Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2262

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" 2 [1: 92]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ( امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

"التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2262

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2263

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء" 1 [4: 10]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ( نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2263

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2264

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ: "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصلاة" 1 [4: 1] ذِكْرُ الْأَمْرِ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَبْصُقَ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى لَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَا تِلْقَاءَ وَجْهِهِ

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نماز کے دوران اشارہ کر لیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2264

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2265

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَهَذَا رِدَاؤُكَ إِلَى [ص:43] جَنْبِكَ؟! فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ أَحْمَقُ مِثْلُكَ فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ، فَيَصْنَعُ بِمِثْلِهِ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟ » قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟ » فَقُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا - وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ - أَرُونِي عَبِيرًا»، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتَيْهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، وَلَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ قَالَ جَابِرٌ: «فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ». [1: 78]

عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں ان کی مسجد میں حاضر ہوئے۔ وہ اس وقت ایک کپڑے کو اشتمال کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہو ا ان کے اور قبلہ کے درمیان آکر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔ آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کی بڑی چادر آپ کے پہلو میں موجود ہے‘ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میرے سینے پر مارا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا‘ تم جیسا احمق آدمی میرے پاس آکر مجھے دیکھے‘ میں کیا کر رہا ہوں اور پھر وہ اس کی مانند عمل کرے۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہماری اس مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے دست اقدس میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسجد کی قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ اس کی طرف گئے اور اسے چھڑی کے ذریعے کھرچ دیا‘ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم گھبرا گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے‘ تو وہ اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے اور اگر بلغم تیزی سے آرہا ہو‘ تو وہ اپنے کپڑے میں اس طرح کرے آپ نے اسے مل دیا تم لوگ مجھے کوئی خوشبو دو تو اس قبیلے کا ایک نوجوان تیزی سے اپنے گھر گیا‘ اور اپنی ہتھیلیوں میں کچھ خوشبو لے کر آیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے لیا اور اس چھڑی کے کنارے پر رکھا اور اس کے ذریعے بلغم کے نشان پر مل دیا۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: یہیں سے لوگوں نے مسجدوں میں خوشبو رکھنا شروع کی۔

عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عمرو بن زرارة الكلابي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2265

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2266

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ1 قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ2 عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى" 3 [4: 4]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو‘ تو وہ اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہ تھوکے وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔‘‘

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2266

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2267

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي ربه ولكن عن يسره أو تحت قدمه" 1 [2: 43]

حضرت انس بن مالکؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو‘ تو وہ اپنے دائیں طرف یا سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے۔‘‘

يسره أو تحت قدمه" ← يَمِينِهِ وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي ربه ولكن ← "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَتْفُلْ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2267

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2268

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شهاب قال أخبرنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُمَّ قَالَ "لَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ اليسرى" 1 [2: 43]

حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے قبلہ کی سمت میں ( دیوار پر ) بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ نے ایک کنکری لے کر اس کے ذریعے اس کو کھرچ دیا‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی شخص قبلہ کی طرف ہرگز نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولَانِ: ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2268

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2269

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنَهُ".ذِكْرُ الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا زُجِرَ عَنْ تَنَخُّمِ الْمَرْءِ أَمَامَهُ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ فِي صَلَاتِهِ [2269] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنَهُ".

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو‘ تو وہ اپنے سامنے کی سمت میں نہ تھوکے کیونکہ وہ جب نماز ادا کر رہا ہوتا ہے‘ تو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے دفن کر دینا چاہئے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2269

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2270

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ يُمْسِكُهَا بِيَدِهِ فَدَخَلَ يَوْمًا الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا وَاحِدَةٌ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا فَقَالَ "أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ الرَّجُلُ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ إذا قام للصلاة فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ بِهِ رَبَّهُ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا" وَتَفَلَ فِي ثوبه2 ورد بعضه ببعض" 3 [2: 43]

حضرت ابوسعیدخدریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کو ہاتھ میں چھڑی رکھنا پسند تھا ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے۔ ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے مسجد کی قبلہ کی سمت ( والی دیوار ) پر بلغم لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے کھرچ کر اچھی طرح صاف کیا‘ پھر آپ غضب کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا‘ کوئی شخص اس کے سامنے آئے‘ اور اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے تھوک دے جب آدمی نماز پڑھنےکے لئے کھڑا ہوتا ہے‘ تو اس کا پروردگار اس کے مدمقابل ہوتا ہے اور فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے اس لئے اسے اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہئے بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے اور اگر تھوک تیزی سے آجائے‘ تو اسے اس طرح کرنا چاہئے یعنی اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2270

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2271

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينُ، وَيُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا قَضِيبٌ، فَحَكَّهَا بِهِ - يُرِيدُ: بَزْقَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ - وَنَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: «لِيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَجْعَلْهَا فِي ثَوْبِهِ، وَلْيَقُلْ بِهَا هَكَذَا»، وَأَشَارَ سُفْيَانُ يَدْلُكُ طَرَفَ كُمِّهِ بِإِصْبَعِهِ. [4: 6]

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کو چھڑی رکھنا پسند تھا۔ آپ اسے اپنے دست اقدس میں رکھتے تھے۔ ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے‘ تو آپ کے دست مبارک میں چھڑی تھی۔ آپ نے اس کے ذریعے اسے کھرچ دیا۔ راوی کی مراد یہ ہے‘ مسجد میں قبلہ کی سمت میں لگے ہوئے بلغم کو کھرچ دیا اور آپ نے اس بات سے منع کیا‘ آدمی اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف تھوکے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اسے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے اور اگر تھوک تیزی سے آرہا ہو‘ تو اپنے کپڑے میں پھینک دینا چاہئے اور پھر اس طرح کی دینا چاہئے۔ سفیان نے اپنی انگلیوں کے ذریعے آستین کے کنارے کو مل کر اشارہ کر کے بتایا۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي السرح، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2271

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2272

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ عَنِ الجريري عن أبي العلاء بن الشخير اَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ صَلَّی مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَنَخَّعَ ، فَدَ لَکَھَا بِنَعْلِہِ الْیُسْریٰ ۔(1:4)

ابو العلاء بن شخیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ انہوں نے تھوک پھینکا تو اسے اپنے بائیں جوتے کے ذریعے مل دیا۔

الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2272

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2273

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ1 بِبَغْدَادَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِذَا قَامَ أحدكم في الصَّلَاۃِ فَلَا یَمْسَحِ الْحَصٰی ، فَاِنَّ الرَّحْمٰۃَ تُوَاجِھُہٗ ۔(43:2)

حضرت ابوذرغفاریؓ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کاہ پتہ چلا ہے۔ ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو‘ تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے کیونکہ رحمت اس کے مدمقابل ہوتی ہے۔‘‘

"إِذَا قَامَ أحدكم في الصَّلَاۃِ فَلَا یَمْسَحِ الْحَصٰی فَاِنَّ الرَّحْمٰۃَ تُوَاجِھُہٗ ← أَبِي ذَرٍّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ1 بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2273

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr