Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 936

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ بِطَرَسُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ: «مَا كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُ؟» ، قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا تَسْتَطِيعُهُ (1) ، أَوْ لَا تُطِيقُهُ، قُلِ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (2) [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَا سَمِعَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا، وَالْأُخَرُ سَمِعَهَا مِنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ (1) .

حضرت انس ؓ نیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی عیادت کی ، جو بیماری کی وجہ سے سکڑ کر پرندہ کی مانند ہو گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم دعا مانگتے ہو، یا تم کیا مانگتے ہو ۔ اس نے عرض کی میں یہ کہتا ہوں: تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تم یہ کہو: " اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر۔ اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )حمید نامی راوی نے حضرت انس ؓ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں ۔باقی احادیث انہوں نے ثابے کے حوالے سے حضرت انس ؓ سے سنی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ

Hadith 936

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 937

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (2) [5: 12] قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَدْعُو بِهِ.

حضرت انس بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے : " اے اللہ ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں ؛ میں نے قتادہ کے سامنے اس روایت کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا: حضرت انس ؓ بھی یہ دعا مانگا کرتے تھے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 937

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 938

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، قَالُوا: زِدْنَا، فَأَعَادَهَا؛ قَالُوا: زِدْنَا، فَأَعَادَهَا؛ فَقَالُوا: زِدْنَا، فَقَالَ: مَا تُرِيدُونَ؟ سَأَلْتُ لَكُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (1) . [5: 12]

ثابت بیان کرتے ہیں : لوگوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا کیجئے، تو انہوں نے یہ دعا کی۔ " اے اللہ ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت مین بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" لوگوں نے درٖواست کی آپ مزید دعا کیجئے، تو انہوں نے دعبارہ یہی دعا کی ۔ لوگوں نے کہا مزید کیجئے، تو انہوں نے مزید یہی دعا کی۔ لوگوں نے کہا مزید کیجئے، تو حضرت انس نے دریافت کیا : کیا تم چاہتے ہو میں نے تمہارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگ لی ہے۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلا ئی عطا کر اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔"

مَا تُرِيدُونَ؟ سَأَلْتُ لَكُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ← زدنا ← زِدْنَا، فَأَعَادَهَا؛ ← زِدْنَا، فَأَعَادَهَا؛ ← اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ← لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: ادْعُ اللَّهَ لَنَا، ← ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 938

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 939

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ (2) ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَخْبِرْنِي عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» فَلَقِيتُ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (1) . [5: 12]

عبد العزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہا آپ ایسی دعا کے بارے میں مجھے بتائیے، جو نبی اکرم ﷺ مانگا کرتے تھے: انہوں نے بتایا ؛ ( نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے ) " اے اللہ! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات اسماعیل سے ہوئی میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : روایت کے یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے : " اے ہمارے پروردگار! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔"

دعاء كان يدعو به النبي ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ،

Hadith 939

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 940

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا: (2) أَيُّ دَعْوَةٍ أَكْثَرُ مَا يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (3) . [5: 12]

۹۴۰۔عبد العزیز بن صہیب بیان کرتےہیں : قتادہ نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ اکثر اوقات کون سے دعا مانگا کرتے تھے ، تو حضرت انس ؓ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے : " اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔"

سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا: أَيُّ دَعْوَةٍ أَكْثَرُ مَا يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 940

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 941

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَدْ جَهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كُنْتَ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَطِيعُهُ، أَوْ لَا تُطِيقُهُ، فَهَلَّا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؟» قَالَ: فَدَعَا اللَّهُ فَشَفَاهُ (2) . [5: 12]

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکر م ﷺ نے ایک شخص کی عیادت کی جو ( بیماری کی وجہ سے) پرندے کے بچے کی مانند کمزور ہو گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم کای اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں میں کہتا ہوں ۔ " اے اللہ ! تو نے آخرت میں مجھے جو سزا دینی ہے وہ ابھی مجھے دنیا میں ہی دیدے۔" تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کی اطاعت نہیں رکھتے ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تم یہ کیوں نہیں کہتے ۔ " اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" راوی بیان کرتے ہیں : اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا کر دی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 941

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 942

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ (3) بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، قَالَ: «قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ» (1) . [3: 65]

۹۴۲۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیےکہ میں آپ کے بعد اس بارے میں کسی اور سے دریافت نہ کروں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ تم یہ کہو، میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو ۔

قُلْتُ ← سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 942

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 943

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: مَا مِنْ قَلْبٍ اِلَّا بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعٍ الرَّحْمٰنِ ، اِنْ شَاءَ اَقَامَہُ ، وَاِنْ شَاءَ اَزَاغَہُ قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمََ ، یَقُولُ: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتُ قُلُوبَنَا عَلٰی دِیْنِکَ قَالَ: وَالْمِیزَانُ بِیَدٍ الرَّحْمٰنِ یَرْفَعُ قَوْمًا وَّیَخْفِضُ اٰخَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔(67َ:3)

حضرت نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : " ہر شخص کا دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہتا ہے، تو اسے ثابت رکھتا ہے اور اگر چاہتا ہے اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔" راوی بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے: " اے دلوں کے پھیرنے والے ، تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔" نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے ۔ " میزان رحمٰن کے ہاتھ میں ہےوہ ایک قوم کو سر بلندی عطا کرتا ہے اور دوسروں کو پست کر دیتا ہے۔ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا ۔"

أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَبُو ثَوْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 943

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 944

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي. وَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا (1) اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمَنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا لَوْ أَنَّكَ أَطْعَمْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي» (2) .

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں؛ " قیامت کے دن اللہ تعالیی بندے سے یہ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی، تو بندہ عرض کرے گا اے پیرے پروردگار میں کیسے تیری عیادت کر سکتا ہوں، تو تمام جہانون کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرا فلاںبندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہیں کی تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اس کا اجر میرے پاس پا لیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پینے کے لئے پانی نہیں دیا ، تو بندہ عرض کرے گا اے پیرے پروردگار میں تجھے کیسے پینے کے لئے کچھ دے سکتا ہوں ، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہیں علم نہیں ہے ، میرے فلان بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو تم نے اسے پانی نہیں دیا تھا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر تم اسے پانی پلا دیتے ، تواس کا اجرو ثواب میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیتےمیں نے تم سے کھانے کے لئے مانگا تھا ، تو تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا ۔ بندہ عرض کرے گا اے پیرے پروردگار میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہون جبکہ تو تمام جہانون کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تھا ، تو تم نے اسے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا ۔ اگر تم اسے کھانے کے لئے دے دیتے ، تو اس کا اجرو ثواب میرے پاس پا لیتے۔

أَمَا عَلِمْتَ ← يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ ← اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسَفَ بِنَسَا

Hadith 944

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 945

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ بُرَيْدَ (1) بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا، فَطَرَحَهَا فِي التَّمْرِ، وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ» ، قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَالَ: «تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» (2) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ السَّعْدِيُّ، وَأَبُو الْجَوْزَاءِ (1) اسْمُهُ: أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمَا جَمِيعًا تَابِعِيَّانِ بَصْرِيَّانِ

ابو حوارا سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی ؓ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا بات یاد ہے، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک دفعہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی ۔ اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور انہیں کھجورون میں رکھ دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تعلیم دیا کرتے تھے۔ " اے اللہ ! جنہیں ، تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر اور جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا ، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے۔ بے شک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔" شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ " تو برکت والا اور بلند و برتر ہے"۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) ابو الجوزا ربیعہ بن شعبان سعدی ہیں اور ابو الجوزا کا نام اوس بن عبد اللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں)

قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 945

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 946

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ، قَالَ: «قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» ، قَالَ: هَؤُلَاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي؟، قَالَ: «قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي» (1) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كُلُّ مَا فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَمَا يُشْبِهُهَا مِنَ الْأَلْفَاظِ إِنَّمَا أُرِيدَ بِهَا الثَّبَاتُ عَلَى الْهُدَى وَالزِّيَادَةُ فِيهِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُؤْمِنَ الْمُؤْمِنُ بِسُؤَالِ الزِّيَادَةِ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ قَبْلَ ذَلِكَ

إصعب بن سعد بن وقاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی ؛ یا رسو ال اللہ! آپ مجھے ایسے کلام کی تعلیم دیجئےجسے میں پڑھا کروں ، تو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھا کرو: " اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا اور تمام حمدو ثنا اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے، جو زیادہ ہو، اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہےاور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا وہ بلند و برتر اور عظیم ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔" اس شخص نے عرض کی : یہ کلمات تو میرے پروردگار کے لئے میرے لئے کیا ہون گے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو۔ " اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے ، تو مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور تو مجھے رزق عطا کر،" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں جو یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اے اللہ ! تو مجھے ہدایت دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں ۔اس سے مراد ہدایت پر ثابت قدم رہنا اور اس میں اضافہ ہونا ہے، کیونکہ یہ بات نا ممکن ہے ، کوئی مومن اضافی ہدایت کا سوال کرے جبکہ اللہ اس سے پہلے اسے ہدایت دے چکا ہو ۔

جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← ابْنُ نُمَيْرٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 946

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 947

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنَصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي، وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ ، وَاھْدِنِیْ وَیَسِّرِ الْھُدٰی لِیْ وَنْصُوْنِیْ عَلٰی مَنْ بَغَی عَلَیَّ ، رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَکَ شَاکِرًا ، لَکَ ذَاکِرًا ، لَکَ اَوَّاھًا ، لَکَ مِطْوَاعًا ، لَکَ مُخْبَتًا اَوَّاھًا مُنیبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِی ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِی ، وَاَجِبْ دَعْوَتِیْ ، وَثَبِّتْ حُجَّتِی، وَاھْدِ قَلْبِیْ ، وَسَدِّدْ لِسَانِی سَخِیمَۃَ قَلْبِیْ ۔(12:5)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے میرے پروردگار ! تو میری اعانت کر ، تو میرے خلاف اعانت نہ کر ، تو میری مدد کر، تو میرے خلاف مدد نہ کر، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر ، تو میرے خلاف خفیہ تدبیر نہ کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور میرے لئے ہدایت پر ثابت قدم رہنا آسان کر دےاور جو شخص میرا مقابلہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے میرے پروردگارتو مجھے اپن اشکر گزار بنا دے اور مجھے اپنا ذکر کرنے والا بنا دے اور اپنا اطاعت کرنے والا بنا دےاور اپنی بارگاہ کی طرف رجوع کرنے والا اور تواضع و انکساری کرنے والا اور فرمانبردار بنا دے۔ اے میرے پروردگار! تو میری توبہ کو قبول کر لے میری خطا کو دھو دے ، میری دعا کو قبول کر لے۔ میری ھجت کو ثابت کر دے ، میرے دل کو ہدایت پر ثابت قدم رکھ میری زبان کو ٹھیک رکھ اور مجھے دل کی خرابیوں سے محفوظ رکھ۔"

كَانَ النَّبِيُّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 947

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr