Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1709

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا وَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ فيه للمسلمين بركة1.

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ اسماؓ سے عارضی استعمال کے لئے ایک ہار لیا وہ گم ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا۔ ان لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا ۔انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز ادا کر لی ۔جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے کی ،تو تمیم کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گی ۔ اس پر حضرت اسیدبن حفیر ؓ نے کہا (یعنی سیدہ عائشہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ) اللہ تعالیٰ نے آ پ کو جزائے خیر عطا کرے اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیا ، اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1709

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1710

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ وَقَدْ كَشَفَ فَخِذَهُ فَقَالَ: "غطها فإنها عورة" 1.

حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے انہوں نے اس وقت اپنے زانوں سے کپڑا ہٹایا ہو تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے ڈھانپ لو، کیو نکہ یہ پردے کی چیز ہے ۔

جَدِّهِ جَرْهَدٍ ← زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 1710

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1711

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ بن سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" 1.

سیدہ عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں کرتا ۔

"لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← بن سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1711

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1712

حدثناه بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الوليد الطيالسي بإسناد مثله وقال: صَلَاۃَ اِمْرَاَۃٍ حَائِضٍ اِلَّا بِخِمَارٍ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :بالغ عورت کی نماز چادر ہی کے ساتھ ہوتی ہے

أَبُو الوليد الطيالسي بإسناد مثله وقال: صَلَاۃَ اِمْرَاَۃٍ حَائِضٍ اِلَّا بِخِمَارٍ ← بُنْدَارٌ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1712

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1713

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ سَمِعَ نَافِعًا عن بن عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إذا صلى أحدكم فليتزر وليرتد" 2.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب کوئی شخص نماز ادا کرنے لگے تو تہبند باندھ لے اور اسے موڑ لے ۔

"إذا صلى أحدكم فليتزر وليرتد" ← النَّبِيِّ ← بن عُمَرَ ← نَافِعًا ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَسَنِ،

Hadith 1713

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1714

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بن عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الواحد؟ قال1: "إذا وسع اللہُ عَلَیْکُمْ فَاَوْسِعُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ جمَعَ رَجُلٌ عَلَیْہِ ثِیَابَہُ صَلّٰی رجُلٌ فِیْ اِزَارٍ وَرِدَاءٍ فِیْ اِزَارٍ وَقَمِیصٍ فِیْ اِذَارٍ وَقَبَاءٍ فِیْ سَرَاوِیْلَ وَقَمِیصٍ فِیْ سَرَاوِیْلَ وَرِدَاءٍ فِیْ سَرَاوِیْلَ وَقَبَاءٍ فِیْ تُبَّانٍ وَقَمِیصٍ فِیْ تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ قَال: وأحسبہ (قال) فی تبان ورداء۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا کوئی نشخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے ؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ تمہیں گنجائش دے ، تو تم اپنے آپ کو گنجائش دو آدمی اپنے جسم پر دو طرح کے کپڑے اکٹھے کرے ۔آدمی تہبند اور چادر میں م تہبند اور قمیض میں ،یا تہبند اور قبا میں ،یا شلوار ناور چادر میں ، یا شلوار اور قبا میں ،یا پاجامے اور قمیض میں ، یا پاجامے اور قبا میں نماز ادا کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میر اخیال ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا :پاجامے اور چادر میں (نماز ادا کرے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1714

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1715

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ». [1: 99]

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں :حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ بات بیان کی ہے ایک مرتبہ لوگ قبا میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے ۔ اس دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اس ننے ان سے کہا : اللہ کے رسول پر گزشتہ رات قرآن نازل ہوا : آپ مﷺ کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے ، آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں ، تو تم لوگ بھی اس طرف رخ کر لو ۔ ان لوگوں کے چہرے اس وقت شام کی طرف تھے ۔، تو وہ گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف ہو گے۔

بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ لَهُمْ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1715

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1716

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ صَلّٰی نَحْوَبَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَشَھْرًا اَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَھْرًا وَّکَانَ یُحِبُّ اَنْ یُوَجَّہَ اِلَی الْکَعْبَۃِ فَاَنْزِلَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا:( قَدْ نَریٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ)( البقرۃ : 144) فَمَرَّ رَجُلٌ عَلٰی قَوْمٍ مِنَ الْاَنْصَارِ وَھُمْ رُکُوْعٌ فَقَالَ ھُوَ یَشْھَدُ اَنَّہٗ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَّہٗ وَجَّہَ إلی الکعبۃ۔

حضرت براؓ بیان کرتے ہیں:جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے سولہ ماہ تک یا شاید سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ۔ آپ اس بات کے خواہش مند تھے ،آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ،ہم آسمان میں تمہارے چہرے کا اوپر کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں ، ہم تمہیں عنقریب اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے۔جس تم راضی ہو گے ۔تم اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لو ۔ پھر ایک شخص انصار کے پاس سے گزرا جو رکوع کی حالت میں تھے اس شخص نے گواہی دے کہ یہ بات کہی کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے،اور نبی اکرم ﷺ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے ۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1716

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1717

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ اِسْرَائِیلَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا وُجِّہَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْکَعْبَۃِ قَالُوْا کَیْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ اِخْوَانِنَا وَھُمْ یُصَلُّونَ نَحْوَبَیْتِ الْمَقْدِسِ فَاَنْزَلَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا( وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیعَ اِیمَانَکُمْ)( البقرۃ :143)۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ خانہ کعبہ کی طرف کردیا گیا، تو لوگوں نے عرض کی: ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا، جن کا انتقال ایسی حالت میں ہوا ہے، وہ بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرتے رہے، توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: "اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے، وہ تمہارے ایمان (یعنی اعمال) کو ضائع کردے"۔

لَمَّا وَجَّهَ النَّبِيُّ إِلَى الْكَعْبَةِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1717

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1718

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ، "وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ثُمَّ انْظُرْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانَكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ" "وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِلَّا فَهِيَ نافلة" 1.

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی تم (حاکم کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنا، اگرچہ وہ کوئی ناک کان کٹا غلام ہو۔ جب تم شور با بناؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لینا۔ پھر اپنے پڑوسیوں میں سے کسی گھر کا جائزہ لینا اور اس (شوربہ) میں سے مناسب طور پر انہیں دے دینا۔ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا جب تم امام کو ایسی حالت میں پاؤ کہ وہ نماز ادا کر چکا ہو، تو تم نے اپنی نماز کی حفاظت کرلی، ورنہ وہ (امام کے ہمراہ دوبارہ ادا کرنے کی صورت میں تمہاری دوسری نماز) نفل ہوجائے گی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1718

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1719

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَتَيْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا صَلَّوْا صَلَّيْتَ مَعَهُمْ وَكَانَتْ لَكَ نافلة" 1.

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کرلو، پھر جب لوگوں کے پاس آؤ اور وہ نماز ادا کر چکے ہوں، تو تم نے اپنی نماز کی حفاظت کرلی تھی، اور اگر انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی، تو تم ان کے ساتھ نماز ادا کرو، یہ تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُرَشِيِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1719

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr