Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 960

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ (1) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَهْوَاءِ، وَالْأَسْوَاءِ (2) ، وَالْأَدْوَاءِ» (3) . [5: 12]

زیاد بن علاقہ اپنے چچا( حضرت قطبہ بن مالکؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔ " اے اللہ!مجھ سے نا پسندیدہ اخلاق، نفسانی خواہشات، بری عادات اور بیماریون کو دور کر دے۔"

«اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَهْوَاءِ، وَالْأَسْوَاءِ وَالْأَدْوَاءِ» ← كَانَ النَّبِيُّ ← عَمِّہٖ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ،

Hadith 960

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 961

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَادَةَ (1) بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي، وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» (2) . [5: 12] قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي: الْخَسْفَ (1) .

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ْ؛ نبی اکرم ﷺ صبح اور شام کے وقت ان کلمات کو پرھنا کبھی ترک نہیں کرتے تھے۔ " اے اللہ!میں دنیا اور آخرت میں تجھ سے عافیت طلب کرتا ہوں ۔ اے اللہ!میں اپنے دین ، اپنی دنیا اپنے اہل خانہ اپنے مال کے بارے میں تجھ سے معافی اور عافیت طلب کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! میری ہپوشیدہ چیزوں پر پردہ رکھ اور میری پریشانیوں کو امن دے ۔ اے اللہ ! میرے سامنے ، میرے پیچھے، میرے دائیں طرف، میرے بائیں طرف اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ مجھے اپنے نیچے کی طرف سے کوئی دھوکا دیا جائے۔" وکیع نامی راوی کہتے ہیں اس سے مراد زمیں میں دھنسنا ہے

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ← وَكِيعٌ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 961

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 962

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ، وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: «قُلِ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ: آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیں ، جسے میں صبحو شام پڑھا کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ؛ تم یہ پڑھا کرو: " اے اللہ! اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والے ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ۔ میں اپنی ذات کے شر سے اور شیطان کے شر سےاور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : صبح کے وقت شام کے وقت اور جب تم بستر پر لیٹو، تو اس وقت یہ پڑھ لیا کرو۔

أَبُو بَکْرٍ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 962

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 963

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الْيَوْمِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهِ، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهُ. وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ، وَإِذَا أَمْسَى، قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: وَحَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِيهِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (1) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔ " ہم نے صبح کر لی ہے اور اللہ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ہے، تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ( اے اللہ)! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی اور اس کے بعد آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں کاہلی، بڑھاپے، بری عمر، دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔" ( راوی بیان کرتے ہیں ) جب شام ہو جاتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ اس کی مانند کلمات پڑھا کرتے تھے: حسن بن عبداللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ اس دعا میں یہ بھی پڑھتے تھے۔ " اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہےوہی ایک معبود ہےاس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہےحمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو الشَّعْثَاءِ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 963

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 964

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» (1) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے: " اے اللہ ! تیری مدد سے ہم نے صبح کی ہےتیری مدد سے ہم شام کرتے ہیں تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور تیری مدد سے مریں گے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 964

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 965

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ،، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» (2) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے: " اے اللہ ! ہم تیری مدد سے صبح کرتے ہیں تیری مدد سے ہم شام کرتے ہیں تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور تیری مدد سے مریں گے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 965

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 966

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ لَهَا: «قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخَرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ سے خادم مانگیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم یہ پڑھا کرو: "اے اللہ ! اے سات آسمانون کے پروردگار اے عرش عضیم کے پروردگار اے ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار! تو ظاہر ہے تیری اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ہے تجھ سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے۔اے تورات ، انجیل اور فرقان ( یعنی قرآن ) کو نازل کرنے والے ۔۔ اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے۔ میں ہر چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے، تو ہی پہلا ہے تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا ، تو ہی بعد والا ہے تیرے بعد والا کوئی نہیں ہو گا ، تو ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے۔"

جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Hadith 966

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 967

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغْوَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَنْشُدُكَ (1) اللَّهَ وَالرَّحِمَ فَقَدْ أَكَلْنَا الْعِلْهِزَ (2) - يَعْنِي الْوَبَرَ وَالدَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ، فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ} (3) . [المؤمنون: 76] [3: 64]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ابو سفیان بن حرب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے عرض کی : اے حضرت محمد ﷺ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنے ساتھ رشتہ داری کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگ شدت قحط کی وجہ سے العلھز ( یعنی بال اور خون کھا رہے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : " اور ہم نے عذاب کے ذریعے ان پر گرفت کی حالانکہ انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اختیار نہیں کی اور وہ گڑگڑائے نہیں تھے"

جَاءَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Hadith 967

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 968

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» (1) .

حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے اور اگر اس نے ضرور ایسا کرنا ہو تا پھر یہ کہے۔ " اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو ، اور مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔"

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 968

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 969

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» (1) . [5: 12]

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 969

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 970

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (2) .

ابو رحمٰن بن ابو بکر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : پریشانی کا شکار شخص یہ دعا پڑھے: " اے اللہ! میں تیری رحمت سے امید رکھتا ہوں ، اس لئے، تو پلک جھپکنے تک کے لئے بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے تمام معاملات کو ٹھیک کر دےتیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔"

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 970

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 971

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ، فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَلَجَؤُوا إِلَى جَبَلٍ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: عَفَا الْأَثَرُ، وَوَقَعَ الْحَجَرُ، وَلَا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلَّا اللَّهُ، ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي، فَطَلَبْتُهَا، فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَجَعَلْتُ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا قَرَّبَتْ نَفْسَهَا، تَرَكْتُهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْجَبَلِ. فَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ، وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا، فَإِذَا أَتَيْتُهَا، وَهُمَا نَائِمَانِ، قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَجَاءَ رَحْمَتِکَ وَخَشْیَۃَ عَذَابِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ۔ فَقَالَ الثَّالِثُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتُ تَعْلَمُ اَنِّیْ اسْتَاْجَرْتُ اَجِیرًا یَوْمًا فَعَمِلَ لِیْ نِصْفَ النَّھَارِ ، فَاَعْطَیْتُہٗ اَجْرَہُ فَتَسَخَّطَہُ وَلَمْ یَاْ خُذْہُ ، فَوَفَّرْتُھَا عَلَیْہِ حَتّٰی صَارَمِنْ کلِّ الْمَالِ ، ثُمَّ جَاءَ یَطْلُبُ اَجْرَہُ فَقُلْتُ: خُذْ ھٰذَا کُلَّہُ ، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ اَعْطِہِ اِلَّا اَجْرَہٗ ، فَاِنْ کُنْتُ تَعْلَمُ اَنِّیْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَجَاءَ رَحْمَتِکَ وَخَشْیَۃَ عَذَابِکَ فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ: فَزَالَ القحَجَرُ وَخَرَجُوا یَتَمَاشَوْنَ ۔(12:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم سے پہلے کے زمانے میں تین لوگ اپنے گھر جا رہے تھے انہیں بارش نے آلیا وہ لوگ ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہو گئے۔ ایک پتھر ان پر آکر گرا اس نے راستے کو بند کر دیا ، تو ان لوگون نے کہا : تم لوگ اللہ تعالیی سے اپنے سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے وسیلے سے دعا مانگو۔"ان میں ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ باڑھے اور عمر رسیدہ تھے۔ ایک دن میں شام کے وقت گھر آیا۔ میں نے ان دونون کے لیے دودھ دوہ لیاجب میں ان کے پاس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ اپنے ( ماں اور باپ سے پہلے ) اپنے بچون کو دودھ پلادوں ۔ میرے بچے میرے پاون میں بلبلاتے رہے، لیکن میں کھڑا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہوئی وہ ( بیدار ہوئے)، تو میں نے ان دونوں کو پلایا ۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید میں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا ، تو کشادگی نصیب کر اور ہمیں اسمان دکھا دے ؛ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تھوڑی سی کشادگی ہو گئی اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے کہا ؛ اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے میری ایک چچا زاد تھی جس سے میں شدید ترین محبت کرتا تھا جتنی محبت مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے ایک مرتبہ اس کے قرب کا مطالبہ کیا ، تو اس نے کہا : جب تک تم مجھے ایک سو دینار ادا نہیں کرو گے میں تمہارے ( قریب نہیں آوں گی) میں نے اس کے لیے کوشش کی اور وہ رقم اکٹھی کر کےاس کے پاس آیاجب میں اس کی ٹانگون کے درمیان بیٹھ گیا ، تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے تم اللہ تعالیٰ سے ڈرواور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑو، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا ، تو ہمیں کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ، تو پتھر کا ایک ٹکڑا ہٹ گیااور انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا ۔ تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ! میں نے چاولوں کی مخصوص مقدار کے عوض ایک شخص کو ملازم رکھا جب رات کا وقت ہوا، تو میں نے اس کا معاوضہ ادا کیا ، لیکن اس نے اپن امعاوضہ نہ لیا وہ اس سے ناراض ہو گیا ۔ میں نے چاولوں کے پیمانے کو لیا اور کھیتی باڑی شروع کی، یہاں تک کہ وہ گائے اور بکریوں میں تبدیل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ شخص میرے پاس آیااور بولا ؛ اے اللہ کے بندے ! تم اللہ سے ڈرو اور میرے معاوضہ میں زیادتی نہ کرو ، تو میں نے اس سے کہا یہ گائے اور اس کے چرواہے کو لے لو، تو اس نے کہا : تم اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو ۔ میں نے کہا : میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا۔ یہ تمہارے ہیں اگر میں چاہتا ، توا سے چاولوں کی ایک پیمانہ دے سکتا تھا ۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا ، تو ہمیں کشادگی نصیب کر ، تو وہ پتھر وہاں سے ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر آگئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 971

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr