Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 400

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ ويده" 2.

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مسلمانوں میں سے کون شخص بہتر ہے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت ہیں۔

إِنَّ رَجُلًا ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 400

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 401

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِالْأُبُلَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الجوزاء عن بن عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِأَنْ لَا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَكَانَ إِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهَا {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} 1

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں ایک انتہائی خوب صورت عورت نماز ادا کیا کرتی تھی‘ تو حاضرین میں سے بعض لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھےتاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض حضرات پچھلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھےتاکہ جب رکوع میں جائیں ‘ تو اپنی بغل کے نیچے سے اسے دیکھ لیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارےمیں یہ آیت نازل کی: ’’اور ہم تم میں سے آگے ہونے والوں کو بھی جانتے ہیں او ر پیچھے ہونے والوں کو بھی جانتےہیں‘‘۔

بن عباس أنه ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ، بِالْأَبُلَّةِ،

Hadith 401

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 402

اَخْبَرَنَا بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِِّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْءٍ یُکَفُِّ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ فِی الْحَسَنَاتِ قَالُوْا بَلٰی یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ اَوِ الطُّھُوْرِ فِی الْمَکَارِہٖ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلٰی ھٰذَا الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاۃُ بَعْدَ الصَّلَاۃِ ، وَمَا مِنْ اَحَدٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ مُتَطَھِّرًا حَتّٰی یَاْتِیَالْمَسْجِدَ فَیُصَلِّی مَعَ الْمُسْلِمِیْنِ اَوْمَعَ الْاِمَامِ ثُمَّ یَنْتَظِرُ االصَّلَۃَ الَّتِیْ بَعْدَھَا اِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُ اللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ فِاِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاعْدِلُوْا صُفُوفَکُمْ وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَاِذَا کَبَّرَ الْاِمَامُ فَکَبِّرُوْا فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِی وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ،وَخَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّصُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُؤَخَّرُ وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّ صُفْوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ یَا مَعَشَرَ النِّسَاءِ اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فاحفظن أبصار کن من عورات الرجال فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ مَایَعنی بذلک قال ضیق الأزر۔(66:3)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کروں؟ جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسول اللہ ! نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب طبیعت آمادہ نہ ہو‘ اس وقت اچھی طرح وضو کرنا ( یہاں تک ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ لفظ وضو استعمال ہوا ہے یا طہارت استعمال ہوا ہے) او ر اس مسجد کی طرف زیادہ چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز ادا کرنا جو بھی شخص اچھی طرح وضو کر کے اپنے گھر سے نکل کر مسجد تک آتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ( راوی کو یہ شک ہے شاید ) امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتا ہے اور پھر وہ اس سے بعد والی نماز کا انتظار کرتا ہے‘ تو فرشتے یہ کہتے ہیں: اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ۔ اے اللہ ! تو اس پر رحم کر۔ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو‘ تو اپنی صفوں کو سیدھا کر لو اور درمیان میں خالی جگہ کو پر کر دو جب امام تکبیر کہے ‘ تو تم بھی تکبیر کہو‘ کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے ‘ تو تم ربنالک الحمد کہو۔ مردوں کی سب سے زیادہ بہتر صف آگے والی ہے اور مردوں کی کم بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے آگے والی ہے۔ اے خواتین کے گروہ ! جب مرد سجدے میں جائیں ‘ تو تم لوگ مردوں کی شرف گاہ کے حوالے سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو‘‘۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن ابو بکر سے دریافت کیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ (یعنی اس حکم کی وجہ کیا ہے ) ‘ تو انہوں نے فرمایا : کیونکہ ان کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِِّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 402

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 403

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شعبة عن زياد بن علاقةذكر الزَّجْرِ عَنِ ارْتِكَابِ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَا مِنْهُ فِي الْخَلَاءِ كَمَا قَدْ لَا يَرْتَكِبُ مِثْلَهُ فِي الْمَلَاءِ [403] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا کَرِہَ اللہُ مِنْکَ شَیْئًا فَلَا تَفْعَلْہُ اِذَا خَلَوْتَ ۔(3:2)

حضرت اساہ بن شریک ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اللہ تعالیٰ کو تمہاری طرف سے جو بات پسند نہیں ہے تم اسے تنہائی میں بھی نہ کرو‘‘۔

زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 403

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 404

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأنصاري2 وكان من الصَّحَابَۃِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا جَمَعَ اللہُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِیَوْمِ لَا رَیْبَ فِیْہِ نَادَی مُنَادٍ مَنْ کَانَ اَشْرَکَ فِیْ عَمَلِہٖ للہِ اَحَدًا فَلْیَطْلُبْ ثَوَابَہُ مِنْ عِنْدِہٖ فَاِنَّ اللہ أغنی الشرکاء عن الشرک ۔(109:2)

حضرت ابو سعید بن فضالہ انصاری ؓ ‘ جو صحابہ کرام ؓ میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پہلے والوں اور بعد والوں کو اکٹھا کرے گا یہ ایک ایسا دن ہو گا‘ جس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ تو ایک منا دی یہ اعلام کرے گا ‘ جو شخص اپنے عمل میں کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا تھا ‘ تو وہ اپنا ثواب اسی سے حاصل کرے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ شریک سے ‘ سب سے زیادہ بے نیاز ہے ‘‘۔

أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ،وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، ← زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Hadith 404

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدُّورِيُّ1 بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالنَّصْرِ وَالسَّنَاءِ وَالتَّمْكِينِ فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نصيب" 2. [2: 109]

حضرت ابی بن کعب ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’اس اُمت کو مدد ‘ چمک اور تمکین ( یعنی دنیا میں اثرورسوخ ) کی خوشخبری دیدو‘ ان لوگوں میں سے جو بھی شخص آخرت کا عمل ‘ دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا‘‘۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدُّورِيُّ1 بِالْبَصْرَةِ

Hadith 405

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 406

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَوْتُ قَرِيبًا مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ سَمَّعَ يُسَمِّعُ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ راءى يرائي1 الله به" 2. [2: 109]

سلمہ بن کہیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جندب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : میں نے ان کے علاوہ اور کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اس لئے میں حضرت جندب ؓ کے قریب ہو گیا۔ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’جو شخص شہرت کے لئے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کروا دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لئے کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا‘‘۔

جُنْدُبًا ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْمُلَائِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 406

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 407

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ سَمَّعَ يُسَمِّعُ اللَّهُ بِهِ ومن راءى يرائي الله به" 1.

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص شہرت کے لئے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کر وا دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لئے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا‘‘۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحُسَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Hadith 407

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أَنْبَأَنَا حيوة بن شريح قال حدثني الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ اَبُوْ عُثْمَانَ الْمَدَنِیُّ اَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمِ حَدَّثَہٗ اَنَّ شُفَیًّا الْاَصْبَحِیَّ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ دَخَلَ مَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلِ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِ النَّاسُ فقَالَ مَنْ ھٰذَا قَالُوْا اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْہٗ حَتّٰی قَعَدْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُحَدِّثُ النَّاسَ فَلَمَّا سَکَتَ وَخَلَا قُلْتُ لَہٗ اَنْشُدْکَ بِحَقِّی لَمَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عقلتہ وعلمتہ فقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اَفْعَلُ لَاُحَدِّثَنَّکَ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عقلتہ وَعَلِمْتُہٗ ثُمَّ نَشَغَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ نَشْغَۃً فَمَکَتَ قَلِیْلًا ثُمَّ اَفَاقَ فقَالَ لَاْحَدِّثَنَّکَ ھَدِیْثًا ھَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ مَا مَعَنَا اَحَدٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُہٗ ثُمَّ نَشَغَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ نَشْغَۃً اُخْری فَمَکَتَ کَذٰلِکَ ثُمَّ اَفَاقَ فَمَسَحَ عَنْ وَجْھِہِ فقَالَ لَاْحَدِّثَنَّکَ حَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ مَا مَعَہٗ اَحَدٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُہٗ ثُمَّ نَشَغَ نَشْغَۃً شَدِیدَۃً ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلٰی وَجْھِہِ وَاشْتَدَّ بِہٖ طَوِیْلًا ثُمَّ اَفَاقَ فقَالَ حَدَّثَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یَنْزِلُ اِلَی الْعِبَادٍ لِیَقْضِیَ بَیْنَھُمْ وَکُلُّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃٌ فَاَوَّلُ مَنْ یَّدْعُوْ بِہٖ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ وَرَجُلٌ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَرَجُلٌ کَثِیْرُ الْمَالِ فَیَقُوْلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی للقاریء اَلَمْ اُعَلِّمْکَ مَا اَنْزَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِیْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ قَالَ فَمَاذَا عَمِلْتَ فِیمَا عَلِمْتَ قَالَ کُنْتُ اَقُومُ بِہٖ اٰنَاءَ اللَّیْلِ وَآنَاءَ النَّھَارِ فَیَقُوْلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ لَہُ الْمَلَائِکِۃُ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بَلْ اَرَدْتَ أن یقال فلان قاریء فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ وِیُؤْتَی بِصَاحِبِ الْمَالِ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ اَلَمْ اُوَسِعْ عَلَیْکَ حَتّٰی لَمْ اَدَعْتَ تَحْتَاجُ اِلٰی اَحَدٍ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ قَالَ فَمَاذَا عَمِلْتُ فِیمَا اٰتَیْتُکَ قَالَ کُنْتُ اَصِلُ الرَّحِمَ وَاَتَصَدَّقُ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ الْمَلَائِکَۃُ لَہٗ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بل إنما أردت أن یقال فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ وَیُؤْتِی بِالَّذِیْ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیُقَالُ لَہٗ فِیْ مَاذَا قُتِلْتَ فَیَقُوْلُ اُمِرْتُ بِالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِکَ فَقَاتَلْتُ حَتّٰی قُتِلْتُ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ لَہُ الْمَلَائِکَۃُ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بَلْ اٗردت أن یقال فلان جریء فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُکْبَیتِیْ فقَالَ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ اُولَئِکَ الثَّلَاثَۃُ اَوَّلُ خَلْقِ اللہِ تسعر بھم النار یوم القیامۃ قَالَ الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ فَاَخْبَرَنِیْ عُقْبَۃُ اَنَّ شُفَیًّا ھُوَ الَّذِیْ دَخَلَ عَلٰ مُعَاوِیَۃَ فَاَخْبَرَہُ بِھٰذَا الْخَبَرِ قَالَ اَبُوْ عُثْمَانَ الْوَلِیْدُ وَحَدَّثَنِیْ الْعَلَاءُ بْنُ اَبِیْ حَکِیمِ اَنَّہٗ کَانَ سَیَّافًا لِمُعَاوِیَۃَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فِحَدَّثَہٗ بِھٰذَا عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فقَالَ مُعَاوِیَۃُ قَدْ فُعِلَ بِھٰؤُلَاءِ مِثْلُ ھٰذَا فَکَیْفَ بِمَنْ بَقِیَ مِنَ النَّاسِ ثُمَّ بَکَی مُعَاوِیَۃُ بُکَاءً شَدِیدًا حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ ھَالِکٌ وَقُلْنَا قَدْ جاءَ نَا ھٰذَا الرَّجُلُ بِشَرِّ ثُمَّ اَفَاقَ مُعَاوِیَۃُ وَمَسَحَ عَنْ وَجْھِہٖ فقَالَ صَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہُ (مَنْ کَانَ یُرِیْدَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالِھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَ اُولَئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیْھَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (ھود:16،15) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَلْفَاظُ الْوَعِیْدِ فِی الْکِتَابِ وَالسُّنَنِ کُلُّھَا مَقْرُوْنَۃٌ بِشَرْطٍ وَھُوَ اِلَّا اَنْ یَّتَفَضَّلَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا عَلٰی مُرْتَکِبِ تِلْکَ الْخِصَالِ بِالْعَفْوِ وَغُفْرَانِ تِلْکَ الْخِصَالِ دُوْنَ الْعُقُوْبِہِ عَلَیْھَا وَکُلُّ مَافِی الْکِتَابِ وَالسُّنَنِ مِنْ اَلْفَاظِ الْوَعْدِمِقْرُوْنَۃٌ بِشَرْطٍ وَھُوَ اِلَّا اَنْ یَّرْتَکِبَ عَامِلُھَا مَا یَسْتَوْجِبُ بِہِ الْعُقُوْبَۃَ عَلٰی ذٰلِکَ الْفِعْلِ حَتّٰی یُعَاقَبَ اِنْ لَمْ یَتَضَّلَ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ ثُمَّ یُعْطَی ذٰلِکَ الثَّوَابَ الَّذِیْ وُعِدَ بِہٖ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ۔(109:2)

عقبہ بن مسلم بیان کرتے ہیں : شفی اصحبی نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوئے ‘ تو وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے۔ شفی نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ‘ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت ابو ہریرہؓ ہیں ۔ شفی کہتے ہیں : میں ان کے قریب ہو گر ان کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ وہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر تے تھے جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے‘ تو میں نے ان سے دریافت کیا : میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو اور آپ نے اسے سمجھا ہو اور جان لیا ہو ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: میں ایسا کرتا ہوں میں تمہیں ایک ایسی حدیث بتاتا ہوں جو نبی اکرمﷺ نے مجھے بتائی تھی اور میں نے اسے سمجھا بھی تھا ‘اور جان بھی لیا تھا پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ایک سسکی لی پھر تھوڑا وقت گزر گیا جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے سنائی تھی اس وقت اس گھر میں ‘میں اور نبی اکرمﷺ موجود تھے۔ میرے اور نبی اکرمﷺ کے علاوہ ہمارےساتھ اور کوئی موجود نہیں تھا پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے دوسری مرتبہ سسکی لی پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے ‘ جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے اپنےچہرے سے پسینہ صاف کیا اور بولے : میں ایسا کرتا ہوں میں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا ‘ جو نبی اکرمﷺ نے مجھے بیان کی تھی۔ اس وقت اس گھر میں ‘ میں اور نبی اکرمﷺ تھے۔ میرے ساتھ کوئی موجود نہیں تھا پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے زیادہ زور سے سسکی لی اور وہ اپنے چہرے کے بل گرنے کی طرح آگے کی طرف جھکے اس مرتبہ ان کی یہ کیفیت طویل ہوئی پھر جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے مجھے یہ بات بتائی تھی: ’’جب قیامت کا دن ہو گا‘ تو اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزول فرمائے گا اور ہر اُمت گھٹنوں کے بل موجود ہو گی ‘ تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بلائے گا‘ بس نے قرآن کو جمع کیا ( یعنی ا س کا علم حاصل کیا ) اور ایک ایسےشخص کو جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا گیا ہو اور ایک ایسے شخص کو جس کے پاس مال بہت زیادہ تھا ( انہیں بلایا جائے گا ) اللہ تعالیٰ قرآن کے عالم سے کہےگا : میں نے اپنے رسول پر جو نازل کیا تھا اس کا علم میں نے تمہیں نہیں دیا تھا ؟ وہ جواب دے گا: جی ہاں ! میرےے پروردگار اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جو علم حاصل کیا ہے اس بارے میں میں تم نے کا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا ۔ میں رات دن اس کے ساتھ مصروف رہا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ فرشتے بھی اس شخص سےکہیں گے کہ تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے :فلاں شخص قرآن کا عالم ہے ُ تو یہ با ت کہہ دی گئی۔ پھر مال دار شخص کو لایا جائے گا‘ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں کشادگی عطا نہیں کی تھی‘ یہاں تک کہ میں نے تمہیں ایسی حالت میں رکھا تھا کہ تمہیں کسی کی بھی ٖضرورت نہ ہو؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں ! یرے پروردگار ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے جو کچھ تمہیں دیا تھا اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور خیرات کرتا رہا ‘ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے غلط کہا ہے۔ فرشتے بھی اس سے یہ کہیں گے تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ فرمائے گا تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے : فلاں شخص سخی ہے ‘ تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا‘ جسے ( دنیا میں ) اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ تو اس سے یہ دریافت کیا جائے گا تمہیں کیوں قتل کیا گیا؟ وہ جواب دے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا میں نے جنگ میں حصہ لیا ‘ یہاں تک کہ مجھےقتل کر دیا گیا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے غلط کہا ہے فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم نے غلط کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کتنا بہادر ہ ‘ تو یہ بات کہہ دی گئی۔ (حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ) پھر نبی اکرمﷺ نے میر گھٹنوں پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ’’اے ابو ہریرہؓ ! یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے پلے تین لوگ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ‘‘۔ ( یعنی جنہیں سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا) ولید بن ابو ولید بیان کرتے ہیں : عقبہ نے مجھے یہ بتائی ہے ’’شفی‘‘ نامی راوی حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا ۔ ابو عثمان ولید نے یہ بات بیان کی ہے ۔ علاء بن ابو حکیم نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ حضرت معاویہ ؓ کے جلاد تھے وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے یہ حدیث ان کے سامنے بیان کی ‘ تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا ان لوگوں کے ساتھ اس طرح ہو گا‘ تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا‘ تو حضرت معاویہ ؓ انتہائی زیادہ روئے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ کہیں وہ ہلاکت کا شکار نہ ہو جائیں۔ ہم نے کہا : یہ شخص ایک برائی لے کر آیا ہے پھر حضرت معاویہ ؓ کو افاقہ ہوا‘ تو انہوں نے اپنے چہرے کو پونچھا اور کہا للہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ ’’جو شخص دنیا کی مانند اور اس کی زینت کا ارادہ کرتا ہے ‘ تو ہم دنیا میں اسے اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیں گے اور انہیں اس میں کوئی کمی نہیں کی جائیگی ‘ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جن کا آخرت میں حصہ صرف جہنم میں ہو گا ‘ اور انہوں نے دنیا میں جو کچھ کیا وہ ضائع ہو جائیگا ‘ اور جو عمل وہ کرتے رہے وہ باطل ہوں گے‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) کتاب اور سنت میں وعید کے جتنے بھی الفاظ ہیں‘ وہ سب شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ‘ اور وہ یہ ہیں : اگر اللہ تعالیٰ چاہے ‘ توا پنے فضل کے ساتھ ان باتوں کے مرتکب شخص کو معاف کر سکتا ہے ‘ اور ان غلطیوں کی مغفرت کر سکتا ہے ۔ ان پر ( آدمی کو سزا نہ دے ) اور کتاب و سنت میں وعدے کے جتنے بھی الفاط ہیں‘ وہ اس شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب نہیں ہو گا‘ جو اس فعل کے ارتکاب پر سزا کو لازم کر دے ‘ یہاں تک کہ اسے سزا دی جائے اگر اس پر معافی کا فضل نہیں کیا جاتا۔ پھر اس شخص کو اس چیز کا ثواب ملے گا ‘جو وعدہ اس فعل کے حوالے سے اس شکص کے ساتھ کیا گیا ہے۔

الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ اَبُوْ عُثْمَانَ الْمَدَنِیُّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 408

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr