صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1732
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حبان الأنصاري عن بن مُحَيْرِيزٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدْ أَكْمَلَهُنَّ وَلَمْ يَنْتَقِصْهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ" 1. [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عُبَادَةَ: "كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ" يُرِيدُ بِهِ أَخْطَأَ. وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ حَيْثُ قَالَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ. وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لِأَهْلِ الْحِجَازِ إذا أخطأ أحدهم يقال له كذب2. وَاللہُ جَلَّ وَعَلَا نَزَّہَ اَقْدَارَ اَصْحَابِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ اِلْزَاقِ الْقَدْحِ بِھِمْ حَیْثُ قَالَ:( یَوْمَ لاَ یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوا مَعَہُ نُورُ ھُمْ ۔۔۔)(التحریم 8)۔ فَمَنْ اَخْبَرَ اللہُ جَلَّ وَعَزَّ اَنَّہٗ لَا یُخْزِیہِ فِیْ الْقِیَامَۃِ فَبِالْحَرِیِّ اَنْ لَا یُجْرَجَ وَالرَّجُلُ الَّذِیْ سَاَلَ عُبَادَۃَ ھٰذَا: ھُوَ اَبُوْ رفیع المخدجی۔
ابن محیریز بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا کہ اے ابو ولید! میں نے حضرت ابو محمد انصاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وتر واجب ہیں۔ حضرت عبادہ نے کہا ابو محمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا ہے: "پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جو شخص انہیں ادا کرے گا اور مکمل کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی نہیں کریگا، تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص انہیں ادا کرے گا۔ ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کرے گا، تو اس شخص کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے اور اگر وہ چاہے گا، تو وہ عذاب دے گا اور اگر چاہے گا، تو اس پر رحم کرےگا۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کہنا "ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے" اس سے مراد انہوں نے غلط کہا ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو کہا تھا، اس سے بھی یہی مراد ہے، اہل حجاز کا یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص غلط بات کہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے "اس نے جھوٹ کہا ہے"۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس چیز سے محفوظ رکھا ہے کہ ان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اس دن اللہ نے نبی اور اس کے ساتھ موجود اہلِ ایمان کو رسوا نہیں کیا، ان کا نور"۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی کہ وہ قیامت کے دن انہیں رسوا نہیں کرے گا تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان پر جرح نہ کی جائے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کرنے والا شخص ابورفیع مخدجی تھا۔
عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ← الوتر واجب ← أَبَا مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ ← يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إِنِّي ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← بن محيريز ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ
Hadith 1732
