صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 311
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أكون عبدا شكورا" 1. [5: 47]
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور اتنا طویل قیام کرتے تھے : آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کرتےہیں ؟جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب ) کی مغفرت ہو چکی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرما یا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
قَامَ النَّبِيُّ حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Hadith 311
