Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2393

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ» (1) . [3: 61]

عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ میں اس وقت قریب البلوغ نبی اکرمﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا پھر میں اس سے نیچے اتر گیا‘ اور میں نے گدھی کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا‘ پھر میں صف میں آکر شامل ہو گیا تو اس حوالے سے کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔

«أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2393

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ» ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: «فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ» ، قَالَ: «فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَجَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالًا: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لَا يَمْنَعُ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ۔(61:3ٌ)

عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت ’’ ابطح ‘‘ میں وہاں چمڑے کے بنے سرخ خیمے میں موجود تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر حضرت بلالؓ باہر آئے‘ تو لوگوں نے اس پانی کو حاصل کرنا شروع کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ باہر تشریف لائے‘ تو آپ نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا۔ آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کا منطر گویا‘ آپ بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺنے وضو کیا‘ پھر حضرت بلالؓ نے اذان دی اور اذان دیتے ہوئے اپنے منہ کو اس طرف اور اس طرف یعنی دائیں طرف اور بائیں طرف پھیرا‘ یعنی حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے ایسا کیا‘ پھر نبی اکرمﷺ کے سامنے نیزہ گاڑھ دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے عصر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں۔ آپ کے سامنے سے ( نیزے کی دوسری جانب سے ) گدھے اور کتے گزرتے رہے۔ انہیں روکا نہیں گیا پھر نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ واپس آنے تک مسلمل دو رکعات ( یعنی قصر ) نماز ادا کرتے رہے۔

«فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَجَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، ← «فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ» ← فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، ← «أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ» ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2394

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2240

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ1 قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ "فهلا أذكرتمونيها"2

حضرت مسور بن یزید اسدیؓ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ نماز کے دوران تلاوت کر رہے تھے۔ آپ نے درمیان میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیا جس کی آپ نے تلاوت نہیں کی۔ ( نماز کے بعد ) ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ نے فلاں آیت کو چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تما نے اسے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا۔

لَهُ رَجُلٌ: ← شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ ← الْمِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ1 ← یَحْیَی بْنُ کثیر الکاھلی ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2240

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2241

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ لَهُ قَدِيمٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْمِسْوَرُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الصَّلَاةِ فَتَعَايَى فِي آيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَرَكْتَ آيَةً قَالَ "فَهَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا؟ " قَالَ ظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ قَالَ "فَإِنَّهَا لَمْ تنسخ" 1 [1: 84]

حضرت مسور بن یزیدؓ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ نے نماز کے دوران قرأت کرتے ہوئے ایک آیت کو چھوڑ دیا ( نماز کے بعد ) ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ نے ایک آیت کو چھوڑ دیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا۔ اس نے عرض کی: میں نے گمان کیا‘ شاید یہ منسوخ ہو گئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ منسوخ نہیں ہوئی ہے۔

شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ قَرَأَ فِي الصَّلَاةِ فَتَعَايَى فِي آيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ ← الْمِسْوَرُ بْنُ يَزِيدَ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ لَهُ قَدِيمٌ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2241

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2242

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لِأَبِي: "أَشَهِدْتَ مَعَنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قال: فَمَا مَنَعَکَ اَنْ تَفْتَحَھَا عَلَیَّ ؟ (84:1)

سالم بن عبداللہ اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمرؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ایک نماز ادا کر رہےتھے۔ اس دوران آپ کو شبہ ہوا جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے‘ تو آپ نے میرے والد سے فرمایاکیا تم ہمارے ساتھ ( نماز میں ) شریک تھے۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا؟

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2242

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2243

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَنْ جِئْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَ [مَا] 1 بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ لَهُ إِنَّكَ كُنْتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ [مِنْ أَمْرِهِ] 1 مَا شَاءَ وَقَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ قَضَاءً أن لَّا تَکَلَّمُوْا فِی الصَّلَاۃِ ۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ ( نماز کے دوران ) نبی اکرمﷺ کو سلام کرتے تھے‘ تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا‘ پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین سے ( مدینہ منورہ) آئے تو میں نے نبی اکرمﷺ کو ( آپ کے نماز پڑھنے کے دوران ) سلام کیا‘ تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: پہلے تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے تو نبی اکرمﷺؑ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہےاور اس نے اس بارے میں نیا فیصلہ یہ دیا ہے‘ تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔‘‘

عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2243

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2244

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ1 فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ علي السلام فَقَالَ "إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ2 وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصلاة" 3 [2: 101]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرمﷺ کو سلام کرتے تھے۔ اس وقت جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے‘ تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے یہ ہمارے حبشہ کی سرزمین سے ( مدینہ منورہ) آنے سے پہلے کی بات ہے۔ جب ہم نجاشی کی طرف سے واپس آئے‘ تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہےتھے میں نے آپ کو سلام کیا‘ تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں آپ کے انتظار میں بیٹھ گیا جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے آپ کو سلام کیا تھا۔آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ( ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ) پہلے آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے نیا حکم یہ دیا ہے‘ ہم نماز کے دوران کلام نہیں کریں گے۔‘‘

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2244

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2245

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} ذِكْرُ خَبَرٍ قَدْ يُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ كَانَ ذَلِكَ بِالْمَدِينَةِ لَا بِمَكَّةَ [2245] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ}

حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں پہلے ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کر لیتا تھا‘ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ’’ نمازوں کی اور بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو اور اللہ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔‘‘ تو ہمیں ( نماز کے دوران ) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت زید بن ارقمؓ سے منقول یہ الفاظ ’’ ہم نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں یوں ہوتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی سے بات چیت کر لیتا تھا‘‘ اس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران کلام کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا۔ کیونکہ حضرت زید بن ارقمؓ انصار سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے کا واقعہ مکہ میں پیش آیا تھا اس وقت جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور ان کے ساتھی حبشہ سے واپس آئے تھے۔ حضرت زید بن ارقمؓ سے منقول روایت کہ دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں اس بات کا احتمال موجود ہو کہ حضرت زید بن ارقمؓؓ نے نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے حضرت سعدؓ کے اسلام کا ذکر ہو۔ جب حضرت معصب بن عمیرؓ ان لوگوں کو قرآن اور دینی احکام کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس وقت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں پر نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھی۔ تو اس وقت مدینہ منورہ میں کچھ انصار اسلام قبول کر چکے تھے۔ یہ نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے کی بات ہے اس وقت ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے ساتھ نماز کے دوران بات چیت کر لیتا تھا۔ یہ نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے سے پہلے کی بات ہے تو حضرت زید بن ارقمؓ نے ان ایام کے دوران ان لوگوں کی نماز کا واقعہ ذکر کیا۔ اس سے یہ مراد نہ ہو کہ نماز کےدوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا۔ اس کا دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے ان کی مراد انصار اور دیگر حضرات ہوں۔ جو نماز کے دوران کلام منسوخ ہونے سے پہلے اس طرح کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ کوئی شخص اپنی زبان میں یہ کہتا ہے کہ تو ہم نے یہ کیا حالانکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگوں نے ایسا کیا تھا۔ سب لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2245

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2246

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شبيل عن أبي عمرو الشيبانيذكر خَبَرٍ قَدْ يُفَصَّلُ بِهِ إِشْكَالُ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذكرناها في خبر ابن المبارك ... ذِكْرُ خَبَرٍ قَدْ يُفَصَّلُ بِهِ إشكال اللفظة التي ذكرناها في خبر بن الْمُبَارَكِ [2246] أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ، قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یُکَلِّمُ صَاحِبَہُ فِی الصَّلَاۃِ بِالْحَاجَۃِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، حَتّٰی نَزَلَتْ: (حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ) (البقرۃ :238)الْاَیَۃَ ۔ (19:5)

حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں پہلے کوئی شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’ نماز کی حفاظت کرو۔‘‘

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← خَبَرٍ قَدْ يُفَصَّلُ بِهِ إشكال اللفظة التي ذكرناها في خبر بن الْمُبَارَكِ ← خَبَرٍ قَدْ يُفَصَّلُ بِهِ إِشْكَالُ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذكرناها في خبر ابن المبارك ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2246

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2247

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ1 قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ قَالَ: " ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صدورهم ولا يضرهم : قُلْتُ: وَرِجَالًا مِنَّا یَاْتُونَ الْکَھَنَۃَ ؟ قَالَ: فَلَا تَاْتُوھُمْ قُلْتُ: وَرِجَالًا مِنَّا یَخْطُّوَ ؟ قَالَ: قَدْ کَانَ نَبِیُّ مِّنَ الْاَنْبِیَاءِ یَخُطُّ ، فَمَنْ وَّافَقَ خَطَّہُ فَذَاکَ قَالَ: ثُمَّ بَیْنَا اَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ ، اِذْ عَطَسَ رَجْلٌ مِّنَ الُْوْمِ ، فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللہُ ، فَحَدَّقَنِی الْقَوْمُ بِاَبْصَارِھِمْ ، فَقُلْتُ: وَالثُکْلَ اُمَّاہُ ، مَا لَکُمْ تَنْظُرُوْنَ اِلَیَّ؟ قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِاَیْدِیھِمْ عَلٰی اَفْخَاذِھِمْ ، قَالَ: فَلَمَّا رَاَیْتُھُمْ یُسَکِّتُونِیْ سَکَتُّ ، فَلَمَّا اَنْصَرَفَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِہٖ دَعَانِی ، فَبِاَبِیْ ھُوَ وَاُمِّی مَا رَاَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہٗ ، وَلَا بَعْدَہٗ اَحْسََ تَعْلِیْمًا مِنْہُ ، وَاللہِ مَا ضَرَبَنِی ، وَلَا کَھَرَنِی ، وَلَا سَبَّنِی ، وَلٰکِنْ قَالَ : صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ صَلَاتَنَا ھٰذِہِ لَا یَصْلُحُ فِیْھَا شَیْءٌ مِّنْ کَلَامِ النَّاسِ ، اِنَّمَا ھُوَ التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیْرُ وَتِلَاوَۃُ الْقُرّْنِ قَالَ: وَاَطْلَقْتُ غُنَیْمَۃً لِی تَرْعَاھَا جَارِیَۃٌ لِی قِبَلَ اُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ ذَھَبَ مِنْھَا بِشَاۃٍ ، وَاَنَّا رَجُلٌ مِّنْ بَنِیْ آدَمَ آسَفُ کَمَا یَاْسَفُونَ ، وَاَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُوْنَ ، فَصَکَکْتُھَا صَکَّۃً ، فَاَخْبَرْتُ بِذٰلِکَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَعَظَّمَ عَلَیَّ ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَوْ اَعْلَمُ اَنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ لَاَعْتَقْتُھَا ، قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ائْتِنِیْ بِھَا ، فَجِئْتُ بِھَا ، فَقَالَ: اَیْنَ اللہُ ؟ قَالَتْ: فِی السَّمَاءِ ، قَالَ: مَنْ اَنَا ؟ قَالَتْ: اَنْتَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ ، فَاَعْتِقْھَا ۔ (19:5)

حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: یہ ایک ایسی چیز ہے‘ جو صرف ان کا گمان ہے یہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ رمل کا عمل کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک صاحب یہ علم جانتے تھے‘ تو ( ہمارے زمانے میں ) جس شخص کی لکیر اس کے مطابق ہو جائے‘ تو وہ ( بات درست ثابت ہوتی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا۔ اسی دوران حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آگئی تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو تم میری طرف گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو‘ تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا‘ وہ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہےہیں‘ تو میں خاموش ہو گیا جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کر لی‘ تو آپ نے مجھ بلوایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد آپ جتنا معلم نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے ڈانٹا نہ جھڑکا نہ برا کہا بلکہ آپ نے ارشاد فرمایا: ہماری اس نماز کے دوران لوگوں کے کلام میں سے کوئی چیز مناسب نہیں ہے۔ یہ ( نماز ) تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ( پر مشتمل ہوتی ہے )‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی کچھ بکریاں کھلی چھوڑیں جنہیں ایک کنیز اور پہاڑ اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی۔ میں نے یہ صورت حال پائی‘ کوئی بھیڑیا ان میں سےایک بکری کو لے گیا ہے۔ میں بھی آخر ایک انسان ہوں ۔ مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے‘ جس طرح دوسروں کو ہوتا ہے۔ مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے‘ جس طرح دوسروں کو آتا ہے۔ میں نے اس کنیز کو مکا رسید کیا‘ پھر میں نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا: تو نبی اکرمﷺ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!اگر مجھے یہ پتہ چل جائے‘ یہ کنیز مومن ہے‘ تو میں اسے آزاد کر دوں گا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے لے کر میرے پاس آؤ میں اسے لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس آیا آپ نے دریافت کیا۔ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان میں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: میں کون ہوں؟ اس نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ مومن ہے تم اسے آزاد کردو۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2247

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2248

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ وَأَبُو خَلِيفَةَ1 قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قال قلت يا رسول الله إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ قَالَ "ذَلِكَ شيء يجدونه في صدورهم فلا يضرهم: قَالَ: قُلْتُ :یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِنَّا رِجَالٌ یَاْتُونَ الْکَھَنَۃَ ، قَالَ: فَلَا تَاْتُوھُمْ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَجَالٌ مِّنَّا یَخُطُّونَ ، قَالَ: کَانَ نَبِیٌّ مِّنَ الْاَنْبِیَاءِ یَخُطُّ ، فَمَنْ وَّافَقَ خَطَّہُ فَذَاکَ قَالَ: وَبَیْنَا اَنَا اُصَلِّیُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِّنْ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ لَہٗ: یَرْحَمُکَ اللہُ ، فِحَدَّقَنِی الْقَوْمُ بِاَبْصَارِھِمْ ، فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ اُمَّیَاہُ ، مَا لَکُمْ تَنْظُرُوْنَ اِلَیَّ ؟ فَضَرَبَ الْقُوْمُ بِاَیْدِیھِمْ عَلٰی اَفْخَاذِھِمْ یُصَمِّتُونَنِیْ لِکَیَ اَسْکْتُ سَکَتُّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَانِی ، فِبِاَبِیْ ھُوَ وَاُمِّی ، مَا رَاَیْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَہٗ ، وَلَا بَعْدَہٗ اَحْسَنَ تَعْلِیْمًا مِنْہُ ، وَاللہِ مَا ضَرَبِنِی ، وَلَا کَھَرَنِی، وَلَا شَتَمَنِی ، وَلٰکِنْ قَالَ: اِنَّ صَلَاتَنَا ھٰذِہِ لَا یَصْلُحْ فِیْھَا شَیْءٌ مِّنْ کَلَامِ النَّاسِ ، اِنَّمَا ھِیَ التَّکْبِیرُ ، وَالتَّسْبِیحُ ، وَتِلَاوَۃُ الْقُرّْآنِ ۔(181:2)

حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادو دور نہیں ہیں پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لےآیا ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے‘ جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں ۔ یہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ( یعنی علم رمل کرتے ہیں ) ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے‘ تو ( ہمارے زمانے میں ) جس شخص کی لکیر اس کے موافق ہو ( اس کی بات درست ثابت ہوتی ہے ) راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا۔ حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آگئی تو میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے تو لوگوں نے مجھے گھور کے دیکھا میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو‘ تو لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے جب میں نے انہیں دیکھا‘ وہ لوگ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ تو میں خاموش ہو گیا جب نبی اکرمﷺ نےنماز مکمل کی تو آپ نےمجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے اچھا معلم اور کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے مارا نہ جھڑکا نہ برا کہا بلکہ یہ ارشاد فرمایا: ’’ ہماری اس نماز میں لوگوں کےکلام کی مانند بات چیت کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکبیر تسبیح اور قرآن کی تلاوت ( پر مشتمل ہوتی ہے)‘‘

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ وَأَبُو خَلِيفَةَ1

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2248

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2249

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [ص:26] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَشِيِّ، فَقَامَ إِلَيْهِ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ»، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. [2: 101] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ كَانَتْ حَيْثُ كَانَ الْكَلَامُ مُبَاحًا فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ نُسِخَ هَذَا الْخَبَرُ بِتَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لِأَنَّ نَسْخَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَرَاوِي هَذَا الْخَبَرِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، [ص:27] فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ، عَلَى أَنَّ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ كَانَ بَعْدَ نَسْخِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ بِعَشْرِ سِنِينَ سَوَاءٌ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْخَبَرُ الْمُتَأَخِّرِ مَنْسُوخًا بِالْخَبَرِ الْمُتَقَدِّمِ».

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے شام کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا‘ تو حضرت ذوالیدینؓ آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا۔ ایسا ہی ہے‘ جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں‘ تو نبی اکرمﷺ نے باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کیا‘ پھر آپ نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ وہ نمازتھی جس میں نماز کے دوران کلام کرنا مباح تھا۔ پھر اس روایت کو منسوخ کر دیا گیا۔ جو نماز کےدوران کلام کرنے کے حرام ہونے والی روایت کے ذریعے منسوخ ہوا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نماز کے دوران کلام کرنا مکہ میں منسوخ ہوا تھا۔ اس وقت جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے تھے۔ اور یہ بات ہجرت سے تین سال پہلے کی ہے۔ جبکہ اس روایت کو نقل کرنے والے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہؓ نے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا تھا۔ جیسا کہ میں یہ بات پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ حضرت ذوالیدینؓ کا واقعہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کے دس سال بعد پیش آیا تھا۔ تو بعد والی روایت پہلی والی روایت کے ذریعے کیسے منسوخ ہو سکتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [ص:388] ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2249

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr