صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 355
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ1 خَلِيلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فِي سَفَرٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ فقَالَ " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ" قَالُوا صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ "ليس من البر الصِّیَامُ فِی السَّفَرِ فَعَلَیْکُمْ بِرُخْصَۃِ اللہِ الِّتِیْ رخص لکم فاقبلوھا ۔(68:3)
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے سفر کے دوران ایک شخص کو دیکھا جو ایک درخت کے سائے میں موجود تھا ‘ اور اس پر پانی چھڑکا رہا تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے تم لوگوں پر لازم کہ اللہ تعالیٰ کی وہ رخصت قبول کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔
صَائِمٌ» ← مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ" ← رَأَى رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا فِي سَفَرٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،
Hadith 355
