Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2904

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِرَائِحَةٍ طَيْبَةٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ " فَقَالَ هَذِهِ مَاشِطَةُ بِنْتِ فِرْعَوْنَ كَانَتْ تَمْشُطُهَا فَوَقَعَ الْمُشْطُ مِنْ يَدَهَا فَقَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ: أَبِي؟ قَالَتْ: رَبِّي وَرَبُّكِ وَرَبُّ أَبِيكِ قَالَتْ: أَقُولُ لَهُ؟ قَالَتْ: قُولِي فَقَالَتْ فَقَالَ لَهَا: أَلَكِ مِنْ رَبِّ غَیْرِی ؟ قَالَتْ؟ رَبِّی وَرَبُّکَ الَّذِیْ فِی السَّمَاءِ ، قَالَتْ :فَاَحْمَی لَھَا نُقْرَۃً مِنْ نُحَاسٍٍ ، وَقَالَتْ لَہٗ: اِنَّ لِی الِلَیْکَ حَاجَۃً ، قَالَ: وَمَا حَاجَتُکِ ؟ قَالَتْ: حَاجَتِی اَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ عِظَامِی وَبَیْنَ عِظَامِ وَلَدِی قَالَ: ذٰلِکَ لَکِ لَمَّا لَکِ عَلَیْنَا مِنَ الْحَقِّ ، فَاَلْقَی وَلَدَھَا فِی النُّقْرَۃِ وَاحِدً فَوَاحِدًا ، وَکَانَ اٰخِرَھُمْ صَبِیُّ فَقَالَ: یَا اُمَّتَاہُ فَاِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس رات مجھے معراج کروائی گئی، تو میرا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے ہوا میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل ! یہ کس چیز کی ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کی خوشبو ہے، ایک مرتبہ بال سنوار رہے تھی اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے نام سے (برکت حاصل کرتے ہوئے میں اسے اٹھاتی ہوں) فرعون کی لڑکی نے کہا: میں ان سے (یعنی اپنے باپ سے) یہ کہوں گی اس عورت نے کہا: تم کہہ دینا اس لڑکی نے (فرعون کو بتا دیا)، تو فرعون نے اس عورت سے دریافت کیا: کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے اس عورت نے جواب دیا: میرا اور تمہارا پروردگار وہ ہے، جو آسمان میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: پھراس عورت کے لیے پگھلا ہوا سیسہ گرم کیا گیا اس عورت نے فرعون سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے فرعون نے دریافت کیا: تمہیں کیا کام ہے؟ اس عورت نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ تم میری اور میری اولاد کی ہڈیوں کو اکٹھا کر دینا۔ فرعون نے کہا: ایسا ہی ہو گا، کیونکہ تمہارا ہم پر کچھ حق بھی ہے۔ پھر فرعون نے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس سیسے میں ڈالنا شروع کیا ان کے آخر میں ایک چھوٹا بچہ آیا، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان آپ حق پر ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ چار بچوں نے کم سنی میں کلام کیا تھا۔ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کے بیٹے نے، وہ بچہ جس کے ساتھ جریج کاواقعہ ہواتھا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم نے ( راوی کہتے ہیں) چوتھے بچے کے بارے میں مجھے یاد نہیں ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2904

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2905

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عنه بها خطاياه" 1. [2:1] \

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ اور حضرت ابو سعید خدر ی رضی اللہ عنہہ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: '' مومن بندے کو جو بھی تکلیف، پریشانی، غم تکلیف،غم اور اذیت لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے بھی اسے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2905

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2906

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا غندر عن شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "ما من مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رُفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا بِھَا عَنْہُ خَطِیئَۃً

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یہ بات بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " مسلمان کو جو بھی کانٹا لگے یا اس سے اوپر (جو بھی تکلیف لاحق ہو) ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص کے درجے کو بلند کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس شخص کے گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2906

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2907

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عن مالك عن1 بن أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ" 2. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صعصعة من سادات أهل المدينة.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے آزمائش میں مبتلا کر تا ہے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں) ابن اب صعصعہ نامی راوی محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن صعصعہ ہے۔ جو اہل مدینہ کے سرداروں میں سے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← بن أَبِي صَعْصَعَةَ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2907

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2908

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هُوَ الْبَجَلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الرَّجُلَ لِتَكُونَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلٍ فَلَا يَزَالُ اللَّهُ يَبْتَلِيهِ بِمَا يَكْرَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ إِيَّاهَا" 1 اسْمُ أَبِي زُرْعَةَ كُنْيَتُهُ وَقَدْ قيل اسمه هرم [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خاص مرتبہ ہوتا ہے جہاں تک وہ کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ تعالیٰ اسے مسلسل نا پسندیدہ صورت حال میں مبتلا رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس شخص کو اس مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔"

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هُوَ الْبَجَلِيُّ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2908

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2909

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَاَۃٌ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَبِھَا لَمَمٌ ، فَقَالَتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ادْعُ اللہَ اَنْ یَّشْفِیَنِی ، قَالَ: اِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللہَ لَکِ فَشَفَاکَ ، وَاِنْ شِئْتِ سَاصْبِرِی وَلَا حِسَابَ عَلَیْکِ فَقَالَتْ: بَلْ اَصْبِرُ وَلَا حِسَابَ عَلَیَّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس مرگی کی شکایت تھی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے شفا عطا کرے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کردیتا ہوں وہ تمہیں شفا نصیب کر دے گا اور اگر تم چاہو، تو صبر سے کام لو، تو تم سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ اس نے عرض کی: میں صبر سے کام لیتی ہوں، تاکہ مجھ سے حساب نہ لیا جائے۔

جَاءَتِ امْرَاَۃٌ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ وَبِھَا لَمَمٌ فَقَالَتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 2909

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2910

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ {لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْئًا یُّجْزَبِہٖ) (النساء:123) وَکّلُّ شَیْءٍ عَمِلْنَا جُزِینَا بِہِ ؟ فَقَالَ: غَفَرَ اللہُ لَکَ یَا اَبَا بَکْرٍ ، اَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ اَلَسْتَ تَحْزَنُ ؟ اَلَسْتَ تُصِیْبُکَ اللَّاْوَاءُ ؟ قَالَ: قُلْتٌ : بَلٰی ، قَالَ : ھُوَمَا تُجْزَوْنَ بِہِ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عرض کی: اس آیت کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ " نہ وہ تمہاری آرزووں کے مطابق ہے نہ اہل کتاب کی آرزووں کے مطابق ہے، جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔" (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے عرض کی:) تو کیا ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں اس کا بد لہ ملے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے ، جس کی تم لوگوں کو جزا دی جائے گی۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2910

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2911

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةَ كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ مَهْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ بِالشِّرْكِ وَجَاءَ بِالْإِسْلَامِ فَتَرَكَهَا وَوَلَّى فَجَعَلَ يَلْتَفِتُ خَلْفَهُ وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا حَتَّى أَصَابَ وَجْهُهُ حَائِطًا ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالْأَمْرِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا", ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ ذَنْبَهُ حَتَّى يُوَافِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كأنه عائر" 1. [66:3]

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی ایک فاحشہ عورت کے ساتھ ملاقات ہوئی اس نے اس کے ساتھ خوش فعلیاں شروع کیں، یہاں تک کہ اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا ، تو اس عورت نے کہا: رک جاو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے اور اسلام آگیا ہے اس شخص نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور منہ پھیر کر چلا گیا وہ مڑ کر اپنے پیچھے دیکھتا رہا وہ عورت بھی اس کی طرف دیکھتی رہی، یہاں تک کہ اس شخص کا چہرہ ایک دیوار پر لگ گیا وہ نبی اکر مﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے چہرے سے خوب بہہ رہا تھا اس نے سارے واقعہ کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ایک ایسے بندے ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے، تو اسے کے گناہ کی سزا اس جلدی (یعنی دنیا میں ہی) دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے بارے میں برا ارادہ کرے، تو اسے گناہ کرنے دیتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا پورا بدلہ اسے دے گا یوں جیسے وہ عائر(یعنی گناہ سے پاک) ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2911

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2912

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أخبرنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عَنْهُ خَرَجَ يُرِيدُ الشَّامَ فَلَمَّا دَنَا بَلَغَهُ أَنَّ بِهَا الطَّاعُونَ فَحَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ لَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ وَإِذَا كَانَ بِاَرْضٍ وَّاَنُتُمْ بِھَا ، فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ ، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بِالنَّاسِ ذٰلِکَ الْعَامَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ: اِخْبَارُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْاُمَمِ السَّالِفَۃِ عَلٰی ثَلَاثَۃِ اَضْرُبٍ: ضَرْبٌ قَصَدَ بِہٖ الْمَدْحَ لِاَشْیَاءَ مَعْلُومَۃٍ اَرَادَ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اسْتِعْمَالَ تِلْکَ الْاَشْیَاءِ ، وَالضَّرْبُ الثَّانِیْ قَصَدَ بِہِ الذَّمَّ ، اَرَادَ بِہٖ انْزِ جَارُ ھٰذِہِ عَنِ ارْتِکَابِ مِثْلِھَا ، وَالضَّرْبُ الثَّالِثُ قَصَدَ بِہِ الْوَصْفَ ، اَرَادَ بِہٖ اعْتِبَارَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بِتِلْکَ الْاَوْصَافِ

عبدالہہ بن عامر بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے جب وہ شام کے قریب پہنچے، تو انہیں اطلاع ملی کہ وہاں طاعون کی وباء پھیل چکی ہے ، تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک یہ تکلیف ایک عذاب ہے، جس کے ذریعے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا جب یہ کسی ایسی سر زمین پر واقع ہو جہاں تم موجود نہیں ہو، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ ایسی سر زمین پر واقع ہو جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو۔" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اس سال لوگوں کو لے کر واپس آگئے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا انبیاء کرام اور سابقہ اُمتوں کے بارے میں اطلاع دینا تین نوعیت کا ہے۔پہلی قسم یہ ہے: آپ نے کچھ متعین چیزوں کی تعریف کی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ یہ اُمت ان چیزوں پر عمل کرے۔ دوسری قسم یہ ہے: آپ نے کچھ چیزوں کی مذمت بیان کی ہو اور آپ کی مراد یہ ہو کہ یہ اُمت اس نوعیت کے کاموں کے ارتکاب سے بچ جائے اور تیسرے قسم یہ ہے: آپ نے کوئی صفت بیان کی ہو اور آپ کا ارادہ یہ ہو کہ یہ اُمت اس صفت سے عبرت حاصل کرے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2912

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2913

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ حَتَّى يلقى الله وما عليه من خطيئة" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مومن مرد اور مومن عورت کے جسم، مال اور جان کے حوالے سے آزمائش درپیش رہتی ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2913

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2914

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ: قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ،قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، یُکْثِرُ اَنْ یُحَدِّثَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ، اَنَّ ابْنَۃً لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، حَضَرَتْھَا الْوَفَاۃُ ، فَاَخَذَھَا فَجَعَلَھَا بَیْنَ یَدَیْہِ ،ثُمَّ احْتَضَنَھَا وَھِیَ تُنْزَعُ حَتّٰی خَرَجَ نَفَسُھَا وَھُوَ یَبْکِی ،فَوَضَعَھَا فَصَاحَتْ اُمُّ اَیْمَنَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَبْکِی فَقَالَتْ: اَلَا اَرَی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَبْکِی ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اَبْکِ فَاِنَّمَا ھِیَ رَحْمَۃٌ ، الْمُؤْمِنُ بِکُلِّ خَیْرٍ تَخْرُجُ نَفْسُہُ مِنْ بَیْنَ جَنْبَیْہِ وَھُوَ یَحْمَدُ اللہَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ بکثرت یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے: نبی اکرم ﷺ کی ایک صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا نبی اکرمﷺ نے انہیں لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھ لیا پھر آپ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اس وقت ان پر نزع کا عالم طاری تھا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ اس وقت رو رہے تھے آپ ﷺ نے اس صاحبزادی کو رکھا، تو سیّدہ اُمّ ایمن رضی اللہ عنہا نے بلند آواز میں چیخ ماری۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نہ روؤ۔ انہوں نے عرض کی: کیا میں اللہ کے رسول کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ہوں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرا رونا رحمت ہے مومن کی ہر صورت بہتر ہوتی ہے اس کے دونوں پہلوؤں سے جان نکلتی ہے، تو و ہ اس وقت اللہ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔

کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُکْثِرُ اَنْ ← عِكْرِمَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو کَامِلٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2914

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2915

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَالزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّیحُ تُفِیئُہُ ، وَلَا یَزَالُ الْمُؤْمِنُ یُصِیْبُہُ الْبَلَاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَالشَّجَرَۃِ الْاَرْزِ لَا تَھْتَزُّ حَتّٰی تُسْتَحْصَدَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کی مثال کھیت کی طرح ہے، جسے مسلسل ہوا اِدھر اُدھر جھکاتی رہتی ہے اسی طرح مومن کو بھی ہمیشہ آزمائش لاحق رہتی ہے اور منافق کی مثال اخروٹ کے درخت کی طرح ہے، جو لہراتا نہیں ہے، یہاں تک کہ (ایک ہی مرتبہ) اسے جڑ سے اکھاڑ لیا جاتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2915

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr