Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 997

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً، وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرَى، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ» , ثُمَّ قَرَأَ: {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (2) الْآيَةَ [البقرة: 268] . [1: 95]

حضرت عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: " بے شک شیطان کا ایک اثر ہوتا ہے اور فرشتے کا یہ اثر ہوتا ہے، شیطان کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ برائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتے کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ بھلائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، تو جو شخص اس صوعتحال کو پائے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص دوسری صورت حال کو پائے، تو وہ شیطان سے پناہ مانگے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: " شیطان تمہارے ساتھ غربت کا وعدہ کرتا ہے۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 997

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 998

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ ، یَقُولُ: کَانَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْھُدیٰ وَالسَّدَادَ ، وَاِذْکُرْ بِالْھُدیٰ ھِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ ، وَاذْکُرْ بِالتَّسْدِیدِ تَسْدِیدَ السَّھْمِ ، وَنَھَانِیْ نَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّیِّ ، وَالْمِیثَرَۃِ ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِی السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطَی۔(12:5)

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: " اے اللہ!میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا رہنا مانگتا ہوں۔" ( نبی اکرم ﷺ کے الفاظ ہیں، یا شاید حضرت علی فرماتے ہیں : ) " تم ہدایت کے ہمراہ راستے کی ہدایت کو ذہن میں رکھو اور سیدھے رہنے کے ہمراہ تیر کے سیدھے رہنے کو ذہن میں رکھو۔" حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قسی اور میثرہ استعمال کرنے اور شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا۔

الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی ← الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ ← بِالتَّسْدِیدِ تَسْدِیدَ السَّھْمِ وَنَھَانِیْ نَبِیُّ اللہِ ← بِالْھُدیٰ ھِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ وَا ← اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْھُدیٰ وَالسَّدَادَ وَاِ ← كَانَ النَّبِيُّ ← عَلِيًّا، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 998

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 866

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ» (1) .

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر شخص کو اپنے پروردگار سے تمام حاجتیں طلب کرنی چاہئیں یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے، ( تو وہ بھی پروردگار سے مانگنا چاہیے)۔ "

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Hadith 866

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 867

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ (1) ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ (2) . [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو نَوْفَلٍ: اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ (3) مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بییان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کو جامع دعائیں پسند تھیں ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) ابو نوفل نامی راوی کا نام معاویہ بن مسلم بن ابو عقرب ہے، اور یہ بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعجبهُ الْجَوَامِع من الدُّعَاء. ← عَائِشَةَ ← أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 867

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: «مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟» ، فَقَالَ: أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ. أَنَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ» (1) . [3: 15]

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ ( یعنی کیا دعا مانگتے ہو) اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں پھر میں یہ دعا مانگتا ہوں ۔" اے اللہ!میں تجھ سے جنت مانگتاہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتاہوں " ( اس شخص نے عرض کی ) اللہ کی قسم ! میں آپ کی طرح اور حضرت معاذ کی طرح جامع دعا نہیں مانگتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم بھی اس کے آس پاس والی مانگتے ہیں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 868

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 869

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، مَا لَا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حمادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا» (1) . [1: 104]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ وہ یہ دعا مانگیں : " اے اللہ ! میں تجھ سے ساری بھلائی کی دعا کرتا ہوں ، خواہ وہ جلدی ملے یا دیر سے ملے، مجھے اس کا علم ہو یا مجھے ا س کا علم نہ ہو اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے ہو، خواہ مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو۔اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے مانگی ہےاور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھ سے جنت اور جنت کے قریب کر دینے والے قول اور میں جہنم اور جہنم سے قریب کر دینے والے قول سے پناہ مانگتا ہوں ، اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں ، تو نے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ بہتر کر دے۔"

عَائِشَةَ ← أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، مَا لَا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ،

Hadith 869

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 870

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَخِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز اور کوئی چیز نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَخِي الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 870

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 871

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زُهَيْرٍ الْجُرْجَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (2) عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَعْجِزُوا فِي الدُّعَاءِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَهْلِكَ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ» (1) [1: 2]

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دعا کے بارے میں سستی نہ کرو کیونکہ کوئی بھی شخص دعا کے ہمراہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوتا "۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زُهَيْرٍ الْجُرْجَانِيُّ،

Hadith 871

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 872

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ (2) ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ، وَلَا يُرَدُّ الْقَدْرُ إِلَّا بِالدُّعَاءِ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ» (3) . [3: 42] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لَمْ يُرِدْ بِهِ عُمُومَهُ، وَذَاكَ أَنَّ الذَّنْبَ لَا يَحْرِمُ الرِّزْقَ الَّذِي رُزِقَ الْعَبْدُ، بَلْ يُكَدِّرِ عَلَيْهِ صَفَاءَهُ إِذَا فَكَرَّ فِي تَعْقِيبِ الْحَالَةِ فِيهِ. وَدَوَامُ الْمَرْءِ عَلَى الدُّعَاءِ يُطَيِّبُ لَهُ وُرُودَ الْقَضَاءِ، فَكَأَنَّهُ رَدَّهُ لِقِلَّةِ حِسِّهِ بِأَلَمِهِ، وَالْبِرُّ يُطَيِّبُ الْعَيْشَ حَتَّى كَأَنَّهُ يُزَادُ فِي عُمْرِهِ بِطِيبِ عَيْشِهِ، وَقِلَّةِ تَعَذُّرِ ذَلِكَ فِي الْأَحْوَالِ

حضرت ثوبان ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " ( بعض اوقات) کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے اور تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے اور عمر میں اضافہ صرف نیکی کرتی ہے۔" (امام ابن حبان فرماتے ہیں ) اس حدیث میں مذکور نبی اکرم ﷺ کے فرمان سے مراد اس کا قوم نہیں ہے۔ یونی آدمی کے نصیب میں جو رزق لکھا گیا ہے گناہ اس سے محروم نہیں کرتا بلکہ اس کی پاکیزگی کو گدلا کر دیتا ہے ۔ جب وہ اس کے بارے میں حالت کی بعد کو حورتحال پر غور وفکر کرتا ہے ، اور آدمی کا ہمیشہ دعا کرتے رہنا ۔ اس کے لیے تقدیر کے فیصلے کو قابل قبول بنا دیتا ہے ۔ گویا وہ اس کی تکلیف کو کم محسوس کرتے ہوئے اس کو پرے کر دیتا ہے ، اور نیکی آدمی کی زندگی کو پاکیزہ کر دیتی ہے ، یہاں تک کہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کی زندگی کی آرام کی وجہ سے اس کی عمر میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اور عام طور پر یہ چیزیں بہت کم پائی جاتی ہیں ۔

ثَوْبَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 872

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 873

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ [ص:155] كَانَ قَبْلَكُمْ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ، قَالَ لِلْمَلِكِ: إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمُهُ السِّحْرَ، فَبَعَثَ لَهُ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ وَأَعْجَبَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْ عِنْدِ السَّاحِرِ قَعَدَ إِلَى الرَّاهِبِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ، فَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، فَقَالَ لَهُ: إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ: حَبَسَنِي أَهْلِي، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ فَقُلْ: حَبَسَنِي السَّاحِرُ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسْتِ النَّاسَ، فَقَالَ: الْيَوْمَ أَعْلَمُ: الرَّاهِبُ أَفْضَلُ أَمِ السَّاحِرُ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا، وَمَضَى النَّاسُ، فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: أَيْ بُنَيَّ، أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ، فَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُدَاوِي سَائِرَ الْأَدْوَاءِ، فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ، كَانَ قَدْ عَمِيَ، فَأَتَى الْغُلَامَ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي، قَالَ: إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ، إِنْ آمَنْتَ [ص:156] بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ، فَأَتَى الْمَلِكَ يَمْشِي يَجْلِسُ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، فَقَالَ الْمَلِكُ: فُلَانُ ‍‍ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ؟، قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي؟، قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ وَاحِدٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ، فَجِيءَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: أَيْ بُنَيَّ، قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ؟، قَالَ: إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ، فَأَخَذَهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ، فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشُقَّ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ، فَقِيلَ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبِي، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَسَقَطُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟، قَالَ كَفَانِيهِمُ اللَّهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ، فَوَسِّطُوا بِهِ [ص:157] الْبَحْرَ، فَلَجِّجُوا بِهِ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟، قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللَّهُ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ: وَإِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِكَ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ ارْمِنِي، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ صَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ، ثُمَّ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ رَمَاهُ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، ثَلَاثًا، فَأُتِيَ الْمَلِكُ، فَقِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ، وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا الْغُلَامُ: يَا أُمَّهِ اصْبِرِي، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ». [3: 6]

حضرت صہیب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کا یک جادوگر تھا۔ جب وہ عمر رسیدہ ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں تم میرے پاس کسی لڑکے کو بھیجو تاکہ میں اسے جادو کی تعلیم دوں ، تو بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکے کو بھیجا تاکہ وہ اسے تعلیم دینا شروع کرےابھی وہ لڑکا ایک راستے سے جارہا تھا کہ وہاں سے ایک راہب کا گزر ہواوہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگااس کو اس کی باتیں اچھی لگیں جب وہ جادو گر کے پاس آیا، تو جادو گر نے اسے مارا جب وہ جادو گر کے پاس سے واپس آیا، تو راہب کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا، جب وہ اپنے گھر آیا تو اس کے گھر والوں نے اسے مارا اس نے اس بات کی شکایت راہب سے کی، تو راہب نے کہا: جب تمہیں جودو گر سے اندیشہ ہو تو تم کہنا مجھے گھر والوں نے نہیں آنے دیا تھا اور جب تمہیں گھر والوں سے اندیشہ ہو تو تم کہنا مجھے جادو گر نے روک لیا تھا۔ اسی طرح ہوتا رہا اوسی دوران اس لڑکے کا گزر ایک بڑے جانور کے پاس سے ہوا جس نے لوگون کو گزرنے سے روکا ہواتھا۔ اس لڑکے نے سوچا آج یہ بات میں جان لوں گا کہ راہب فضیلت رکھتا ہے یا جادوگر؟ اس نے ایک پتھر لیا اور پھر کہا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادو گر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے تاکہ لوگ وہاں سے گزر جائیں ، پھر اس نے وہ پتھرجانور کو مار کر قتل کر دیا ، تو لوگ وہاں سے گزر گئے ۔ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا، تو راہب نے اسے کہا: اے میرے بیٹے آج تم مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہو عنقریب تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائےگااور اگر تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو تم میری طرف کسی کی رہنمائی نہ کرنا پھر وہ لڑکا پیدائشی نابینا لوگوں اور برص کے شکار لوگون کو ٹھیک کرنے لگا ۔ وہ تمام بیماریون کی دوا دینے لگا ( یعنی انہیں ٹھیک کرنے لگا )بادشاہ کے ایک مصاھب کو اس کے بارے میں پتہ چلا جو نابینا ہو چکا تھا ۔ وہ بہت سے تحائف کے ساتھ اس کے پاس آیا اور بولا، اگر تم نے مجھے سفا دے دی تو یہ سب کچھ تمہیں مل جائے گا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ تعالی ٰدیتا ہے ، اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا ، وہ تمہیں شفا دے گا۔ تو وہ شخص اللہ تعالیی پر ایمنا لے آیا ۔ اللہ تعالیی نے اسے شفا دے دی پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے ہاں پہلے کی طرح آیا۔بادشاہ نے اس سے دریافت کیا : فلاں شخص تمہاری بینائی کیسے واپس آئی، اس نے جواب دیا: میرے پروردگار نے واپس کی ہے۔ بادشاہ نے دریافت کیا : کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے ۔ اس نے کہا : میرا اور تمہارا پروردگار ایک ہے، اس کے بعد بادشاہ اس شخص کو تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں رہنمائی کر دیپھر اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس سے کہا: اب تمہارا جادو اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ تم برص کے شکار اور پیدائشی نابینا اور فلاں فلاں کو ٹھیک کر دیتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو ٹھیک نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے ۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو پکڑا وہ اسے مسلسل تکلیف پہنچاتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے راہب کی طرف رہنمائی کر دی۔ اس راہب کو لایا گیا، اس سے یہ کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاواس راہن نے اس بات کو نہیں مانا ، تو پھر ایک " آرا" لایا گیا وہ " آرا" اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اور اسے چیر دیا گیا، یہاں تک کہ اس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا پھر بادشاہ کے مصاھب کو لایا گیا ۔ اسے کہا گیا تم اپنے دین سے پھر جاو، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو وہی آرا اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اسے بھی چیر کر دو حصوں میں توسیم کر دیا گیاپھر اس لڑکے کو لایا گیا اسے کہا گیا تم اپنے دین سے پھر جاو اس لڑکے نے بھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ باد شاہ نے اس لڑکے کو ساتھیون کے سپرد کیا اور کہا اسے لے کر فلاں فلاں پہاڑ کی طرف جاواسے لے کر پہاڑ پر چڑھ جاو جب تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاو اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے ، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے نیچے پھینک دینا ۔ وہ لوگ اسے ساتھ لے گئے اسے ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اس لڑکے نے دعا کہ اے اللہ ، تو ان لوگون کے حوالے سے جیسے چاہے میرے لیے کافی ہوجا، تو پہاڑ کانپنے لگا اور وہ لوگ نیچے گر گئے۔ وہ لرکا چلتا ہوا پھر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا ؟ تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا ۔ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنے دوسرے ساتھیون کے سپرد کیا اور حکم دیا کہ اسے ساتھ لے کر جاواسے کشتی میں بٹاو اور اس کو لے جاکر سمندر کے درمیان میں لے جاون وہاں اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے ، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے دریا میں ڈال دینااور وہ اسے ساتھ لے کر گئے تو لرکے نے کہا: اے اللہ! تو ان لوگوں کے معاملے میں جیسے چاہے میرے لیے کفایت کر لے ، تو ان لوگون کی کشتی الٹ گئی ( باقی سب لوگ ڈوب گئے) وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا : تمہارے ساتھیون کا کیا بنا ۔ اس نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گیا ، تو اس نے بادشاہ سے کہا تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک تم وہ کام نہ کرو جس کی میں تمہیں ہدایت کروں گا ۔ بادشاہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ، اس نے کہا : تم لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو پھر مجھے کھجور کے درخت پر صلیب پر لٹکاوپھر اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالو، لو پھر اس تیر کو کمان میں لگاواور پھر یہ کہو اس لڑکے کے پروردگار اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصؒ کرتے ہوئے ( میں یہ تیر چلاتا ہوں ) پھر وہ تیر مجھے مار دینا جب تم ایسا کرو گے تو تم مجھے قتل کر دو گے۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اس لڑکے کو کھجور کے درخت پر لٹکایاپھر اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان میں رکھا اور یہ کہا اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ( میں تیر چلانے لگا ہوں ) پھر باد شاہ نے اسے تیر مارا اور وہ تیر اس کی کنپٹی پر لگا ۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کی جگہ رکھا اور انتقال کر گیا۔ لوگون نے کہا : ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آتے ہیں ۔ ہم ایمان لے آتے ہیں ۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ ( مصاحبین ) نے بادشاہ کو آکر بتایا کہ تم نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ تم جس چیز سے بچنا چاہ رہے تھے وہی صورت حال سامنے آگئی ہے ۔ وہ ایمان لے آئے ہیں ، تو بادشاہ کے حکم کے تحت مختلف جگہ پر گڑھے کھودے گئے ۔ ان میں آگ جلائی گئی بادشاہ نے ھکم دیا جو شخص اپنے دین سے رجوع نہیں کرے گا تم لوگ اسے جلا دو، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا ، وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی تو لڑکے نے کہا ، امی جان آپ صبر سے کام لیجیے۔ آپ حق پر ہیں ۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 873

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ (1) الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ» (2) . [1: 87]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " مظلوم کی بد دعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے اور ( اس کے لیے ) آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ تھوڑی دیر بعد کروں ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ، أَنَّهُ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Hadith 874

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 875

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ». [1: 87] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ» أَمْرٌ بِاتِّقَاءِ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، مُرَادُهُ الزَّجْرَ عَمَّا تَوَلَّدَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ مِنْهُ، وَهُوَ الظُّلْمُ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِالْأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " مظلوم کی بد دعا سے بچو ۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : مظلوم کی بد دعا سے بچو" یہاں آپ نے مظلوم کی بد دعا سے بچنے کا حکم دیا ہے ، لیکن اس سے مراد اس چیز سے رکنا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دعا سامنے آتی ہے ، اور وہ چیز ظلم ہے۔ یہاں نبی اکرم ﷺ نے ایک چیز سے رکنے کے حکم کے ذریعے اس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے ، جس کے نتیجے میں وہ چیز سامنے آئی ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 875

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr