صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 535
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ [ص:294] الْجُعْفِيُّ *، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ: {عَبَسَ وَتَوَلَّى} [عبس: 1] فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، قَالَتْ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْشِدْنِي، قَالَتْ: وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا» فَيَقُولُ: لَا، فَنَزَلَتْ {عَبَسَ وَتَوَلَّى} [عبس: 1]. [5: 4]
سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتے ہیں: یہ آیت ’’ اس نے ماتھے پر بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا ‘‘ یہ حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ نابینا کے بارے میں نازل ہوئی ۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی ! آپ میری رہنمائی کیجئے سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ اس وقت نبی اکرمﷺ کےپاس مشرکین کے بڑوں میں سے ایک فرد بیٹھا تھا۔ نبی اکرمﷺ ان سے منہ پھیرتے رہے اور اس کی طرف متوجہ رہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں اس میں کوئی حرج ہے ‘ تو وہ جواب دیتا :جی نہیں ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ’’ اس نے ماتھے پر بل ڈال لئے اور منہ پھیر لیا)
لَا، فَنَزَلَتْ ← وَعِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ، ← يَا نَبِيَّ الله أرْشِدْنِي، ← أتَى النَّبِيَّ فَجَعَلَ ← أُنْزِلَتْ: فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A chapter of righteousness and kindness · Hadith 535
