Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 379

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ "إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يعمل فإذا عملها فأنا أكتبي أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا مَا لَمْ يَفْعَلْهَا فَإِذَا فَعَلَهَا فأنا أكتبها مثلها" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ ’’جب مرا بندہ یہ سوچتا ہے کہ وہ ایک نیکی کرے گا ‘ تو میں اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لیتا ہوں جب تک وہ اس پر عمل نہیں کرتا جب وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے ‘ تو میں اس کا دس گنا اجر نوٹ کر لیتا ہوں اور جب بندہ یہ سوچتا ہے کہ وہ کوئی گناہ کرے گا ‘ تو جب تک وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا میں اس سے درگزر ہوں اور جب وہ اس کا ارتکاب کر لیتا ہے ‘ تو میں اسے ایک گناہ کے طور نوٹ کرتا ہوں ‘‘۔

أكتبها مثلها" ← أَغْفِرُهَا مَا لَمْ يَفْعَلْهَا فَإِذَا فَعَلَهَا ← أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً ← أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا ← أكتبي أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً ← أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا ← "إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً ← اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 379

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 380

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِذَا عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تكتبوها بمثلها فإن تركها فاكتبوها حسنة" 1. [3: 68]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں : انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ’’ اللہ تعالی ( فرشتوں سے) فرماتا ہے ‘ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے ‘ تو تم اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لو اور جب وہ اس پر عمل کرے ‘ تو تم اسے دس گنا کے طور پر نوٹ کر لو اور جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے ‘ تو تم اسے نوٹ نہ کرو اور اگر وہ اسے چھوڑ دے ‘ تو تم اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 380

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 381

اَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ دَاوْدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ قَالَ حَدَّثَنَ زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الوقار حدثنا بن وَھْبٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَج عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ الرَّسُوْل صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ اِذَا ھَمَّ عَبْدِیْ بِسَیّنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا فَاکْتُبُوھَا لَہٗ حَسَنَۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا لَہٗ سَیّنَۃً فَاِنْ تَابَ مِنْھَا فَامْحُوھَا عَنْہُ وَاِذَا ھَمَّ عَبْدِیْ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا فَاکْتُبُوَ ھَا لَہٗ حَسَنَۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُو ھَا لَہٗ بِعَشْرَۃِ امْثَالِھَا إِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضَعْفٍ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’(اے فرشتو !) جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے اور وہ اس پر عمل نہ کرے ‘ تو تم لوگ اسے نیکی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس پر عمل کر لے‘ تو تم اسے برائی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس سے توبہ کر لے‘ تو تم اس کی طرف سے برائی کو مٹا دو اور جب میرا بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے ‘ تو تم اسے نیکی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس پر عمل کر لے ‘ تو تم اسے دن گنا سے لے کر سات سو گنا ( اجروثواب ) کے طور پر نوٹ کرو‘‘۔

اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ← الرسول ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← حَدَّثَنَ زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الوقار ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 381

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 382

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يعملها فإنذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ تَارِكَ السَّيِّئَةِ إِنَّمَا يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً إِذَا تَرَكَهَا لِلَّهِ [382] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلْهَا فإن فإن عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا مِثْلَھَا فَاِنْ تَرَکَھَا مِنْ اَجْلِیْ فَاکْتُبُوھَا حَسَنَۃً فَاِنْ اَرَادَ اَنْ یَّعْمَلَ حَسَنَۃً فاکتبو ھا لہ حسنۃ فَاِنْ تَرَکَھَا مِنْ اَجْلِیْ فَاکْتُبُوھَا حَسَنّۃً فَاِنْ اَرَاَ اَنْ یَّعْمَلَ حَسَنَۃً فَاکْتُبُوھَا لَہٗ حَسَنۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا لَہٗ عَشْرَۃَ اَمْثَالِھَا اِلٰی سبع مائۃ صعف (68:3)

اس بات کے بیان کا تذکرہ ‘ برائی کے ترک کرنے والے کو اس عمل کی وجہ سے ایک نیکی ملتی ہے ‘ جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کیلئے برائی کو ترک کیا ہو

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 382

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 383

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِالْحَسَنَةِ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَإِنْ هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كتبتها واحدة" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے ‘جب میرا بندہ نیکی ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا‘ تو میں اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے ‘ تو میں اسے دن نیکیوں کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کر لیتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اسے نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے : تو میں اسے ایک (برائی ) کے طور پر نوٹ کر تا ہوں‘‘۔ (امام بن حبان فرماتے ہیں : ) اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان : ’’ جب میرا بندہ ارادہ کرتا ہے‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے جب وہ عزم کرتا ہے ‘ تو یہاں عزم کے لئے لفظ ’’ہم ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے :’’ ہم‘‘ کی انتہا عزم ہے ‘ اور عرب اپنے محاورے میں کسی ابتداء والے اسم کا اطلاق انتہا پر کر دیتے ہیں ‘ اور انتہا والے اسم کا اطلاق آغاز پر کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے : ارادہ کرنا آدمی کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا ‘ کیونکہ وہ صرف ایک خیال ہے اس کا کوئی حکم نہیں ہو گا۔ اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ ‘ جو شخص نیکی ارادہ کرتا ہوا اللہ تعالیٰ اس کے لئے نیکی لکھ لیتا ہے اگرچہ اس نے اس کا پختہ ارادہ نہ کیا ہو اس اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی فضیلت کی وجہ سے ایسا کر دیتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کا بندے کو اسلام کی توفیق دینا ایک فضل ہے ‘ جو اس نے اپنے بندے پر کیا ہے ‘ اور بندہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہے ‘ اور اس پر عمل نہیں کرتا ہے اس کو نوٹ کر لینا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا ‘ اور بندہ جس برائی ارادہ کر کرتا ہے ‘ اور اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو اگر اللہ تعالیٰ اسے نوٹ کر لیتا ہے ‘ تو یہ انصاف کے مطابق ہو گا۔ لیکن ‘ کیونکہ اس کا فضل اس کے انصاف سے آگے نکل گیا ہے اس طرح اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے ‘ تو اس کے فضل اور اس کی رحمت میں یہ بات شامل ہے کہ مسلمانوں کے کمسن بچے ‘جب تک بالغ نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کا کوئی گناہ نوٹ نہ کیا جائے ‘ اور ان کی نیکیاں نوٹ کی جائیں۔ تو یہ اسی طرح ہو گا‘ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 383

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 384

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وإن هم بسيئة فلم يعملها لَمْ اَکْتُبْ عَلَیْہِ فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبْتُھَا عَلَیْہِ سیئۃ واحدۃ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے ‘ اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اسے کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے ‘ تو میں اس کے لئے دس گنا سے ساتھ سو گنا تک نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ ایک برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اس کے خلاف کچھ نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے خلاف ایک برائی نوٹ کرتا ہوں ‘‘۔

اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 384

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 385

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حدثنا بن الْمُبَارَكِ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي2 حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] ؟ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ "بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عن اللْمُنْکَرِ حَتّٰی اِذَا رَاَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَوًی مُتَّبَعًا وَدُنْیَا مُؤْثَرَۃً وَاِعْجَابَ کُلِّ ذِیْ رَاْی بِرَاْیِہِ فَعَلَیْکَ نَفْسَکَ وَدَعْ اَمْرَ الْعَوإامِّ فَاِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ اَیَّامًا الصَّبْرُ فِیْھِنَّ مِثْلُ قَبْصِ عَلَی الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِیْھِنَّ مِثْلُ اُجْرِ خَمْسِینَ رَجُلًا یَعْمَلُوْنَ مِثْلَ عَمَلِہٖ قَالَ وَزَادَنِیْ غَیْرُہٗ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَجْرُ خَمْسِینَ مِنْھُمْ قَالَ خمسین منکم

ابو اُمیہ شعبانی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نےکہا : اے ابو ثعلبہ ! آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ’’جب تم لوگ اطاعت کر لو‘ تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ‘‘۔ تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم نے ایک ایسے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا ہے ‘ جو اس بارے میں جانتا ہے میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور ایک دوسرے کو برائی سے منع کرو‘ یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ کنجوسی کی پیروی کی جانے لگی ہے ، خواہش نفس کے پیچھے چلنے لگ پڑے ہیں۔ دنیا کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ ہر سمجھدار شخص اپنی رائے کے بارے میں خود پسندی کا شکار ہو چکا ہے ‘ تو اس وقت تم پر صرف اپنا خیال رکھنا لازم ہےتم لوگوں کے معاملے کو ترک کر دو‘ کیونکہ اس کے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کی مانند ہو گا۔ ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو اس کے عمل جیسے پچاس آدمیوں کے عمل کا ثواب ملے گا۔ جبکہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس آدمیوں کا اجر ملے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں سےپچاس آدمیوں کا اجر ملے گا۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) اس بات کا امکان موجود ہے کہ ابن مبارک نے یہ الفاظ نقل کیے ہوں کہ دوسرے راوی نے مجھے مزید ( الفاظ ) بیان کیے ہیں۔

أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ ← عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ ← عتبة بن أبي حكيم ← بن الْمُبَارَكِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 385

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 386

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ امرأة بغيا رأت كلباذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ الْكَبَائِرَ الْجَلِيلَةَ قَدْ تُغْفَرُ بِالنَّوَافِلِ الْقَلِيلَةِ [386] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِیْ یَوْمٍ حَارٍّ یُطِیفُ بِبِئْرٍ قَدْ اَدْلَعَ لِسَانَہٗ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ لَہٗ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لھا ۔(6:3)

حضرت ابو ہریر ہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے کنارے چکر لگا رہا تھا‘ اور وہ اپنی زبان کی شدت کی وجہ سے باہر نکال رہا تھا۔ اس عورت نے اسےپانی نکال کر دیا اور اسے پلایا ‘ تو اس عورت کی مغفرت ہو گئی‘‘۔

الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 387

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ بن عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أكثر من عشرينذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ تَرْكَ الْمَرْءِ بَعْضَ الْمَحْظُورَاتِ لِلَّهِ جَلَّ وَعَلَا عِنْدَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ قَدْ يُرْجَى لَهُ بِهِ الْمَغْفِرَةُ لِلْحَوْبَاتِ الْمُتَقَدِّمَةِ [387] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الله عن سعيد بن جبير عن بن عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّۃً یَقُوْلُ کَانَ ذُو الْکِفْلِ مِنْ بِنِیْ اِسَْائِیلَ لَا یَتَوَرَّعُ مِنْ شَیْءٍ فَھَوِیَ امْرَاَۃً فَرَاوَدَھَا عَلیٰ نَفْسِھَا وَاَعْطَاھَا سِتِّینَ دِیْنَارًا فَلَمَّا جَلَسَ مِنْھَا بَکَتْ وَاُرْعِدَتْ فقَالَ لَھَا مَالَکِ فَقَالَتْ اِنِّیْ وَاللہِ لَمْ اَعْمَلْ ھٰذَا الْعَمَلَ قَطُّ وَمَا عَمِلْتُہٗ اِلَّا مِنْ حَاجَۃٍ قَالَ فَنَدِمَ ذُو الْکِفْلِ وَقَامَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّکُوْنَ مِنْہُ شَیْءٍ فَاَدْرَکَہُ الْمَوْتُ مِنْ لَیْلَتِہٖ فَلَمَّا وَجَدُوا عَلٰی بَابِہٖ مَکْتُوْبًا إن اللہ قد غفرلک (6:3)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو بیس سے زیادہ مرتبہ یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ’’ ذوالکفل ‘‘ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا وہ کسی بھی گناہ سے بچتا نہیں تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک عورت کے پاس گیا ۔ اس عورت نےاپنا آپ اس کے سامنے پیش کر دیا۔ ذوالکفل نے اسے ساٹھ دینار دیئے۔ جب وہ اس عورت کے پاس آکر بیٹھا ‘ تو وہ عورت رونےلگی اور کپپکپانے لگی۔ ذوالکفل نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ؟ اس نےجواب دیا : اللہ کی قسم! میں نے کبھی یہ عمل ( گناہ کاکام ) نہیں کیا اور میں صرف مجبوری کی وجہ سے یہ کرنےلگی ہوں ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ‘ توذوالکفل کو ندامت ہوئی اور وہ کچھ بھی کئے بغیر کھڑا ہوا۔ اسی رات اسے موت آ گئی۔ صبح کے وقت اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا۔ ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ‘‘۔

الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى ← بن عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 388

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الخطاب رضى الله تعالى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هاجر إليه" 1. [3: 24]

حضرت عمر بن خطاب ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اعمال ( کی جزاء) کی دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہرآدی کو وہی ملے گا ‘ جو اس نے بیت کی ہو گی۔ جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی۔ اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کے لئے ہو گی‘ تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس کی طرف (نیت کر کے ) اس نے ہجرت کی تھی‘‘۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of salvation and the work of secret · Hadith 388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 389

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِییْمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ وَلِکُلِّ امْرِءٍ مَانَوَی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ لِدُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِا مْرَاَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاھَا جَرَاِلَیْہِ۔(66:3)

حضرت عمر بن خطابؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اعمال ( کی جزاء ) کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا‘ جو اس نے نیت کی ہے ‘ جس شخص کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گئی‘ تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیاوی فائدے کے حصول کے لے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کے لئے ہو گی ‘ تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی ‘ جس طرف ( نیت کر کے ) اس نے ہجرت کی ہے ‘‘۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِییْمَ التَّیْمِیِّ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of salvation and the work of secret · Hadith 389

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 390

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ بن مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ فَقَالُوا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا فقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا فقَالَ رَجُلٌ لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا لَيَسْمَعَنَّ إِذَا أَخْفَيْنَا وَقَالَ الْآخَرُ مَا أَرَى إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يسمع حديثنا قال بن مَسْعُودٍ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ} إلى آخر الآية2 [فصلت:22]

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ‘ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا ۔ مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے قریب ) ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور اس کے دو داماد جن کا تعلق قریش سے تھا وہ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ ہماری بات سن لیتا ہے ‘ تو ان میں سے ایک نے کہا : اگر ہم بلند آواز میں بات کریں گے‘ تو وہ ون لے گا۔ دوسرے نے کہا : اگر وہ بلند آواز میں بات کرنے پر سن لیتا ہے ‘ تو پھر پست آواز والی بات کو بھی ضرور سننا چاہئے۔ تیسرے نے کہا : میرا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالی ہماری ہر بات سن لیتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے قول کے بارے میں بتایا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’اور جو کچھ تم چھپا کر رکھتے ہو ‘ تو تمہاری سماعت اور بصارت تمہارے خلافت گواہی دیں گی‘‘۔

الْآخَرُ مَا أَرَى إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يسمع حديثنا ← رَجُلٌ لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا لَيَسْمَعَنَّ إِذَا أَخْفَيْنَا ← أَحَدُهُمَا إِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ← تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا ← كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ← بن مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of salvation and the work of secret · Hadith 390

chevron_left Previous
1…456…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr