Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا»، {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} [الأنبياء: 104] أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ [ص:344] يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: «يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي»، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: 117]، إِلَى قَوْلِهِ: {الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118]، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم لوگوں کو برہنہ جسم، برہنہ پاؤں، ختنوں کے بغیر (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا (ارشاد باری تعالیٰ ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 7347

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7348

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْقِيَامَةِ؟ » قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ، وَلَا صَوْمٍ، إِلَّا إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ»، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ مِثْلَ فَرَحِهِمْ بِهَا.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز مکمل کی، تو آپ نے فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس کے لیے زیادہ روزے اور زیادہ نمازیں تیار نہیں کیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہوگا، جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے تم بھی اس کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد کبھی کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 7348

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ} [الإسراء: 71]، قَالَ: «يُدْعَى أَحَدُهُمْ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا وَيُبَيَّضُ وَجْهُهُ، وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَتَلَأْلَأُ»، قَالَ: «فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ، فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي هَذَا حَتَّى يَأْتِيَهُمْ، فَيَقُولُ: أَبْشِرُوا، فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا، وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ مُسْوَدًّا وَجْهُهُ، وَيُزَادُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ، وَيَلْبَسُ تَاجًا مِنْ نَارٍ، فَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ، فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ أَخْزِهِ، فَيَقُولُ: أَبْعَدَكُمُ اللَّهُ، فَإِنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بعد نقل کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "اس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کی نسبت سے بلائیں گے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کسی شخص کو بلایا جائے گا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور اس کا جسم ستر گز تک لمبا کر دیا جائے گا۔ اس کا چہرہ سفید کر دیا جائے گا، اور اس کے سر پر ہیروں سے بنا تاج رکھا جائے گا، جو جھلملا رہا ہوگا۔ جب وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جائے گا ۔ وہ لوگ دور سے اسے دیکھیں گے، تو کہں گے اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت رکھ دے، یہاں تک کہ وہ شخص ان کے پاس آئے گا تو کہے گا تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ تم میں سے ہر شخص کو اس کی مانند (اجرو ثواب) ملے گا لیکن جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور اس کا چہرہ سیاہ ہوگا۔ اس کا جسم ساتھ گز ہوجائے گا، جو حضرت آدم علیہ السلام کے قد جتنا تھا۔ اسے آگے سے بنا ہوا تاج پہنایا جائے گا اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے، تو یہ کہیں گے اے اللہ اسے رسو کر، تو وہ کہے گا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی دور کرے تم میں سے ہر ایک کو اس کی مانند (عذاب ملے گا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7349

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7350

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، شَرَّ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ: كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ ذَلِكَ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: اہل جہنم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا، تو پروردگار اسے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے تم نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا۔ وہ کہے گا: اے پروردگار سب سے برا ٹھکانہ ہے۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم اس کے عوض میں تمام روئے زمین جتنا سونا فدیے کے طور پر دینے کے لیے تیار ہو۔ وہ کہے گا جی ہاں میرے پروردگار، تو پروردگار فرمائے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا) پھر اسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7350

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7351

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ: قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تمہارے پاس زمین جتنا سونا ہوتا تو کیا تم فدیے کے طور پر وہ دے دیتے؟ وہ جواب دے گا جی ہاں، تو اسے کہا جائے گا: تم سے اس سے زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7351

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7352

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ، وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت کے دن کافر کے لیے پچاس ہزار سال جتنا دن ہوگا، اور کافر شخص جہنم کو دیکھ لے گا، اور یہ گمان کرے گا کہ وہ اس میں چالیس برس تک گرتا رہے گا"۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَیْرَۃَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 7352

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7353

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:350] بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا قُلْتُ: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، فَيَمْكُثُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ، لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ، إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ»، قَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ، فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا وَفِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى، ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ، إِلَّا صَعِقَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ - النُّعْمَانُ يَشُكُّ - فَتَنْبُتُ مَعَهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، [ص:351] ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكِمْ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24]، ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا مِنْ بَعْثِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: كَمْ، فَيُقَالُ: مِنْ كُلُّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ»، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِرَارًا، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ.

یعقوب بن عاصم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ آپ یہ کہتے ہیں: قیامت اتنے اتنے عرصے کے لیے قائم ہوگی، تو حضرت عبدا للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: پہلے میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا لیکن پھر میں نے سوچا کہ تم تھوڑے ہی عرصے کے بعد ایک بڑا واقعہ دیکھو گے۔ حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری امت میں دجال نکلے گا وہ لوگوں می چالیس تک رہے گا (راوی کہتے ہیں: ) لیکن مجھے نہیں معلوم اس سے مراد چالیس دن ہیں یا چالیس سال ہیں یا چالیس راتیں یا چالیس مہینے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجے گا۔ ان کی شکل عروہ بن مسعود ثقفی کی طرح ہوگی وہ اسے تلاش کرکے اسے ہلاک کردیں گے پھر اس کے بعد سات سال تک لوگوں کے درمیان رہیں گے۔ اس دوران دو آدمیوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا۔ کوئی ایسا شخص زندہ نہیں رہے گا، جس میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو۔ وہ ہوا اس کی روح کو قبض کرلے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی غار میں ہوگا، تو ہوا اس تک بھی پہنچ جائے گی۔ (حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات بھی سنی ہے پھر برے لوگ پرندے کے ٹھکانوں اور درندوں کی کچھاروں میں باقی رہ جائیں گے وہ نیکی سے واقف نہیں ہوں گے اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے۔ شیطان ان کے سامنے انسانی شکل میں آئے گا، اور انہیں بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا، تو وہ ان کی عبادت شروع کر دیں گے۔ اس وقت میں ان کا رزق عمدہ ہوگا۔ ان کی زندگی بظاہر عمدہ ہوگی پھر صور میں پھونک ماری جائے گی، جو بھی اسے سنے گا وہ گر جائے گا پھر کوئی بھی شخص باقی نہیں رہے گا ہر شخص مرجائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایک بارش کو بھیجے گا، جو ہلکی ہوگی، یہاں پر نعمان نامی راوی کو شک ہے، یا موسلادھار ہوگی، اس بارش کے ہمراہ لوگوں کے جسم اگنا شروع ہوں گے۔ پھر صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی، تو وہ لوگ کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے۔ پھر یہ کہا جائے گا: اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف چل پڑو۔ "(ارشاد باری تعالیٰ ہے) ان لوگوں کو روک لو ان سے حساب لیا جائے گا"۔ پھر یہ کہا جائےگا: ان میں سے جہنم میں جانے والے لوگوں کو نکال لو۔ پھر دریافت کیا جائے گا: کتنوں کو؟ تو یہ کہا جائے گا: ایک ہزار میں سے تو سو ننانوے افراد کو۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) اس دن بچوں کو بزرگوں کی شکل میں زندہ کیا جائے گا، اور اس دن پنڈلی سے پردہ ہٹ جائے گا (یعنی معاملہ سخت ہوگا) محمد بن جعفر نامی راوی کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ ہمیں بیان کی ہے، اور کئی مرتبہ میں نے بھی یہ ان کے سامنے پڑھی ہے۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: ← رَجُلًا ← يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7353

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7354

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى ثَابَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِآدَمَ: يَا آدَمُ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ»، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، وَإِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمَنْ هَلَكَ مِنْ كَفَرَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت نازل ہوئی:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7354

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7355

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: [ص:354] بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ عَارَضَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النَّجْوَى؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ، فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ: {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18]»

۔ حضرت صفوان بن محرز مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اسی دوران ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: اے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرگوشی کے بارے میں کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "قیامت کے دن مومن اپنے پروردگات کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اسے پردے میں کرلےگا، اور پھر اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم ان سے واقف ہو۔ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں انہیں پہچانتا ہوں، یہاں تک کہ وہاں تک بات چلی جائے گی، جو اللہ کو منظور ہوگا کہ وہاں تک جائے پھر پروردگار فرمائے گا میں نے دنیا میں تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کی تھی اور آج میں تمہارے لیے ان کی مغفرت کرتا ہوں۔ پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کا صحیفہ دیا جائے گا"۔ لیکن جہاں تک کافر اور منافق شخص کا تعلق ہے، اسے تما م لوگوں کی موجودگی میں پکارا جائے گا (اور یہ کہا جائے گا: جس کا ذکر قرآن میں ہے) "یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کو جھٹلایا، خبردار! ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو"۔

بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 7355

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7356

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا آخِذٌ بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ، فَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا؟ [ص:356] فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَظَنَّ فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَوْجَبَ، قَالَ: قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ مِنَ النَّاسِ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، وَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيَقُولُ الْأَشْهَادُ: {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18]»

حضرت صفوان بن محرزمازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن سرگوشی کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، یہاں تک کہ اسے پردے میں کرلے گا، اور اسے لوگوں سے چھپالے گا۔ پھر وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہنچانتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں میرے پروردگار ۔ وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے پروردگار، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا، اور وہ شخص یہ گمان کرے گا اب اس کے لیے (جہنم) واجب ہو چکی ہے۔ پروردگار فرمائے گا میں نے لوگوں سے تمہیں پردے میں رکھا اور آج میں تمہارے ان گناہوں کی مغفرت کرتا ہوں پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ جہاں تک کفار اور منافقین کا تعلق ہے، تو انہیں تمام لوگوں کے سامنے کہا جائے گا"۔ "یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی۔ خبردار! ظالم لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے"۔

آخِذٌ بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ ← بَيْنَمَا ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7356

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7357

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَصَمُّ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ، وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ، فَيَقُولُ: رَبِّ، قَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ [ص:357] وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونَنِي بِالْبَعَرِ، وَأَمَّا الْهَرِمُ، فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَيَقُولُ: رَبِّ، مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ، فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ رَسُولًا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا»

۔ حضرت اسود بن سریع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: چار طرح کے لوگ قیامت کے دن حجت پیش کریں گے، احمق شخص بے عقل شخص اور وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا۔ جہاں تک پہلے شخص کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہے گا۔ اے میرے پروردگار! اسلام آیا لیکن میں نے کسی چیز کے بارے میں نہیں سنا۔ احمق شخص یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اسلام آیا اور اس وقت بچے مجھے مینگنیوں سے مارتے تھے (یعنی میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا) جہاں تک بے عقل شخص کا تعلق ہے وہ یہ کہے گا، جب اسلام آیا مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ نہیں تھی۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا" تو وہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! تیرا کوئی رسول میرے پاس نہیں آیا۔ پھر پروردگار ان لوگوں سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کی فرمانبرداری ضرور کریں گے۔ پھر پروردگار ان کی طرف ایک پیغام رساں بھیجے گا تم لوگ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر وہ اس میں داخل ہوجائیں، تو وہ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7357

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7358

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ » قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي، فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، فَيُخْتَمُ عَلَى [ص:359] فِيهِ، ثُمَّ يُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ، فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ، وَسُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ مسکرا دیئے آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں کس بات پر مسکرایا ہوں۔ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بندے کے اپنے پروردگار سے گفتگو کرنے پر (مجھے ہنسی آگئی) وہ بندہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! کیا، تو نے مجھے ظلم سے نہیں بچایا۔ پروردگار فرمائے گا جی ہاں۔ بندہ عرض کرے گا، تو پھر میں اپنے خلاف کسی بھی شخص کی گواہی کو قبول نہیں کروں گا۔ کوئی ایسا گواہ ہونا چاہئے جو میری طرف سے ہو، تو پروردگار فرمائے گا آج کے دن تمہارا اپنا وجود تمہارے خلاف گواہ ہونے کے لیے کافی ہے، اور معزز فرشتے بھی تمہارے خلاف گواہ ہیں۔ پھر اس شخص کے منہ پر مہر لگائی جائے گی اور اس کے اعضاء سے یہ کہا جائے گا: تم کلام کرو۔ پھر وہ اعضاء اس کے اعمال کے بارے میں کلام کریں گے۔ پھر اسے بولنے کا موقع دیا جائے گا، تو وہ یہ کہے گا تم لوگ دور ہوجاؤ پرے ہوجاؤ۔ میں تو تمہیں بچانے کے لیے (پروردگار سے) گفتگو کررہا تھا۔

بَلٰی ← يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنْ الظُّلْمِ ← مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ ← «هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← كنا عند رسول الله فضحك، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7358

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr