Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 985

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ، قَالَ: «لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا» ، ثُمَّ وَلَّى الْأَعْرَابِيُّ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَّجَ لِيَبُولَ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فِي الْإِسْلَامِ: فَقَامَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُؤَنِّبْنِي، وَلَمْ يَسُبَّنِي، وَقَالَ: «إِنَّمَا بُنِيَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ، وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ» (2) . [2: 62]

حضرت ابو ہریرہ باین کرتے ہیں : ایک دیہاتی مسجد میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت تشریف فرماتھے وہ بولا؛ اے اللہ! تو میری اور حضرت محمد ﷺ کی مغفرت کر دے اور تو ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا؛ تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر وہ دیہاتی مڑ کر واپس چلا گیا وہ مسجد کے کانرے پر پہنچا تو پیشاب کرنے کے ارادے سے رکا ، وہ دیہاتی مسلمان ہو جانے کے بعدیہ بات بیان کرتا ہے، نبی اکرم ﷺ اٹھ کر میرے پاس آئے، آپ نے مجھے ڈانٹا نہیں ، آپ نے صرف یہ فرمایا: یہ مسجد صرف اللہ کا ذکر اور نماز ادا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس میں پیشاب نہیں کرنا چاہئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے پانی کا ڈول منگوایا اور بہا دیا۔

فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ← اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، ← دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ جَالِسٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ،

Hadith 985

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 986

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو (1) ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ» (2) . [2: 86]

۹۸۶۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و ب باین کرتے ہیں ؟: ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! تو صرف اور حضرت محمد ﷺ کی مغفرت کرنا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے ( اس مغفرت) کو بہت سے لوگون سے محجوب کر دیا ہے۔ ( یعنی اس کو ان تک نہیں پہنچنے دیا ہے )

نَاسٍ كَثِيرٍ» ← اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «لَقَدْ حَجَبْتَهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو أَنَّ رَجُلًا، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 986

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 987

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ (1) بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا؛ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا» يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ (2) . [2: 46]

حضرت ابو ہریرہ ؓ باین کرتے ہیں کہ نبی اکوم ﷺ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ ہم بھی کھرے ہو گئے۔ ایک دیہاتی نے نماز کے دوران کہا: اے اللہ! تو مجھ پر رحم کر اور حضرت محمد ﷺ پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی تو آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: " تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔" (راوی کہتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ کی مراد اللہ کی رحمت تھی۔

قَامَ النَّبِيُّ لِلصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، ← أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 987

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَإِنَّهُ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى، لَوْ صَبَرَ مَعَ صَاحِبِهِ، لَرَأَى الْعَجَبَ الْأَعَاجِيبَ، وَلَكِنَّهُ، قَالَ: {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي} (1) [الكهف: 76]

حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ اپنے سے پہلے جن بھی انبیا کا ذکر کرتے تھے ، تو پہلے آپ اپنا ذکر کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا: " اللہ تعالیٰ ہم پر اور حضرت موسیٰ پر رحمت کرے اور اگر وہ اپنے ساتھی ( یعنی حضرت خضر علیہ السلام ) کے ساتھ صبر سے کام لیتے ، تو وہ خود بھی حیران کن چیزیں دیکھتے لیکن انہوں نے یہ کہا: " اگر میں نے آپ سے اس کے بعد سوال کیا ، تو آپ میرے ساتھ نہ رہے گا ۔"

أَحَدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَإِنَّهُ، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← غَسَّانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 988

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 989

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا، قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ، وَلَكَ بِمِثْلٍ» (2) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كُلُّ مَا يَجِيءُ فِي الرِّوَايَاتِ فَهُوَ: «كُرَيْزٌ» (1) , إِلَّا هَذَا فَإِنَّهُ: «كَرِيزٌ» وَأُمُّ الدَّرْدَاءِ اسْمُهَا: هُجَيْمَةُ بِنْتُ حُيَيٍّ الْأَوْصَابِيَّةُ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ: عُوَيْمِرُ بْنُ عَامِرٍ.

حضرت ابو دردا ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : " جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے، تو فرشتہ یہ کہتا ہے، تمہین بھی اس کی مانند ملے، تمہیں بھی اس کی مانند ملے۔" (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) تمام تر روایات میں راوی کے دادا کا نام کریز ہے ( یعنی "ک" پر پیش ااور "ر" پر زبر ہے )جبکہ یہاں اس کا نام کریز ہے ( یعنی "ک" پر زبر اور "ر" پر زیر ) نقل ہوا ہے، جبکہ سیدہ دردا ؓ کا نام ہجیمہ بنت حیی ہے، جبکہ حجرت ابو درداؓ کا نام عویمر بن عامر ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، ← أَبِي ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 989

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 990

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ (2) ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ (3) السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَخَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی اُمِّ سُلَیْمِ فَاَتَتْہُ بَتَمْرِ وَّسَمْنٍ ، فَقَالَ: اَعِیْدُوْا سَمْنُکُمْ فِیْ سِقَائِہِ ، وَتَمْرَکُمْ فِیْ وِعَائِہِ ، فَاِنِّیْ صَائِمٌ فَصَلّٰی صَلَاۃً غَیْرَ مَکْتُوبَۃٍ ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَدَعَا لِاُمِّ سُلَیْمٍ وَّاَھْلِ بَیْتِھَا ، فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ لِیْ خُوَیْصَۃً ، قَالَ: مَاھِیَ یَا اُمَّ سُلَیْمٍ ، قَالَتْ: خَادِمُکَ اَنَسٌ ، فَدَعَا لِیْ بِخَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَقَالَ: اَللّٰھُمَّ ارزُقْہُ مَالًا وَّوَلَدًا ، وَبَارکْ لَہٗ ، قَالَ: فَاِنِّیْ مِنْ اَکْثَرِ النَّاسِ وَلَدًا ۔(12:5) قَالَ: وَاَخْبَرَتْنِیْ ابْنَتِیْ اُمَیْنَۃُ اَنَّھَا دَفَنَتْ مِنْ صُلْبِیْ اِلٰی مَقہْدِمِ الْحَجَّاجِ لْبَصْرَۃَ بِضْعًا وَّعِشْرَیْنَ وَمَئَۃً۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلیم ؓ کے ہاں تشریف لے گئے وہ آپ کی خدمت میں کھجور اور گھی لے کر آئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھی کو واپس اسی برتن میں ڈال دواور اپنی کھجوروں کو واپس اسی برتن میں ڈال دو، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے نفل نماز ادا کی ۔ آپ کی اقتدا میں ہم نے بھی نماز ادا کی پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلیم ؓ اور ان کے گھر کے افراد کو بلایا، تو سیدہ ام سلیم ظ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری ایک درخواست ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ام سلیم : وہ کیا ؟ انہوں نے عرض کی : آٓپ کا خادم انس ( آپ اس کے لئے دعا کر دیں ) حضرت انس ؓ باین کرتے ہیں) تو نبی اکرم ﷺ نے میرے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کی۔ (آپ نے دعا کی : ) " اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لئے ان میں برکت رکھ دے۔" حضرت انس ؓ باین کرتے ہیں : میں لوگوں میں اولاد کے اعتبار سے ان میں کثرت والاہوں ۔ حضرت انس ؓ باین کرتے ہین : میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے، ھجاج کے بصرہ کا گورنر بننے تک میری اولاد اور ( اولاد کی اولاد ) میں سے ایک سو بیس لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا ۔

دَخَلَ رَسُوْلُ اللہِ عَلٰی اُمِّ سُلَیْمِ فَاَتَتْہُ بَتَمْرِ وَّسَمْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ

Hadith 990

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 991

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، [حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ] (1) ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَحْطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ، قَالَ: «إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ» , ثُمَّ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ (2) يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا، فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» (1) .

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ۔ نبی اکرم ﷺ نے منبر کے بارے میں حکم دیا ۔ اسے عید گاہ میں رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ لوگ اس دن نکلیں ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب سورج کی ٹکیہ ظاہر ہوئی تو نبی اکرم ﷺ باہر نکلے اور منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے اللہ تعالیی کی حمدو ثنا بیان کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: " تم لوگون نے اپنے باغات خشک ہو جانے اور طویل عرصہ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے تم اس سے دعا مانگو اس نے تم سے یہ وعدہ کای ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔" پھر آپ نے فرمایا: تما حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ قیامت کے دن کا مالک ہے: اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ؛ اے اللہ ! تو ہی اللہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہین ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم غریب ہیں ، تو ہم پر بارشیں نازل کر اور ہم پر جو چیز تو نازل کرے گا اسے مخصوص مدت کے لئے قوت اور بلاغ بنا دے۔" پھر نبی اکرم ﷺ نے دونون ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھ لی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی پشت لوگون کی طرف کر لی اور آپ نے اپنی چادر کو الٹا لیا۔ آپ نے اس وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے پھر آپ لوگون کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے اتر آئے پھر آپ نے دو رکعات نماز ادا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیاوہ گرجا بجلی چمکی اور اککی تعالیٰ کے حکم سے بارش ہونا شروع ہو گئی۔ نبی اکرم ﷺ ابھی مسجد ( یعنی عید گاہ) ہی میں تھے کہ نالایں بہنے لگیں ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ملاحظہ کی کہ لوگوں نے اپنے اوپر کپڑے کر لئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے۔ یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: " میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← طاهر بن خالد بن نزار الأيلي ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 991

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 992

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَأَنَّ رَجَاءَهُ الْمِنْبَرُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ [ص:273] السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ لِيُغِيثُنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا»، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً وَلَا قَزَعَةً بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ تُرْسٍ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا، ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَابِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا ثُمَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكُفَّهَا عَنَّا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»، قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟، قَالَ: لَا أَدْرِي. [5: 12]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں منبر کے سامنے والے دروازے سے داخل ہوا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت خطبہ دے رہے تھے وہ شخص آپ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! مویشی ہلاکت کا شکار ہورہے ہیں ، راستے منقطع ہورہے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر بارش نازل کرے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور دعا مانگی۔ " اے اللہ ! ہم پر بارش نازل کر۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر ۔" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : خدا کی قسم ! ہمین اس وقت آسمان میں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نظر نہیں آرہا تھا جو ہمارے اور سلع پہاڑن کے درمیان ہو۔ کسی گھر اور مھلے کے اوپر بادل نہین تھا اسی دوران اس ( پہاڑ ) کے پیچھے سے ڈھال کی طرح کا بادل نمودار ہوا وہ اسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیلنے لگا اور پھر بارش شروع ہو گئی پھر اللہ کی قسم ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا ۔ اگلے جمعہ والے دن اس دروازے سے ایک شخص اندر آیا اس وقت نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے وہ آپ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اس نے عرض کی ؛ یا رسول اللہ !مال مویشی ہلاکت کا شکار ہورہے ہیں ، راستہ منقطع ہو رہے ہیں آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے بارش کو روک لے۔ تو نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ بلند کئے اور دعا مانگی: " اے اللہ ! ہامرے آس پاس بارش ہو ، ہم پر نہ ہو ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، کھلے میدانوں پر بارش ہو ہم پر نہ ہو ۔" راوی بیان کرتے ہیں تو بادل چھٹ گیا اور نبی اکرم ﷺ دھوپ میں چلتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا : کیا یہ پہلے والا شخص تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے معلوم نہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 992

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 993

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيًّا» (1) . [5: 12]

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا مانگتے: "اے اللہ! یہ موسلادھار ہو اور نفع دینے والی ہو ۔"

«اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيًّا» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 993

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُنَيْسٍ الْغَزِّيُّ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا أَوْ سَيِّبًا نَافِعًا» (1) . [5: 12]

مقدام بن شریح اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم جب بادل دیکھتے تو یہ دعا مانگتے تھے۔ " اے اللہ! یہ موسلادھار ہو، اور فائدہ دینے والی ہو۔"

«اللَّهُمَّ صَيِّبًا أَوْ سَيِّبًا نَافِعًا» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُنَيْسٍ الْغَزِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 994

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 995

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا، وَأَنْ تُمْطَرُوا، وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا» (1) . [3: 53]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " خشک سالی یہ نہیں ہے، تم پر بارش نہ ہو خشک سالی یہ ہے: تم پر بارش ہو پھر بارش ہو لیکن زمین پر کوئی سبزہ پیدا نہ ہو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 995

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 996

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُنَا مَا لَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَا كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ (2) : «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهْرَ مِنْهَا وَمَا بَطْنَ، اللَّهُمَّ احْفَظْنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَأَزْوَاجِنَا، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ بِهَا، فَأَتْمِمْهَا عَلَيْنَا» (1) . [1: 104]

حضرت عبداللہ ؓ بیاب کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمیں نماز کے دوران تشہد پڑھنے کے کلمات اسی طرح سکھایا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھایا کرتے تھے۔ آپ ہمیں جس طرح تشہد کے کلمات سکھایا کرتے تھے اسی طرح آپ ہمیں یہ کلمات کہنا بھی سکھاتےب تھے ۔ " اے اللہ!تو ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے اور ہمارے درمیان اصلاح کر دے اور سلامتی کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر اور تاریکیوں سے ہمیں نجات دے کر ہمیں نور کی طرف لے جا اور ہمیں ظاہری اور باطنہ فحاشیوں سے دور کر دے۔ اے اللہ! ہماری سماعت ، ہماری بصارت اور ہماری بیویوں کی حفاظت کر اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا بنا دے اور ان پر اہنی تعریف کرنے والا بنا دے اور انہیں قبول کرنے والا بنا دے اور ان کو ہم پر مکمل کر دے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← شَرِيکٍ ← عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Hadith 996

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr