صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1709
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا وَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ فيه للمسلمين بركة1.
سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ اسماؓ سے عارضی استعمال کے لئے ایک ہار لیا وہ گم ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا۔ ان لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا ۔انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز ادا کر لی ۔جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے کی ،تو تمیم کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گی ۔ اس پر حضرت اسیدبن حفیر ؓ نے کہا (یعنی سیدہ عائشہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ) اللہ تعالیٰ نے آ پ کو جزائے خیر عطا کرے اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیا ، اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی ۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ
Hadith 1709
