Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7359

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟ » قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، فَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ [ص:360] حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے درمیان مفلس وہ شخص ہوتا ہے، جس کے پاس درہم نہ ہوں اور سازوسامان نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والا وہ شخص مفلس ہوگا، جو قیامت کے دن اپنی نمازیں ، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا۔ جب وہ آئے گا، تو اس نے کسی کو برا کہا ہوگا۔ کسی کا مال کھایا ہوگا۔ کسی کا خون بہایا ہوگا۔ کسی کو مارا ہوگا، تو وہ شخص بیٹھ جائے گا۔ پھر اس کی نیکیوں میں سے کسی کو کچھ دے دیا جائے گا۔ کسی کو اس کی کچھ نیکیاں دے دی جائیں گی۔ پھر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی، اور اس کے ذمے ادائیگی ابھی باقی ہوگی، تو دوسرے لوگوں کی خطائیں لی جائیں گی (اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی) پھر اسے آگے میں ڈال دیا جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 7359

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7360

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ*، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا} [الزلزلة: 4]، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ، وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا، أَنْ تَقُولَ: عَمِلَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ "اس دن (زمین) اپنے حالات بیان کرے گی"۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس کا اطلاع دینا کیا ہوگا۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا اطلاع دینا یہ ہے کہ یہ ہر بندے کے خلاف اور ہر کنیز کے خلاف گواہی دے گی۔ اس چیز کے بارے میں، جو وہ لوگ اس کی پشت پر کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ کہے گی کہ اس شخص نے فلاں فلاں دن، فلاں فلاں کام کیا تھا، تو یہ اس کا اطلاع دینا ہوگا۔

اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← «أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ ← قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا} [الزلزلة: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 7360

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7361

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَمَالِهِ، فَلْيَسْتَحِلَّهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَهُ بِهِ حِينَ لَا دِينَارَ وَلَا دِرْهَمَ، فَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جس شخص نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کی عزت یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو، تو وہ آج ہی اسے معاف کروالے اس سے پہلے کہ اس کی اس دن پکڑ ہو جب کوئی دینار یا درہم کام نہیں آئے گا۔ اگر اس کے پاس نیک اعمال ہوں گے، تو اس کی زیادتی کے حساب سے اس کے نیک اعمال وصول کر لیے جائیں گے، اور اگر یہ نہیں ہوگا، تو پھر اس کے ساتھیوں کے گناہ لے کر اس کے نامہ اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7361

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7362

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لِأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي نَفْسٍ أَوْ مَالٍ فَأَتَاهُ، فَاسْتَحَلَّ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ [ص:363] سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ، فَتُوضَعُ فِي سَيِّئَاتِهِ»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کی جان یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو۔ پھر وہ بھائی کے پاس آئے اور اس سےاپنی زیادتی کو معاف کروالے اس سے پہلے کہ اس کی نیکیاں لی جائیں اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں، تو اس کے ساتھی کے گناہ لیے جائیں اور اس کے گناہوں میں شامل کر دیئے جائیں"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مالک بن أنس ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 7362

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7363

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:364] مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ نَطَحَتْهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "(قیامت کے دن) حقوق ان کے اہل افراد کو ضرور ادا کیے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ کے بغیر بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلوایا جائے گا، جس نے اسے سینگ مارا تھا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← [ص:364] مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ

Hadith 7363

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7364

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: [ص:365] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُقَالُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَلَمْ أُصَحِّحْ جِسْمَكَ، وَأَرْوِيَكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: "قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے یہ کہا جائے گا: کیا میں تمہارے جسم کو صحیح نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے تمہیں ٹھنڈے پانی کے ذریعے سیراب نہیں کیا تھا"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 7364

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7365

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، [ص:366] عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا، فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ: أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا، فَلَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم میں سے کوئی ایک شخص جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو ایک کہنے والا یہ کہے گا: کیا میں نے تمہارے لیے سماعت اور بصارت نہیں بنائی تھی۔ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد عطا نہیں کیا تھا، تو پھر تم نے کیا عمل کیا۔ وہ شخص اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نہیں ملے گی۔ وہ صرف اپنے چہرے کے ذریعے جہنم سے بچ سکے گا، تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔ خواہ نصف کھجور کے ذریعے کرو، اور اگر یہ بھی نہیں پاتے تو پاکیزہ بات کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرو"۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ،

Hadith 7365

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7366

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلَانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ [ص:367] فُلَانًا لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ، فَلَمْ تَعُدْنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلَانًا مَرِضَ فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا:

اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7366

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7367

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَلْقَيَنَّ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ؟ أَلَمْ أَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ فُلَانَةَ خَطَبَهَا الْخَطَّابُ، فَمَنَعْتُهُمْ وَزَوَّجْتُكَ؟ »

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی ایک شخص قیامت کے دن ضرور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو پروردگار اسے فرمائے گا کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے تھے کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا۔ کیا میں نے تمہاری فلاں عورت کے ساتھ شادی نہیں کروائی تھی، جسے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن میں نے ا ن لوگوں کی شادی اس کے ساتھ نہیں ہونے دی اور تمہاری شادی کروا دی تھی"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 7367

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7368

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ نَهَارًا الْعَبْدِيَّ وَكَانَ سَاكِنًا فِي بَنِي النَّجَّارِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَذْكُرُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حَجَّتَهُ، يَقُولُ: [ص:369] يَا رَبِّ، وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ أَوْ فَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ وَوَثِقْتُ بِكَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے حساب لے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے فرمائے گا۔ جب تم نے ایک منکر چیز کو دیکھا تھا، تو تمہیں کس چیز نے اس کا انکار کرنے سے روکا تھا، تو جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی دلیل سکھائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار میں نے تجھ پر یقین کیا اور لوگوں سے الگ ہوگیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) میں لوگوں سے الگ ہو گیا اور میں نے تجھ پر یقین کیا"۔

عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر بن حزم ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7368

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7369

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ اس کو عذاب دیا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس شخص سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیشی ہے ورنہ قیامت کے دن جس بھی شخص سے حساب لیا جائے گا ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7369

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7370

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:371] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ»

677۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ، تو یہ فرماتا ہے۔ "جس شخس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ تو نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیش کرنا ہے۔

«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ»، فَقُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:509] ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7370

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr