Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 948

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو (1ههه) ابْنُ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو، فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنَصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ لِيَ الْهُدَى، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ اقْبَلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» (2) . [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَبُو صَالِحٍ (3) مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.

حضرت عب داللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ دعا مانگتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے: " اے اللہ! تو میری اعانت کر اور میرے خلاف اعانت نہ کر ، تو میری مدد کر اور میرے خلاف مدد نہ کر ، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر اور میرے خلاف تدبیر نہ کر ، تو مجھے ہدایت عطا کر اور میرے لئے ہدایت کو آسان کر دے اور جو شخص میرے خلاف آتا ہے تو اس کے خلاف میری مدد کر، اے اللہ! مجھے بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا دےاور بہت زیادہ ذکر کرنے والا بنادےاور اپنا بہت زیادہ فرمانبردار بنا دے، اپنی طرف رجوع کرنے والا اپنا مطیع و فرمانبردار بنا دے۔ اے امیرے پروردگار ! تو میری بیماریون کو ختم کر دے۔" (اما م ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) محمد بن یحییٰ بن سعید ابو صالح کے حوالے سے امام ابو یعلیٰ نے صرف یہی حدیث ہمیں سنائی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ ← عَمْرُو (1ههه) ابْنُ مُرَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 948

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 949

سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ (4) بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَمَّارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَافِيَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ» (1) . وَأَخْبَرَنَاهُ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: «عَاقِبَتَنَا» بِالْقَافِ. [5: 12]

ھضرت بسر بن ارطاہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اے اللہ! تمام امور میں ہماری عافیت کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اورآخرت کے عذاب سے بچا لے۔" یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں لفظ " عافیت " کی بجائےلفظ ط عاقبت " منقول ہے جو " ق" کے ساتھ ہے۔

«عَاقِبَتَنَا» بِالْقَافِ. ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِإِسْنَادِهِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← الصُّوفِيُّ، ← "اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَافِيَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَة". ← رَسُولِ اللَّهِ ← بسر بن أرطاة ← أَبِي ← مُحَمَّدَ بْنَ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 949

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 950

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ السَّهْمِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ عَامَ أَوَّلٍ يَقُولُ، ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَبَكَى، ثُمَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَنْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ، فَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ؛ میں نے حضرت ابو بکر صدیق کو اس منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں میں نے آج سے ایک سال پہلے میں نی نبی اکرم ﷺ کو آج کے دن یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا اس کے بعد حضرت ابو بکر رونے لگ گئے۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ " کلمہ اخلاص کے بعد تمہیں عافیت جیسی کوئی چیز نہیں دی گئیتو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔"

«لَنْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ، فَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَبَكَى، ثُمَّ، ← رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْيَوْمَ عَامَ أَوَّلٍ ← أَبَا بَكْرٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ السَّهْمِيَّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 950

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 951

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَسْأَلُ اللَّهَ؟، قَالَ: «سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ» ، ثُمَّ، قَالَ: مَا أَسْأَلُ اللَّهَ؟ قَالَ: «سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ» (1) . [1: 104]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ سے کیا چیز مانگو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو ۔" انہوں نے پھر دریافت کیا : میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگو، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ، ← أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 951

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 952

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سُلَيْمِ (2) بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَقِیْتُ اَبَا بَکْرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ وَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ اَوَّلٍ فَخَنَقَتْہُ الْعَبْرَۃُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: یَا اَیُّھَا النَّاسُ ، سَلُوْا اللہَ الْمُعَافَاَۃَ ، فَاِنَّہٗ لَمْ یُعْطَ اَحَدٌ مِثْلَ الْیَقینِ بَعْدَ الْمُعَافَاۃِ ، وَلا اَشَدَّ مِنَ الرِّیبَۃِ بَعْدَ الْکُفْرِ ، وَعَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ فَاِنَّہٗ یَھْدِیْ اِلَی الْبِرِّ وَھُمَا فِیْ الْجَنَّۃِ ، وَاِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ ، فَاِنَّہٗ یَھْدِیْ اِلَی الْجُجُورِ وَھُمَا فِی النَّارِ اَرَادَ بِہٖ مُرْتَکِبَھُمَا لَا نَفْسَھُمَا ۔(104:1)

۔اوسط بن عامر بجلی یہ بیان کرتے ہیں ؛ میں نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مدینہ منورہ آیا، تو میں نے ھضرت ابو بکر کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا۔ انہوں نے فرمایا؛ گزشتہ سال نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ ( یہ بات انہوں نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی) لیکن وہ ہر مرتبہ درمیان میں رونے لگ پڑتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا ؛ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " اے لوگو! تم اللہ تعالیی سے عافیت مانگو ، کیونکہ کسی بھی شخص کو معافات کے بعد یقین جیسی ( یہاں ہانا یہ چاہئے کہ یقین کے بعد معافات جیسی) کوئی چیز نہیں دی گئی اور کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید اور کوئی چیز نہیں ہےاور تم پر سچائی کو اختیار کرنا لازم ہے۔کیونکہ یہ نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہونگی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہےکیونکہ یہ گناہ کی طرف لے جاتا ہےاور یہ دونوں جہنم میں ہونگے۔" راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی مراد ان کا ارتکاب کرنے والا شخص ہے ان کا وجود مراد نہیں ہے ۔

قَامَ فِینَا رَسُوْلُ اللہِ عَامَ اَوَّلٍ فَخَنَقَتْہُ الْعَبْرَۃُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ← قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلُ اللہِ فَلَقِیْتُ اَبَا بَکْرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ ← أَوْسَطَ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، ← سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْکَلَاعِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 952

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 953

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ (2) ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ جِبْرِيلَ رَقَاهُ وَهُوَ يُوعَكُ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَسَمٍّ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ» (3) .

حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ جب نبی اکرم ﷺ کو بخار تھا ، تو حضرت جبرائیل نے آپ کو دم کیا انہوں نے یہ کلمات کہے: " میں اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آپ کو ہر اس بیامری سے بچنے کا دم کر رہا ہوں ، جو آپ کو اذیت دیتی ہےاور ہر حاسد کے حسد سے بچنے کے لئے اور ( نقصان پہنچانے والی) نظر اور زہر سے بچاو کے لئے آپ کو دم کر رہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا کرے۔"

رَسُوْلُ اللہِ اَنَّ جِبْرِیلَ رَقَاہُ وَھُوَ یُوعَکُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 953

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 954

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَیْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ھِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ جَدِّی ، وَھَزْلِی ، وَخَطَئِی ، وَعَمْد،یْ ، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ۔(12:5)

حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ! تو میری کوشش ( یا سنجیدگی) میرے مذاق میرے خطا میرے جان بوجھ کر کرنے اور میری طرف سے ہونے والی ہر چیز کی مغفرت کر دے۔"

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ جَدِّی وَھَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْد،یْ وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 954

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 955

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ، عَنْ مَجْزَأَةِ (1) بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ مِنَ الدَّنَسِ» (2) . [5: 12]

حضرت ابن ابو اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ! تو برف اولوں اور پانی کے ذریعے مجھے ذنوب سے پاک کردے۔ اے اللہ ! تو مجھے ذنوب سے یوں پاک کردےجس طرح میل سے کپڑے کو پاک کیا جاات ہے۔"

كَانَ النَّبِيُّ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ ← رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 955

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 956

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنْ ذُنُوبِي كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ» (3) . [5: 12]

حضرت ابن ابو اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا ماناگا کرتے تھے: " اے اللہ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں کو بھر دے اور جو زمین کو بھر دےاور اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے بھر دے، تو مجھے برف اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کر دے ۔ اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے یوں پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 956

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 957

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي وَجَهْلِي، وَجَدِّي وَهَزْلِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (1) . [5: 12]

حضرت ابو موسیٰ اشعری کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ! میری خطاوں ، میرے جہل، میرے اپنے معاملے میں اسراف کے ھوالے سے میری مغفرت کر دےاور ہر چیز کے بارے میں بھی جسے تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، اے اللہ! میری خطاوں میرے جان بوجھ کر کئے گئے اعمال میرے عمد ، میرے جہل میری سنجیدگی میرے مذاق اور ہر وہ چیز جو میری طرف سے ہوئی ہےاس کی مگفرت کر دے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا ہے، جو بعد میں کروں گا ، جو پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ کیا ۔ اس کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، بے شک تو آگے کرنے والا ہےاور تو ہی پیچھے کرنے والا ہےاور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔"

أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 957

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 958

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ (2) إِنَّهَا لَجِنَانٌ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» (1) . [1: 104]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " اے امہ حارثہ! بے شک جنت کی کئی قسمیں ہیں اور حارثہ فردوس اعلیٰ میں ہے، جب تم نے اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو اس سے جنت ( فردوس ) مانگو۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 958

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 959

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي (2) » . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے: " اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت کیا ہے، تو میرے اخلاق کو بھی خوبصورت کر دے۔"

«اللَّهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 959

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr