صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7359
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟ » قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، فَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ [ص:360] حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے درمیان مفلس وہ شخص ہوتا ہے، جس کے پاس درہم نہ ہوں اور سازوسامان نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والا وہ شخص مفلس ہوگا، جو قیامت کے دن اپنی نمازیں ، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا۔ جب وہ آئے گا، تو اس نے کسی کو برا کہا ہوگا۔ کسی کا مال کھایا ہوگا۔ کسی کا خون بہایا ہوگا۔ کسی کو مارا ہوگا، تو وہ شخص بیٹھ جائے گا۔ پھر اس کی نیکیوں میں سے کسی کو کچھ دے دیا جائے گا۔ کسی کو اس کی کچھ نیکیاں دے دی جائیں گی۔ پھر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی، اور اس کے ذمے ادائیگی ابھی باقی ہوگی، تو دوسرے لوگوں کی خطائیں لی جائیں گی (اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی) پھر اسے آگے میں ڈال دیا جائے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Hadith 7359
