Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 427

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ حَدَّثَنَا علي بن الجعد أنبأنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي بِطَلَاقِهَا فَأَبَيْتُ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَا عَبْدَ اللَّهِ طلقها" 1. [1: 2]

حمزہ بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری ایک بیوی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا ‘ لیکن میرے والد اسے پسند نہیں کرتےتھے ۔ انہوں نے مجھے اسے طلاق دینے کی ہدایت کی۔ میں نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ حضرت عمرؓ نے اس کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عبد اللہ ! تم اس عورت کو طلاق دیدو۔

رَسُولُ اللَّهِ "يَا عَبْدَ اللَّهِ طلقها" ← ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ← كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي بِطَلَاقِهَا فَأَبَيْتُ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 427

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 428

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي بن سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ "فقَالَ قَدْ غبر علينا بن أَبِي كَبْشَةَ" فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبد الله والذيذكر اسْتِحْبَابِ بِرِّ الْمَرْءِ وَالِدَهُ وَإِنْ كَانَ مُشْرِكًا فِيمَا لَا يَكُونُ فِيهِ سَخَطُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا [428] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي بن سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ "فقَالَ قَدْ غبر علينا بن أَبِي كَبْشَةَ" فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي وَالَّذِیْ اَکْرَمَکَ وَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ لَئِنْ شِئْتَ لَآتِیَنَّکَ بِرَاْسِہِ فقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا وَلَکِنْ بِرَّ اَبَاکَ وَاَحْسِنْ صُحْبَتَہٗ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ اَبُوْ کَبْشَۃَ ھٰذَا وَالِدُ اُمِّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَدْ خَرَجَ اِلَی الشَّامِ فَاسْتَحْسَنَ دِیْنَ النَّصَاریٰ فَرَجَعَ اِلٰی قُرَیْشٍ وَاَظْھَرَہُ فَعَاتَبَتْہُ قُرَیْشٌ حَیْثُ جَاءَ بِدِیْنٍ غِیْرِ دِیْنِھِمْ فَکَانَتْ قُرَیْشٌ تُعَیّرُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَنْسِبُہٗ اِلَیْہِ یَعْنُونَ بِہٖ اَنَّہٗ جَاءَ بِدَیْنٍ غَیْرِ دِیْنِنِمْ کَمَا جَاءَ اَبُوْ کَبْشَۃَ بِدَیْنِ غَیْرِ دِیْنَھِمْ

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کا گزر عبد اللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا۔ وہ اس وقت ایک گنجان درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بولا ابن ابی کبشہ ( یعنی نبی اکرمﷺ نے ) ہم پر غبار اڑایا ہے‘ تو اس کے بیٹے عبد اللہ نے ( نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ) عرض کی اس ذات کی قسم! جس نے ّپ کو عزت عطا کی ہے۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔اگر آپ چاہیں ‘ تو میں اس کا سر لے کر آپ کی خدمت میں آجاؤں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں۔ تم اپنےباپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کی خدمت کرو۔ ابو کبشہ نبی اکرمﷺ کی نانی کے والد تھے یہ شام تشریف لے گئے تھے۔ انہیں عیسائیوں کا دین اچھا لگا ‘ جب یہ قریش کی طرف واپس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی ‘ تو قریش نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ ان لوگو ں کے دین سے مختلف دین پیش کر رہے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ قریش نبی اکرمﷺ کو ان کے حوالے سے عاردلاتے تھے اور ان کی طرف منسوب کیا کرتےتھے ‘ اس سے قریش کی مراد یہ ہوتی تھی کہ نبی اکرمﷺ بھی ان لوگوں کے دین کے علاوہ نیا دین کے کے آئے ہیں۔ جس طرح جناب ابو کبشہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین لے کے آئے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ، ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 428

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 429

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ1 يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رِضَاءُ اللَّهِ فِي رِضَاءِ الْوَالِدِ وَسَخَطُ اللَّهِ في سخط الوالد" 2. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 429

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ عن عبد الله بن دينار عن بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يصل الرجل أهل ود أبيه" 1.

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’بیشک سب سے عمدہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘۔

"إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يصل الرجل أهل ود أبيه" ← رَسُولِ اللَّهِ ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 430

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 431

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عبد الله بن دينار عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بیشک سب سے بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اس کے (دنیا سے ) چلے جانے کے بعد اچھا سلوک کرے‘‘۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 431

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فقَالَ أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ" وَإِنَّهُ كَانَ بَيْنَ أَبِي عُمَرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصِلَ ذاك"1. [1: 2]

ابو بردہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا حضرت عبد ا للہ بن عمرؓ میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے دریافت کیا : تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہےکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ اس کی قبر میں اچھا سلوک کرے‘ اسے اپنے باپ کے بعد اپنے باپ کے بھائیوں سے چھا سلوک کرنا چاہئے‘‘۔ (حضرت ابن عمر نے بتایا ) میرے والد حضرت عمر ؓ اور رتمہارے والد کے درمیان بھائی چارگی اور دوستی تھی‘ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس حوالے سے ( تمہارےساتھ ) اچھا سلوک کروں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قُلْتُ: لَا ← أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 432

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 433

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قال "أمك"،ذِكْرُ الْإِخْبَارِ عَنْ إِيثَارِ الْمَرْءِ أُمَّهُ بِالْبِرِّ عَلَى أَبِيهِ [433] أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قال "أمك"، قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ اُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ اَبُوکَ قَالَ فَیَرَوْنَ اَنَّ لِلْاُمِّ ثلثی البر

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری والدہ ‘ اس نے دریافت کیا :پھر کون ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری والدہ۔ اس نے دریافت کیا :پھر کون ہے؟ آن نے فرمایا : تمہارا والد۔ راوی کہتے ہیں : علماء اس بات کے قائل ہیں : دو تہائی اچھا سلوک والدہ کے ساتھ کیا جائے گا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 433

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صُحْبَتِي قَالَ "أُمُّكَ" فقَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ "أُمُّكَ" قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ "أُمُّكَ" قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ "أبوك" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے دریافت کیا: میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہاری والدہ ‘ تو اس نے دریافت کیا : پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری والدہ اس نے دریافت کیا : پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری والدہ ‘ تو اس نےدریافت کیا : پھر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا والد۔

"أبوك" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← "أُمُّكَ" فقَالَ ثُمَّ مَنْ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فقال مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صُحْبَتِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 434

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 435

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عن بن عُمَرَ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا فَهَلْ لِي مِنْ توبة فقال لهذكر اسْتِحْبَابِ بِرِّ الْمَرْءِ خَالَتَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ وَالِدَانِ [435] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنِ بن عُمَرَ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَکَ وَالِدَانِ قَالَ لَا قَالَ فَلَکَ خَالَدٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبِرَّھَا إِذَا ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بہت زیادہ گناہ کئے ہیں۔ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہاری خالہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تو پھر تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ فقَالَ ← بن عُمَرَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 435

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 436

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال في مرضه "أرحامكم أرحامكم" 1. [5: 48]

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےاپنےمرض ( وفات) کے دوران فرمایا : ’’اپنے رشتے داروں ( حقوق کا خیال رکھنا ) اپنے رشتے داروں ( کے حقوق کا خیال رکھنا ) ‘‘

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 436

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 437

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فقَالَ يا رسول الله أخبرني بأمر يدخلنيذكر إِيجَابِ دُخُولِ الْجَنَّةِ لِلْوَاصِلِ رَحِمَهُ إِذَا قَرَنَهُ بِسَائِرِ الْعِبَادَاتِ [437] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّۃَ وَیُنْجِینِیْ مِنَ النَّارِ قَالَ فَنَظَرَ اِلٰی وُجُوْہِ اَصْحَابِہٖ وَکَفَّ عَنْ نَاقَتِہٖ وَقَالَ لَقَدْ وُفِّقَ اَوْ ھُدِیَ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ شَیْئًا وَتْقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَع اَلنَّاقَۃَ ۔(2:1)

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرمﷺ کے سامنے آ گیا۔ اس نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ مجھے ایسے معاملے کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات دیدے۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور اپنی اونٹنی کو روک لیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو توفیق دی گئی۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہدایت دی گئی ‘ تو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ تم نماز ادا کرو‘ زکوٰۃ ادا کرو۔ صلہ رحمی کرو اور ( اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔

أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فقَالَ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 437

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 438

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَقِيلٍ عن بن شهابذكر إِثْبَاتِ طِيبِ الْعَيْشِ فِي الْأَمْنِ وَكَثْرَةِ الْبَرَكَةِ فِي الرِّزْقِ لِلْوَاصِلِ رَحِمَهُ [438] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَقِيلٍ عَنِ بن شهاب اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من أحب أن ینسالَہٗ فِیْ اَجَلِہٖ وَیُبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہِ فلیصل رحمۃ ۔(2:1)

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت انس ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی زندگی طویل ہو اور اس کے رزق میں گشادگی ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے ‘‘۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ الْجَحْدَرِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 438

chevron_left Previous
1…8910…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr