صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 415
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ یَقُوْلُ سَمِعَ اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال من ادَّاعَی ابًا فِی الْاِسْلَامِ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ غَیْرُ اَبِیْہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ فقَالَ اَبُوْ بَکْرَۃَ وَاَنَا سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(19:3)
ابو عثمان بیان کرتے ہیں: جب زیاد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا‘ تو میری ملاقات حضرت ابو بکرؓ سے ہوئی میں نے کہا : یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میرے دونوں کانوں نے اس بات کا سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص اسلام میں کسی باپ کی طرف خود کو منسوب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے ُ تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ‘‘۔ تو حضرت ابو بکرؓ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔
اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 415
