Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1744

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أبي عن بن إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْهُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَرَى الشَّاهِدَ" وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ1. [1: 2]

۔ حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا: بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی، تو انہوں نے اس کے بارے میں کوتاہی کی اور اس کو ترک کردیا۔ ان لوگوں میں سے جس نے اس نماز کو ادا کیا اسے اس نماز کا دو گنا اجر دیا گیا اور اس نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ یہاں تک کہ شاید (ستارہ) نظر آجائے"۔ (راوی کہتے ہیں: ) شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اہل عرب ستارے کو "ثریا" کہتے ہیں: لیکن اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد نہیں ہے کہ مغرب کا وقت اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک "ثریا" (ستارہ) نظر نہ آجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے ثریا اس وقت نمودار ہوتا ہے۔ جب افق سیاہ ہو چکا ہو اور اثیر تبدیل ہو چکا ہو۔ میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے، ثریا کے تابع (ستاروں) میں سے پہلا نمودار ہونے والا ستارہ "شاہد" ہے، ثریا کے تابع ستارے یہ ہیں: کف خضیب، کف جذماء مابض، معصم، مرفق، ابرہ مرفق، عیوق، رجل عیوق، اعلام، ضیقہ، قلاص، ان میں سے عیوق کے علاوہ کوئی بھی ستارہ چمکدار نہیں ہے، صرف وہ (یعنی عیوق) سرخ اور چمکدار ستارہ ہے، جو شمال کی سمت میں ثریا کے متن پر منفرد طور پر نظر آتا ہے۔ اور یہ سورج غروب ہونے پر نمودار ہوتا ہے۔ جب انسان کی بینائی میں معمولی سی تیزی ہو، تو سورج غروب ہونے پر انسان "عیوق" کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ وہ ستارہ ہے جس کے نمودار ہونے پر ہی مغرب کی نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے (یعنی اس نماز کا وقت شروع ہوتا ہے)

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الْعَصْرِ ← أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1744

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1745

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ: شَغَلُوْنَا عَنْ صَلَاۃِ الْوُسْطٰی مَلَاَ اللہُ بُیُوتَھُمْ وبطونھم نارا وھی العصر۔(10:3)

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خندق کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور پیٹوں کو آگے سے بھر دے"۔ (راوی کہتے ہیں) یہ عصر کی نماز تھی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ

Hadith 1745

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1746

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْوُسْطَى: صَلَاةُ الْعَصْرِ». [3: 66]

حضرت عبد اللہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← مُوَرِّقٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 1746

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1747

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ جَلَسَ حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». [1: 2]

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے، وہ اسے جنت میں داخل کرے۔ خواہ اس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو۔ یا وہیں بیٹھا رہا ہو جہاں اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1747

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1748

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن بن أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرٍ أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّيِّنَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُخْبِرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-" ثُمَّ سَكَتَ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حُزْنًا لِيَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: "مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤَدِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهَا لَتَصْطَفِقُ ثُمَّ تلا: {إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ)(النساء :31)۔(2:1)

۔ صہیب بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے، آپ منبر پر تشریف فرماہوئے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: "اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ خاموش ہوگئے۔ پھر ہم میں سے ہر ایک شخص سر جھکا کر رونے لگا۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم اٹھانے پر غمگین ہونے کی وجہ سے تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بھی بندہ نمازیں ادا کرے رمضان کے روزے رکھے۔ سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ اس کیلئے قیامت کے دن جنت کے آٹھ دروازے کھول دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ تیار ہوجاتی ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: "اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیوں کو ختم کردیں گے"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُخْبِرَانِ ← أَنَّهُ ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرٍ أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّيِّنَ ← عمرو بن الحارث أن بن أَبِي هِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 1748

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1749

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِینَ دَرَجَۃً فَاِنْ صَلَّاھَا بِاَرْضِ قِیِّ فَاَتَمَّ وُضُوءَ ھَا وَرُکُوْعَھَا وَسُجُوْدَھَا تُکْتَبُ صَلَاتُہُ بِخَمْسِینَ درجۃ۔(2:1)

۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز ادا کرنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ویرانے میں نماز ادا کرے وضو کو مکمل کرے، رکوع اور سجود مکمل کرے تو اسے پچیس نمازوں کا ثواب ملے گا"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى

Hadith 1749

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1750

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى إِذَا كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: "إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُذِ انْتَظَرْتُمْ". قَالَ أَنَسٌ: فكأني أنظر إلى وبيص خاتمه1. [1: 2]

۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز موخر کردی یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی۔ پھر آپ تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: لوگ نماز ادا کرکے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے انتظار کر رہے تھے مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے"۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1750

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1751

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ حدثه قال: سَمِعْتُ سَھْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول: مَنْ کَانَ فِیْ مَسْجِدِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ فَھُوَ فی الصلاۃ۔(2:1)

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ "جو شخص مسجد میں رہ کر نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے"۔

مَنْ کَانَ فِیْ مَسْجِدِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ فَھُوَ فی الصلاۃ۔(2:1) ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 1751

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1752

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ2 بْنُ الْحُبَابِ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ قَاضِي مِصْرَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ فَهُوَ في الصلاة ما لم يحدث" 3. [1: 2]

۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو"۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ قَاضِي مِصْرَ ← عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1752

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1753

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" 1. [1: 2]

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک فرشتے کسی شخص کیلئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے ہیں۔ جب تک وہ شخص اپنی اس جائے نماز پر موجود رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی تھی۔ جب تک وہ بے وضو نہیں ہوا (وہ فرشتے یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ! تو اس کی مغفرت کردے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1753

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr