Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7335

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْكَافِرَ لَيُلْجِمُهُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ»

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت کے دن کافر شخص کو پسینے کی لگام ڈالی جائے گی۔ وہ یہ کہے گا: مجھے آرام دلواؤ خواہ جہنم میں ہی لے جاؤ"۔

«إِنَّ الْكَافِرَ لَيُلْجِمُهُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ» ← النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7335

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7336

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْمَدِينِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ اثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُمَا قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُمَا بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "لوگوں کو تین طرح سے (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا۔ کچھ لوگ رغبت کرنے والے ہوں گے، اور کچھ لوگ ڈرنے والے ہوں گے۔ دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوں گے۔ تین آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوں گے۔ چار آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوں گے۔ دس آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوں گے اور باقی رہنے والے لوگوں کا آگ اکٹھا کرلے گی وہ جہاں بھی رکیں گے وہ آگ ان کے ساتھ رکے گی۔ وہ جہاں بھی رات بسر کریں گے آگ ان کے ساتھ رات بسر کرے گی۔ وہ جہاں بھی صبح کریں گے آگ ان کے ساتھ صبح کرے گی۔ وہ جہاں بھی شام کریں گے آگ ان کے ساتھ شام کرے گی"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْمَدِينِيُّ،

Hadith 7336

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7337

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْإِمَامُ الْكَذَّابُ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا۔ جھوٹا حکمران، بوڑھا زانی اور متکبر غریب"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 7337

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7338

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، [ص:333] وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عُبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنا خاص سایہ نصیب کرے گا۔ جب اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عادل حکمران اور وہ نوجوان جس کی نشو ونما اللہ کی عبادت کرتے ہوئے ہوئی۔ وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق رہے۔ اس وقت جب وہ مسجد سے نکلتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد کی طرف آجائے۔ دو ایسے آدمی جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اسی محبت پر وہ اکٹھے ہوتے ہوں اسی پر جدا ہوتے ہوں۔ ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کر رہا ہو، تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ ایک وہ شخص جسے کوئی صاحب حیثیت اور خوب صورت عورت (گناہ کی) دعوت دے، تو وہ شخص یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ ایک وہ شخص جو کوئی صدقہ دے، تو اسے اتنا خفیہ رکھے کہ بائیں ہاتھ کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 7338

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7339

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ فِي الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ أَخْصِمْهُ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین لوگ ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں مقابل فریق ہوگا، اور جس کا میں مقابل فریق ہوں گا ان کا میں مقابلہ کرلوں گا۔ ایک وہ شخص جو میرے نام پر (کسی کو پناہ دے) اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ ایک وہ شخص جو کسی آزاد شخص کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے اس سے کام پورا لے لیکن اس کا معاوضہ پورا نہ دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7339

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7340

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ [ص:335] مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہیں کرے گا۔ والدین کا نافرمان، باقاعدگی سے شراب پینے والا اور کچھ دے کر احسان جتانے والا"۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ [ص:179] مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 7340

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7341

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ»

حضرت عبدا للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لیے جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور یہ کہا جائے گا: یہ فلاں شخص کی معاہدے کی خلاف ورزی ہے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 7341

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7342

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک (معاہدے کی) خلاف ورزی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور یہ کہا جائے گا: یہ فلاں شخص کی غداری ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← السَّامِيُّ،

Hadith 7342

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7343

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ»

حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک (معاہدے کی) خلاف ورزی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اس کی سرین کے نزدیک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور یہ کہا جائے گا: یہ فلاں شخص کی (معاہدے کی) خلاف ورزی ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7343

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7344

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ [ص:339] الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ»

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونوں (یعنی قتل کے مقدمات) کا فیصلہ ہوگا"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ [ص:339] الزَّهْرَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7344

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7345

أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءٍ، [ص:341] عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي يَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادِي: مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنَ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الصَّحِيحُ هُوَ أَبُو سَعْدِ بْنُ أَبِي فَضَالَةَ»

حضرت ابو سعید بن ابو فضالہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو صحابہ کرام میں سے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب اللہ تعالیٰ اس دن، تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو اکٹھا کرلے گا، جس دن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے، ایک منادی یہ اعلان کرے گا، جس شخص نے کسی ایسے عمل میں، جو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا چاہئے تھا اس میں کسی دوسرے کو شریک کیا ہو، تو وہ اپنا ثواب اللہ تعالیٰ کی بجائے اس دوسرے سے لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) صحیح یہ ہے کہ راوی کا نام حضرت ابو سعد بن ابو فضالہ ہے۔

أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ،وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، ← زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ

Hadith 7345

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7346

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَنَازِلِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «[ص:342] عُرِضَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الْأَنْبِيَاءُ وَأُمَمُهُمْ وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ، وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ، وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ إِلَّا الْوَاحِدُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ، حَتَّى مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي»، فَقُلْتُ: «يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ » قَالَ: أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ، وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ: «يَا رَبِّ، فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ » قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ، قَدِ اسْوَدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ: «يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ » قَالَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، أَرَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: «يَا رَبِّ، قَدْ رَضِيتُ»، قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ: «يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ » قَالَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، أَرَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: «رَبِّ رَضِيتُ»، قِيلَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا بِلَا حِسَابٍ، قَالَ: فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْهُمْ»، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ»

۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کررہے تھے، یہاں تک کہ ہم نے گفتگو ختم کی اور ہم اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آئے اگلے دن صبح ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کرام ان کی امتوں اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکاروں کو پیش کیا گیا، تو کوئی نبی گزرا، تو اس کے ساتھ اس کی امت کے تین آدمی تھے۔ کوئی نبی گزرا، تو اس کے ساتھ اس کی امت کے کچھ لوگ تھے۔ کوئی نبی گزرا، تو اس کے ساتھ اس کی امت کا صرف ایک آدمی تھا۔ کوئی نبی گزرا اس کے ساتھ اس کی امت کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک بڑے گروہ کے درمیان گزرے جب میں نے انہیں دیکھا، تو وہ مجھے پسند آئے میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! یہ کون ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار لوگ ہیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میری امت کہاں ہے؟ پروردگار نے فرمایا: اپنی دائیں طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا، تو وہاں مکہ کا ایک پہاڑ لوگوں کے چہروں سے سیاہ ہو چکا تھا۔ میں نے عرض کی: میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: تمہاری امت ہے، تو کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ پروردگار نے فرمایا: اپنے بائیں طرف دیکھو۔ میں نے اس طرف دیکھا، تو افق کو لوگوں کے چہروں نے بھر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے کیا تم راضی ہو۔ میں نے عرض کی: میرے پروردگار میں راضی ہوں۔ تو یہ کہا گیا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی ہیں، جو کسی حساب کے بغیر (جنت میں) داخل ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا تعلق بنواسد بن خزیمہ سے تھا وہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کردے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے ایک ہو۔ ایک اور صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کردے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7346

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr