صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7311
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَمِعَ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَأَنْتَ نَبِيُّنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ أَمْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي، وَمَنْ قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ اس انصار نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس شخص کو طمانچہ رسید کر دیا۔ اس بات کا تذکرہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو اس انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص نے یہ کہا تھا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ آپ ہمارے نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صور میں پھونک ماری جائے گی، تو آسمانوں اور زمین میں موجودہر چیز بے ہوش ہوکر گر جائے گی۔ ماسوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ چاہے (کہ وہ بے ہوش نہ ہو) پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونک ماری جائے گی، تو سب سے پہلے میں اپنا سر اٹھاؤں گا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت عرش کے پائے کو تھامے ہوئے ہوں گے مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ کیا تھا یا مجھ سے پہلے انہوں نے اپنا سر اٹھالیا اور جو شخص یہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں، اس نے غلط کہا۔
الْأَنْصَارِيُّ، ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، ← رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7311
