Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 876

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ الْعُصْفُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» (3) . [3: 67]

حضرت سلمان فارسی نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تمہارا پروردگار زندہ اور معزز ہے اور وہ اپنے بندے سے حیا ءکرتا ہے ، جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند کرے تو وہ انہیں خالی نہیں لوٹاتا۔"

النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ الْعُصْفُرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 876

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 877

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» (1) [5: 12]

حضرت عمیر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم ﷺ کو " اجارزیت " کے قریب دیکھا جو " زوراء"کے قریب ہے۔ بارش کے نزول کی دعا مانگتے ہوئے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تھے اور بارش کے نزول کی دعا مانگ رہے تھے۔ آپ نے اپنی دونون ہتھیلیاں بلند کو ہوئی تھیں ، لیکن آپ نے انہیں سر سے اونچا نہیں اٹھا یا تھا ۔ آپ نے ہتھیلی کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا ۔

«كَانَ النَّبِيُّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Hadith 877

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 880

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ» (2) . [1: 2]

حضرت سلمان فارسی نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے حیا ءکرتا ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں اٹھائے اور وہ انہیں نامرادچ واپس کر دے ۔"

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 880

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 881

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟، قَالَ: « [يَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ دَعَوتُ و] قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي، فَيَنْحَسِرُ (1) عِنْدَ ذَلِكَ، فَيَتْرُكُ الدُّعَاءَ» (2) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حضرت سلمان فارسی نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تمہارا پروردگار زندہ اور معزز ہے اور وہ اپنے بندے سے حیا ءکرتا ہے ، جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند کرے تو وہ انہیں خالی نہیں لوٹاتا۔" بندے کی دعا مسلسل قبول ہوتی رہتی ہے ، جب تک کہ وہ کسی گنا ہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہیں کرتا وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتا ۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ !جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے کیا مراد ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی میری دعا قبول نہیں ہوئی ، تو ایسی صورت میں وہ بد دل ہو کر دعا مانگنا ترک کر دے حضرت سلمان فارسی نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تمہارا پروردگار زندہ اور معزز ہے اور وہ اپنے بندے سے حیا ءکرتا ہے ، جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند کرے تو وہ انہیں خالی نہیں لوٹاتا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 881

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 882

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ (1) ، أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا يَدَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ كَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ للسّبْحَهِ» (2) (3) [5: 12]

حضرت عمارہ بن رویبہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو قبیح کر دے میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس سے زیادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

بِيَدِهِ كَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ للسّبْحَهِ» ← «قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ ← عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا يَدَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 882

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 883

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا» وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ مِنْ يَدِهِ الْيُمْنَى يُقَوِّسُهَا (1) . [5: 12]

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی منبر یا منبر کے علاوہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا ۔ میں نے آپ کو صرف اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ ابو سعید نامی راوی نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا اور اسے تھوڑا سا خمیدہ کیا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عبد الرحمن بن معاوية ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 883

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 884

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ جَمِيعًا فَنَهَاهُ وَقَالَ بِإِحْدَاهُمَا، بِالْيُمْنَى (2) . [2: 24] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ أَنَّ الْإِشَارَةَ بِالْأُصْبُعَيْنِ لِيَكُونَ إِلَى الِاثْنَيْنِ، وَالْقَوْمُ عَهْدُهُمْ كَانَ قَرِيبًا بِعِبَادَةِ الْأَصْنَامِ وَالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ، فَمِنْ أَجْلِهِمَا أَمَرَ بِالْإِشَارَةِ بِأُصْبُعٍ وَاحِدٍ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ؛ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دو انگلیوں کے ذریعے دعا مانگتے دیکھا اور ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کرنے کے لیے کہا جو دائین ہاتھ کی ہوتی ہے ۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) اس میں بات کی طرف اشارہ پوشیدہ ہے ، دو انگلیوں کے ذریعے دو چیزوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے ، اور وہ لوگ کیونکہ بتوں کی عبادت اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے قریب تھے۔ اس لیے انہیں ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کا حکم دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 884

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 885

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلْأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَأَعِنِّي عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلْأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، ثُمَّ اقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : " جب کوئی شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے ، تو یہ دعا مانگے۔"اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوںاور میں تیری قدرت کے مطابق تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں میں تیرے عظیم فضل کی دعا کرتا ہوں ۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ معاملہ ایسے " ایسے" ہے۔ یہاں آدمی اس کام کا نام لے جو وہ کرنا چاہتا ہے ، اگر یہ میرے لیے میرے دین میری زندگی اور اخرت کے اعتبار سے بہتر ہے ، تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے اور میری مدد کر اور اگر یہ معاملہ، یہاں آدمی کام کا نام لے، میری زندگی اور میرے دین ، میرے حق میں برا ہے ، تو مجھے اس سے پھیر دے اور مجھے بھلائی کی قدرت عطا کر، وہ جہاں کہیں بھی ہو ، تیری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 885

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 886

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ طِلْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُفَضَّلِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي، فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كَانَ، وَرَضِّنِي بِقَدَرِكَ» (1) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْمُفَضَّلِ اسْمُهُ: شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مُسْتَقِيمُ الْأَمْرِ فِي الْحَدِيثِ

حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے یہ پڑھنا چاہیے: "اے اللہ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے مطابق تجھ سے مدد مانگتا ہوں تیرے عظیم فضل کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ بت شک، تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا ، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ!اگر یہ معاملہ میرے دین کے حق میں میرے لیے بہتر ہے۔ زندگی کے حق میں میرے لیے بہتر ہے۔ آخرت کے حق میں میرے لیے بہتر ہے ، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے ، میرے لیے اس میں برکت پیدا کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور معاملہ میرے لیے بہتر ہے ، تو بہتر والے معاملے کو میرے لیے مقدر کر دے وہ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اپنے فیصلے سے راضی کر دے۔" امام ابو حاتم بیان کرتے ہیں : ابو مفضل بیان کرتے ہیں : مفضل نامی راوی کا نام شبل بن علا بن حاکم ہےاور یہ حدیث میں مستقیم الامر ہے ۔( امام ابن حبان رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ) ابو المفضل کا نام شبل بن العلا بن عبد الرحمٰن ہے، اور یہ حدیث میں مستقیم الامر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبُو الْمُفَضَّلِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← حَمْزَةُ بْنُ طِلْبَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 886

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 887

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: «إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي, فقدره لي ويسره لي وبارك فيه وإن كان شرا لي في ديني ومعادي ومعاشي وعاقبة أمري فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَقَدِّرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِیْ بِہٖ ۔(104:1)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں استخارہ کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ فرماتے تھے۔ " جب بھی کوئی شخص کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے ، تو پہلے دو رکعات نفل ادا کرے پھر یہ دعا مانگے۔" اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے صلاحیتطلب کرتا ہوں تیرے عظیم فضل کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا ، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے یہاں وہ اس کام کا نام لےمیرے دین میری زندگی میرحق میں آخرت کے حوالے سے بہتر ہے۔ تو اسے میرے لیے مقدر کر دے۔ اسے میرے لیے آسان کر دے اس میں برکت رکھ دے اور اگر یہ میرے دین میری آخرت میری زندگی اور میری عاقبت کے حوالے سے میرے حق میں برا ہے ، تو پھر اسے مجھ سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی کو مقدر کر دے خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی کر دے۔ "

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 887

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 888

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَمِّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا نُحِبُّ وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ» (1) . [5: 12]

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے۔" اے اللہ! تو اسے ہم پر امن و امان ، سلامتی اور اسلام کے ہمراہ طلوع کر دے اور اس چیز کے ہمراہ جسے تو پسند کرتا ہو، جس سے تو راضی ہو (اے چاند ) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 888

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 889

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيُكْثِرْ، فَإِنَّهُ يَسْأَلُ رَبَّهُ» (1) . [1: 2]

سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: " جب کوئی شخص کچھ مانگے ، تو کثرت سے مانگے کیوں کہ وہ اپنے پروردگار سے سوال کر رہا ہے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 889

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr