Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 307

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مروان خالفت السنةذكر الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ تَفَرَّدَ بِهِ طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ [307] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خالفت السنة اَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُنْ یَّخْرُجُ وَبَدَاْتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلِ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُّبْدَاُ بِھَا فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ مَنْ ھٰذَا قَالُوْا: فُلَانُ بْنُ فُلَانِ قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: اَمَّا فَقَدْ قَضَی مَا عَلَیْہِ زَادَ اِسْحَاقُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ رَاَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ اَنَّ یُغَیّرَہُ بِیَدِہٖ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الإیمان ۔(1:37)

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں : مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور اس نے نماز ادا کرنے سے پلے خطبہ دیا ‘ تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : اے مروان ! تم سنت کے برخلاف کے رہے ہو‘ تم نے عید کے دن منبر نکلالا ہے ‘حالانکہ عید کے دن اسے نہیں نکالا جاتا اور تم نماز سے پہلے خطبہ دے رہے ہو‘ حالانکہ اس سے آغاز نہیں کیا جا سکتا ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے دریافت کیا : یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں بن فلاں ہے ُتو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا : اس شخص نے اپنے ذمے لازم فرض کر ادا کر لیا ہے۔ یہاں اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ) ’تم میں سے جو شخص کوئی منکر دیکھے‘ تو وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے ختم کرے اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو‘ تو اپنی زبان کے ذریعے کرے اور اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل کے اندر سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور مرتبہ ہے‘‘۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إسحاق بن إبراهيم وهناد بن السري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 307

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 308

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ؛ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ بن شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ2 الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى من دُعِیَ مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَۃٍ ، فَھَلْ یُدْعَی اَحَدٌ مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ کُلِّھَا ؟ قَالَ: نعم ، وأرجوأن تکون منھم ۔(78:3)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص ( کسی بھی چیز کا جوڑا ) اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ‘ تو جنت میں یہ اعلان کیا جاتا ہے :اے اللہ کے بندے ! یہ چیز زیادہ بہتر ہے ‘ (قیامت کے دن ) جو لوگ اہل نماز ہوں گے‘ انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا‘ جو لوگ اہل جہاد ہوں گے۔ انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا ‘ جو لوگ صدقہ کرنے والے ہوں گے۔ انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو لوگ روزہ رکھنے والے ہوں گے ‘ انہیں باب ’’ریان ‘‘ سے بلایا جائے گا‘‘۔ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے ‘ جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ‘ تو کی اکسی کو ان تمان دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں اور مجھے امید ہے ‘ تم ان لوگوں میں سے ایک ہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 308

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 309

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ درَّاج، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كُلُّ حَرْفٍ1 فِي الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فيه القنوت فهو الطاعة" 2. [3: 66]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’قرآن میں موجود ہر وہ حرف جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہے ‘ تو اس سے مراد فرمانبرداری ہے ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 309

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدين" 1.

حضرت معاویہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بھلائی عادت ہے ‘اور برائی لجاجت ہے ‘ جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ‘اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتاہے ‘‘۔

"الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدين" ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Hadith 310

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 311

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أكون عبدا شكورا" 1. [5: 47]

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور اتنا طویل قیام کرتے تھے : آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کرتےہیں ؟جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب ) کی مغفرت ہو چکی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرما یا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

قَامَ النَّبِيُّ حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 311

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 312

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حدثني الليث، عن عقيل، عن بن شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كانت تقول: ما كان رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَبِّحُ سُبْحَۃَ الضُّحَی وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تُسَبِّحُھَا وَکَانَتْ تَقُوْلُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَرَکَ کَثِیْرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْیَۃَ اَنْ یستن بہ، فیفرض علیھم

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز باقاعدگی سے (ادا نہیں کرتے تھے ) جبکہ سیّدہ عائشہ ؓیہ نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ وہ یہ فرماتی تھیں : نبی اکرمﷺ بہت سے عمل اس لئے ترک کر دیتےتھے: ایسا نہ ہو کہ لوگ اس طریقے کی پیروی کرنا شروع کردیں اور یہ بات ان پر لازم ہوجائے ‘‘۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 312

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 313

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بن شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ليدعذكر الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا كَانَ يَتْرُكُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الطَّاعَاتِ [313] أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزهري بن شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ليدع الْعَمَلَ ، وَھُوَ یُحِبُّ اَنْ یَّعْمَلَ بِہٖ ،، خَشْیَۃَ أن یعمل بہ الناس ، فیفرض علیھم (29:5)

عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ بعض اوقات کوئی عمل ترک کر دیتےتھے حالانکہ ان کو اس پر عمل کرنا پسند ہوتا تھا آپ اس اندیشے کے تحت ایسا کرتے تھے کہ لوگ بھی وہ عمل کرنا شروع کر دیں گے اور یہ ان پرلازم ہو جائے گا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ← "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ليدعذكر الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا كَانَ يَتْرُكُ بَعْضَ الطَّاعَاتِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 313

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 314

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا همَّام بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الْأَبْرَصَ، فقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ، وجلد حسن2. قال: فأي المال أحب اِلَیْکَ قَالَ الْاِبِلُ فَمَسَحَہُ فَذَبَ عَنْہُ قَال وَاُعْطِیَ نَاقَۃً عُشَرَاءَ فَقَالَ بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیْھَا قَالَ وَاَتَی الْاَقْرَعَ فَقَالَ اَیُّ شَیْءٍ اَحَبُّ اِلَیْکَ قَالَ شَعْرٌ حَسَنٌ وَیَذْھِبُ عَنِّیْ ھٰذَا الَّذِیْ قَدْ قَدْرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَھَبَ عَنْہُ وَاُعْطِیَ شَعقرًا حَسَنًا قَالَ فَاَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ اِلَیْکَ قَالَ الْبَقْرُ قَالَ فَاُعقطِیَ بَقَرَۃُ حَافِلَۃً قَالَ وَاَتَی الْاَعْمَی فقَالَ اَیُّ شَیْءٍ اَحَبٌّ اِلَیْکَ قَالَ اَنْ یَّرُدَّ اللہُ اِلَیَّ بَصَرِیْ فَاُبْصِرَ بِہٖ النَّاسَ فَمَسَحَہُ فَرَدَّ اللہُ اِلَیْہِ بَصَرَہُ قَالَ فَاَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ اِلَیْکَ قَالَ الْغَنَمُ قَالَ فَاُعْطِیَ شَاۃً وَالِدًا اُنْتِجَ ھٰذَانِ وَوَلَّدَ ھٰذٰ فَکَانَ لِھٰذَا وَادِ مِّنْ الْاِبِلِ ولِھٰذَا وَادٍ مِّنْ الْبَقَرِ وَلِھٰذَا وَادٍ مِّنْ الغنم قَالَ ثُمَّ اَتَی الْاَبْرَصَ صُوْرَتِہٖ وَھَیْئَتِہٖ فقَالَ رَجُلٌ مِسْکِیْنٌ وَاَبْنُ سَبِیْلٍ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِیْ سَفَرِیْ فَلَا بَلَاغَ بِیَ الْیَوْمَ بِالَّذِیْ اَعْطَاکَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِیْرًا اَتَبَلَّغُ بِہٖ فِیْ سَفَرِیْ فقَالَ الْحُقُوقُ کَثِیْرَۃٌ فقَالَ کَاَنِّیْ اَعْرِفُکَ اَلَمْ تَکُنْ اَبْرَصَ یَقْذَرْکَ النَّاسُ فِقِیرًا فَاَعْطَاکَ اللہُ الْمَالَ فقَالَ اِنَّمَا وَرِثْتُ ھٰذَا الْمَالَ کَابِرًا عَنْ کَابِرِ فقال إن ککنت کُنْتتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ اِلٰی مَا کُنْتَ، قَالَ ثُمَّ اَتَی الْاَقْرَعَ فِیْ صُوْرَتِہٖ فقَالَ لَہٗ مِثْلَ مَا قَالَ لِھٰذَا فَرَدَّ عَلَیْہِ مِثْلَ مَا رَدَّ ھٰذَا فقَالَ اِنْ کُنْتُ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ اِلٰی مَا کُنْتَ وَاَتَی الْاَعْمَی فِیْ صُوْرَتِہٖ وَھَیئَتِہٖ فقَالَ رَجُلٌ مِسْکِیْنٌ وابن سب الْحِبَالُ فِیْ سَفَرِیْ فقَالَ قَدْ کُنْتُ اَعْمَی فَرَدَّ اللہُ عَلَیَّ بَصَرِیْ فَخُذْ مَاشِئْتَ ودع ماشئت فواللہ لَا اَجْھَدُکَ الْیَوْمَ شِیْئًا اَخَذْتَہٗ لِلہِ فقَالَ اَمْسِکْ مَالَکَ فَاِنَّمَا ابْتُلِیتُمْ فَقَدْ رُضِیَ عَنْکَ وسخط علی صاحبیک

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ ایک پھلبہری کا مریض تھا ایک لنگڑا تھا ‘اور ایک اندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ان کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا وہ پھلبہری کے مریض کے پاس آیا اور دریافت کیا : تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس نے جواب دیا : صاف رنگ اور صاف جلد ‘‘۔ فرشتے نے دریافت کیا : تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہو گا؟ اس نے جواب دیا : اونٹ ۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی پھر اس شخص کو دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دی گئی فرشتے نےکہا : اللہ تمہارے لئے اس میں برکت عطا کرے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہا تمہیں کون سی چیز پسندیدہ ہے ؟ اس نےجواب دیا: اچھے بال اور مجھ سے یہ برائی ختم ہو جائے ‘ جس کی وجہ سے لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی اور اسے اچھے بال عطا کر دئیے گئے۔ فرشتے نے دریافت کیا : تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : گائے‘ تو اسےایک حاملہ گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت پیدا کرے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : پھر وہ فرشتہ نابینا شخص کے پاس آیا اور دریافت کیا : تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا : یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بصارت واپس کر دے تاکہ میں اس کے ذریعے لوگوں کو دیکھ سکوں فرشتے نے اس شخص پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔ فرشتے نے دریافت کیا : مجھے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : بکریاں ‘تو اس شخص کو ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔ ان تینوں کے ہاں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے ‘تو اس شخص کے پاس بہت سے اونٹ ہو گئے اس شخص کے پاس بہت سی گائیں ہو گئیں اور اس کے پاس بہت سی بکریاں ہو گئیں۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : پھر وہ فرشتہ اپنی مخصوص صورت میں اور ہیئت میں پھلبہری کے (سابقہ ) میریض کےپاس آیا اور کیا میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں سفر کے دوران میرا زادِ سفر ختم ہو گیا ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور تمہارے علاوہ میرا کوئی آسرا نہیں ہے میں تم سے اس ذات کے وسیلے سے مانگتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے۔ تم مجھے ایک اونٹ دے دو تاکہ میں اس کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھ سکوں۔ اس شخص نے کہا : میرے اور بہت سے اخراجات ہیں۔ (میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا ) فرشتے نے کہا : میں شاید تمہیں جانتا ہوں کیا تم پھلبہری کے مریض نہیں تھے؟ لوگ تمہیں برا سمجھتے تھے اور تم غریب بھی تھے ‘تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کر دیا ‘ تو اس شخص نے کہا : مجھے یہ مال اپنے بڑوں کی طرف سے رواثت میں ملا ہے۔ تو فرشتے نے کہا : اگر تم جھوٹ بول رہے ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کی طرف واپس کر دے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : پھر وہ فرشتہ گنجے شخص کےپاس اسی شکل میں آیا اور اس سے بھی وہی بات کہی جو اس سے کہی تھی ‘ تو اس نے بھی وہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا ‘ فرشتے نے کیا : اگر تم جھوٹ بول رہے ہو‘ تو اللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کا شکار کر دے۔ پھر وہ فرشتہ اسی صورت اور اسی ہیئت میں (سابقہ ) نابینا شخص نے پاس آیا اور بولا : میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں میرا زادِ سفر ختم ہو گیا ہے ‘ تو اس شخص نے کہا : میں پہلے نابینا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بصارت عطا کی اب تم جو چاہو حاصل کر لو اور جو چاہو چھوڑ دو اللہ کی قسم ! آج تم اللہ کے نام پر جو کچھ بھی لوگ میں اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہیں کروں گا‘ فرشتے نے کہا : تم اپنا مال اپنے پاس رکھو اور تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے ‘تو تم پر رضا مندی ہو گئی اور تمہارے دو ساتھیوں پر ناراضگی ہو گئی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 314

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 315

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ2 الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الطَّاعِمُ الشاكر بمنزلة الصائم الصابر" قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ شُکْرُ الطَّاعِمِ الَّذِیْ یَقُومُ بِاِذَاءِ اَجْرِ الصَّائِمِ ھُوَ اَنْ یَّطْعَمَ الْمُسْلِمُ ثُمَّ لَا یَعْصِی بَارِیَہٗ یُقَوِّیۃِ وَیُتِمُّ شُکْرَہُ بِإتْیَان طَاعَاتِہٖ بِجَوَارِحِہِ لِاَنَّ الصَّائِمَ قُرِنَ بِہِ الصَّبْرُ لِصَبْرِہٖ عَنِ الْمَحْظُورَاتِ وَکَذٰلِکَ قُرِنَ بِالطَّاعِمِ الشُّکْرُ فَیَجِبُ اَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الشُّکْرُ الَّذِیْ یَقُومُ بِاِزَاءِ ذٰلِکَ الصِّبْرِ یُقَارِبُہٗ اَوْ یُشَاکِلُہٗ وَھُوَ تَتْکُ الْمَحْظُورَاتٍ عَلٰی ما ذکرناہ۔

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ‘‘کھا کر شکر ادا کرنے والا صبر کر کے روزہ رکھنے والےکی مانند ہے ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) کھا کر شکر کرنے والے ‘ جس شخص کو صبر کر کے روزہ رکھنے والے کے اجر کے بالمقابل قرار دیا گیا ہے یہ وہ مسلمان شخص ہے ‘ جو کچھ کھاتا ہے ‘اور پھر وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرتا ہے وہ اپنی ذات کو قوت پہنچاتا ہے وہ شکر کو مکمل کرتا ہے کہ اپنے اعضاء کے ذریعے نیکیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے :روزہ دار اس کے سات صبر کے حوالے سے مل جاتا ہے ‘ کیونکہ وہ ممنوعہ چیزوں سے صبر کرتا ہے۔ اسی طرح اسے صبر شکر کرنے والے کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو اب یہ بات لازم ہے کہ یہ شکر جس سے اس صبر کے مقابلے میں رکھا گیا ہے ۔ یہ وہ ہو ‘ جو اس کے قریب ہو یا اس کے ساتھ مناسبت رکھتا ہو اور یہ ممنوعہ چیزوں کا ترک کرنا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 315

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 316

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: "دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْئَةِ فَقُلْنَ مَا لَكِ مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ قَالَتْ مَا لَنَا مِنْهُ شَيْءٌ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ قَالَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ يَا عُثْمَانُ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَةٍ قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ أَمَّا أَنْتَ فَتَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ قَالَ فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ فَقُلْنَ لَهَا مَهْ قَالَتْ أَصَابَنَا مَا أَصَابَ الناس" 1.

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون ؓ ‘ کی اہلیہ نبی اکرمﷺ کی ازواج کی خدمت میں حاضر ہوئیں‘ تو ان ازواج نے دیکھا کہ ان کی ظاہری حالت ٹھیک نہیں ہے‘تو ازواج نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہو ہے ؟ قریش میں تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال اور کوئی شخص ہے ‘ تو اس خاتون نے جواب دیا : ہمارا ان کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھنے رہتے ہیں حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ گھر تشریف لائے‘ تو ازواج مطہرات نے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ پھر نبی اکرمﷺ کی ملاقات حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے ہوئی‘ توآپ نے فرمایا ۔ اے عثمان !کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا ۔ کیا ہوا؟ یا رسول اللہ ! میرے مال بات آپ پر قربان ہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو‘ اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تم (رات کے وقت ) نفل نماز پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو اور دن کے وقت نفل روزہ رکھ بھی لیا کرو اور نہ بھی رکھا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد ان کی اہلیہ ازواج مطہرات کے پاس آئیں ‘ تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں۔ ازواج مطہرات نے ان سےکہا : کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا :ہمیں بھی وہی چیز ملی ہے ‘ جو لوگوں کو ملی ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 316

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 317

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ أَنَّهُ سَمِعَ أنس بن مالك يقول: "جاء ثلاث رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا وَقَالَ الْآخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ الْآخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال "أنتم الذي قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا اَمَاوَاللہِ اِنِّیْ لَاَخْشَاکُمْ لِلہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہٗ لَکِنِّیْ اَصُومُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّی وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ۔(11:3)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : تین آدمی نبی اکرمﷺ کی ازواج کے گھر آئے تاکہ نبی اکرمﷺ کی عبادت کے بارے میں دریافت کریں جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا ‘ تو انہوں نے اسے کم سمجھا انہوں نے کہا : ہمارا نبی اکرم ﷺ سے کیا واسطہ ؟ نبی اکرمﷺ کے ‘تو گزشتہ اورآئندہ ذنب کی مغفرت ہو چکی ہے۔ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : میں ہمیشہ رات بھر نوافل ادا کرتا رہوں گا۔ دوسرے نے کہا : میں ہمیشہ نفلی روزے رکھتا رہوں گا کبھی روزہ افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا : میں خواتین سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔ نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے آپ کو یہ باتیں بتائیں گئیں ‘ توآپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگوں نے یہ بات کہی ہے ؟ خدا کی قسم ! میں تم سب کے مقابلے مٰیں اللہ تعالیٰ سے سب سےزیادہ ڈرنے والا ہوں اور اس کا سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والا ہوں۔ لیکن میں نفلی روزے رکھ بھی لیتا ہوں اور ترک بھی کر دیتا ہوں میں نوافل ادا بھی کرتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ اور میں نے خواتین کے ساتھ شادی بھی کی ہے۔ توشخص میری سنت سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 317

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 318

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ3 أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ الشاعر المكي يقول: سمعت عبد اللہ بن عمر یَقُوْلُ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَاْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ فقَالَ: اَحَیٌّ والداک ؟ قال نعم قال ففیھما فجاھد۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو۔

ففیھما فجاھد۔ ← نَعَمْ ← جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ یَسْتَاْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ فقَالَ: اَحَیٌّ والداک ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبَا الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ الشاعر المكي ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ،

Hadith 318

chevron_left Previous
1…25262728
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr