صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7371
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ»
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم! (ارشاد باری تعالیٰ ہے: ) "جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا کیا جائے گا۔ ا س سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد پیش کرنا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔
قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 7371
