Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 343

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم "إذا أراد الله بعبد خير عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قِيلَ وَمَا عَسَلُهُ قَالَ يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حتى يرضى عنه" 1. [3: 66]

حضرت عمروبن حمق خزاعی ؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے ‘ تو اس کو مرنے سے پہلے اسے شہد کر دیتا (یعنی اس کی پاکیزہ تعریف کرتا ) ہے ۔ عرض کی گئی : اس کو شہد کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کے مرنے سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ شخص اس سے راضی ہو جاتا ہے ‘‘۔

عَمْرَو بْنَ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيَّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 343

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 344

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقالذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ قِلَّةِ الْقُنُوطِ إِذَا وَرَدَتْ عَلَيْهِ حَالَةُ الْفُتُورِ فِي الطَّاعَاتِ فِي بَعْضِ الْأَحَايِينِ [344] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْتَدُومُوْنَ عَلٰی مَا تَکُوْنَ عِنْدِیْ فِی الْحَالِ لَصَافَحَتْکُمْ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُظِلَّکُمْ بِاَجْنِحَتِھَا وَلَکِنْ سَاعَۃً وساعۃ ۔(65:3)

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے اصحاب یہ کہا کرتے تھے :جب ہم نبی اکرمﷺ کے پاس ہوت ہیں‘ تو ہمیں اپنی باطنی کیفیات پسندیدہ محسوس ہوتی ہیں ‘ لیکن جب ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ جان کر ان کے ساتھ میل جول کرتے ہیں ‘ تو ہماری کیفیات مختلف ہو جاتی ہیں ۔ صحابہ اکرام ؓ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے پاس جس کیفیت میں ہوتے ہو اگر مستقل طور پر اس کیفیت میں رہو ‘ تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں ‘ لیکن وقت ‘ وقت ( کی کیفیت مختلف ہوتی ہے )

أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 344

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 345

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ" 2. [3: 72]

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’اگر مومن کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیسی سزا موجود ہے ‘ تو کوئی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی ہے ‘ تو کوئی شخص جنت سے مایوس نہ ہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 345

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 346

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الجنة" 1. [3: 30]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بعض اوقات ایک شخص اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ‘ حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے بعض اوقات ایک شخص ایسے جہنم کاسا عمل کرتا رہتا ہے ‘ حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ‘‘۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ

Hadith 346

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم "أن اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يَقُولُ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي1 وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا فَإِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنِ اسْتَعَاذَنِي أَعَذْتُهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يكره الموت وأكره مساءته" 2.

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بےشک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے ‘جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ مجھے ( جنگ کی ) دعوت دیتا ہے اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں وہ ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ‘ یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں ‘ تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ سنتا ہے۔ اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ دیکھتا ہے ۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ پکڑ تا ہے اس کا پاوٗں بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ چلتا ہے میرا بندہ جو مجھ سے مانگتا ہے ۔ میں اسےعطا کرتا ہوں اور پھر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے ‘ تو میں اسے پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی بھی کام کو کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی جان قبض کرنے میں تردد ہوتا ہے ‘ کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور مجھے اس کا ناپسند کرنا ‘ پسند نہیں ہے‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) یہ روایت صرف انہی دو طریقوں سے معروف ہے یعنی ہشام کنعانی نے اسے حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے ‘جبکہ عبد الواحد بن میمون نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ دونوں سندیں مستند نہیں ہیں۔ صحیح روایت وہ ہے ‘ جو ہم نے ذکر کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 347

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 348

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ فقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ ولكن سددوا" 2. [1: 67]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’تم میں سے کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مجھے بھی نہیں ۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے ‘ تو تم لوگ میانہ روی اختیار کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشَجِّ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 348

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسماعيل عن بن عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا سَادًّا وَقَارِبًا1 فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَلَا تعدوه" 2. [3: 66]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا ہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بے شک ہر عمل کی ایک رغبت ہوتی ہے ‘ اور ہر رغبت کی ایک فترت ہوتی ہے ‘ جب عمل کرنے والا شخص ٹھیک رہے اور میانہ روی اختیار کرے ‘ تو تم اس کی امید رکھو اور اگر انگلی کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ‘ تو پھر تم اسے کسی گنتی میں شمار نہ کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن عَجْلَانَ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 349

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 350

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الأعمش عن أبي صالحذكر الْأَمْرِ بِالْمُقَارَبَةِ فِي الطَّاعَاتِ إِذِ الْفَوْزُ فِي الْعُقْبَى يَكُونُ بِسَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ لَا بِكَثْرَةِ الْأَعْمَالِ [350] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَلَا یُنْجِی اَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلْہٗ قُلْنَا وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِی اللہُ منہ برحمتہ ۔(67:1)

حضرت ابو ہریرہؓ حضرت جابر ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو‘ کسی بھی شخص کو اس کا عمل نہیں دلوائے گا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مجھے بھی نہیں ‘ البتہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے ‘‘۔

الْأَمْرِ بِالْمُقَارَبَةِ فِي الطَّاعَاتِ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 350

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 351

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غلبه فسددوا وقاربواذكر الْأَمْرِ بِالْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ وَالدُّلْجَةِ فِي الطَّاعَاتِ عِنْدَ الْمُقَارَبَةِ فِيهَا [351] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فسددوا وقاربوا وقاربوا وَاَبْشِرُوْا وَاسْتَعِینُوْا بِالْغَدْوَۃِ الرَّوَاح، وَشِیْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ ۔(67:1)

حضرت ابو ریرہؓ ‘ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’یہ دین آسان ہے اور جو شخص اس میں سختی کرنے کی کوشش کرے گا ‘ تو یہ دین اس پر غالب آ جائے گا ‘ تو تم لوگ ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو اور تم لوگ صبح ‘ شام اور رات کےکچھ حصے ( میں عمل ) کے ذریعے مدد حاصل کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مَعْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 351

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 352

أَخْبَرَنَا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ "أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَعْنِي نَفْسَهُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أنت الذي تقول ذلك"؟

حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العا ص ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کو یہ بات پتہ چلی کہ میں نے یہ کہا ہے : میں جب تک زندہ رہا ‘ رات پھر نفل پڑھتا رہوں گا اور دن بھر روزہ رکھتا رہوں گا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ بات کہی ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس کے استطاعت نہیں رکھو گے ‘ تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ دیا کرو ( روات کے وقت ) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو‘ نیکی کا بدلہ دس گناہ ہوتا ہے ‘ تو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی مانند ہو جائے گا ۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن روزہ نہ رکھا کرو۔ یہ حضرت داؤد کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے اور یہ روزہ رکھنے کا سب سے مناسب طریقہ ہے ۔ میں نے عرض کی : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس سے زیادہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے تین دن روزہ رکھنے کی جو بات ارشاد فرمائی تھی ‘ اگر میں اسے قبول کر لیتا ‘ تو یہ میرے نزدیک اپنے اہل خانہ اور مال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’اس سے زیادہ فضیلت اور کسی چیز میں نہیں ہے‘‘۔ نبی اکرمﷺ کی اس سے مراد یہ ہے : تمہارے لئے ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے : نبی اکرمﷺ کو حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کے بارے میں اس بات کا پتہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو جن نیکیوں کا پابند کر رہے ہیں وہ ان کے حوالے سے کمزور ہو جائیں گے۔

يَعْنِي نَفْسَهُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ ← أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 352

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 353

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" قَالَتْ وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَامَ عَلَيْهَا قَالَ یَقُوْلُ اَبُوْ سَلَمَۃَ قَالَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ( الَّذِیْنَ ھُْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَائِمُوْنَ) (المعارد: 23)۔

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اتنا عمل اختیار کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھکاوٹ کا شکار نہیں ہو جاتے‘‘۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا ‘ جسے آپ ﷺ باقاعدگی سے سر انجام دیں ‘ اگرچہ وہ توڑا ہو نبی اکرمﷺ جب بھی کوئی ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ‘ تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتےہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’اور وہ لوگ اپنی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’بے شک اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم ٹھیک جاتے ہو‘‘۔ یہ لوگوں کے محاورے کے الفاظ میں سے ہیں‘ کیونکہ مخاطب شخص کو صرف اسی حوالے سے مفہوم منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد اس کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 353

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 354

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" قَالَتْ وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَامَ عَلَيْهَا1.

حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بیشک اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصت کو قبول کیا جائے ۔ جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی لازم کی ہوئی چیزوں پر عمل کیا جائے ‘‘

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 354

chevron_left Previous
1234…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr