Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 415

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ یَقُوْلُ سَمِعَ اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال من ادَّاعَی ابًا فِی الْاِسْلَامِ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ غَیْرُ اَبِیْہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ فقَالَ اَبُوْ بَکْرَۃَ وَاَنَا سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(19:3)

ابو عثمان بیان کرتے ہیں: جب زیاد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا‘ تو میری ملاقات حضرت ابو بکرؓ سے ہوئی میں نے کہا : یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میرے دونوں کانوں نے اس بات کا سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص اسلام میں کسی باپ کی طرف خود کو منسوب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے ُ تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ‘‘۔ تو حضرت ابو بکرؓ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 415

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 416

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ" قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم"1. [2: 109]

حضرت سعد بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : میں نے اپنے دونوں کانوں کے ساتھ یہ بات سنی ہے اور میرے دل نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر اسے محفوظ رکھا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اسلام میں کسی باپ ( کی اولاد ہونے ) کا دعویٰ کرے اور وہ شخص یہ بات جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے ‘ تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت ابو بکر ؓ سے کیا ‘ تو انہوں نے کہا : میں نے بھی اپنے دونوں کانوں کے ذریعے اس بات کو سنا تھا ‘ اور میرے دل نے بھی اسے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر محفوظ رکھا ہے۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 416

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خثيمة قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سعيد بن جبير عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ والملائكة والناس أجمين" 1. [2: 109]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے‘ تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ ‘ تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘‘۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أبو خثيمة ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 417

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَوَيَّ قَدْ هَلَكَا فَهَلْ بَقِيَ لِي بَعْدَ مَوْتِهِمَا مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا" قَالَ الرَّجُلُ مَا أَكْثَرَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَطْيَبَهُ قَالَ "فَاعْمَلْ به" 1. [1: 2]

حضرت ابو اُسید ؓ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کےپاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے لے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس پر عمل کرو۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ ← أَبِي أُسَيْدٍ ← أَبِيهِ ← أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 418

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 419

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ السَّرَّادُ بِتُسْتُرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بن جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رجل فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ فقَالَ "ارجع إليهما فأضحكهما كما أبكيتهما" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح ‘ توم نے انہیں رُلایا ہے اس طرح انہیں ہنساؤ۔

جَاءَ رجل فقَالَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← بن جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ السَّرَّادُ بِتُسْتُرَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 419

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ فقَالَ "لَكَ أَبَوَانِ" قَالَ نَعَمْ قَالَ "ففيهما فجاهد" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں ‘ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کی بھر پور ( خدمت کرو)

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 420

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 421

حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يا رسول الله أتأذنذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مُجَاهَدَةَ الْمَرْءِ فِي بِرِّ وَالِدَيْهِ هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي بِرِّهِمَا [421] حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يعلى بن عطاء عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ اَتَاْذَنُ لِیْ فِی الْجِھَادِ ؟ قَالَ اَلَکَ وَالِدَانِ قَالَ نعم قال اذھب فبر ھما فذھب وھو یحمل الرکاب ۔ (2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیاآپ مجھےجہاد کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘ تو وہ شخص چلا گیا حالانکہ وہ رکاب اٹھا کر آیا تھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو أَنَّ رَجُلًا، ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 421

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 422

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ حدثنا أبو الطاهر بن السرح حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي هَاجَرْتُ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَدْ هَجَّرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ" قَالَ أَبَوَايَ2 قَالَ "أَذِنَا لَكَ" قَالَ لَا قَالَ "ارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلَّا فبرهما" 3. [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص یمن سےہجرت کر کے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ہجرت کر لیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کی ہے‘ لیکن جہاد ( کامعاملہ باقی ہے) کیا یمن میں تمہارا کوئی عزیز ہے اس نے عرض کی میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی؟ اس جے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم واپس جاؤ اور ان دونوں سے اجازت لو اگر وہ تمہیں اجازت دیدیں ‘ تو تم جہاد میں حصہ لو ورنہ تم ان کی خدمت کرو‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْيَمَنِ فقَالَ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 422

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 423

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ1 بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ وَقَدْ أَسْلَمَ وَقَالَ قَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ "قَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا" وَأَبَى أَنْ يخرج معه"2. [5: 28]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتےہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ہجرت کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ اس نے اسلام قبول کیا : تو اس نے عرض کی: میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان دونوں کو ہنساؤ۔ نبی اکرمﷺ نے اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ آپ کے ساتھ (جہاد کے لئے ) جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 423

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 424

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَأَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فيشتريه فيعتقه" 1. [1: 2]

حضرت ابوہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’کوئی بھی شخص اپنے باپ کو بدلا نہیں دے سکتا‘ ماسوائے اس صورت حال کے ‘ کہ وہ اس ( باپ ) کو غلام کی حیثیت میں پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدٌ وَأَبُو عَوَانَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 424

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 425

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أبو خثيمة قال حدثناذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَّانِ لِلْمَرْءِ بِالْمُبَالَغَةِ فِي بِرِّ الْوَالِدِ [425] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خثيمة قال حدثنا اَنَّ رَجُلًا اَتَی اَبَا الدَّرْدَاءِ فقَالَ اِنَّ اَبِیْ لَمْ یَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجْتُ وَاِنَّہٗ الْاٰنَ یَاْمُرُنِیْ بِطَلَاقِھَا قَالَ مَا اَنَا بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تَعُقَّ وَالِدَکَ وَلَا اَنَا بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَ امْرَاَتَکَ غَیْرَ اَنَّکَ اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَحَافِظْ عَلٰی ذٰلِکَ اِنْ شِئْتَ اَوْدَعْ قَالَ فَاَحْسِبُ عَطَاءً قَالَ فَطَلَّقَھَا ۔ (2:1)

ابو عبد الرحمان سلمی بیان کرتے ہیں :ایک شخص حضرت ابو درداء ؓ کے پاس آیا اور بولا : میرے والد نے بہت اصرار کر کے میری شادی کروائی اور اب وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں اس عورت کو طلاق دیدوں۔ حضرت ابو درداء ؓ ‘ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی ہدایت نہیں کروں گا کہ تم اپنے باپ کی نافرمانی کرو اور میں تمہیں یہ بھی کہوں گا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو‘ البتہ اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں وہ بات سنا دیتا ہوں جو میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہے۔ میں نے آپﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہونے سنا ہے: ’’والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ اب اگر تم چاہو ‘ تو اس کی حفاظت کرو اور اگر چاہو‘ تو چھوڑ دو‘‘۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے ‘ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی تھی :پھر اس شخص نے اس عورت کو طلاق دیدی تھی۔

فَطَلَّقَھَا ← فَاَحْسِبُ عَطَاءً ← اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَحَافِظْ عَلٰی ذٰلِکَ اِنْ شِئْتَ اَوْدَعْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَ امْرَاَتَکَ غَیْرَ اَنَّکَ اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ مَا ← بِالَّذِیْ اٰمُرُکَ اَنْ تَعُقَّ وَالِدَکَ وَلَا ← مَا ← اِنَّ اَبِیْ لَمْ یَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجْتُ وَاِنَّہٗ الْاٰنَ یَاْمُرُنِیْ بِطَلَاقِھَا ← اَنَّ رَجُلًا اَتَی اَبَا الدَّرْدَاءِ ← أبو خثيمة ← أَبُو يَعْلَى ← حدثناذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَّانِ لِلْمَرْءِ بِالْمُبَالَغَةِ فِي بِرِّ الْوَالِدِ ← أبو خثيمة ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 425

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 426

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ وعمر بن علي عن بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ فَأَمَرَهُ بِطَلَاقِهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ "أطع أباك" 1.

حمزہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ حضرت عمرؓ کو وہ عورت اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ ہدایت کہ کہ وہ اس عورت کو طلاق دیدیں۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ نے کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اپنے والد کی بات مان لو۔

أَطِعْ أَبَاكَ ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← تَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ فَأَمَرَهُ بِطَلَاقِهَا ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانُ وعمر بن علي ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 426

chevron_left Previous
1…789…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr