صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 343
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم "إذا أراد الله بعبد خير عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قِيلَ وَمَا عَسَلُهُ قَالَ يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حتى يرضى عنه" 1. [3: 66]
حضرت عمروبن حمق خزاعی ؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے ‘ تو اس کو مرنے سے پہلے اسے شہد کر دیتا (یعنی اس کی پاکیزہ تعریف کرتا ) ہے ۔ عرض کی گئی : اس کو شہد کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کے مرنے سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ شخص اس سے راضی ہو جاتا ہے ‘‘۔
عَمْرَو بْنَ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيَّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ
Hadith 343
