Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 926

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ (1) عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» (2) . [5: 12] قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بُرْدَةَ، فَقَالَ: وَأَتُوبُ.

حضرت حزیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بد زبانی کیا کرتا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں داخل کر دے گی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم ستغفار سے کیوں غافل ہو، میں روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے ابو بردہ کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا : ( روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) " میں توبہ کرتا ہوں " ( یعنی روزانہ سو مرتبہ توبہ اور استغفار کرتا ہوں )۔

كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: ← حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 926

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 927

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رُبَّمَا أَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» (1) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے بعض اوقات یہ بات نوٹ کی کہ نبی اکرم ﷺ ایک محفل میں ایک سو مرتبہ یہ پڑھتے تھے : " اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے ، تو مہری توبہ قبول کر لے، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا ہے رحم کرنے والا ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 927

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 928

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: أَسْتَغْفِرُ [ص:208] اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِي الْأَحْوَالِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَلِاسْتِغْفَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَيَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَهُ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ قَوْلًا وَفِعْلًا، فَكَانَ يُعَلِّمُ أُمَّتَهُ الِاسْتِغْفَارَ وَالدَّوَامَ عَلَيْهِ، لِمَا عَلِمَ مِنْ مُقَارَفَتِهَا الْمَآثِمَ فِي الْأَحَايِينِ بِاسْتِعْمَالِ الِاسْتِغْفَارِ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِنَفْسِهِ عَنْ تَقْصِيرِ الطَّاعَاتِ لَا الذُّنُوبِ، لِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا عَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، وَاسْتَجَابَ لَهُ دُعَاءَهُ عَلَى شَيْطَانِهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بِطَاعَةٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَاوَمَ عَلَيْهَا وَلَمْ يَقْطَعْهَا، فَرُبَّمَا شُغِلَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ حَتَّى فَاتَتْهُ إِحْدَاهُمَا، كَمَا شُغِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ بِوَفْدِ تَمِيمٍ، حَيْثُ كَانَ يَقْسِمُ فِيهِمْ وَيَحْمِلُهُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَاوَمَ عَلَيْهِمَا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِيمَا بَعْدُ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِ طَاعَةٍ أَنْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا مِنَ النَّوَافِلِ لِاشْتِغَالِهِ بِمِثْلِهَا مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَوْلَى مِنْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهَا، لَا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ مِنْ ذُنُوبٍ يَرْتَكِبُهَا

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے کسی اور کو نبی اکرم ﷺ سے زیادہ یہ کلمات پڑھتے ہوئے نہیں سنا: " میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اوت اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ "( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :) مصطفیٰ کریم ﷺ مختلف احوال میں اپنے رب سے محفرت طلب کیا کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی بخشش کر دی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ کی مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو اپنی قوم کے لئے قول و فعل کے لحاظ سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی امت کو مگفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی امت گناہوں میں اکثر مبتلا ہوتی رہے گی۔ تو یون وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ، نبی اکرم ﷺ اپنی ذات کئ لئے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیا ن آُ پ کو ( گناہوں سے ) پاک رکھا ہے اور آپ کے ساتھ ( فطری طور پر پیدا ہونے والے ) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا ، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا، تو صورت حال یہ ہے، نبی اکرم ﷺ کے اخلاق میں یہ بات شامل ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق عمل کرتے تھے، تو باقاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام رہ جاتا تھا۔ جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کر سکے تھے کیونکہ تمیم قبیلے کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کررہے تھے۔ انہیں سواریاں فراہم کررہے تھے ، اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں ، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں ۔پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے، تو نبی اکرم ﷺ کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے نوافل کو مسروفیت کی وجہ سے ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے ۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہو۔

أَبُو حَاتِمٍ كَانَ الْمُصْطَفَى يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ ← أسْتَغْفر الله وَأَتُوب إِلَيْهِ من رَسُول الله ← مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خَالِد بن عبد الله بن الْحُسَيْن ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 928

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 929

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ: الْأَغَرُّ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ» (1) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ» يُرِيدُ بِهِ: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ: «فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ» ، وَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِهِ فِي الطَّاعَاتِ الَّتِي وَظَّفَهَا عَلَى نَفْسِهِ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَخْلَاقِهِ إِذَا عَمِلَ خَيْرًا أَنْ يُثْبِتَهُ فَيَدُومَ عَلَيْهِ، فَرُبَّمَا اشْتَغَلَ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ عَنْ ذَلِكَ الْخَيْرِ الَّذِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ آخَرَ، مِثْلُ اشْتِغَالِهِ بِوَفْدِ بَنِي تَمِيمٍ وَالْقِسْمَةِ فِيهِمْ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ أَعَادَهُمَا، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلتَّقْصِيرِ فِي خَيْرٍ اشْتَغَلَ عَنْهُ بِخَيْرٍ ثَانٍ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا

ابوب بردہ بیان کرتے ہیں : میں نے جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص " اغر "کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ نبی اکرم ﷺ سے اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو یہ بات بتائی کہ انہون نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اے لوگو! تم اپنے پروردگار کی بار گاہ میں توبہ کرو کیونکہ مین روزانہ اس کی بار گاہ میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔ " ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو " اس سے مراد یہ ہے ، تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو ۔ اس طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " میں اس کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں " ۔ نبی اکرم ﷺ اپنی نیکیوں میں کمی کے حوالے سے توبہ کرتے تھے ۔ جن کو آپ نے اپنے لئے باقاعدگی سے مقرر کیا ہوا تھا کہ آپ کے معمولات میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ کوئی نیکی کا کام کرتے تو اسے ثابت رکھتے تھے اور باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ کسی مصروفیت کی وجہ سے اس نیکی کے کام کو سر انجام نہیں دے پاتے تھے۔ جسی آپ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ اور ایسا کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے ہوتا تھا، جس طرح آپ بنو تمیم کے وفد کے ساتھ مصروف رہے، اور ان کے درمیان مال تقسیم کرنے کی وجہ سے وہ دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے جو آپ ظہر کی نماز کے بعد ادا کیا کرتے تھے ، تو جب آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی تو ان دو رکعات کو بھی ادا کیا ، تو نبی اکرم ﷺ کا استغفار اس کمی کے حوالے سے ہوتا تھا جو اس نیکی میں ہوتی تھی جس نیکی کو آپ کسی دوسری نیکی میں مصروفیت کی وجہ سے سر انجام نہیں دے پاتے تھے ۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ: الْأَغَرُّ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبَا بُرْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 929

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 930

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، [عَنْ أَبِي صَالِحٍ] ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ صُقِلَتْ، فَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا، فَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} » (1) [المطففين: 14] . [3: 65]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب کوئی بندہ غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ الگ ہو کر مغفرت طلب کرے اور توبہ کرے، تو وہ صاف ہو جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ غلطی کرے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، پھر اگر دوبارہ غلطی کرے ، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس میں غالب آجاتا ہے۔ یہ وہ ران ( زنگ یا پردہ ) ہے جس کا ذکر اللہ نے ان لفاظ میں کیا ہے۔" خبردار! ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے، جو وہ عمل کرتے ہیں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 930

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 931

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ» (1) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي» ، يُرِيدُ بِهِ: يَرِدُ عَلَيْهِ الْكَرْبُ مِنْ ضِيقِ الصَّدْرِ مِمَّا كَانَ يَتَفَكَّرُ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِ اشْتِغَالِهِ كَانَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ، أَوِ اهْتِمَامِهِ بِمَا لَمْ يَعْلَمْ مِنَ الْأَحْكَامِ قَبْلَ نُزُولِهَا، كَأَنَّهُ كَانَ يَعُدُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَدَمَ عِلْمِهِ بِمَكَّةَ بِمَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنَ الْأَحْكَامِ قَبْلَ إِنْزَالِ اللَّهِ إِيَّاهَا بِالْمَدِينَةِ ذَنْبًا، فَكَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ لِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، لَا أَنَّهُ كَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ مِنْ ذَنْبٍ يُذْنِبُهُ، كَأُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اغر مزنی ؓ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "بعض اوقات پیرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور میں روزانہ اللہ تعالیٰ سے ایک سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔ "( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے " اس سے آپ کی مراد یہ ہے ، سینے کی تنگی کے حوالے سے آپ پر تکلیف کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جب آپ کسی نیکی کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کر پاتے ۔ جو نیکی کا کام ہوتا ہے، اور آپ اس بارے میں غورو فکر کرتے تھے۔ یا جب آپ اس چیز کا اہتمام کرتے ، جن احکام کا آپ کو علم نہیں ہے ، اور ایسا ان کے نازل ہونے سے پہلے ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺ گویا سورۃالبقرۃ میں موجود احکام سے مکہ میں اپنی لا علمی کو ذنب شمار کرتے جو لا علمی مدینہ منورہ میں سورۃ نازل ہونے سے پہلے تھی ، تو اس وجہ سے آپ کے دل پر مخصوص کیفیت طاری ہوجاتی، یہان تک کہ آپ روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیی سے مغفرت طلب کرتے ۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے ، آپ سے کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ کے دل پر پردہ آجاتا۔ جس طرح کہ آپکی امت کے ساتھ ہوتا ہے۔

الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← أَبُو بُرْدَةَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 931

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 932

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بَشِيرِ (2) بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» (3) . [1: 104]

۹۳۲۔ حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: " سیدالستغفار یہ ہے بندہ یہ کہے: اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے ، میں تیرا بندہ ہوں تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ۔ تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں تیرے عہد اور تیرے وعدہ پر جہاں تک ہو سکا قائم رہوں گا اور میں نے جو کچھ کیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، تو نے میرے اوپر جو نعمت کی ہے میں اس کا اعتراف کرتا ہوں ، اورط اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں ، تو میری مغفرت کر دے ۔ بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔"

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 932

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 933

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، [وَأَنَا] عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِن قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ، قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» (1) [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ (2) ، وَسَمِعَهُ مِنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ. فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ

حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: " سیدالستغفار یہ ہے بندہ یہ کہے: " اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے میں تیرا بندہ ہوں ، مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں تیرے عہد پر قائم رہوں گا میں تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں ، اور اپنے گناہوں کا تیرے سامنے اعتراف کرتا ہوں ، تو میری مغفرت کر دے بے شک گناہوں کی مگفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔" ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ) اگر بندہ صبح ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ الفاظ پڑھے اور اس کا انتقال ہو جائے ، تو وہ جنتی ہو گا ، اور اگر وہ شام ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے ( اور پھر اس کا انتقال ہوجائے ، تو وہ جنتی ہو گا)۔ ( اما م ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )عبد اللہ بن بریدہ نے یہ روایت اپنے والد سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت بشیر بن کعب کے حوالے سے حضرت شداد بن اوس ؓ سے بھی سنی ہے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو،

Hadith 933

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ (3) وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّمِيمِيُّ هُوَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ هَاشِمِ (4) بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَلِكَ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَأْمُرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتَ أَمَرْتُ لَكَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَاتٍ هِيَ خَيْرٌ لَكَ؟» ، قَالَ: عَلِّمْنِيهُنَّ، وَمُرْ لِي بِوَسْقٍ، فَإِنِّي ذُو حَاجَةٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «قُلِ: اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُطِعْ فِيَّ عَدُوًّا حَاسِدًا (1) ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ» (2) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُوُفِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهَاشِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ

ہاشم بن عبد اللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب ؓ کو ایک مصیبت لاحق ہو گئی۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی اور آپ سے درخواست کی کہ آپ انہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیتا ہوں ، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں کچھ کلمات کی تعلیم دیتا ہوں ، جو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہونگے۔ تو حضرت عمر نے عرض کی : آپ مجھے ان کلمات کی تعلیم دیںاور مجھے ایک وسق دینے کا بھی حکم دیں ۔ مجھے اس کی شدید ضرورت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو: " اے اللہ ! جب میں بیٹھا ہوں تو اسلام کے حوالے سے میری مغفرت کر اور جب میں کھڑا ہوں تو اسلام کے حوالے سے میرے حفاظت کر اور جب میں سو رہا ہوں تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور میرے بارے میں کسی حسد کرنے والے دشمن کی بات نہ ماننا اور میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہےاور میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہون ، جو ساری کی ساری تیری دست قدرت میں ہے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )جب حضرت عمر بن عبد اللہ ؓ کا انتقال ہوا تو ہاشم بن عبد اللہ بن زبیر ۹ سال کے تھے ۔

هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْعَلَاءُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّمِيمِيُّ هُوَ الْحِمْصِيُّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Hadith 934

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 935

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا وَلَمْ يَشْرَبِ الْمَاءَ فِي الدُّنْيَا ثَمَانَ (3) عَشْرَةَ سَنَةً، وَيَتِّخَذُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَسْوًا فَيَحْسُوهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ (4) بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ (5) ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ، فَنَزَلْنَا مَرْجَ الصُّفَّرِ ، فَقَالَ ، ائْتُونِیْ بِالصُّفْرَۃِ نَعْبَثُ بِھَا ، فَکَانَ الْقَوْمُ یَحْفَظُونَھَا مِنْہُ ، فَقَالَ: یَا بَنِیْ اَخِی ، لَا تَحْفَظُوھَا عَنِّی ، وَلٰکِنِ احْفَظُوْا مِنِّیْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا اکْتَنَزَ النَّاسُ الدَّنَانیرَ وَالدَّرَاھِمَ ، فَاکْتِنِزُوا ھٰؤُلَاءِ الْکَلِمَاتَ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ ، وَالْعِزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ ، وَاَسْاَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ ، اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ ۔(104:1)

ابو عبیداللہ مسلم بیان کرتے ہیں: میں حضرت شداد بن اوس کے ساتھ روانہ ہوا ہم نے " مرج الصفر" کے مقام پر پڑاو کیا۔ انہوں نے فرمایا: ہمارا ازادراہ لے کر آو تاکہ ہم اسے استعمال کریں ۔ حاضرین ان سے اس چیز کو محفوظ کرنا چاہتے تھے ، تو انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے تم مجھ سے اس چیز کو محفوظ نہ کرو بلکہ مجھ سے اس چیز کو محفوظ کر لو ، جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے۔ ( نبی اکرم ﷺ نے درشاد فرمایا ہے: ) جس وقت لود دینار اور درہموں کا خزانہ بنا رہے ہوں ، تو تم ان کلمات کا خزانہ اکٹھا کرو۔ " اے اللہ ! میں دین میں ثابت قدمی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور ہدایت میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں ، اور تیری نعمت کے شکر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور تیری اچھی طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور میں ہر اس بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جسے تو جانتا ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے اس چیز کی مغفرت طلب کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ بے شک تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔"

خَرَجْتُ مَعَ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ فَنَزَلْنَا مَرْجَ الصُّفَّرِ ← أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،

Hadith 935

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 936

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ بِطَرَسُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ: «مَا كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُ؟» ، قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا تَسْتَطِيعُهُ (1) ، أَوْ لَا تُطِيقُهُ، قُلِ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (2) [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَا سَمِعَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا، وَالْأُخَرُ سَمِعَهَا مِنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ (1) .

حضرت انس ؓ نیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی عیادت کی ، جو بیماری کی وجہ سے سکڑ کر پرندہ کی مانند ہو گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم دعا مانگتے ہو، یا تم کیا مانگتے ہو ۔ اس نے عرض کی میں یہ کہتا ہوں: تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تم یہ کہو: " اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر۔ اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )حمید نامی راوی نے حضرت انس ؓ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں ۔باقی احادیث انہوں نے ثابے کے حوالے سے حضرت انس ؓ سے سنی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ

Hadith 936

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 937

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (2) [5: 12] قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَدْعُو بِهِ.

حضرت انس بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے : " اے اللہ ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔" شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں ؛ میں نے قتادہ کے سامنے اس روایت کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا: حضرت انس ؓ بھی یہ دعا مانگا کرتے تھے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 937

chevron_left Previous
1…7891011
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr