Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2381

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا مَا كَانَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالُوا: الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَقَدْ جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مُرْتَدِفِينَ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي أَرْضِ خَلَاءٍ، فَتَرَكْنَا الْحِمَارَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، ثُمَّ جِئْنَا حَتَّى دَخَلْنَا بَيْنَهُمْ فَمَا بَالَى بِذَلِكَ» (1) . [4: 50]

ابوصہباء بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس موجود تھے ہم نے اس بات کا ذکر کیا‘ کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے‘ تو لوگوں نے کہا: گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں ) تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا: میں اور بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص گدھے پر آگے پیچھے سوار ہو کر آئے۔ نبی اکرمﷺاس وقت کھلے میدان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم نے گدھے کو لوگوں کے سامنے چھوڑ دیا‘ پھر ہم آئے اور صف میں شامل ہو گئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَقَدْ جِئْتُ ← الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، ← كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا مَا كَانَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ← أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2381

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2382

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا - قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي بِقَوْلِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ - قَالَ: وَأَخْرَجَ فَضْلَ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ مِنْ بَيْنِ نَائِلٍ، وَنَاضِحٍ، حَتَّى جَعَلَ الصَّغِيرُ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ إِبَاطِ الْقَوْمِ فَيُصِيبُ ذَلِكَ، وَرَكَزَ بِلَالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً، فَيَمُرُّ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ لَا يُمْنَعُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ» (2) . [4: 50]

عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں بطحاء میں نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا۔ آپ اس وقت سرخ خیمے میں موجود تھے۔ آپ کے پاس کچھ لوگ بھی تھے‘ پھر حضرت بلالؓ آئے ۔ انہوں نے اذان دی انہوں نے ( اذان دیتے ہوئے ) اپنا منہ اس طرف بھی پھیرا اور اس طرف بھی پھیرا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یعنی حی علی الصلٰوۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے ایسا کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی اکرمﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے‘ تو کچھ لوگوں کو وہ پانی ملا اور کچھ کو نہیں ملا‘ یہاں تک کہ ایک کم سن بچے نے لوگوں کی بغل کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کیا‘ اور اس پانی تک پہنچ گیا پھر حضرت بلالؓ نے نبی اکرمﷺ کے سامنے ایک نیزہ گاڑہ دیا ( نبی اکرمﷺ اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ) پھر گدھے یا عورت یا کتے کے ( اس کے دوسری طرف سے گزرنے پر ) منع نہیں کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں‘ پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لانے تک دو دو رکعات ہی ادا کرتے رہے۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2382

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2383

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ (3) ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْكَ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» (1) . [3: 61] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَذْرِمَةُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى نَصِيبِينَ»

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابوذرغفاریؓ سے اس چیز کے بارے میں اس دریافت کیا: جو نماز کو توڑ دیتی ہے‘ تو انہوں نے فرمایا: جب تمہارے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز نہ ہو‘ تو عورت گدھا اور سیاہ کتا ( نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے زرد یا سفید کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرمﷺ سےیہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) ’’ اذرمہ‘‘ نصیبین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ ← عبد الله بن صالح البخاري

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2383

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2384

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَبْيَضِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» (1) . [3: 61]

عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر غفاریؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب آدمی کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز ( سترہ کے طور پر ) نہ ہو‘ تو عورت گدھا اور سیاہ کتا ( نمازی کے آگے سے گزر کر ) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے حضرت ابوذرؓ سیاہ کتے کا کیا معاملہ ہے۔ سفید اور سرخ کیوں نہیں‘ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرمﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2384

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2385

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقْطَعُ (2) صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ: الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ» ، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْأَسْوَدُ شَیْطَانٌ

حضرت ابوذر غفاریؓ نبی اکرمﷺ کای یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ گدھا سیاہ کتا اور عورت آدمی ( کے آگے سے گزر کر اس ) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں جب آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی ( کوئی چیز سترے کے طور پر ) نہ ہو‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ( حضرت ابوذر غفاریؓ سے ) دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: سیاہ ( کتا ) شیطان ہوتا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2385

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2386

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ» (2) . [3: 61]

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کتا گدھا اور عورت ( نمازی کے آگے سے گزر کر ) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔‘‘

«يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ» ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2387

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ» (1) . [3: 61]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کتا اور حیض والی عورت ( اس کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے بالغ عورت ) نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔‘‘

«يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2388

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ (1) بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ» ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» (2) .

عبداللہ بن صامت حضرت ابوذرغفاریؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’ عورت گدھا اور سیاہ کتا ( نمازی کے آگے سے کر) نماز توڑ دیتے ہیں۔‘‘ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا ہے۔ اے ( حضرت ) ابوذرؓ! سیاہ کتا کیوں سرخ کیوں نہیں‘ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: سیاہ ( کتا ) شیطان ہوتا ہے

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← سَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2389

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ» ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ» (1) . [3: 61]

عبداللہ بن صامت حضرت ابوذرغفاریؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2389

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2390

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي» (2) . [3: 61]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے‘ میں نبی اکرمؓ کے سامنے چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ رکھا جاتا ہےاور نبی اکرمﷺ اس وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے

عَائِشَةُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي» ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2390

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2391

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُعَادُ الصَّلَاةُ مِنْ مَمَرِّ (1) الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْكَلْبِ الْأَسْوَدِ» ، قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» (2) . [3: 61]

عبداللہ بن صامت‘ حضرت ابوذرغفاریؓ کے حوالےسے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں۔ ’’ گدھے عورت یا سیاہ کتے کے ( نمازی سے آگے سے ) گزرنے سے دوبارہ نماز ادا کی جائے۔‘‘ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ زرد یا سرخ کیوں نہیں؟ تو حضرت ابوذرغفاریؓ نے فرمایا: میں نے بھی نبی اکرمﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2391

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2392

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدِ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، فَمَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ؟ قَالَ: يَا (1) ابْنَ أَخِي، إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَقَالَ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» (2) . [3: 61]

عبداللہ بن صامت‘ حضرت ابوذرغفاریؓ کے حوالےسے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں۔ ’’ جب کسی شخص کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز ( سترے کے طور پر ) نہ ہو‘ تو عورت گدھا اور سیاہ کتا ( س کے آگے سے گزر کر ) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: اے ( حضرت ) ابوذرؓ! سیاہ کتا کیوں ؟سرخ کتایا زرد کیوں نہیں‘تو انہوں نے فرمایا: اےمیرے بھتیجےجس چیز کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہےاس کے بارے میں‘میں نے بھی نبی اکرمﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2392

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr