Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 355

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ1 خَلِيلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فِي سَفَرٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ فقَالَ " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ" قَالُوا صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ "ليس من البر الصِّیَامُ فِی السَّفَرِ فَعَلَیْکُمْ بِرُخْصَۃِ اللہِ الِّتِیْ رخص لکم فاقبلوھا ۔(68:3)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے سفر کے دوران ایک شخص کو دیکھا جو ایک درخت کے سائے میں موجود تھا ‘ اور اس پر پانی چھڑکا رہا تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے تم لوگوں پر لازم کہ اللہ تعالیٰ کی وہ رخصت قبول کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔

صَائِمٌ» ← مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ" ← رَأَى رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا فِي سَفَرٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 355

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 356

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ "مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يكون رمضان"1. [5: 29]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کبھی کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے تھے ۔ آپﷺ نے صرف رمضان میں ( پورا مہینہ ) روزے رکھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 356

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 357

أَخْبَرَنَا أبو يعلى الموصلي حدثنا أبو الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ حدثنا عيسى بن جاريةذكر الْأَمْرِ بِالْقَصْدِ فِي الطَّاعَاتِ دُونَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى النَّفْسِ مَا لَا تُطِيقُ [357] أَخْبَرَنَا أَبُو يعلى الموصلي حدثنا أبو الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرِ قَالَ مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رَجُلِ قَائِمِ یُصَلِّی عَلٰی صَخْرَۃٍ فَاَتَی نَاحِیَۃَ مَکَّۃَ فَمَکَتْ مَلِیًّا ثُمَّ اَقْبَلَ فَوَجَدَ الرَّجُلَ عَلٰی حَالِہٖ یُصَلِّی فَجَمَعَ یََیْہِ ثُمَّ قَالَ اَیُّھَا لنَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ فَاِنَّ اللہَ لَا یَمَلُّ حتی نملوا ۔(63:1)

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو ایک چٹان پر کھڑا نماز ادا کر رہا تھا پھر نبی اکرمﷺ مکہ کے ایک کنارے ( کسی کام کے سلسلے میں ) تشریف لائے وہاں آپ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ جب آپ واپس تشریف لائے ‘ آپ نے اس شخص کو اسی حالت میں نماز ادا کرتےہوئے دیکھا ‘ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور یہ ارشاد فرمایا : ’’اے لوگوں ! تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے اور تم لوگ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہو‘‘۔

عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، ← أبو الزَّهْرَانِيُّ ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 357

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 358

سَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ الْحُبَابِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بن مسلم يقول سمعت محمدا يقول سمعت أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يضحكون "فقال لو تعلمون ما أعلم لضحكتمذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ لُزُومِ التَّسْدِيدِ فِي أَسْبَابِهِ مَعَ الِاسْتِبْشَارِ بِمَا يَأْتِي مِنْهَا [358] سَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ الْحُبَابِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُونَ "فقال لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ ط

حضرت ابو رہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کا گزر اپنے اصحاب کے کچھ افراد کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم جان لو‘ تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ تو حضرت جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ ارشاد فرمایا ہے: آپ میرے بندوں کو کیوں مایوس کر رہے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے پاس واپس تشریف لے گئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم ٹھیک رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدًا ← عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ بَکْرِ بْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 358

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 359

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ "أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يسأم الله حتى تسأموا" 2.

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ ‘ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ حولاء بنت تویت سیّدہ عائشہ ؓ کے پاس سے گزری ‘ اس وقت نبی اکرمﷺ سیّدہ عائشہ کے پاس موجود تھے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : ایہ حولاء بنت تویت ہے ‘ یہ رات بھر سوتی نہیں ہیں بلکہ نفل پڑھتی رہتی ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ رات بھر سوتی نہیں ہیں؟ تم لوگ اتنا عمل کیا کرو جس کی تم میں طاقت ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھک نہیں جاتے ہو۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’اللہ تعالی تھکتا نہیں ہے ‘ یہاں تک کہ تم تھک جاتےہو‘‘۔ یہ لوگوں کے محاورے کے الفاظ ہیں ‘ جو مخاطب تک مفہوم منتقل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں ‘ اور وہ مفہوم انہی الفاظ کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 359

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 360

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في مَقْعَدِي هَذَا تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَغْتَرُّوا" 1. [3:23]

حمران بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کو مقاعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا پھر یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرمﷺ کو اسی جگہ پر دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ جو شخص میرے اس وضو کی مانند وضو کرے گا اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی‘‘۔ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’تم لوگ غلط فہمی کا شکار نہ ہو جانا ‘‘۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ في مَقْعَدِي هَذَا تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ ← رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ ← حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 360

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ وَابْنُ قُتَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بن يحيى بن يحيى بن الْغَسَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحْدَهُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً وَإِنَّ تَحِيَّتَهُ رَكْعَتَانِ فَقُمْ فَارْكَعْهُمَا قَالَ فَقُمْتُ فَرَكَعْتُهُمَا ثُمَّ عُدْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِالصَّلَاةِ فَمَا الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرُ مَوْضُوعٍ اسْتَكْثِرْ أَوِ اسْتَقِلَّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ المؤمين أَسْلَمُ قَالَ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ ويده قال الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ الله فما الصيام قال فرض مجزیء وَعِنْدَ اللہِ اَضْعَافٌ کَثِْٰرَۃٌ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلْ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَاُھْرِیْقَ دَمُہُ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ قَالَ جَھْدُ الْمُقِلِّ یُسَرُّ اِلٰی فَقِیرِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَیُّ مَا اَنْزَلَ اللہُ عَلَیْکَ اَعْظَمُ قَالَ اٰیَۃُ الْکُرْسِیِّ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرِّ مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ مَعَ الْکُرْسِیِّ اِلَّا کَحَلْقَۃٍ مُلْقَاۃٍ بِاَرْضِ فَلَاۃٍ وَفَضْلُ الْعَرْشَ عَلَی الْکُرْسِیِّ کَفَضْلِ عَلَی الْحَلْقَۃِ قَالَ قُلقتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللہِ کَمِ الْاَنْبِیَاءُ قَالَ إِائَۃُ اَلْفٍ وعِشْرُوْنَ اَلْفًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمِ الرُّسْلُ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَثَلَاثَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیرًا قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ اَوَّلُھُمْ قَالَ اٰدَمُ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَبِیُّ مُرْسَلٌ قَالَ نَعَمْ خَلَقَہُ اللہُ بِیَدِہٖ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُوحِہِ وَکَلَّمَہُ قِبَلًا قَالَ یَا اَبَا ذَرِّ اَرْبَعَۃٌ سُرْیَانِیُّونَ اٰدَمُ وَشِیثُ وَاَخْنُوخُ وَھُوَ اِدْرِیْسُ وَھُوَ اَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ وَنُوحٌ وَاَرْبَعَۃٌ مِنَ الْعَرَبِ ھُوْدٌ وَشُعِیْبٌ وَصَالِحٌ وَنَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ کِتَابًا اَنْزَلَہُ اللہُ قَالَ مِائَہُ کِتَابٍ وَاَرْبَعَۃُ کُتُبِ اُنْزِلَ عَلٰی شِیثٍ خَمْسُوْنَ صَحِیفَۃً وَاُنْزِلَ عَلٰی اَخْنُوخَ ثَلَاثُونَ صَحِیفَۃً وَاُنْزِلَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ عَشَرُ صَحَائِفَ وَاُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی قَبْلَ التَّوْرَاۃِ عَشَرُ صَحَائِفَ وَاُنْزِلَ التَّوْرَاۃُ ولإنجیل والزبور والقرآن قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا کَانَتْ صَحِیفَۃُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ کَانَتْ اَمْثَالًا کلُّھَا اَیُّھَا الْمَلِکُ الْمُسَلَّطُ الْمُبْتَلَی الْمَغْرُورُ اِنِّیْ لَمْ اَبْعَثقکَ لِتَجْمَعَ الدُّنْیَا بَعْضَھَا عَلٰی بَعْضِ وَلٰکِنِّیْ بَعَثْتُکَ لِتَرُدَّ عَنِّیْ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنِّیْ لَا اَرُدَّھَا وَلَوْ کَانَتْ مِنْ کَافِرِ وَعَلَی الْعَاقِلِ مَا لَمْ یَکُنْ مَّغْلُوبًا عَلٰی عَقْلِہٖ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ سَاعَاتٌ یُنَاجِی فِیْھَا رَبَّہُ وَسَاعَۃٌ یُحَاسِبُ فِیْھَا نَفْسَہٗ وَسَاعَۃٌ یَتَفَکَّرُ فِیْھَا فِیْ صُنْعِ اللہِ وَسَاعَۃٌ یَخْلُو فِیْھَا لِحَاجَتِہٖ مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَعَلَی الْعَاقِلِ اَنْ لَایَکُوْنَ ظَاعِنًا اِلَّا لِثَلَاثٍ تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ اَوْ مَرَمَّۃٍ مَعَاشٍ اَوْ لَذَّۃٍ فِیْ غِیْرِ مُحَمَّمٍ وَعَلَی الْعَاقِلِ اَنْ یَّکُوْنَ بَصِیرًا بِزَمَانِہِ مُقْبِلًا عَلٰی شَاْنِہٖ حَافِظًا لِلِسَانِہٖ وَمَنْ حَسَبَ کَلَامَہُ مِنْ عَمَلِہٖ قَلَّ کَلَامُہُ اِلَّا فِیمَا یَعْنِیْہِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا کَانَتْ صُحُفْ مُوْسٰی قَالَ کَانَتْ عِبَرًا کُلُّھَا عَجِبْتُ لِمَنْ اَیْقَنَ بِالْمَوْتِ ثُمَّ ھُوَ یَفْرَجُ وَعَجِبْتُ لِمَنْ اَیْقَنَ بِالنَّارِ ثُمَّ ھُوَ یَضْحَکُ وَعَجِبْتُ لِمَنْ بِالْقَدَرِ ثُمَّ ھُوَ یَنْصَبُ عَجِبْتُ لِمَنْ رَاَی الدُّنْیَا وَتَقَلُّبَھَا بِاَھْلِھَا ثُمَّ اطْمَاَنَّ اِلَیْھَا وَعَجِبْتُ لِمَنْ اَیْقَنَ بِالْحِسَابِ غَدًا ثُمَّ لَا یَعمَلُ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْصِنِیْ قَالَ اُوصِیکَ بِتَقْوَی اللہِ فَاِنَّہٗ رَاْسُ الْاَمْرِ کُلِّہِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِدْنِیْ قَالَ عَلَیْکَ بِتِلَاوَۃِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِ اللہِ فَاِنَّہٗ نُورٌ لَکَ فِی الْاَرْضِ وَذُخْرٌ لک فی السماء قلت : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذِدْنِیْ قَالَ اِیََاکَ وَکَثْرَۃَ الضَّحِکِ فَاِنَّہٗ یُمِیتُ وَیَذْھَبُ بِنُورِ الْوَجْہِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذِدْنِیْ قَالَ عَلَیْکَ بِالصَّمْتِ اِلَّا مِنْ خَیْرِ فَاِنَّہٗ مَطْرَدَۃٌ لِلشَّیْطَانِ عَنْکَ وَعَوْنٌ لَکَ عَلٰی اَمْرِ دِیْنِکَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذِدْنِیْ قَالَ عَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہٗ رَھْبَانِیَّۃُ اُمَّتِیْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِدْنِیْ قَالَ اَحِبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَجَالِسْھُمْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِدْنِیْ قَالَ انْظُرْ اِلٰی مَنْ تَحْتَکَ وَلَا تَنْظُرْ اِلَی مَنْ فَوْقَکَ فَاِنَّہٗ اَجْدَرُ اَنْ لَا تُزْدَری نِعْمۃُ اللہِ عِنْدَکَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِدْنِیْ قَالَ قُلِ الْحَقَّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِدْنِیْ قَالَ لِیَرُدَّکَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْرِفُ مِنْ نَفْسِکَ وَلَا تَجِدْ عَلَیْھِمْ فِیمَا تَاْتِیْ وَکَفٰی بِکَ عَیْبًا اَنْ تَعْرِفَ مِنَ النَّاسِ مَا تَجْھَلُ مِنْ نَفْسِکَ اَوْتَجِدَ عَلَیْھِمْ فِیمَا تَاْتِیْ ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی صَدْرِیْ فقَالَ یَا اَبَا ذَرِّ لَا عَقْل کالتَّدْبِیرِ وَلَا وَرَعَ کَالْکَفِّ وَلَا حَسَبَ کَحُسْنِ الْخُلُقِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ابو إدریس الخولانی ھٰذا ھو عائد اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ وُلِدَ عَامَ حُنَیْنِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ بِالشَّامِ سَنَۃَ ثَمَانِیْنَ وَیَحْیَی بْنُ یَحْیَی الْغَسّائِیُّ مِنْ کِنْدَۃَ مِنْ اَھْلِ دِمَشْقَ مِنْ فُقَھَاءِ اَھْلِ الشَّامِ وَقُرَّائِھِمْ سَمِعَ اَبَا إدریس الخولانی وھو بن خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَمَوْلِدُہُ یَوْمَ رَاھِطَ فِیْ اَیَّامِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ یَزِیْدَ سَنَۃَ اَرْبَعِ وَسِتِّینَ وَوَلَّاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَضَاءَ الْمَوْصِلِ سَمِعَ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیِّبِ وَاَھْلَ الْحِجَازِ فَلَمْ یَزَلْ عَلَی الْقَضَاءِ بِھَا حَتّٰی وَلِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْخِلَافَۃَ فَاَقَرَّہُ عَلَی الْحُکْمِ فَلَمْ یَزَلْ عَلَیْھَا اَیَّامَہُ وَعُمِّرَ حَتّٰی مَاتَ بدمشق سنۃ ثلاث وثلاثین ومنۃ۔(2:1)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ‘ تو وہاں نبی اکرمﷺ تنہا تشریف فرما تھے آپ نےا رشاد فرمایا : اے ابوذر ! مسجد کے لئے ایک نفلی (نماز ) ہوتی ہے اور اس کی نفلی (نماز ) دو رکعات ہے۔ تم اٹھ کر انہیں ادا کر لو حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے ان دو رکعات کو ادا کر لیا پھر میں میں واپس آ کر نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا نماز کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ ایک بھلائی رکھ دی گئی ہے ۔ (اب تمہاری مرضی ہے ) کہ تم زیادہ حاصل کرتے ہو یا کم حاصل کرتے ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل ایمان میں نے سے ایمان کے اعتبار سے سب سے ز یادہ کامل کون شخص ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل ایمان میں سے سب سے زیادہ سلامتی والا کون شخص ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو شخص گناہوں سے لاتعلق ہو جائے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزہ کیا چیز ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ ایک فرض ہے ‘ جو کافی ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کا اجروثواب ) کئی گنا ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جس میں ( گھوڑے کے ) پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس پیسے کم ہوں اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ غریب ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو کچھ بھی نازل کیا ہے۔ اس میں سے عظیم چیز کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: آیت الکرسی ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کی ) کرسی کے مقابلے میں سات آسمان اس طرح ہیں ‘جیسے کسی بے آب و گیاہ جگہ کے اوپر ایک چھلہ ( انگھوٹھی ) ہو اور عرش کو کرسی پر وہی فضیلت حاصل ہے۔ جس طرح اس آب و گیاہ جگہ کو اس چھلے ( انکوٹھی ) پر فضیلت حاصل ہے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! انبیاء کتنے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ایک لاکھ بیس ہزار میں نے عرض کی : اس میں سے رسول کتنے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تین سو تیرہ کا گروہ ہے ۔ میں نے عرض کی : ان میں سب سے پہلے کون سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : حضرت آدمی ؑ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ رسول نبی ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونکا اور سامنے آکر ان کے کلام کیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! چار حضرات سریانی ہیں۔ حضرت آدمی حضرت شیث ‘ حضرت اخنوخ یہ حضرت ادریس اور یہ وہ پہلے شخص ہیں : جنہوں نے قلم کے ذریعے لکھا تھا۔‘ اورحضرت نوح چار حضرات کا تعلق عرب سے ہے۔ حضرت ہود ‘حضرت شعیب ‘ حضرت صالح اور تمہارے نبی حضرت محمد ﷺ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ایک سو چار کتابیں حضرت شیث پر پچاس صحیفے نازل ہوئے ۔ حضرت اخنوخ پر تیس صحیفے نازل ہوئے۔ حضرت ابراہیم پر دس صحیفے نازل ہوئے۔ حضرت موسیٰ پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل ہوئے پھر تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور قرآن نازل ہوئے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابراہیم کا صحیفہ کیا تھا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ سارے کا سارا مثالوں والا تھا‘ لیکن اس میں یہ تحریر تھا۔ ‘‘ اے بادشاہ ! جسے اقتدار عطا کیا گیا ہے اور آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے اور غلط فہمی کا شکار کیا گیا میں نے تمہیں اس لئے نہیں بھیجا تاکہ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں دنیا جمع کرو‘ میں نے تمہیں اس لئے بھیجا ہے ‘ تاکہ تم مظلوم کی بد دعا کو مجھ تک نہ آنے دو ‘ کیونکہ میں مظلوم کی دعا کو مسترد نہیں کرتا ۔ خواہ وہ کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو اور عقل مند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ جب تک اس کی عقل مغلوب نہیں ہوتی وہ اپنے وقت کو مختلف حصوں میں تقسیم کرے کچھ وقت میں وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کرتا رہے۔ کچھ وقت میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے ۔ کچھ وقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور وفکر کرتا رہے اور کچھ وقت وہ اپنے کھانے پینے کی تیاری کے لئے مخصوص رکھے۔ عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کی تیاری رکھے۔ اپنے انجام ( یعنی آخرت ) کے لئے ذادراہ کی ‘ اپنی زندگی گزارنے کے لئے ضروریات زندگی کی ‘ یا پھر ایسی لذت کی جو حرام نہ ہو اور عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہوا اپنے حال کی طرف متوجہ رہے۔اپنی زبان کی حفاظت کرے اور جو شخص اپنے عمل کے مقابلے میں اپنے کلام کا حساب رکھتا ہے اس کا کلام کم ہوتا ہے اور صرف وہی کلام ہوتا ہے‘ جو انتہائی ضروری ہو‘‘۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں کیا تھا ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ساری کی ساری عبرت آمیز باتیں تھیں۔ (جن میں سے کچھ باتیں یہ ہیں ) ’’مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے ‘ جو موت پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ خوش رہتا ہے ۔ مجھے شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے۔ جہنم پر بھی یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ ہنستا ہے مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے‘ جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ نصیب کر لیتا ہے۔ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے اور پھر بھی عمل نہیں کرتا ‘‘۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں ‘ کیونکہ یہ تمام معاملے کی بنیاد ہے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا لازم ہے اور کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آخرت میں تمہارے لئے ذخیرہ ہو گا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پر لازم ہے کہ زیادہ ہنسنے سے بچو ‘کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم پر خاموشی اختیار کرنا لازم ہے ‘ البتہ بھلائی کی بات کا حکم مختلف ہے ‘ کیونکہ یہ چیز تم سے شیطان کو پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہارےلئے مددگار ہو گی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر یہ جہاد کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ ی میری امت کی رہبانیت ہے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھو اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھو ‘ کیونکہ اس طرح تم اپنے پاس موجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کم تر نہیں سمجھو گے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہونا یہ چاہئے کہ وہ چیز تمہیں لوگوں سےپرے کر دے ‘ جسے تم اپنی ذات کے حوالے سے جانتے ہو اور جو کام تم خود کرنے ہوو اس کی وجہ سے لوگوں کے خلاف جذبات نہ رکھو۔ اور تمہارے عیب دار ہونے کے لئے حوالے سے جانتے ہو اور جو کام تم خود کرتے ہو اس کی وجہ سے لوگوں کے خلاف جذبات نہ رکھو۔ اور تمہارے عیب دار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ تم لوگوں کے حوالے سے اس چیز کی شناخت رکھو جس سے تم اپنے حوالے سے نا واقف ہو یا لوگوں کے خلاف اس حوالے سے جذبات رکھو جو تم خود کرتے ہو۔ پھر نبی اکرمﷺ اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا : ’’اے ابو ذر ! تدبیر کی مانند کوئی عقلمند نہیں ہے اور رکنے کی مانند کوئی ورع ( پرہیز ) نہیں ہے اور چھے اخلاق کی مانند کوئی حسب نہیں ہے ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) ابو ادریس خولانی نامی یہ راوی عائذ اللہ بن عبد اللہ ہے یہ نبی اکرمﷺ کی زندگی میں غزوہ حنین کے سال پیدا ہوئے تھے اور سن 80ھ میں ان کا شام میں انتقال ہوا تھا۔ یحیٰی بن یحیٰی غسانی نامی راوی کا تعلق کندہ سے ہے ‘ اور یہ دمشق کا رہنے والا ہے۔ یہ شام کے علم فقہ اور علم قرآت کے ماہرین میں سے ایک ہے انہوں نے ابو ادریس خولانی سے احادیث کا سماع پندرہ سال کی عمر میں کیا تھا ان کی پیدائش راہط کے دن معاویہ بن یزید ک دور خلافت میں 64ھ میں ہوئی تھی۔ سلیمان بن عبد الملک نے انہیں موصل کا قاضی مقرر کیا تھا۔ انہوں نے سعید بن مسیّب اور اہل حجاز سے احادیث کا سماع کیا ہے یہ وہاں قاضی کے منصب پر اس وقت تک فائز رہے ‘ جب تک عمر بن عبد العزیز خلیفہ نہیں بن گئے پھر حکم نے انہیں برقرار رکھا اور اس کے عہد خلافت میں یہ مسلسل اسی عہدے پر فائز رہے ان کی عمر طویل ہوئی تھی یہاں تک کہ ان کا انتقال 133ھ میں دمشق میں ہوا۔

فَقُمْتُ فَرَكَعْتُهُمَا ثُمَّ عُدْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ ← يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً وَإِنَّ تَحِيَّتَهُ رَكْعَتَانِ فَقُمْ فَارْكَعْهُمَا ← دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ وَحْدَهُ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بن يحيى بن يحيى بن الْغَسَّانِيُّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 361

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 362

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ فقَالَ يَا مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حق العباد على الله إذا فعلوا ذلك أن لا يعذبهم" 1. [3: 53]

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے ( سواری پر ) سوار تھا میرے اور آپ کے درمیان صرف پالان کی پچھلی لکڑی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے معا ذ ! میں نے عرض کی :یار سول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتےہو۔ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے ۔ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتےہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھرائیں۔ راوی کہتے ہیں َ: نبی اکرمﷺ کچھ دیر چلتے رہے ‘ پھر اآپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو جب بندے ایسا کر یں ‘ تو پھر بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : بندوں کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں ‘ تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے ۔

يَا مُعَاذُ, قُلْتُ: لَبَّيْكَ ← كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 362

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 363

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "قال الله تباركذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ إِصْلَاحِ أَحْوَالِهِ حَتَّى يُؤَدِّيَهُ ذَلِكَ إِلَى مَحَبَّةِ لِقَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا [363] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "قَالَ الله تبارك وَتَعَالٰی اِذَا اَحَبَّ عَبْدِیْ لِقَائِی اَحْبَبْتُ لِقَاءَہُ فإذا کرہ لقائی کرھت لقاءہ ۔(68:3)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :جب میرا بندہ میری بارگاہ میں حاضر ی کو پسند کرتا ہے ‘ تو میں بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہوں اور جب وہ میری بارگاہ کو نا پسند کرتا ہے تو میں بھی اس کی حاضری کو نا پسند کرتا ہوں‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 363

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 364

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فأحبه قال فيقول جِبْرِیْلُ لِاَھْلِ السَّمَاءِ اَنَّ رَبَّکُمْ اَحَبَّ فُلَانًا فَاَحِبُّوُ فَیُحِبُّہُ اَھْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَیُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا فَمِثْلُ ذلک ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تو جبرائیل سے فرماتا ہے ‘ میں فلاں بندے سے محبت کرتاہوں تم بھی اس سے محبت کرو‘ تو حضرت جبرائیل اہل آسمان سے کہتے ہیں : بیشک تمہارا پروردگار فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تو تم لوگ بھی اس سے محبت کرو ‘ تو آسمان والےاس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ‘ پھر اس شخص ک لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نا پسند کرتا ہے ‘ تو پھر بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘‘۔

وَیُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا فَمِثْلُ ذلک ← فيقول جِبْرِیْلُ لِاَھْلِ السَّمَاءِ اَنَّ رَبَّکُمْ اَحَبَّ فُلَانًا فَاَحِبُّوُ فَیُحِبُّہُ اَھْلُ السَّمَاءِ ← "إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فأحبه ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 364

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 365

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ "إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ الله قد أحب فلانا فأحبوه فيحبه.ذِكْرُ الْإِخْبَارِ عَنْ مَحَبَّةِ أَهْلِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ الْعَبْدَ الَّذِي يُحِبُّهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا [365] أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ "إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ. اَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ اللہُ الْعَبْدَ قَالَ مَالِکٌ لَا اَحْسِبُہٗ اِلَّا قَالَ فِی الْبُغْضِ مِثْلَ ذٰلِکَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تو وہ جبرائیل سے فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو‘ تو حضرت جبرائیل بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں ۔ پھر وہ آسمان والوں کے درمیان اعلان کرتے ہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے ‘ تو تم لوگ بھی اس سے محبت رکھو‘ تو آسمان والے بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں پھر اس شخص کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ ’’اس جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نا پسند کرتا ہے ‘‘ مالک نامی راوی نے یہ کہا ہ میرا گمان ہے کہ روایت میں نا پسند کرنے کے الفاظ ہیں۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امان ابن حبان ‘فرماتے ہیں: یہ روایت سہیل نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ روایت کا قعقاع بن حکیم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔

"إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 365

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 366

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ لِنَفْسِهِ وَيُحِبُّهُ النَّاسُ قَالَ "تِلْكَ عَاجِلُ بشرى المؤمن" 1. [1: 2]

عبد اللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ذر غفاری ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص اپنے لئے عمل کرتا ہے ‘ لیکن لوگ اس سے محبت کرتے ہیں‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ مومن کو جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔

أَبُو ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 366

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr