صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2904
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِرَائِحَةٍ طَيْبَةٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ " فَقَالَ هَذِهِ مَاشِطَةُ بِنْتِ فِرْعَوْنَ كَانَتْ تَمْشُطُهَا فَوَقَعَ الْمُشْطُ مِنْ يَدَهَا فَقَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ: أَبِي؟ قَالَتْ: رَبِّي وَرَبُّكِ وَرَبُّ أَبِيكِ قَالَتْ: أَقُولُ لَهُ؟ قَالَتْ: قُولِي فَقَالَتْ فَقَالَ لَهَا: أَلَكِ مِنْ رَبِّ غَیْرِی ؟ قَالَتْ؟ رَبِّی وَرَبُّکَ الَّذِیْ فِی السَّمَاءِ ، قَالَتْ :فَاَحْمَی لَھَا نُقْرَۃً مِنْ نُحَاسٍٍ ، وَقَالَتْ لَہٗ: اِنَّ لِی الِلَیْکَ حَاجَۃً ، قَالَ: وَمَا حَاجَتُکِ ؟ قَالَتْ: حَاجَتِی اَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ عِظَامِی وَبَیْنَ عِظَامِ وَلَدِی قَالَ: ذٰلِکَ لَکِ لَمَّا لَکِ عَلَیْنَا مِنَ الْحَقِّ ، فَاَلْقَی وَلَدَھَا فِی النُّقْرَۃِ وَاحِدً فَوَاحِدًا ، وَکَانَ اٰخِرَھُمْ صَبِیُّ فَقَالَ: یَا اُمَّتَاہُ فَاِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس رات مجھے معراج کروائی گئی، تو میرا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے ہوا میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل ! یہ کس چیز کی ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کی خوشبو ہے، ایک مرتبہ بال سنوار رہے تھی اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے نام سے (برکت حاصل کرتے ہوئے میں اسے اٹھاتی ہوں) فرعون کی لڑکی نے کہا: میں ان سے (یعنی اپنے باپ سے) یہ کہوں گی اس عورت نے کہا: تم کہہ دینا اس لڑکی نے (فرعون کو بتا دیا)، تو فرعون نے اس عورت سے دریافت کیا: کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے اس عورت نے جواب دیا: میرا اور تمہارا پروردگار وہ ہے، جو آسمان میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: پھراس عورت کے لیے پگھلا ہوا سیسہ گرم کیا گیا اس عورت نے فرعون سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے فرعون نے دریافت کیا: تمہیں کیا کام ہے؟ اس عورت نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ تم میری اور میری اولاد کی ہڈیوں کو اکٹھا کر دینا۔ فرعون نے کہا: ایسا ہی ہو گا، کیونکہ تمہارا ہم پر کچھ حق بھی ہے۔ پھر فرعون نے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس سیسے میں ڈالنا شروع کیا ان کے آخر میں ایک چھوٹا بچہ آیا، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان آپ حق پر ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ چار بچوں نے کم سنی میں کلام کیا تھا۔ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کے بیٹے نے، وہ بچہ جس کے ساتھ جریج کاواقعہ ہواتھا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم نے ( راوی کہتے ہیں) چوتھے بچے کے بارے میں مجھے یاد نہیں ہے۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 2904
