صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2916
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ قِالَ : فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ؟ قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ: عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنْ شَیْءٍ مُرَادُ ھَا الزَّجْرُ عَنِ الرُّکُوْنِ اِلٰی ذٰلِکَ الشَّیْءِ ، وَقِلَّۃِ الصَّبْرِ عَلٰی ضِدِّہِ ، وَذٰلِکَ اَنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَ وَعَلَا جَعَلَ الْعِلَلَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا وَالْغُمُومِ وَالْاَحْزَانِ سَبَبَ تَکْفِیرِ الْخَطَایَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَاَرَادَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِعْلَامَ اُمَّتِہٖ اَنَّ الْمَرْءَ لَا یَکَادُ یَتَعَرَّی عَنْ مُّقَارَفَۃِ فَا نَھَی اللہُ عَنْہُ فِیْ اَیَّامِہٖ وَلَیَالِیہِ وَاِیجَابِ النَّارِ لَہٗ بِذٰلِکَ اِنْ لَّمْ یُتَفَضَّلَ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ ، فَکَانَّ کُلَّ اِنْسَانِ مُرْتَھَنٌ بِمَا کَسَبَتْ یَدَاہُ ، وَالْعِلَلُ تُکَفَّرُ بَعْضُھَا عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَا اَنَّ مَنْ عُوفِیَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا یَکُوْنُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں اُمّ ملدم نے جکڑ لیا ہے اس نے دریافت کیا: اُمّ ملدم کیا ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ ایک تپش ہے، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا: مجھے، تو یہ صورت حال کبھی لا حق نہیں ہوئی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں صداع کی شکایت ہے اس نے دریافت کیا: صداع کیا ہوتا ہے۔ نبی اکر ﷺ نے فرمایا: یہ ایک رگ ہے، جو آدمی کے سر میں آدمی پر ضرب لگاتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ صورت حال کبھی درپیش نہیں آئی جب وہ شخص چلا گیا، تو نبی اکر م ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: " جو شخص اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی طرف دیکھنا چاہتا ہو و ہ اس شخص کو دیکھ لے"۔ اس میں لفظی طور پر ایک چیز کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس چیز کی طرف مائل ہونے سے منع کیا جائے اور اس کی متضاد چیز پر صبر کی کمی( سے منع کیا جائے) اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں غم اور پریشانیاں رکھی ہیں تا کہ یہ مسلمانوں کے گناہواں کا کفارہ بن جائیں تو نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ آدمی دن اوررات میں بعض اوقات ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور اس وجہ سے اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے وہ اس کے بعد معافی نہیں مانگتا تو ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہوتا ہے اور یہ علتیں اس دنیا میں اس کےبعض گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: جس شخص کو اس دنیا میں عافیت نصیب ہو جائے وہ جہنمی ہوتا ہے۔
وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی ← عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ ← وَمَا الصُّدَاعُ ← فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ← وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ ← حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ ← وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ← دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ فَقَالَ النَّبِیُّ اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Hadith 2916
