صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1744
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أبي عن بن إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْهُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَرَى الشَّاهِدَ" وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ1. [1: 2]
۔ حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا: بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی، تو انہوں نے اس کے بارے میں کوتاہی کی اور اس کو ترک کردیا۔ ان لوگوں میں سے جس نے اس نماز کو ادا کیا اسے اس نماز کا دو گنا اجر دیا گیا اور اس نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ یہاں تک کہ شاید (ستارہ) نظر آجائے"۔ (راوی کہتے ہیں: ) شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اہل عرب ستارے کو "ثریا" کہتے ہیں: لیکن اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد نہیں ہے کہ مغرب کا وقت اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک "ثریا" (ستارہ) نظر نہ آجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے ثریا اس وقت نمودار ہوتا ہے۔ جب افق سیاہ ہو چکا ہو اور اثیر تبدیل ہو چکا ہو۔ میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے، ثریا کے تابع (ستاروں) میں سے پہلا نمودار ہونے والا ستارہ "شاہد" ہے، ثریا کے تابع ستارے یہ ہیں: کف خضیب، کف جذماء مابض، معصم، مرفق، ابرہ مرفق، عیوق، رجل عیوق، اعلام، ضیقہ، قلاص، ان میں سے عیوق کے علاوہ کوئی بھی ستارہ چمکدار نہیں ہے، صرف وہ (یعنی عیوق) سرخ اور چمکدار ستارہ ہے، جو شمال کی سمت میں ثریا کے متن پر منفرد طور پر نظر آتا ہے۔ اور یہ سورج غروب ہونے پر نمودار ہوتا ہے۔ جب انسان کی بینائی میں معمولی سی تیزی ہو، تو سورج غروب ہونے پر انسان "عیوق" کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ وہ ستارہ ہے جس کے نمودار ہونے پر ہی مغرب کی نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے (یعنی اس نماز کا وقت شروع ہوتا ہے)
صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الْعَصْرِ ← أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Hadith 1744
