، جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہوگا ان سے کہا جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں؛ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے "کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) لفظ ساق سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہوجائے گا)

قُلْنَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7377

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، [ص:383] عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبَّاهُ، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: يَا لَبَّيْكَاهُ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ حَرَّقْتَ بَنِيَّ، فَيَقُولُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ذَرَّةٌ أَوْ شَعِيرَةٌ [ص:384] مِنْ إِيمَانٍ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا: میں سن رہا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے اے میرے پروردگار ، تو نے میرے بیٹوں کو جلادیا ہے، تو پروردگار فرمائے گا تم جہنم میں سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں ذرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاط ہیں: ) جَو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہے"۔

إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ حَرَّقْتَ بَنِيَّ، ← الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: يَا لَبَّيْكَاهُ، ← إِبْرَاهِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبَّاهُ، ← النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، [ص:345] ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Hadith 7378

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7379

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ، وَكَلَالِيبُ، وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَبِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْعَى سَعْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي مَشْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَحْبُو حَبْوًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَزْحَفُ زَحْفًا، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَلَا يَمُوتُونَ، وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ، فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا، فَيُحْرَقُونَ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ، فَيَقْذَفُونَ عَلَى [ص:385] نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةً تَنْبُتُ فِي الْفَضَاءِ؟ فَيَكُونُ مِنْ آخِرِ مَنَ أُخْرِجَ مِنَ النَّارِ رَجُلٌ عَلَى شَفَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، صَرِّفْ وَجْهِي عَنْهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، قَالَ: وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي شَيْئًا غَيْرَهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ كَلَامَهُمْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ»، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: اخْتَلَفَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا»، وَقَالَ الْآخَرُ: «فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى «وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلَى جَانِبِ الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جہنم کے پل پر سے لوگ گزریں گے۔اس پر بڑے ، بڑے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے، جو لوگوں کو دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اچک لیں گے۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر فرشتے موجود ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا، سلامتی عطا کرنا، تو کچھ لوگ ہوا کی مانند (تیزی سے) گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ دوڑنے والے شخص کی طرح ، کچھ چلنے والے شخص کی طرح ، کچھ لوگ گھسٹ کر گزریں گے، اور کچھ لوگ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزریں گے۔ جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، جو اس کے اہل ہوں گے، تو وہ جہنم میں نہ، تو مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور خطاؤں کی وجہ سے ان کی گرفت کی جائے گی اور انہیں جلایا جائے گا۔ جب وہ کوئلہ ہوجائیں گے، تو پھر شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ گروہ کرکے لیا جائے گا، اور جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، اور وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلاب کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ درخت نہیں دیکھا جو ایسی کھلی جگہ پر اگتا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص وہ ہوگا، جو جہنم کے کنارے پر ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پل صراط پر تین درخت ہوں گے وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں۔ سائے میں آجاؤں۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص دوسرے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے زیادہ اچھا ہے، تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں اور اس کے سائے میں آجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار یہ فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگو گے پھر وہ تیسرے درخت کو دیکھے گا کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے، تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ، تو مجھے اس درخت کے پاس لے جا، تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص (جنت میں) لوگوں کے ہجوم کو دیکھے اور ان کا کلام سنے گا، تو عرض کرےگا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کردے۔ ابو نضرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہاں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے درمیان (الفاظ کو نقل کرنے) میں اختلاف ہوا۔ ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا: پروردگار اسے جنت میں داخل کردے گا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند مزید (جگہ جنت میں عطا کرے گا) اور دوسرے صحابی نے یہ کہا: پھر وہ شخص جنت میں داخل ہوگا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند دس گنا (مزید جگہ) عطا کی جائے گی۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) امام ابو یعلی نے اسی طرح یہ بیان کیا ہے کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے حالانکہ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ پل صراط کےایک طرف (یعنی جنت والی طرف) تین درخت ہوں گے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7379

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7380

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عبيدة بن حميد ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Hadith 7380

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr