Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2916

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ قِالَ : فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ؟ قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ: عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنْ شَیْءٍ مُرَادُ ھَا الزَّجْرُ عَنِ الرُّکُوْنِ اِلٰی ذٰلِکَ الشَّیْءِ ، وَقِلَّۃِ الصَّبْرِ عَلٰی ضِدِّہِ ، وَذٰلِکَ اَنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَ وَعَلَا جَعَلَ الْعِلَلَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا وَالْغُمُومِ وَالْاَحْزَانِ سَبَبَ تَکْفِیرِ الْخَطَایَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَاَرَادَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِعْلَامَ اُمَّتِہٖ اَنَّ الْمَرْءَ لَا یَکَادُ یَتَعَرَّی عَنْ مُّقَارَفَۃِ فَا نَھَی اللہُ عَنْہُ فِیْ اَیَّامِہٖ وَلَیَالِیہِ وَاِیجَابِ النَّارِ لَہٗ بِذٰلِکَ اِنْ لَّمْ یُتَفَضَّلَ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ ، فَکَانَّ کُلَّ اِنْسَانِ مُرْتَھَنٌ بِمَا کَسَبَتْ یَدَاہُ ، وَالْعِلَلُ تُکَفَّرُ بَعْضُھَا عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَا اَنَّ مَنْ عُوفِیَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا یَکُوْنُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں اُمّ ملدم نے جکڑ لیا ہے اس نے دریافت کیا: اُمّ ملدم کیا ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ ایک تپش ہے، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا: مجھے، تو یہ صورت حال کبھی لا حق نہیں ہوئی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں صداع کی شکایت ہے اس نے دریافت کیا: صداع کیا ہوتا ہے۔ نبی اکر ﷺ نے فرمایا: یہ ایک رگ ہے، جو آدمی کے سر میں آدمی پر ضرب لگاتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ صورت حال کبھی درپیش نہیں آئی جب وہ شخص چلا گیا، تو نبی اکر م ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: " جو شخص اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی طرف دیکھنا چاہتا ہو و ہ اس شخص کو دیکھ لے"۔ اس میں لفظی طور پر ایک چیز کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس چیز کی طرف مائل ہونے سے منع کیا جائے اور اس کی متضاد چیز پر صبر کی کمی( سے منع کیا جائے) اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں غم اور پریشانیاں رکھی ہیں تا کہ یہ مسلمانوں کے گناہواں کا کفارہ بن جائیں تو نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ آدمی دن اوررات میں بعض اوقات ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور اس وجہ سے اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے وہ اس کے بعد معافی نہیں مانگتا تو ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہوتا ہے اور یہ علتیں اس دنیا میں اس کےبعض گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: جس شخص کو اس دنیا میں عافیت نصیب ہو جائے وہ جہنمی ہوتا ہے۔

وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی ← عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ ← وَمَا الصُّدَاعُ ← فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ← وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ ← حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ ← وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ← دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ فَقَالَ النَّبِیُّ اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2916

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2917

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَدْلَ فِي هَذَا قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ثُمَّ يَصْبِرُ" 1. [65:3]

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص نے کسی چیز کے بارے میں یہ کہا کہ اس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے رسول کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا میں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السّلام پر رحم کرے انہیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔

فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ ← لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ مَا عَدْلَ فِي هَذَا ← عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 2917

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2918

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ1. [48:5]

اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ نیک لوگوں پر مصیبتیں شدت سے آتی ہیں جتنی دوسروں پر نہیں آتی ہیں

عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 2918

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2919

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَسِيبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الصَّالِحِينَ قَدْ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إلا حطت عنه بها خَطِیئَۃٌ ، وَرُفِعَ لَہٗ بِھَا دَرَجَۃٌ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیرٍ وَّاھِمٌ فِیْ قَوْلِہِ : عَبْدُ اللہِ بْنُ نَسِیبٍ ، اِنَّمَا ھُوَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الْحَارِثِ نَسِیبُ بْنُ سِیْرِیْنَ ، فَسَقَطَ عَلَیْہِ الْحَارِثُ فَقَالَ : عَبْدُ اللہِ بْنُ نَسِیبٍ۔

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کو تکلیف لاحق ہوئی آپ ﷺ بے چین ہوتے تھے اور اپنے بستر پر پہلو بدلتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی اگر یہ ہم میں سے کسی نے یہ کیا ہوتا ، تو آپﷺ اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: نیک لوگوں پر شدت لاحق ہوتی ہے مومن شخص کو جو کانٹا بھی لگتا ہے یا اس کے علاوہ جو تکلیف ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) عیسیٰ بن ابو کثیر نے راوی کا نام عبداللہ بن نسیب نقل کرتے ہوئے غلطی کی ہے۔ اصل نام عبداللہ بن حارث ہے اور یہ ابن سیرین کے بھانجے ہیں تو لفظ حارث وہ نقل نہیں کر سکے اور انہوں نے لفظ عبداللہ بن نسیب ذکر کر دیا۔

أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ← أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَسِيبٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Hadith 2919

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2920

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَیُّ النَّاسِ اَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ: الْاَنْبِیَاءُ ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ ، یُبْتَلَی النَّاسُ عَلٰی قَدْرِ دِینِھِمْ ، فَمَنْ ثَخُنَ دِینُہُ ، اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ ، وَمَنْ ضَعُفَ دِینُہُ ضَعُفَ دینُہُ ضَعُفَ بَلَاؤُہُ ، وَاِنَّ الرَّجُلَلِیُصِیْبَہُ الْبَلَاءُ حَتّٰی یَمْشِیَ فِی النَّاسِ مَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ

حضرت سعد رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا گیا:سب سے زیادہ آزمائش کس کو لاحق ہوتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: انبیاء کو پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) لوگوں کو ان کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، جس کا دین مضبوط ہوتا ہے اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے، جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی کمزور ہوتی ہے آدمی آزمائش میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ و ہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا(یعنی آزمائش کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں)

سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ اَیُّ النَّاسِ اَشَدُّ بَلَاءً ← سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2920

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2921

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَمَا يَبْرَحُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خطيئة" 1. [2:1]

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! سب سے زیادہ شدید آزمائش کسے لا حق ہوتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: انبیاء کو پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا

أَبِيهِ أَنَّهُ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2921

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2922

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ قَالَ: حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْبَلَايَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى منتهاه" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی قسم! میں آپ ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے آزمائشیں اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتی ہیں جتنی تیزی سے سیلابی پانی اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔

أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: وَاللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2922

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2923

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ1 بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} فقال: إنا لنجزى بكل ما علمنا هَلَكْنَا إِذَا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "نَعَمْ يُجْزَى بِهِ فِي الدُّنْيَا مِنْ مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ مِمَّا يؤذيه" 2. [66:3]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے یہ آیت تلاوت کی۔ "جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔" اس شخص نے کہا: ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں ان سب کا بدلہ ملے گا؟ اس صورت میں، تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ا س بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی، تو آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں! آدمی کو دنیا میں آزمائش کی شکل میں اس کا بدلہ مل جائے گا وہ آزمائش جو اس کے جسم کو لاحق ہوتی ہے اور اسے تکلیف پہنچاتی ہے۔

لنجزى بكل ما علمنا هَلَكْنَا إِذَا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أن يزيد بن أبي يزيد ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2923

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2924

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عليه من خطيئة" 1. [66:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مومن مرد اور مومن عورت کے جسم کے حوالے سے اور مال اور اولاد کے حوالے سے انہیں مسلسل آزمائشیں پیش آتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 2924

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2925

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ سَقَمٍ وَلَا وَجَعٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةٌ لِذَنْبِهِ حَتَّى الشوكة یُشَاکُھَا وَالنَّکْبَۃُ یُنْکَبُھَا

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا ہے: جو بھی بیماری یا تکلیف مومن کو لاحق ہوتی ہے، تو یہ اس کے گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک جو کانٹا اس لگتا ہے یا جو نوکیلی چیز اس لگتی ہے( تو یہ کفارہ بن جاتے ہیں)۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2925

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2926

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ عن أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} فَقَالَ: "رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْتَ تَمْرَضُ أَلَسْتَ تَنْصَبُ أَلَسْتَ يُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ فَذَاكَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ هَذَا أبوه من الصحابة.

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہہ کے بارےمیں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اس آیت کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) " جو شخص کر برائی کے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا۔" نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو بکر ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں تکلیف لاحق نہیں ہوتی ہے؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں؟ یہ وہ چیز ہے، جس کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو بکر بن زہیر نامی راوی کے والد صحابی ہیں۔

أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عَنْهُ أَنَّهُ ← أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2926

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2927

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بحران قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَھْبِ بْنِ اَبِیْ کَرِیمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحِیمِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ ، عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِر، بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ نَبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا یَمُرَضُ مُؤْمِنٌ وَلَا مُؤْمِنَۃٌ ، وَلَا مُسْلِمٌ وَلَا مَسْلَمَۃٌ اِلَّا حَطَّ اللہُ بِذٰلِکَ خَطَایَاہُ کَمَا تَنْحَطُّ الْوَرَقَۃُ عَنِالشَّجْرَۃِ

اللہ تعالیٰ کا بیماریوں کی وجہ سے مسلمان کے گنا ہوں کو یوں ختم کر دینا جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں

نَبِيٌّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 2927

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr