Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 997

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً، وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرَى، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ» , ثُمَّ قَرَأَ: {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (2) الْآيَةَ [البقرة: 268] . [1: 95]

حضرت عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: " بے شک شیطان کا ایک اثر ہوتا ہے اور فرشتے کا یہ اثر ہوتا ہے، شیطان کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ برائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتے کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ بھلائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، تو جو شخص اس صوعتحال کو پائے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص دوسری صورت حال کو پائے، تو وہ شیطان سے پناہ مانگے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: " شیطان تمہارے ساتھ غربت کا وعدہ کرتا ہے۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 997

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 998

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ ، یَقُولُ: کَانَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْھُدیٰ وَالسَّدَادَ ، وَاِذْکُرْ بِالْھُدیٰ ھِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ ، وَاذْکُرْ بِالتَّسْدِیدِ تَسْدِیدَ السَّھْمِ ، وَنَھَانِیْ نَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّیِّ ، وَالْمِیثَرَۃِ ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِی السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطَی۔(12:5)

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ!میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا رہنا مانگتا ہوں۔" ( نبی اکرم ﷺ کے الفاظ ہیں، یا شاید حضرت علی فرماتے ہیں : ) " تم ہدایت کے ہمراہ راستے کی ہدایت کو ذہن میں رکھو اور سیدھے رہنے کے ہمراہ تیر کے سیدھے رہنے کو ذہن میں رکھو۔" حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قسی اور میثرہ استعمال کرنے اور شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا۔

الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی ← الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ ← بِالتَّسْدِیدِ تَسْدِیدَ السَّھْمِ وَنَھَانِیْ نَبِیُّ اللہِ ← بِالْھُدیٰ ھِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ وَا ← اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْھُدیٰ وَالسَّدَادَ وَاِ ← كَانَ النَّبِيُّ ← عَلِيًّا، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 998

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 999

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» (1) . [1: 104]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ان لوگوں کو اس بات کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Hadith 999

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1000

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ (2) : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ، فَإِذَا فِي الْحَائِطِ أَقْبُرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَعْرِفُ هَؤُلَاءِ الْأَقْبُرَ؟» ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: «مَا هُمْ؟» ، قَالَ: مَاتُوا فِي الشِّرْكِ، قَالَ: «لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ , إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا» , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ بنو نجار کے ایک باغ میں موجود تھے۔ آپ اس وقت ایک خچر پر سوار تھے ۔ وہ آپ کو لے کر چل رہا تھا ۔ باغ میں کچھ قبریں موجود تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ۔ ان قبروں کے بارے میں کون جانتا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی ۔ یا رسول اللہ ! میں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کون تھے ؟ ان صاحب نے عرض کی : یہ شرک پر مرے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: " اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو ( یعنی اپنے مردوں کو ) دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب کے حوالے سے وہ آوازیں سنائے جو میں نے سنی ہیں ۔ بے شک اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہو گی ۔ پھر آپ ﷺ نے ہمارے طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: " جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو ، ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو،"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1000

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1001

سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ (2) ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ [خَالِدِ بْنِ] سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، تَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا (1) . [5: 12]

موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام خالد ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: (وہ بیان کرتی ہیں) میں نے نبی اکرم ﷺ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ ( موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں ) میں نے اس خاتون کے علاوہ کسی اور کو یہ بیان کرتے ہوئے نہیں سنا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ہے۔"

رَسُولَ اللَّهِ غَيْرَهَا ← رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ← أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ [خَالِدِ بْنِ] سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، تَقُولُ: ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Hadith 1001

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1002

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي [أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي] إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا أَوِ اثْنَتَيْنِ إِلَّا سَمِعْتُهُ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ , وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ وَسُوءِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» (2) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب بھی چار یا دو رکعات ادا کیں تو میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: " اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے، سینے کی آزمائش ، بری زندگی اور بری موت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔"

مَا صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ أَرْبَعًا أَوِ اثْنَتَيْنِ إِلَّا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ

Hadith 1002

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1003

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " فقر ، ذلت ، یہ کہ تم ظلم کرو یا تم پر ظلم کیا جائےان ( سب سے ) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔"

أَبُو هُرَيْرَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 1003

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1004

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ (2) ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ» (1) . [1: 104]

مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ ہمیں ان الفاظ کی اس طرح ترعلیم دیا کرتے تھے جس طرح کتابت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ " اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے رذیل ترین عمر کی طرف لاٹایا جائے اور میں دنیا کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عبيدة بن حميد ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1004

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1005

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَةِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، فَاسْأَلُوا اللَّهَ، وَارْغَبُوا إِلَيْهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب تم پرغ کی بانگ سنو تو اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے( اس موقع پر) اللہ تعالیٰ سے مانگو ، اس کی طرف رغبت کرو، اور جب تم گدھے کے رینگنے کی آواز سنو تو اس نے کسی شیطان کو دیکھا ہوتا ہے۔ اس موقع پر تم اللہ تعالیٰ سے اس کے شر کی پناہ مانگو، جسے اس نے دیکھا ہے ( یعنی شیطان ) ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 1005

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1006

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى فِي السَّمَاءِ غُبَارًا أَوْ رِيحًا تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِ، فَإِذَا أَمْطَرَتْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» (1) . [5: 12]

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب آسمان میں غبار ( یعنی آندھی ) یا ہوا دیکھتے تھے، تو اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے لیکن جب بارش ہو جاتی تو آپ یہ کہتے تھے: " اے اللہ! یہ موسلادھار اور فائدہ دینے والی ہو۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1006

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1007

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا مِنْ شَرِّهَا» (2) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، یہ رحمت بھی لے کر آتی ہے اور عذاب بھی لے کر آتی ہے، تو تم اسے برا نہ کہو، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے ( اللہ تعالیی کی ) پناہ مانگو۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← ثَابَتٌ الزُّرَقِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Hadith 1007

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1008

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: [حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ] ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَقْحًا (1) لَا عَقِيمًا» (2) .

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی تو نبی اکرم ﷺ یہ کہتے تھے : " اے اللہ ! یہ ( بارش یا بادلوں کے ہمراہ ) بوجھل ہو ، بانجھ نہ ہو ۔"

«اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ← كَانَ إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ، ← سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1008

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr