Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7323

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ: «إِنَّ الَّذِيَ أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کافر شخص کو چہرے کے بل (کیسے) اٹھایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس ذات نے اسے دونوں پاؤں پا چلایا ہے۔ وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتی ہے کہ اسے چہرے کے بل چلائے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 7323

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7324

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «يَأْخُذُ اللَّهُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ - وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا - أَنَا الرَّحْمَنُ أَنَا الْمَلِكُ»، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ» يَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا «يُرِيدُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دست قدرت میں پکڑے گا پھر فرمائے گا میں اللہ ہوں پھر وہ اپنی انگلیوں کو بند کرے گا پھر انہیں کھولے گا پھر فرمائے گا میں رحمٰن ہوں میں بادشاہ ہوں"۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے ڈول رہا تھا، یہاں تک کہ میں سوچنے لگا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گر، تو نہیں جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) روایت کے یہ الفاظ: " وہ اپنی انگلیوں کو بند کر رہے تھے اور کھول رہے تھے"۔ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اللہ تعالیٰ مراد نہیں ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7324

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7325

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ كُلَّهَا عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، «فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ}»

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کی: بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنی ایک انگلی میں پکڑے گا۔ پانی کو اور زمین کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا، اور تمام مخلوقات کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا، اور پھر یہ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ "انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقی قدر نہیں کی قیامت کے دن تمام زمین اس کے قبضہ قدرت میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس کی ذات اس چیز سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے، جو وہ شرک کرتے ہیں"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7325

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7326

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَعَلَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ [ص:320] كُلَّهَا عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لَمَّا قَالَ الْيَهُودِيُّ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [الزمر: 67] «

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا ایک عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب قیامت کا دن آئے گا، تو اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا، اور تمام زمینوں کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا، اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھے گا، اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا، اور پھر انہیں ہلائے گا، اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نمایاں ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے اس قول پر خوش ہوکر اس کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے (مسکرائے تھے) آپ نے یہ آیت تلاوت کی "لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صحیح طرح سے قدر نہیں کی تمام زمین قیامت کے دن اس کے قبضہ قدرت میں ہوگی"۔

جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7326

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7327

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ}، وَرَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ: «هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ يُحَرِّكُهَا يُمَجِّدُ الرَّبَّ جَلَّ وَعَلَا نَفْسَهُ، أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيزُ، أَنَا الْكَرِيمُ»، فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ، حَتَّى قُلْنَا: لَيَخِرَّنَّ بِهِ.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ آیت تلاوت کی۔ "ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح سے قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا، اور تمام زمین قیامت کے دن اس کے قبضہ قدرت میں ہوگی، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح آپ نے اپنی انگلی کو حرکت دی کہ پروردگار اپنی ذات کی بزرگی بیان کرتے ہوئے فرمائے گا۔" میں زبردست ہوں میں بڑائی والا ہوں میں بادشاہ ہوں میں غالب ہوں میں معزز ہوں"۔

ابْنِ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 7327

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7328

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَادِيُّ*، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، وَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ»

۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم لوگوں کو برہنہ پاؤں، برہنہ جسم، ختنوں کے بغیر (قیامت کے دن) زندہ کیا جائے گا۔ قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَادِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Hadith 7328

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7329

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى الْعَجُزِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى الْخَاصِرَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ»، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَأَلْجَمَ فَاهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً.

۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے۔ "(قیامت کے دن) سورج زمین کے قریب ہوجائے گا، اور لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے۔ کچھ لوگوں کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا نصف پنڈلی تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا گھنٹوں تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا پیٹ کے نچلے حصے تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا پہلو تک آرہا ہوگا، اور کچھ کا گردن تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا اس کے درمیان تک آرہا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو منہ کی طرف لے جا کر اشرہ کرکے بتایا"۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس طرح اشارہ کیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا پسینہ انہیں ڈبو چکا ہوگا۔ اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرکے بتایا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، اَنَّ اَبَا عُشَّانَۃَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 7329

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7330

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ»، قَالَ سُلَيْمٌ: لَا أَدْرِي أَيُّ الْمِيلَيْنِ، يَعْنِي أَمَسَافَةُ الْأَرْضِ أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكَحَّلُ بِهِ الْعَيْنُ؟ قَالَ: «فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا»، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ، يَقُولُ: «يُلْجِمُهُمْ إِلْجَامًا»

حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب قیامت کا دن ہوگا، تو سورج لوگوں کے قریب ہوجائے گا، یہاں تک کہ وہ ایک میل یا دو میل جتنا دور ہوگا۔ سلیم نامی راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس سے مراد کون سا میل ہے؟ کیا میل کی مسافت مراد ہے؟ یا وہ سلائی مراد ہے جس کے ذریعے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج ان کے قریب ترین ہوگا، اور وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوں گے جو اپنے اعمال کے حساب سے ہوں گے ان میں سے کچھ کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا گھٹنوں تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا پیٹ کے نچلے حصے تک آرہا ہوگا۔ کچھ کا منہ تک آرہا ہوگا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرکے یہ فرمایا: اس کی لگام اس کے منہ میں ڈالی جائے گی۔

الْمِقْدَادُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 7330

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7331

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «{يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [المطففين: 6]، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَتَغَيَّبُ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "اس دن لوگ، تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے"۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) وہ ایک ایسا دن ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال جتنی ہوگی، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے کانوں کے نصف حصے تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 7331

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7332

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، [ص:328] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «{يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [المطففين: 6]، حَتَّى يَقُومَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ»

۔ حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "اس دن تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے"۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے نصف کان تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← اَبُوْ یَعْلٰی، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ،

Hadith 7332

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7333

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ مِقْدَارَ نِصْفِ يَوْمٍ مِنْ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ يُهَوِّنُ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَتَدَلِّي الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اور لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں اتنی دیر تک کھڑے ہوں گے جو اس دن کی نصف مقدار جتنا ہوگا، جو دن پچاس ہزار سال کا ہوگا یہ مسلمانوں کے لیے اتنا آسان ہوگا، جتنا وقت سورج کے طلوع ہونے کے قریب سے لے کر غروب ہونے تک کے درمیان کا ہوتا ہے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 7333

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7334

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: {يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} [المعارج: 4]، فَقِيلَ: مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيُخَفِّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا»

۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

{يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} [المعارج: فَقِيلَ: مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 7334

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr