Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 912

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ لِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، قَالَ: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ؛ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (2) . [1: 12]

عبد لرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ۔نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم نے عرض کی یا رسول اللہ !ہمیں یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو ۔اے اللہ! تم حضرت محمد ﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر درود نازل کر جس طرح، تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک، تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ!تو حضرت محمد ﷺ اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح ، تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی تھی، بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔"

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 912

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 913

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ» (1) . [1: 12]

حضرت ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیی اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 913

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 914

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» (2) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ مخصوص فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔ وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زَاذَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 914

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 915

أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، غُلَامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مَسْرُورٌ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَكَ جَاءَنِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَمَا تَرْضَى أَنْ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي صَلَاةً إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ تَسْلِيمَةً إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا؟ قُلْتُ: بَلَى أَيْ رَبِّ» (2) . [1: 2]

عبداللہ بن ابو طلحہ اپنے والد( حضرت ابو طلحہ ؓ ) کا یہ باین نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو آپ خوش تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور بولا: اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ یہ فرمارہا ہے۔ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ میرے بندوں میں سے جو بھی ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے گا ، تو میں اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کروں گا اور جو بندہ ایک مرتبہ آپ پر سلام بھیجے گا ، تو میں اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ سلام نازل کروں گا ، تو میں نے جواب دیا : جی ہاں!اے میرے پروردگار

يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ ← «إِنَّ الْمَلَكَ جَاءَنِي، ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مَسْرُورٌ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سُلَيْمَانَ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، غُلَامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 915

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 916

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (1) ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَتْهُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ» (2) . [4: 1]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو میری بیوی نے بلند آواز میں آپکی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت کیجئے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے۔

أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَنَادَتْهُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ: ← جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 916

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ صَلَّى عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ أَبِي إِلَيْهِ بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» (3) . [4: 1]

حضرت ابن ابو اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جب بھی کسی گھرانے کے لوگ صدقہ لے کر آتے تھے، تو آپ ان کے لیے دعائے رحمت کیا کرتے تھےمیرے والد نے اپنا صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا ؛ اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل کر۔

فَتَصَدَّقَ أَبِي إِلَيْهِ بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ صَلَّى عَلَيْهِمْ، ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 917

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 918

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ» (1) . [5: 12]

۹۱۸۔ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں: خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ میرے اور نمیرے شوہر کے لیے دعائے رحمت کیجئے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 918

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 919

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي أَرْزُقُهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ» (1) . [3: 67]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب نصف رات ( راوی کو شک ہے کہ یہ الفاظ ہیں:) دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف رجوع کرتا ہے اور پکارتا ہے کون شخص مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کروں کون ہے؟ جو مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کی دعا کو قبول کروں ، کون ہے؟جو رزق مانگتا ہے میں اسے رزق دوں کون شخص ہے، جو مغفرت مانگتا ہے ۔ میں اس کی مگفرت کروں ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ) یہ صبح صادق ہوتا رہتا ہے ۔"

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← القطان

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 919

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 920

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ (2) أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَنْزِلُ رَبُّنَا أَنْ يُقَاسَ كَلَامُهُ إِلَى كَلَامِنَا، لِأَنَّ كَلَامَ الْمَخْلُوقِينَ لَا يُوجَدُ إِلَّا بِآلَاتٍ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلَا يَتَكَلَّمُ كَمَا شَاءَ بِلَا آلَةٍ، كَذَلِكَ يَنْزِلُ بِلَا آلَةٍ، وَلَا تَحَرُّكٍ، وَلَا انْتِقَالٍ مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ، وَكَذَلِكَ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُ يُبْصِرُ كَبَصَرِنَا بِالْأَشْفَارِ وَالْحَدَقِ وَالْبَيَاضِ، بَلْ يُبْصِرُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلَا آلَةٍ، وَيَسْمَعُ مِنْ غَيْرِ أُذُنَيْنِ، وَسِمَاخَيْنِ، وَالْتِوَاءٍ، وَغَضَارِيفَ فِيهَا، بَلْ يَسْمَعُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلَا آلَةٍ، وَكَذَلِكَ يَنْزِلُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلَا آلَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُقَاسَ نُزُولُهُ إِلَى نُزُولِ الْمَخْلُوقِينَ، كَمَا يُكَيَّفُ نُزُولُهُمْ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَقَدَّسَ مِنْ أَنْ تُشَبَّهَ صِفَاتُهُ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " ہمارا پروردگار ہر رات آسمان دنیا کی طرف اس وقت نزول کرتا ہے ، جب ایک تہائی آخری رات باقی رہ جاتی ہے وہ فرماتا ہے : کون مجھ سے دعا مانگتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو عطا کروں ، کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مگفرت کروں ۔ " ( امام ابن حبان رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :) اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی اور اسے مخلوق کی صفات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا تو اس طرح اللہ تعالٰی مخلوق کی طرح دانتوں ، ہونٹوں ، زبان ، کے کسی آلے کے بغیر کلام کرنے والا ہے۔ ویسے ہمارا پروردگار ان جیسی چیزوں سے بلند و بالاتر ہے، تو یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ اس کے کلام کو ہمارے کلام پر قیاس کیا جائے ، کیونکہ مخلوق کا کلام صرف آلات کی وجہ سے پایا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے کلام کرتا ہے ۔ اس طرح وہ کسی آلے کے بغیر نزول کرتا ہے۔ وہ حرکت نہین کرتا ، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوتاہے۔ اس کی سماعت اور بصارت کی بھی یہی کیفیت ہے ، تو اس طرح یہ کہنا جائز نہین ہے، اللہ تعالیٰ اسے طرح دیکھتا ہے ، جس طرح ہم آنکھ کی پتلیاں کی سیاہی اور سفیدی کی مدد سے دیکھتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہتا ہے ویسے دیکھتا ہے۔ اور وہ کانوںاور سوراخ اور پردوںکے بغیر سنتا ہے۔ بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے سنتا ہے، اور اس طرح وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے نزول کرتا ہے۔ اس کے نزول کو مخلوق کے نیچے آنے پر قیاس نہین کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح لوگوں کے نیچے کی طرف آنے کی کیفیت بیان کی جا سکتی ہے ۔ ہمارا پروردگار اس چیز سے پاک اور بلند و برتر ہے کہ اس کی صفات کو مخلوق کی صفات میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 920

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 921

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَنْ (1) أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، نَزَلَ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ» (2) . [3: 67] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي خَبَرِ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، أَنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، وَفِي خَبَرِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ أَنَّهُ يَنْزِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ نُزُولُهُ فِي بَعْضِ اللَّيَالِي حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، وَفِي بَعْضِهَا حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ وَلَا تَضَادٌّ.

۹۲۱۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انتظار کرتا ہے ، یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ہمارا پروردگار فرماتا ہے: کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے۔ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :) امام مالک نے زہری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے ، جیسے ہم نے ذکر کیا ہے، جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے، اور ابو اسحاق کی الاغر کےحوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے ، وہ نزول کرتا ہے ، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے ، کچھ راتوں میں وہ اس وقت نزول کرتا ہو جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہواور بعض راتوں میں اس وقت نزول کرتا ہوجب رات کا ایک تہائی ابتدائی حصہ رخصت ہو جاتا ہو ۔ اس طرح دونوں روایات میں اختلاف اور تضاد نہیں رہے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 921

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 922

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، فَإِنِّي مُعْطِيكَ إِحْدَاهُنَّ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَعْجِيلَ عَافِيَتِكَ، أَوْ صَبْرًا عَلَى بَلِيَّتِكَ، أَوْ خُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَى رَحْمَتِكَ» (1) . [1: 2]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : بے شک اللہ تعالیٰ آپکو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ ان کلمات کے ذریعے دعا مانگیں میں آپ کو ان میں سے کوئی ایک چیز عطا کروں گا ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری جلد عافیت یا تیری آزمائش پر صبر کرنے یا دنیا سے نکل کر تیری رحمت کی طرف جانے کا سوال کرتا ہوں ۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، فَإِنِّي مُعْطِيكَ إِحْدَاهُنَّ، ← «أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 922

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 923

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا» (2) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ مغفرت طلب کرنا پسند تھا ۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا» ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 923

chevron_left Previous
1…91011…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr