Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 888

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَمِّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا نُحِبُّ وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ» (1) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے۔" اے اللہ! تو اسے ہم پر امن و امان ، سلامتی اور اسلام کے ہمراہ طلوع کر دے اور اس چیز کے ہمراہ جسے تو پسند کرتا ہو، جس سے تو راضی ہو (اے چاند ) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 888

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 889

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيُكْثِرْ، فَإِنَّهُ يَسْأَلُ رَبَّهُ» (1) . [1: 2]

سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: " جب کوئی شخص کچھ مانگے ، تو کثرت سے مانگے کیوں کہ وہ اپنے پروردگار سے سوال کر رہا ہے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 889

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 890

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (2) . [غافر: 60] . [1: 2]

حضرت نعمان بن بشر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے؛ " دعا ہی عبادت ہے " پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: " تم لوگ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا ۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر اختیار کرتے ہیں، وہن عنقریب رسوا ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔"

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 890

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 891

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالِاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» (1) . [1: 2]

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہون ، بے شک میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ، تو ایک ہے، صمد ہے ، جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ اسے ( کسی نے ) جنم دیا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے اللہ تعالیی کے اس اسم کے ذریعے دعا مانگ لی ہے، جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے تو اللہ تعالی ٰدیتا ہےاور دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 891

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 892

892 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ الْبَلَدِيُّ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ»، وَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأ فِي جَانِب المَسْجِدِ، فَقَال رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «لَقَد أُعِطَي مِزْمَاراً مِنْ مَزَامِير آل دَاوُد» وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بن قَيسٍ قَالَ فَقُلتُ لَهُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أُخْبِرُهُ؟ فَقَالَ: «أَخْبِرْهُ»، فَأَخْبَرْتُ أَبَا مُوسى فَقَالَ: لَنْ تَزَالَ لِي صَدِيقاً. قَالَ زَيْدُ بن الحباب: فَحَدَّثت بِهِ زُهَير بن مُعَاوِيَة فَقَالَ: [ص:175] سَمِعتُ أَبَا إِسْحَاق السَّبِيعي يُحَدِّث بِهَذَا الحَدِيث عَنْ مَالِك بن مِغْوَل. [1: 2]

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ میں داخل ہوئے وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا اور دعا مانگ رہا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا ۔" اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں اور تجھے گواہ بنا کہ یہ کہتا ہون کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے اور صمد ہے، جس نے کسی نہیں جنم دیا اور نہ ہی اسے جنم دیا گیا اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔" تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے مانگا ہے کہ جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے تو وہ عطا کرتا ہے ، جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے تو وہ دعا قبول کرتا ہے۔پھر ایک شخص مسجد کے پہلو میں قرات کررہا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو حضرت داود علیہ السلام کی سی خوشی الحانی عطا کی گئی ہے۔ یہ عبد اللہ بن قیس یعنی ابو موسیٰ اشعری ) ہے۔راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : یا رسول اللہ! کیا میں اسے بتا دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے بتادو میں نے حضرت موسیٰ اشعری ؓ کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا تم ہمیشہ میرے دوست رہو گے۔زید بن حباب نامی راوی کہتے ہیں ۔ میں نے یہ روایت زہیر بن معاویہ کو سنائی ، تو انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق سبیعی کو یہ حدیث مالک بن مغول کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنُ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 892

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَكَعَ سَجَدَ وَتَشَهَّدَ، دَعَا، فَقَالَ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيَّامُ (1) ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ سَلَّمَ: اَتَدْرُوْنَ بِمَا دَعَا؟ قَالُوْا: اَللہُ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ ، فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ دَعَا بِاسْمِہِ الْعِظِیمِ الَّذِیْ اِذَا دُعِیَ بِہٖ اَجَابَ ، وَاِذَا سُئِلَ بِہٖ اَعْطٰی ۔(2:1)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا جب وہ رکوع میں گیا ۔ اس نے سجدہ کیا اور تشہد پڑھ لیا، تو پھر اس نے دعا مانگتے ہوئے کہا : " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بے شک حمد تیرے لیے مخصوص ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تو حنان اور منان ہے۔ ( بڑا مہربان اور احسان کرنے والا) آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے جلال اور اکرام والے، زندہ اور ہر چیز کے قائم رکھنے والے اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں۔"تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ شخص کسی کے وسیلے سے دعا مانگ رہا ہے ۔ لوگوں نے کہا: اللہ اور رسول ﷺ زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ اس نے اس عظیم اسم کے واسطے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے واسطے سے دعا مانگی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے اور جب اس کے واسطے سے کوئی چیزمانگی جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حفص نامی راوی حفص بن عبد اللہ بن ابو طلحہ ہے، جو اسحاق کا بھائی ہے، اور حضرت انس ؓ کے والدہ کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حفص ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 893

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 894

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلَ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا، حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ» (1) . [1: 2]

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ْﷺ نے ارشاد فرمایا: " ہر شخص کو اپنی تمام حاجات اپنے پروردگار سے مانگنی چاہئے، یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے ، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 894

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 895

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: [حَدَّثَنَا] قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا، حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ» (2) . [1: 2]

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ْﷺ نے ارشاد فرمایا: " تم میں سے ہر ایک کو اپنی حاجات اپنے پروردگار سے مانگنی چاہئے، یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا (تسمہ )ٹوٹ جائے ، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 895

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 896

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيُعْظِمِ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَى اللَّهِ شَيْءٌ» (3) . [1: 2]

ھضرت ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب کوئی شخص دعا مانگتا ہو اس میں رغبت کو زیادہ کرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھی چیز بڑی ( یعنی مشکل ) نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← خَالِي مَالِكٌ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 896

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 897

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَرَجَ ثَلَاثَةٌ يَتَمَاشَوْنَ، فَأَصَابَهُمْ مَطَرٌ، فَدَخَلُوا كَهْفَ جَبَلٍ، فَانْحَطَّ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمُ الطَّرِيقَ، فَقَالُوا: ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ. فَقَالَ وَاحِدٌ مِنْهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَأَنِّي رُحْتُ يَوْمًا فَحَلَبْتُ لَهُمَا، فَأَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَكَرِهْتُ أَنْ أَسْقِيَ وَلَدِي، وَصِبْيَتِي عِنْدَ رِجْلَيَّ يَتَضَاغَوْنَ، فَقُمْتُ قَائِمًا حَتَّى انْفَجَرَ الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا وَأَرِنَا السَّمَاءَ قَالَ: فَانْفَرَجَ فُرْجَةٌ فَرَأَوَا السَّمَاء. وَقَالَ الآخَرُ اللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّہٗ کَانَتْ لِیْ بِنْتُ عَمٍّ وَکُنْتُ اُحِبُّھَا کَاَشَدِّ مَا یُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ وَاَنِّیْ سَاَلْتُھَا نَفْسَھَا فَقَالَتْ لَا حَتّٰی تَاْتِیَنِیْ بِمِئَۃِ دِیْنَارٍ فَسَعَیْتُ فِیْھَا حَتّٰی جَمَعْتُھَا فَاَتَیْتُھَا فَلَمَّا قَعَدْتُ بَیْنَ رِجْلَیْھَا قَالَتْ یَا عَبْدَ اللہِ اتَّقِ اللہِ ، وَلا تَفُضُّ الْخَاتَمَ اِلَّا بِحَقِّہِ فَتَرَکْتُھَا اللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتُ تَعْلَمُ اَنِّیْ فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَجَاءَ رَحْمَتِکَ وَخَشْیَۃَ عَذَابِکَ فَافْرُجْ عَنَّا وَاَرِنَا السَّمَاءَ قَالَ: فَزَالَتْ قِطْعَۃٌ مِنَ الْحَجَرِ وَرَاَوَا السَّمَاءَ۔ وَقَالَ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اسْتَعْمَلْتُ اَجِیرًا بِفَرَقٍ مِنَ الاَرُزِّ فَلَمَّا کَانَ اللَّیْلُ اَعْطَیْتُہٗ فَلَمْ یَاْخُذُ اَجَرَہُ وَتَسَخَّطَہُ فَاَخَذْتُ الْفَرَقَ فَزَرَعْتُہٗ حَتّٰی صَارَ مِْ ذٰلِکَ بَقَرًا وَّغَنَمًا فَاَتَانِیْ بَعْدَ ذٰلِکَ یَا عَبْدَ اللہِ اتَّقِ اللہَ ، وَلاَ تَظْلِمْنِیْ اَجْرِیَ فَقُلْتُ خُذْ ھٰذِہِ الْبَقَرَ وَرَاعِیھَا فَقَالَ اتَّقِ اللہَ ، وَلا تَھْزَاْبِیْ قُلْتُ مَا اَھْزَاُبِکَ فَھُوَ لَکَ وَلَوْ شِئْتُ لَمْ اُعْطِہِ اِلَّا الْفَرَقَ اللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتُ تَعْلَمُ اَنِّیْ فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَجَاءَ رَحْمَتِکَ وَخَشْیَۃَ عَذَابِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا ۔(6:3)

۸۹۷: حضرت عبد اللہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ درمان نقل کرتے ہیں : " تین آدمی چلتے ہوئے جارہے تھے انہیں بارش نے آلیا وہ لوگ ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہو گئے۔ ایک پتھر ان پر آکر گرا اس نے راستے کو بند کر دیا ، تو ان لوگون نے کہا : تم لوگ اللہ تعالیی سے اپنے سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے وسیلے سے دعا مانگو۔"ان میں ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ باڑھے اور عمر رسیدہ تھے۔ ایک دن میں شام کے وقت گھر آیا۔ میں نے ان دونون کے لیے دودھ دوہ لیاجب میں ان کے پاس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ اپنے ( ماں اور باپ سے پہلے ) اپنے بچون کو دودھ پلادوں ۔ میرے بچے میرے پاون میں بلبلاتے رہے، لیکن میں کھڑا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہوئی وہ ( بیدار ہوئے)، تو میں نے ان دونوں کو پلایا ۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید میں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا ، تو کشادگی نصیب کر اور ہمیں اسمان دکھا دے ؛ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تھوڑی سی کشادگی ہو گئی اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے کہا ؛ اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے میری ایک چچا زاد تھی جس سے میں شدید ترین محبت کرتا تھا جتنی محبت مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے ایک مرتبہ اس کے قرب کا مطالبہ کیا ، تو اس نے کہا : جب تک تم مجھے ایک سو دینار ادا نہیں کرو گے میں تمہارے ( قریب نہیں آوں گی) میں نے اس کے لیے کوشش کی اور وہ رقم اکٹھی کر کےاس کے پاس آیاجب میں اس کی ٹانگون کے درمیان بیٹھ گیا ، تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے تم اللہ تعالیٰ سے ڈرواور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑو، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا ، تو ہمیں کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ، تو پتھر کا ایک ٹکڑا ہٹ گیااور انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا ۔ تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ! میں نے چاولوں کی مخصوص مقدار کے عوض ایک شخص کو ملازم رکھا جب رات کا وقت ہوا، تو میں نے اس کا معاوضہ ادا کیا ، لیکن اس نے اپن امعاوضہ نہ لیا وہ اس سے ناراض ہو گیا ۔ میں نے چاولوں کے پیمانے کو لیا اور کھیتی باڑی شروع کی، یہاں تک کہ وہ گائے اور بکریوں میں تبدیل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ شخص میرے پاس آیااور بولا ؛ اے اللہ کے بندے ! تم اللہ سے ڈرو اور میرے معاوضہ میں زیادتی نہ کرو ، تو میں نے اس سے کہا یہ گائے اور اس کے چرواہے کو لے لو، تو اس نے کہا : تم اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو ۔ میں نے کہا : میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا۔ یہ تمہارے ہیں اگر میں چاہتا ، توا سے چاولوں کی ایک پیمانہ دے سکتا تھا ۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا ، تو ہمیں کشادگی نصیب کر ، تو وہ پتھر وہاں سے ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر آگئے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 897

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 898

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحُسَيْنِ (1) يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ (2) ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ (3) ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنَّ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» (1) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ! میں نے تیرے لئے اسلام قبول کیا میں تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر توکل کیا میں نے تیری طرف رجوع کیا میں تیری مدد سے جھگڑا کرتا ہون ۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو زندہ ہے، جسے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جنات اور انسان مر جائیں گے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الْحُسَيْنِ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 898

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 899

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ خَيْرٌ لِقَوْمِهِ مِنْكَ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ، فَقَالَ لَهُ: مَا شَاءَ اللَّهُ (2) ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ، قَالَ: مَا أَقُولُ؟، قَالَ: «قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ (3) أَمْرِي» فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي، فَقُلْتَ: «اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ (1) أَمْرِي، فَمَا أَقُولُ الْآنَ حِينَ أَسْلَمْتُ؟، قَالَ: «قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ (2) أَمْرِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ، وَمَا عَمَدْتُ (2) ، وَمَا جَهِلْتُ» (3) . [1: 104]

۸۹۹۔ حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے محمد ﷺ ! آپ کے مقابلے میں جناب عبد المطلب قوم کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔وہ انہیں کھانے کے لیے اونٹوں کے جگر اور کوہان دیا کرتے تھے جبکہ انہیں ذبح کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی جو اللہ کو منظور تھا اس نے کہا: جب وہ واپس جانے لگا ، تو اس نے دریافت کیا ؛ میں کیا پرھا کروں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھا کرو ۔" اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کردے۔" پھر وہ شخص چلا گیا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ( کچھ عرصے بعد وہ پھر آپکی خدمت میں حاضر ہوا) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے پاس آیا تھا ۔ میں نے یہ عرج کی تھی کہ آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجیئے، تو آپ نے یہ کہا تھا ۔" اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کردے۔"اب جب میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، تو پھر میں کیا کہوں ؟ ْ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ، تم یہ کہو: ۔" اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کردے، اے اللہ! جو کچھ میں نے پوشیدہ طور پر کیا یا اعلانیہ طور پر کیا ، جو کچھ میں نے غلطی سے کیا ، جو کچھ جان بوجھ کے کیا اور جو کچھ بھی لاعلمی سے کیا ، ان سب کی مغفرت کر دے"۔

أتى رسول الله رجل ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 899

chevron_left Previous
1…789…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr