Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 902

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حِبَّانُ (1) بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ قُلُوبَ ابْنِ آدَمَ (2) مُلْقًى بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يَصْرِفُهُ (3) كَيْفَ يَشَاءُ» ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» (4) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن عمر بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؛ " بے شک اولاد آدم کے تمام قلوب رحمان کی دو انگلیون کے درمیان ایک قلب کی مانند ہیں ، وہ جسے چاہتا ہے، اسے پلت دیتا ہے"۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا مانگی: " اے اللہ! تو ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے "۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 902

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 903

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ، فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ» وَقَالَ: «لَا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ خَيْرًا حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں " جس بھی شخص کے پاس کوئی چیز صدقہ کرنے کے لیے نہ ہو وہ یہ دعا مانگے۔اے اللہ! تو حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں ، ان پر درود نازل کر اور مومن مردون اور مومن عورتوں اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر درود نازل کر ، تو یہ چیز زکوۃ ہو گی"۔نبی اکرم ﷺ یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " مومن کبھی بھی بھلائی کے حوالے سے سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہوتی ہے"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 903

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 904

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ» (1) . [1: 2]

حضرت انس بن مالک ب روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گااور اس کی دس خطاوں کو ختم کر دے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 904

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 905

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً، كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 905

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 906

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ (2) إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا» (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 906

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 907

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: «آمِينَ آمِينَ آمِينَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حِينَ صَعِدْتَ الْمِنْبَرَ قُلْتَ: آمِينَ آمِينَ آمِينَ، قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا، فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ» (1) . [1: 2]

۹۰۷۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے آپ نے فرمایا: آمین، آمین، آمین۔عرض کی گئی یا رسول اللہ ! جب آپ منبر پر چڑھے تو آپ نے آمین ، آٓمین، آمین کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو ، وہ جہنم میں چلا جائے، تو اللہ تعالیٰ ( اسے اپنی رحمت سے ) دور کرے ، آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔ جب کوئی اپنے ماں باپ کو پائے یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور مرنے کے بعد جہنم میں جائےتو اللہ تعالیٰ ( اسے اپنی رحمت سے دور کرے ) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا ۔(پھر جبرائیل نے کہا) جس شخص کے سامنےآپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے مرنے کے بعد جہنم میں چلا جائےتو اللہ تعالیٰ ( اسے اپنی رحمت سے دور کرے ) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 907

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 908

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ شَهْرُ رَمَضَانَ، ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایاہے: " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پائے اور وہ دونوں اس کو جنت میں داخل نہ کریں ۔ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جس کے سامنے رمضان کا مہینہ آجائے اور پھر اس شخص کی مغفرت ہونے سے پہلے وہ مہینہ گزر جائے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 908

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 909

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِسَنْجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْبَخِيلَ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا أَشْبَهُ شَيْءٍ رُوِيَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَكَانَ الْحُسَيْنُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَيْثُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ إِلَّا شَهْرًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ وُلِدَ لِلَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ، وَابْنُ سِتِّ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ إِذَا كَانَتْ لُغَتُهُ الْعَرَبِيَّةَ يَحْفَظُ الشَّيْءَ بَعْدَ الشَّيْءِ

حضرت امام زین العابدین ؓ اپنے والد ( حضرت امام حسین ؓ ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بے شک بخیل وہ ہے جس کے سامنے کہ میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔"

أَبُو حَاتِمٍ هَذَا أَشْبَهُ شَيْءٍ رُوِيَ ← "إِنَّ الْبَخِيلَ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ". ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← عبد الله بن علي بن حسين ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِسَنْجَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 909

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 910

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَا بِرٍ ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ ، عَنْ اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فِیْہِ خَلَقَ اللہُ اٰدَمَ ، وَفِیْہِ قُبِضَ ، وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ ، وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ ، فَاَکْثِرُوا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ ، فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوضَۃٌ عَلَیَّ ، قَالَوُا: وَکِیْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ اَرَمْتَ ؟ ، فَقَالَ: اِنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَا حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَامَنَا ۔(2:1)

حضرت اوس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا ، جمعے کا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ اسی دن ان کا انتقال ہوا۔ اسی دن پہلی مرتبہ پھونک ماری جائے گی، جب اسی دن قیامت آئے گی، تو تم اس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جائےگا۔ انہوں نے عرض کی : ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا ، جبکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہونگے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " بے شک اللہ تعالیٰ نے امین کے لئے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ وہ ہمارے ( یعنی انبیاء) کے جسم کو کھائے۔"

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَا بِرٍ ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 910

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 911

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِيَامَةِ يَكُونُ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ، إِذْ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ أَكْثَرَ صَلَاةٍ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ (1) .

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: " قیامت کے دن میرے سبسے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا ، جو (دنیامیں ) مجھ پر زیادہ درود بھیجتا تھا ۔ "(امام امن حبان رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے ، قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کے سب سے قریب علم حدیث کے ماہرین ہون گے کیونکہ اس امت میں سے کوئی اور گروہ ان حضرات کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ پر زیادہ درود نہیں بھیجتا ہو گا ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 911

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 912

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ لِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، قَالَ: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ؛ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (2) . [1: 12]

عبد لرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ۔نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم نے عرض کی یا رسول اللہ !ہمیں یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو ۔اے اللہ! تم حضرت محمد ﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر درود نازل کر جس طرح، تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک، تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ!تو حضرت محمد ﷺ اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح ، تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی تھی، بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔"

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 912

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 913

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ» (1) . [1: 12]

حضرت ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیی اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 913

chevron_left Previous
1…567…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr