Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2967

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب قال: أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأْلَمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ ما أجد وأحاذر" 1. [104:1]

حضرت عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہہ کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اس تکلیف کی شکایت کی جو انہیں اسلام قبول کرنے کے دن سے لے کر اپنے جسم میں محسوس ہو رہی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اپنے جسم پر، جس جگہ تکلیف محسوس ہوتی ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ بسم اللہ پڑھو اور سات مرتبہ یہ پڑھو۔ " میں جو چیز پا رہا ہوں اور اس سے بچنا چاہتا ہوں میں ا س کے شر سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرت کی پنا ہ مانگتا ہوں۔"

نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2967

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2968

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، اَخْبَرَنِیْ عُمَیْرُ بْنُ ھَانِءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنَادَۃَ بْنَ اَبِیْ اُمَیَّۃَ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ یُحَدَّثُ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَنَّ جِبْرِیلَ رَقَاہُ وَھُوَ یُوعَکُ فَقَالَ : بِسْمِ اللہِ اَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُؤْذِیکَ ، وَمَنْ کُلِّ حَاسِدٍ اِذا حَسَدَ ، وَمَنْ کُلِّ عَیْنٍ وُسُمٍّ ، وَاللہُ یَشْفِیکَ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوتے تھے، تو حضرت جبرائیل علیہ السّلام یہ پڑھ کر آپ ﷺ کو دم کرتے تھے۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں آپ کو دم کر رہا ہوں ہر اس بیماری کے لیے جو آپ کو تکلیف دے اور حاسد کے حسد سے ( بچنے کے لیے) اور ہر آنکھ ( یعنی لگنے والی نظر) اور زہر سے ( بچنے کے لیے) اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا کرے۔"

رَسُوْلُ اللہِ اَنَّ جِبْرِیلَ رَقَاہُ وَھُوَ یُوعَکُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عُمَیْرُ بْنُ ھَانِءٍ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 2968

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2969

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عن بن مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ بَارِكَ لِي فِي زَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي سُفْيَانَ وَأَخِي مُعَاوِيَةَ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ عَنْ آجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجَّلُ مها شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ فَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ أَوْ عَذَابِ الْقَبْرِ كان خيرا أو كان أفضل" 1. [104:1]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: اے اللہ ! میرے شوہر نبی اکرم ﷺ میرے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہہ اور میرے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے مجھے بر کت نصیب کر ( یعنی انہیں لمبی زندگی دے)، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، جس کا وقت طے ہے اور جس کے نشانات تک پہنچا جائے گا اور جس کا رزق تقسیم ہو چکا ہے ان میں سے کوئی چیز اپنے مخصوص وقت سے پہلے تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے بچائے ، تو یہ زیادہ بہتر ہوتا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ افضل تھا۔

أَبِي سُفْيَانَ وَأَخِي مُعَاوِيَةَ ← أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ بَارِكَ لِي فِي زَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ ← بن مَسْعُودٍ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← المغيرة اليشكري ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2969

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2970

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حدثنا اَبُوْ حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْیَی الْقَطَّانُ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُّسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ اِذَا عَادَ الْمَرِیضَ مَسَحَہُ بِیَمِیْنِہٖ ، وَقَالَ : اَذْھِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّاِفِیْ ، اشْفِ شِفَاءً لَ یُغَادِرُ سَقَمًا۔ قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِہٖ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِیْ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنَحْوِہِ

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اپنا دست مبارک اس پر پھیرتے اور یہ فرماتے تھے۔ " تکلیف کو دور کر دے، اے لوگوں کے پروردگار! تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت منصور کو سنائی ، تو انہوں نے ابراہیم، مسروق ، کے حوالے سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے اسی کی مانند روایت بیان کی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← سُلَیْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← اَبُوْ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2970

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِمَرِيضٍ قَالَ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سقما" 1.

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کسی بیمار کے پاس تشریف لاتےیا آپ کی خدمت میں جب کسی بیمار کو لایا جاتا، تو آپ ﷺ یہ پڑھ کر ( دم کرتے تھے): " تو بیماری کو لے جا، اے لوگوں کے پروردگار، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے شفا صرف وہی ہے، جو تو عطا کرے، تو ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو نہ رہنے دے۔"

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِمَرِيضٍ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2971

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2972

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو وَيَقُولُ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يغادر سقما" 1. [12:5]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جب کسی بیمار کو لایا جاتا، توآپ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے آپ ﷺ یہ کہتے تھے۔ " تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پروردگار، تو شفا عطاکر دے، تو شفا عطا کرنے والا ہے۔ شفا صرف وہی ہے، جو تو عطا کرے، تو ایس شفا عطا کر جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ مصطفیٰ کریم ﷺ بیمار شخص کے لے اس کے علاوہ بھی دعا مانگا کرتے تھے جو ہم نے ذکر کی ہے اور ایسا بعض اوقات ہوتا تھا۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2972

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2973

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ یَقُوْلُ بِبُزَاقِہِ بِاِصْبَعِہِ : بِسْمِ اللہِ تُرْبَۃُ اَرْضِنَا بَرِیْقَۃِ بَعْضِنَا یُشْفٰی سَقِیمُنَا بِاِذْنِ رَبَّنَا

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ بیمار کو جو دم کیا کرتے تھے اس میں یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اپنی انگلی پر اپنا لعاب دہن لگاتے اور یہ پڑھتے تھے۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ہماری زمیں کی مٹی ہم میں سے ایک فرد کے لعاب کے ہمراہ ہے اور ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت ہمارے بیمار کو شفا نصیب ہو جائے۔" اس بات کا تذکرہ کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب ہے کہ وہ اپنے بیمار بھائی کے لیے تندرستی کی دعا کرے تا کہ وہ شخص صحت کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2973

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2974

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ1 بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ الرَّجُلَ يَعُودُهُ قَالَ: "اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ 2 لَكَ عدوا اَوْ یَمْشِی لَکَ اِلٰی صَلَاۃٍ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لاتے، تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے۔ "اے اللہ ! تو اپنے بندے کو شفا عطا کر، تا کہ وہ تیرے لیے دشمن کی آنکھ پھوڑ دے یا وہ تیرے لیے نماز کی طرف چل کے جائے۔" اس بات کا تذکرہ کہ آدمی کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے کیا دعا مانگنی چاہئے جب وہ بیمار ہو اور جس کے نتیجے میں اس کے اس بیماری سے تندرست ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2974

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2975

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عن عبد الله بن الحارث عن بن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مِرَارٍ: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيكَ" فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذلك2. [12:5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ جاتے تھے پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: " میں عظیم اللہ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔" تو اگر اس کے آخری وقت میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری میں عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 2975

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2976

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ يَقُولُ: انْصَبَّتْ عَلَى يَدَيْ مَرَقَةٌ فَأَحْرَقَتْهَا فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَحْفَظُ أَنَّهُ قَالَ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ", وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: "أَنْتَ الشَّافِي لا شافي إلا أنت" 1. [12:5]

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میرے ہاتھ پر سالن گر گیا، اس نے اسے جلا دیا۔ میری والدہ مجھے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ ﷺ اس وقت کھلی جگہ پر تشریف فرما تھے مجھے یہ بات یاد ہے کہ آپ ﷺ نے یہ پڑھا تھا۔ " تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پر وردگار۔" اور میرا غالب علم یہی ہے کہ آپ ﷺ نے یہ پڑھا تھا: "تو شفا عطا کرنے والا ہے صرف ، تو ہی شفا عطا کر سکتا ہے۔"

مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2976

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2977

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ1 قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ2 بِنْتِ الْمُجَلِّلِ قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبْخَةً فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقَدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَهُوَ أَوْلَ مَنْ سُمِّيَ بِكَ قَالَتْ فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَقَالَ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أنت الشافي لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤْکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ : فَمَا قُمْتُ بِکَ مِنْ عِنْدَہُ اِلَّا وَقَدْ بَرِئَتْ یَدُکَ

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہہ اپنی والدہ سیّدہ اُمّ جمیل نبت مجلل رضی اللہ عنہا یا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں تمہیں لیک حبشہ کی سرزمین سے آئی ابھی مدینہ منورہ آئے ہوئے ایک یادوراتیں گزری تھیں کہ میں تمہارے لیے کھانا تیار کیا لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تم نے ہنڈیا کو پکڑا اور اپنی کلائی کے اوپر انڈیل لیا میں تمہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوئی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! یہ محمد بن حاطب ہے اور یہ پہلا بچہ ہے، جس کا نام آپ ﷺ کے اسم مبارک پر رکھا گیا ہے سیّدہ اُمّ جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا لعاب دہن تمہارے منہ میں ڈالاتمہار ے سر پر دست مبارک پھیر ااور تمہارے لیے دعا کی اور یہ کہا: " تو تکلیف کو دور کر دے ، اے لوگوں کے پروردگار ! ، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے شفا وہی ہے ، جو تو عطا کرے ایسی شفا عطا کر دے جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" سیّدہ اُمّ جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابھی میں نبی اکرمﷺ کی خدمت سے تمہیں لے کر اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا تھا۔

أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ2 بِنْتِ الْمُجَلِّلِ ← جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2977

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2978

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَھْبٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْمِنْھَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا عَادَ الْمَرِیضَ جَلَسَ عِنْدَ رَاْسِہٖ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ : اَسْاَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ، اَنْ یَّشْفِیکَ فَاِنْ کَانَ فِیْ اَجَلِہٖ تَاْخِیرٌ عُوفِیَ مِنْ وَجَعِہٖ ذٰلِکَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اس کے سر ہانے تشریف فرما ہوتے اور پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے۔ " میں عظیم اللہ تعالیٰ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہون کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔" تو اگر اس کا آخری وقت قریب آنے میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری سے عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا عَادَ الْمَرِیضَ جَلَسَ عِنْدَ رَاْسِہٖ ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2978

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr