Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 331

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْهُ عَنْ قَوْلِهِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} [ابراهيم:48] فأين يكون الناس يومئذ فقال: "علىذكر الْإِخْبَارِ بِأَنَّ الْكَافِرَ وَإِنْ كَثُرَتْ أَعْمَالُ الْخَيْرِ مِنْهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَنْفَعْهُ مِنْهَا شَيْءٌ فِي الْعُقْبَى [331] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْهُ عَنْ قَوْلِهِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} [ابراهيم:48] فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ فقَالَ: "عَلَى الصِّرَاطَ ، قَالَتْ قُلْتُ یا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بْنِ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَھَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیئَتِیْ یوم الدین ۔( 73:3)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں ‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے مٰیں دریافت کیا۔ ’’جب زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو بھی تبدیل کر دیا جائے ‘ تو یہ سب ‘ ایک اور زبردست اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جائیں گے‘‘۔ تو اس وقت لوگ کہا ہوں گے؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ پل صراط پر ہوں گے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابن جدعان زمانہ زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا۔ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا‘ تو کیا یہ چیز اسے فائدہ دے گی؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اسے فائدہ نہیں دے گی ‘ کیونکہ اس نے کبھی بھی یہ نہیں کہا : اے میرے پروردگار ! میرے گناہوں کی مغفرت کر دینا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 331

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 332

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ يحدث عنذكر الْقَصْدِ الَّذِي كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي اسْتِعْمَالِهِمُ الْخَيْرَ فِي أَنْسَابِهِمْ [332] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ يُحَدِّثُ عن قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَبِیْ کَانَ یَصِلُ الرَّحِمَ وَکَانَ یَفْعَلُ وَیَفْعَلُ قَالَ اِنَّ اَبَاکَ اَرَادَ اَمْرًا فَاَدْرَکَہُ یَعْنِی الذِّکْرَ قَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ اَسْاَلُکُ عَنْ طَعَامٍ لَا اَدَعُہٗ اِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ لَا تَدَعْ شَیْئًا ضَارَعْتَ النَّصْرَانِیَّۃَ فِیْہِ قَالَ قُلْتُ اِنِّیْ اُرْسِلُ کَلْبِیْ فَیَاْخُذُ صَیْدًا وَلَا اَجِدُ مَا اَذْبَحُ بِہٖ اِلَّا الْمَرْوَۃَ اَوِ الْعَصَا قَالَ اَمِرَّ الدَّمَ بماشئت واذکر اسم اللہ ۔(65:3)

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے وہ یہ عمل کیا کرتے تھے اور وہ عمل کی کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہارے والد ایک چیز کے طلب گار تھے وہ انہیں مل گئی ‘ ( راوی کہتے ہیں ) یعنی شہرت۔ حضرت عدہ ؓ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ایسے کھانے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں جسے میں حرج کے طور پر ترک کر دیتا ہوں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ایسی کسی چیز کو نہ چھوڑو جس میں نصرانیت نے شمولیت اختیار کی ہو حضرت عدی ؓ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میں نے کتے کو چھوڑتا ہوں پھر وہ ایک شکار کو پکڑ لیتا ہے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کے ذریعے میں اسے ذبح کروں ۔ صرف کا نہ یا لاٹھی ملتی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم جس چیز کے ذریعے چاہو خون بہا دو اور اللہ تعالیٰ کا نام لے لو اور پھر شکار کو کھالو )

قُلْتُ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، ← عنذكر الْقَصْدِ الَّذِي كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي اسْتِعْمَالِهِمُ الْخَيْرَ فِي أَنْسَابِهِمْ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 332

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 333

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قِيلَ يا رسول الله أعلمذكر مَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنَ التَّشْمِيرِ فِي الطَّاعَاتِ وَإِنْ جَرَى قَبْلَهَا مِنْهُ مَا يَكْرَهُ اللَّهُ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ [333] أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُلِمَ اَعُلِمَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ قِیْلَ فَمَا یَعْمَلُ الْعَامِلُوْنَ قَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کل میسرلما خلق ۔(30:3)

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت معلوم (یعنی طے ) شدہ ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :جی ہاں ۔ عرض کی گئی : پھر عمل کرنےوالے لوگ عمل کیوں کریں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جائی ہے‘ جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو۔

قِيلَ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 333

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 334

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ فقَالَ "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ" فقَال رَجُلٌ أَلَا نَتَّكِلُ فقَالَ "اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ" ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} 1

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کو کریدنے لگے پھر آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’تم میں سے ہر ایک شخص کا جہنم یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے ‘‘ تو ایک صاحب نے عرض کی : کیا ہم (اسی پر ) تکیہ نہ کرلیں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عمل کرو‘ کونکہ ہر شخص کے لئے (اس کا مخصوص عمل ) آسان کر دیا جاتا ہے ‘‘۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’پس جو شخص دے اور پرہیز گاری اخیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے‘ تو ہم اس کے لئے آسانی کو آسان کر دیں گے اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے ‘ تو ہم اس کے لئے تنگی کو آسان کر دیں گے‘‘۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 334

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 335

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فقَالَ: "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ مِنَ النَّارِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ "اعْمَلُوا كُلٌّ مُيَسَّرٌ" {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} 2.ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ 1 [335] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فقَالَ: "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ مِنَ النَّارِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ "اعْمَلُوا كُلٌّ مُيَسَّرٌ" {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} قَالَ شُعْبَۃُ حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرُبْنُ الْمُعْتَمِرِ فَلَمْ أنکرہ من حدیث سلیمان ۔

حضرت علی ابن ابو طالب ؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ آپ ایک جنازے میں شریک ہوئے۔ آپ نے ایک شاخ لی او اس کےذریعے زمین کریدنے لگے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کا جہنم میں ‘ یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کرلیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگ عمل کرو‘ کیونکہ ہر شخص کے لئے آسانی کر دی جاتی ہے ۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ’’پش جو شخص دے اور پرہیز گاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے‘ تو ہم اس کے لئے آسانی کو آسان کر دیں گے۔اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے اور بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے ‘ تو ہم اس کے لئے تنگی کو آسان کر دیں گے‘‘۔ شعبہ کہتے ہیں: منصور بن معتمر نے مجھے یہ حدیث سنائی ‘ لیکن میں نے سلمان سے منقول ہونے کے حوالے سے اس کا انکار نہیں کیا۔

مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ مِنَ النَّارِ ← "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 335

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 336

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ قَالَ "لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ" قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "كُلُّ عامل ميسر لعمله" 1. [3: 65]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم کس ایسے معاملے کے حوالے سے عمل کرتے ہیں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے یا کسی ایسے معاملے کے حوالے سے کرتے ہیں جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایک ایسی صورت ہے ‘ جو پہلے سے طے ہو چکا ہے‘ تو حضرت جابر ؓ نے دریافت کیا : پھر عمل کیوں کیا جائے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا مخصوص عمل آسان کر دیا جاتا ہے

قُلْتُ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 336

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 337

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ حَدَّثَنَا بن عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ أَمْرِنَا كَأَنَّا نَنْظُرُ إِلَيْهِ أَبِمَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ بِمَا يُسْتَأْنَفُ قَالَ "لَا بَلْ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ" قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا قَالَ "اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ" 1. قَالَ سُرَاقَةُ فَلَا أَكُونُ أَبَدًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا فِي الْعَمَلِ مِنِّي الْآنَ. [3: 30]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت سراقہ بن جعشم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس صورت حال کے بارے میں بتائیے جس کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔ کیا اس کے بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے؟ یا یہ نئے سرے سے کوئی چیز ہوتی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : نہیں ! بلکہ اس بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے۔ انہوں نے عرض کی : پھر کیوں کیا جائے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :تم لوگ عمل کرو‘ کیونکہ ہر شخص کے لئے آسانی کر دی جاتی ہے۔ حضرت سراقہ ؓ نے عرض کی : کیا آج کے بعد میں ہمیشہ عمل کے بارے میں بھر پور کوشش کرتا رہوں گا۔

جَابِرٍ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← بن عُلَيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 337

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 338

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ1 السُّلَمِيُّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ فقَالَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي" قَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ قَالَ "عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ" 2.

حضرت عبد الرحمٰن بن قتادہ سلمی ؓ ‘ جو نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے : ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا پھر اس نے ان کی پشت میں سے مخلوق کو نکالا اور فرمایا : یہ جنت میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ جہنم میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرما یا : تقدیر کے فیصلے کی بنیاد پر ‘‘۔

قَائِلٌ ← هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي" ← "خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عبد الرحمن بن قتادة السلمي وكان من أصحاب النبي ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← الحارث بن مسكين ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ بِالْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 338

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 339

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا كَالْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ وَإِذَا خبث أعلاه خبث أسفله" 1.

حضرت معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’اعمال کا دارومدار خاتمے کے اعتبار سے ہوتا ہے ‘ جس طرح برتن ہوتا ہے ‘جس کی اوپر والا حصہ ٹھیک ہو ‘ تو نیچے والا بھی صاف ہو گا‘ جب اوپر والا حصہ گندہ ہو گا‘ تو نیچے والا بھی گندہ ہو گا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ، ← أَبَا عَبْدِ رَبٍّ ← بن جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 339

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 340

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ" 1. [3: 66]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمائی ہے : ’’اعمال کا دارومدار خاتمے کے اعتبار سے ہوتا ہے ‘‘۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 340

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 341

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ1 عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا يَسْتَعْمِلُهُ قِيلَ كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ" 2.

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ‘ تو اس سے کام لیتا ہے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ اس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 341

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 342

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أبي قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم "إذا أراد الله بعبد خير عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قِيلَ وَمَا عَسَلُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَ يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يدي موته حتى يرضى عنه" 1. [3: 66]

حضرت عمروب حمق خزاعی ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے ‘ تو اس کے مرنے سےپہلے اسے شہد کی دیتا (یعنی اس کی پاکیزہ تعریف کرتا ) ہے ‘‘۔ عرض کی گئی : اس کو مرنے سے پہلے شہد کر دینے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کے لئے مرنے س پہلے نیک عمل کو کھول دیا جاتا ہے ‘یہاں تک کہ وہ شخص اس سے راضی ہو جاتا ہے۔

عَمْرَو بْنَ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيَّ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 342

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr