صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 948
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو (1ههه) ابْنُ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو، فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنَصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ لِيَ الْهُدَى، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ اقْبَلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» (2) . [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَبُو صَالِحٍ (3) مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.
حضرت عب داللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ دعا مانگتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے: " اے اللہ! تو میری اعانت کر اور میرے خلاف اعانت نہ کر ، تو میری مدد کر اور میرے خلاف مدد نہ کر ، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر اور میرے خلاف تدبیر نہ کر ، تو مجھے ہدایت عطا کر اور میرے لئے ہدایت کو آسان کر دے اور جو شخص میرے خلاف آتا ہے تو اس کے خلاف میری مدد کر، اے اللہ! مجھے بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا دےاور بہت زیادہ ذکر کرنے والا بنادےاور اپنا بہت زیادہ فرمانبردار بنا دے، اپنی طرف رجوع کرنے والا اپنا مطیع و فرمانبردار بنا دے۔ اے امیرے پروردگار ! تو میری بیماریون کو ختم کر دے۔" (اما م ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) محمد بن یحییٰ بن سعید ابو صالح کے حوالے سے امام ابو یعلیٰ نے صرف یہی حدیث ہمیں سنائی ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ ← عَمْرُو (1ههه) ابْنُ مُرَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 948
