Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 367

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ يَحْمَدُهُ النَّاسُ قَالَ "ذَلِكَ بُشْرَى المؤمن" 1. [1: 2]

حضرت ابو ذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ‘ جو کوئی نیکی کا عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ مومن کو ملنے وای خوشخبری ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 367

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 368

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ قال حدثنا المقرىء عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ عَنْ أبي الهيثمذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يُثْنِي عَلَى مَنْ يُحِبُّهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِأَضْعَافِ عَمَلِهِ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ [368] أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ قال حدثنا المقرىء عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ اِنَّ اللہَ اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا اَثْنَی عَلَیْہِ بِسَبْعَۃِ اَضْعَافٍ مِّنَ الْخَیْرِ لَمْ یَعْمَلْھَا وَاِذَا سَخِطَ عَلٰی عَبْدٍ اَثْنَی عَلَیْہِ بِسَبْعَۃِ اَضْعَافٍ مِّنَ الشَرِّ لَمْ یَعْمَلْھَا ۔(2:1)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تو ایسی سات ہزار بھلائیوں کے ہمراہ اس کی تعریف کرتا ہے ‘ جس کا اس بندے نے ارتکاب بھی نہیں کیا اور جب وہ کسی بندے پر ناراض ہوتا ہے ‘ توایسی سات ہزار برائیوں کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے ‘ جس کا اس شخص نے ارتکاب نہیں کیا ‘‘۔

أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أَبَا السَّمْحٍ، ← سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← أَبُو نشيط مُحَمَّد بن هَارُون ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Hadith 368

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 369

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} 1 [السجدة: 17] . [3: 78]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز تیار رکھی ہے ‘ جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے۔ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں ہے۔ کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا ۔ ( حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں ‘ یا شاید نبی اکرمﷺ نے یہ فرمای :) اس کا مصداق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ( یہ آیات ہے ) ’’ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ‘ جو ان کے کئے ہوئے عمل کا بدلہ ہے ‘‘۔

اللهُ -تَبَاركَ وَتَعَالى- أعدَدتُ لِعَبَادِى الصَّالِحِينَ مَا لَا عَينٌ رَأتْ، وَلَا أُذُن ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 369

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 1، 2] قالذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا وَعَدَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْمُؤْمِنِينَ فِي الْعُقْبَى مِنَ الثَّوَابِ عَلَى أَعْمَالِهِمْ فِي الدُّنْيَا [370] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 1، 2] قال

حضرت انس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کر دی ہے ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے ‘‘۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نبی اکرمﷺ پر حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی تھی : نبی اکرمﷺ کے اصحاب کو پریشانی اور غم کا سامنا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے ‘جو میرے نزدیک دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ آیت ان لوگوں کے سامنے تلاوت کی ‘ تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے یہ بات ‘ تو بیان کر دی ہے کہ اس نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے ‘لیکن اس نے ہمارے ساتھ کیا کرنا ہے۔ (یہ بیان نہیں کیا ) تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی یہ آیت نازل کر دی۔ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘‘۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 370

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 371

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي جديذكر الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ تَفَرَّدَ بِهِ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ [371] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سعيد بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي جدي عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ قَوْلِہٖ:( اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُبِینًا) اَنَّھَا نَزَلَتْ عَلٰی نَبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرْجَعَہٗ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَاَصْحَابُہٗ قَدْ خَالَبَھُمْ الْحُزْنُ وَالْکَآبَۃُ قَدْ حِیْلَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَسْالَتِھِمْ وَنَحَرُوا الْبُدْنَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَیَّ اٰیَۃٌ ھِیَ اَحَتُّ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیْعًا فَقَرَاَھَا عَلَیْھِمْ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ھَنِیئًا مَرِیئًا لَکَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ بَیَّنَ اللہُ لَکَ مَاذَا یَفْعَلُ بِکَ فَمَاذَا یَفْعَلُ بِنَا فَاَنْزَلَ اللہُ (لِیُدْخِلَ الْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتِ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ) إلی اٰخر الآیۃ (64:3)

حضرت انس ؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں نقل کرتےہیں ۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی ‘‘۔ ’’ یہ آیت نبی اکرمﷺ پر حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ آپ کے اصحاب کو غم اور تکلیف کا سامنا تھا‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تھے اور اہوں نے حدیبیہ میں ہی اپنے قربانی کے جانور قربان کر دئیے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی جو میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ پوری آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی ‘ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے لئے مبارک باد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کر دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا‘ لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘‘۔

جَدِّي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ

Hadith 371

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 372

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ2 بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الله بن عمرو مَنْ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ عَادَ مَرِیضًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ غَدَا اِلٰی مَسْجِدٍ اَوْرَاحَ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ دَخَلَ عَلٰی اِمَامٍ یُعَزِّزُہُ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ جَلَسَ فِیْ لَمْ یَغْتَبْ اِنْسَانًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ‘ تو وہ اللہ کے ذمے ہوتا ہے او ر جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے ‘ تو وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص حاکم اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی انسان کی غیبت نہیں کرتا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتاہے ۔ (یعنی اس کی امان میں ہوتا ہے ) ‘‘۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 372

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 373

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ "يُؤْمِنُ بِاللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا قَالَ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ قُلْتُ وَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لَا شَيْءَ لَهُ قَالَ يَقُولُ مَعْرُوفًا بلسانه قال قلت وإن كَانَ عَيِيًّا لَا يُبْلِغُ عَنْهُ لِسَانُهُ قَالَ فَيُعِينُ مَغْلُوبًا قُلْتُ فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا قُدْرَةَ لَهُ قَالَ فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ قُلْتُ وَإِنْ كان أخرق قال فالتفت إلي وقال مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ تَيْسِيرٍ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا يُرِيدُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا أَخَذَتْ بيده يوم القيامة حتى تدخله الجنة"

۔ ابو کثیر یحمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :میں نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے سوال کیا میں نے کہا : آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے کہ بندہ جب اسے کر لے ‘ تو وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے بتایا میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے۔ حضرت ابو ذر ؓ کہرے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایمان کے ہمراہ کوی عمل بھی ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے تھوڑا سا ( اللہ کی راہ میں بھی ) دے ‘ میں نے عرض کیا اگر وہ کوئی ایسا شخص ہو ‘ جس کے پاس کوئی بھی چیز نہ ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اپنی زبان کے ذریعے نیکی کی بات کہے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا معذور ہو کہ اپنی زبان کے ذریعے کچھ نہ پہنچا سکتا ہو ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ مغلوب شخص کی مدد کرے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا کمزور ہو کہ وہ اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر وہ بھی کسی معذور کے لئے کوی کام کرے میں نے عرض کی : اگر وہ خود معذور ہو نبی اکرمﷺ نے میری طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا : اگر تم اس شخص کے بارے میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے تو پھر وہ شخص لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! کیا یہ کلمات آسانی فراہم کرنے کے لئے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ُ جوکوئی بندہ ان میں سے جو بھی کام کرے گا اور وہ اس کےذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب کا ارادہ کرے گا تو یہ عمل قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: ابو کثیر یحمی کا نام یزید بن عبد الرحمٰن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ‘‘ثقہ ‘‘ راویوں میں سے ایک ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 374

اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ مُوْسٰی عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِیْ عَمَلًا یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ قَالَ لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ فَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاُلَۃَ أَعْتِقِ النَّسْمَۃَ الرَّقَبَۃَ قَالَ أَوْلَیْسَتَا بِوَاحِدَۃٍ قَالَ لَا عِتْقُ النَّسَمِۃِ اَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِھَا وَفَکُّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعْطِی فِیْ ثَمَنِھَا وَالْمِنْحَۃُ الْوَکْوفُ وَالْفَیْءُ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ الْقَاطِعِ فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذَاکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہُ عَنِ الْمُنْکَرِ فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلَّا مِنْ خَیْرِ۔(2:1)

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں : بیاک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر د ے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے مختصر الفاظ استعمال کئے ہیں اور بڑی بات دریافت کی ہے ‘ تم جان ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرو اور گردن کو چھڑاؤں اس نے دریافت کیا : یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : نہیں جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم صرف اسے آزاد کرو اور گردن کو چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کرو ( اور دوسرے شخص کے غلام کو آزاد کر دو ) ایسا عطیہ دینا جو مسلسل جاری ہو اور رشتے داری کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے رشتے دار پر خرچ کرنا اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تو تم بھوکے کو کھانا کھلا دو اور پیاسے کو کچھ پلا دو نیکی کا حکم دو برائی سے منع کردو اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے ‘ تو تم بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روک کے رکھو۔

جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عُبَیْدُ اللہِ مُوْسٰی ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Hadith 374

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 375

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ سَرَّهُ قَالَ " له أجران أجر السر وأجر العلانية" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کوئی عمل کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے ‘ لیکن جب اس کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے ‘ تو کیا یہ بات اسے اچھی لگتی چاہئے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے ۔ ایک پوشیدہ رکھنے کا اجر اور ایک ظاہر ہونے کا اجر۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) روایت کے یہ الفاظ : ’’ بے شک ایک شخص ایک عمل کرتا ہے ‘ اور وہ اسے پسندآتا ہے ‘ اور وہ جب اس پر مطلع ہوا جائے ‘ تو یہ چیز اسے اچھی لگتی ہے ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے : آدمی اس بات پہ خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس عمل کی توفیق دی ہے ‘ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے ‘ تو جب اس طرح کی صورتحال ہو ‘ تو اسے دو طرح کا اجر ملے گا ‘ اور جب آدمی کو ہ بات اس لئے اچھی لگے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں گے یا اس کے طرف مائل ہو ں گے ‘ یہ ریا کی ایک قسم ہے ایسے شخص کو دگنا اجر نہیں ملے گا بککہ اسے ایک اجر بھی نہیں نہیں ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 375

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 376

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وإذا أتاني مشيا أتيته هرولة وإن هرولة سعيت إليه والله أوسع بالمغفرة" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میر ے قریب ہوتا ہے ‘ تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ذراع میرے قریب ہوتا ہے ‘ تو میں نے ایک باع اس کے قریب ہوتا ہوں او ر جب وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے ‘ تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دوڑتا ہوا آتا ہے ‘ تو میں زیادہ تیزی سے چل کر اس کی طرف جاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ وسیع مغفرت کرنے والا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 376

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 377

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ فَأَمَّا الكافر فيطعم بحسناته في الدنيا فإذاذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا قَدْ يُجَازِي الْمُؤْمِنَ عَلَى حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا كَمَا يُجَازِي عَلَى سَيِّئَاتِهِ فِيهَا [377] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ فَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا اَفْضٰی اِلَی الْاٰخِرَۃِ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَۃٌ یعطی بھا خیرا ۔(66:3)

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن پر نیکی کے حوالے سے ظلم نہیں کرتا وہ دنیا میں اسے رزق عطا کرتا ہے اور آخرت میں اس نیکی کا بدلہ عطا کرے گا جہاں تک کافر کا تعلق ہے ‘ تو وہ دنیا میں اپی نیکیوں کا پھل کھا لیتا ہے اور جب وہ آخرت کی طرف جائے گا ‘ تو اس کے پاس کئی نیکی نہیں ہو گی ‘ جس کے عوض میں اسے کوئی بھلائی دی جائے ‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 378

أخبرنا بن قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ سِتِّينَ عَامًا فَأَمْطَرَتِ الْأَرْضُ فَاخْضَرَّتْ فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ فقَالَ لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ لَازْدَدْتُ خَيْرًا فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الْأَرْضِ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ حَتَّى غَشِيَهَا ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ فَجَاءَهُ سَائِلٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ أَوِ الرَّغِيفَ ثُمَّ مات فوزنت عبادة ستين سنة بتلك الزينة فرجحت الزنية بحسناته ثم وضع الرغيفذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَةَ الْوَاحِدَةَ قَدْ يُرْجَى بِهَا لِلْمَرْءِ مَحْوُ جِنَايَاتٍ سَلَفَتْ مِنْهُ [378] أخبرنا بن قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ سِتِّينَ عَامًا فَأَمْطَرَتِ الْأَرْضُ فَاخْضَرَّتْ فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ فقَالَ لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ لَازْدَدْتُ خَيْرًا فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الْأَرْضِ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ حَتَّى غَشِيَهَا ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ فَجَاءَهُ سَائِلٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ أَوِ الرَّغِيفَ ثُمَّ مات فوزنت عبادة ستين سنة بتلك الزينة فَرَجَحَتِ الزَّنْيَةُ بِحَسَنَاتِهِ ثُمَّ وُضِعَ الرَّغِيفُ اَفْضٰی اِلَی الْاٰخِرَۃِ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَۃٌ یعطی بھا خیرا ۔(66:3)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنےوالے ایک عباد گزار شخص عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نےاپنی عبادت گاہ میں ساٹھ برس تک عبادت کی ایک مرتبہ بارش ہوی اور زمین سر سبزو شاداب ہو گئی۔ اس راہب نے اپنی عبادت گاہ سے باہر جھانک کر دیکھا ‘ تو اس نے سوچا اگر میں نیچے جا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ‘ تو میں زیادہ بھلائی حاصل کر لوں گا۔ پھر وہ وہاں سے نیچے اتر آیا اس کے ساتھ یا شاید دو روٹیاں تھیں۔ ابھی وہ زمین میں پہنچا تھا کہ ایک عورت سے اس کی ملاقات ہوئی۔ وہ راہب اس عورت سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ عورت اس شخص کے ساتھ بات چیت کرنے لگی ‘ یہاں تک کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ زنا کر لیا پھر اس پر مدہوشی طاری ہوئی ‘ تو وہ غسل کرنے کے لئے کنویں میں اتر گیا۔ اسی دوران ایک مانگنے والا اس کے پاس آیا ‘ تو اس نےاپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ان دو روٹیوں ‘ یا ایک روٹی کو لے لو‘ پھر وہ راہب رفوت ہو گیا‘ تو اس کی ساٹھ سال کی عبادت کا وزن اس ایک مرتبہ زنا کرنے کے ساتھ کیا گیا‘ تو وہ زنا کرنا اس کی نیکیوں سے زیادہ وزنی تھا پھر وہ ایک یا دو روٹیاں اس کی نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں ‘ تو اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اس شخص کی مغفرت ہو گئی‘‘۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں : یہ روایت غالب بن وزیر نامی راوی نے وکیع نامی راوی سے بیت المقدس میں سنی تھی۔ انہوں نے یہ روایت عراق میں بیان نہیں کی یہ ان روایات میں سے ایک ہے جنہیں اہل فلسطین ‘ وکیع کے حوالے سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ ← بن قتيبة

Hadith 378

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr