صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2250
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ1 [2: 101] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَذَا الْخَبَرُ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ وَذَاكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ وَلَيْسَ مِمَّا يَذْهَبُ إِلَيْهِ الْوَاهِمُ فِيهِ فِي شَيْءٍ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ وَصَلَّوْا بِهَا قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا وَكَانُوا يُصَلُّونَ بالمدينة كما يصلي الْمُسْلِمُوْنَ بِمَکَّۃَ فِیْ اِبَاحَۃِ الْکَلَامِ فِی الصَّلَاۃِ لَھُمْ ، فَلَمَّا نُسِخَ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ نُسِخَ کَذٰلِکَ بِالْمَدِیْنَۃِ ، فَحَکَی زَیْدٌ مَا کَانُوا عَلَیہِ ، لَا اَنَّ زَیْدًا حَکَی مَا لَمْ یَشْھَدْہُ
حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں: پہلے ہم ضرورت کے پیش نظر نماز کے دوران کلام کر لیا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان والی نمازکی بھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔‘‘ تو ہمیں ( نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جس نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا حکم مدینہ منورہ میں آیا تھا۔ اور حضرت ابوہریرہؓ حضرت ذوالیدینؓ کے واقعہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت زید بن ارقمؓ کا تعلق انصار سے ہے۔ وہ یہ بیان کرتے ہیں پہلے ہم نماز کے دوران کوئی ضرورت کی بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے جس غلط فہمی کا شکار یہ شخص ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت زید بن ارقمؓ کا تعلق ان انصار سے ہے جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام قبول کیاتھا۔ اور وہ نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ میں ہجرت کرنے سے پہلے مدینہ منورہ میں نمازیں ادا کرتے رہے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ میں اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔ جس طرح مسلمان مکہ میں نماز ادا کرتے تھے۔ اور اس وقت ان لوگوں کےلیے نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھا۔ جب یہ حکم مکہ میں منسوخ ہوا تو اسی طرح مدینہ میں منسوخ ہو گیا۔ تو حضرت زیدؓ نے وہ چیز بیان کی ہے جس پر وہ پہلے عمل کیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ حضرت زید ؓ نے کسی ایسی چیز کے بارے میں بیان کیا ہو‘ جس میں وہ خود شریک نہیں تھے۔
زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2250
