Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2892

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا فَقَالَ: "حَسِّ" وَقَالَ: "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, قَالَ: حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر 1، قال: حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ متخوض فيما شاءت نفسه في مال اللہِ وَمَالِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

سیّدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺہمارے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا آپ کو وہ گرم محسوس ہوا تو فرمایا: حس (یعنی''اوئی") آپ نے ارشاد فرمایا: اگر ابن آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: حس(یعنی''اوئی") اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے۔ حس (یعنی''اوئی") (متن حدیث): پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا۔ اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔

حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا ← حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر ← "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, ← "حَسِّ" ← أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا ← خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2892

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ عَنْ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِیْنَ ، فَمَا قَالَ لِی: لَمْ فَعَلْتَ کَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ کَذَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے دس سال نبی اکرمﷺ کی خد مت کی۔آپ نے کبھی" اف" نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: یہ کیوں کیا ہے یہ کیوں نہیں کیا۔

لِی: لَمْ فَعَلْتَ کَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ کَذَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ

Hadith 2893

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2894

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِي: أَلَا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ تَصْنَعْ كذا وكذا؟ 1. [47:5]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں میں نے دس سال نبی اکر مﷺ کی خدمت کی آپ نے کبھی مجھے اف نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ نہیں کیا؟ یہ کیوں نہیں کیا ہے؟

لِي: أَلَا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ تَصْنَعْ كذا وكذا؟ ← لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2894

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2895

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي فَقَالَ: "يَا هَذِهِ اصْبِرِي" فَقَالَتْ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا مُصَابِي فقيل لها بَعْدَ ذٰلِکَ: ھٰذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَتَتْہُ ، فَقَالَتْ: لَمْ اَعْرِفْکَ

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکر مﷺ ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ نبی اکر مﷺ نے فرمایا:اے عورت !صبر سے کام لو۔ اس نے کہا آپ نہیں جانتے مجھے کیا مصیبت لاحق ہوئی ہے، بعد میں اس خاتون کو بتایا گیا وہ اللہ کےنبی تھے۔ وہ خاتون نبی اکر مﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نےعرض کی: میں آپ کو پہچانی نہیں تھی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2895

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2896

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ وَإِنَّ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، وَکَانَ خَیْرًا لَہٗ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہہ ، نبی اکر مﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بندہ مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہیں، اس کا معاملہ ہر حالت میں بہتر ہوتا ہے اگر اسے خوشخبری ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔ اگر اسے پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے اور یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتی ہے یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہیں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2896

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2897

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ بَيَانَ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَجَلَسَ مُغْضَبًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ فَقَالَ: "إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِيُسْأَلُ الْكَلِمَةَ فَمَا يُعْطِيهَا فَيُوضَعُ عَلَيْهِ الْمِنْشَارِ فيشق باثنين ما يصرفه عَنْ دِينِهِ وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَیُسْشَطُ مَادُوْنَ عِظَامِہٖ مِنْ لَّحْمٍ اَوْ عَصَبٍ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ ، وَمَا یَصْرِفُہٗ ذَاکَ عَنْ دِینِہٖ ، وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ ، وَلَیُتِمَّنَّ اللہُ ھٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ اِلَّا اللہَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ

حضرت خباب ارت رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ اس وقت خانہ کعبہ کے ساءے میں چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں مشرکین کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے عرض کی کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ غضب کی حالت میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں سے کلمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تھا توآرے کو اس پر رکھ کر اسے دوحصوں میں چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی اوربعض اوقات کسی شخص پر(لوہے کی بنی ہوئی) کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے گزر کر اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ البتہ تم لوگ جلد بازی کا اظہار کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک ایک سوار صنعاء سے چل کر حضر موت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہوگا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑ یے کا خوف ہو گا۔

خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2897

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2898

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ ، اَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ عَقِیلٍ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اَیُّوْبَ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَبِثَ فِیْ بَلَائِہٖ ثَمَانَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، فَرَفَضَہُ الْقَرِیْبُ وَالْبَعِیْدُ اِلَّا رَجُلَیْنِ مِنْ اِخْوَانِہٖ کَانَ مِنْ اَخَصِّ اِخْوَانِہِ ، کَانَ یَغْدُوَانِ اِلَیْہِ وَیَرُوْحَانِ ، فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ : تَعْلَمُ وَاللہِ لَقَدْ اَذْنَبَ اَیُّوْبُ ذَنْبًا مَا اَذْنَبَہُ اَحَدٌ مِّنْ الْعَالَمِیْنَ قَالَ لَہٗ صَاحِبُہُ : وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ سَنَۃً لَمْیَرْحَمْہُ اللہُ ، فَیَکْشِفُ مَا بِہٖ ، فَلَمَّا رَاحَ اِلَیْہِ لَمْ یَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتّٰی ذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ ، فَقَالَ اَیُّوْبُ : لَا اَدْرِی مَا تَقُوْلُ غَیْرَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمْ : اَنِّیْ کُنْتُ اَمْرُّ عَلَی الرَّجلَیْنِ یَتَنَازَعَانِ فَیَذْکُرَانِ اللہَ ،فَاَرْبِعُ اِلٰی بَیْتِیْ فَاُکَفِّرُ عَنْھُمَا کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُذْکَرَ اللہُ اِلَّا فِیْ حَقٍّ قَالَ : وَکَانَ یَخْرُجُ اِلٰی حَاجَتِہٖ ، فَاِذَا قَضَی حَاجَتَہٗ اَمْسَکَتِ امْرَاَتُہٗ بِیَدِہِ فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ ،اَبْطَاَ عَلَیْھَا ، فَاَوْحَی اللہُ اِلٰی اَیُّوْبَ فِیْ مَکَانِہٖ (ارْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ) فَاسْتَبْطَاَتْہُ فَبَلَغَتْہُ ، فَاَقْبَلَ عَلَیْھَا قَدْ اَذْھِبِ اللہُ مَا بِہٖ مِنْ الْبَلَاءِ فَھُوَ اَحْسَنُ مَاکَانَ ، فَلَمَّا رَاَتْہُ قَالَتْ : اَیْ بَارِکَ اللہُ ، فِیکَ ھَلْ رَاَیْتَ نَبِیَّ اللہِ ھٰذَا الْمُبْتَلٰی ، وَاللہِ عَلٰی ذٰلِکَ مَا رَاَیْتُ اَحَدًا کَانَ اَشْبَہَ بِہٖ مِنْکَ اِذْ کَانَ صَحِیْحًا قَالَ : فَاِنِّیْ اَنَا ھُوَ ،وَکَانَ لَہٗ اَنْدَرَانِ : اَنْدَرُ الققَمْحِ ، وَاَنْدَرُ الشَعِیرِ ، فَبَعَثَ اللہُ سَحَابَتِیْنِ ، فَلَمَّا کَانَتْ اِحْدُھُمَا عَلٰی اَنْدَرِ الْقَمْحِ ، اَفرَغَتْ فِیْہِ الذَّھَبَ حَتّٰی فَاضَتْ ، وَاَفْرَغَتِ الْاُخْرٰی عَلٰی اَنْدَرِ الشَّعِیرِ الْوَرِقَ حَتّٰی فَاضَتْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السّلام اٹھارہ سال تک بیماری میں مبتلا رہے ہر قریبی اور دور کے شخض نے ان سے لا تعلقی اختیار کر لی۔ سوائے دو آدمیوں کے جو ان کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ وہ صبح شام ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہتا تھا تم یہ بات جانتے ہو۔ اللہ کی قسم! ایوب نے کسی ایسے گنا ہ کا ارتکاب کیا ہے، جو تمام جہانوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا ہے وہ بولا : اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس پر رحم نہیں آیا ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو ختم کر دیتا جب وہ شخص حضرت ایوب علیہ السّلام نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم تم کیا کہ رہے ہو، البتہ یہ ہے، اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے، میں دو آدمیوں کے پاس گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے۔ میں اپنے گھر واپس آگیا میں نے ان دونوں کی طرف سے کفارہ دیا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کا ذکر ناحق طور پر کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ قضائے حاجت کے لئے گئے، جب انہوں نے اپنی حاجت مکمل کر لی، تو ان کی بیوی نے ان کے ہاتھ کو پکڑا پھرایک دن وہ اس عورت کے پاس نہیں آئے، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السّلام پر اس جگہ وحی نازل کی: " تم اپنا پاوںمارو تو یہاں سے غسل کرنے اور پینے کے لئےٹھنڈا (پانی پھوٹ پڑے گا)" وہ عورت کچھ تاخیر سے ان کے پاس آئی، جب حضرت ایوب علیہ السلام نے اس کی طرف رخ کیا، تو ان کی بیماری ختم ہوچکی تھی اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت( اور تندرست تھے) جب اس عورت نے انہیں دیکھا تو بولی: اے( صاحب!) اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے، کیا آپ نے بیماری میں مبتلا اللہ تعالی کے نبی ( حضرت ایوب علیہ السلام) کو دیکھا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے آپ سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص نہیں دیکھا، یعنی جب وہ تندرست تھے، حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے، ایک گودام گندم کا تھا اور دوسرا گودام جَو کا تھا، اللہ تعالیٰ نے دو بال بھیجے، ان میں سے گندم والے گودام پر آیا اور اس نے اس پر سونے کی بارش کی یہاں تک کہ وہ ( گودام سونے سے) بھر گیا اور دوسرے بادل نے جَو کے گودام پر چاندی کی بارش کی یہاں تک کہ وہ( گودام چاندی سے ) بھر گیا ( یعنی حضرت ایوب علیہ السلام پھر سے خوب مالدار ہو گئے)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2898

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2899

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا اِلَّا بَلَاءٌ وَفِتْنَۃٌ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "دنیا میں اب صرف آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔"

مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو عَبْدِ رَبٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 2899

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2900

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ1 قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ: "الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ وَيُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بالعبد حتى يدعه يمشي على الأرض وَمَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! سب سے زیادہ آزمائش کا سامنا کن لوگوں کو کرنا پڑتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء کو، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (نیک لوگوں )بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ایسی حالت میں کر دیتی ہے، وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2900

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2901

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ: "الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بلاءه وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" 1. [65:3]

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: انبیاء پھر درجہ بدرجہ(مذہبی لوگ) آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر اس کا دین مضبوط ہو، تو اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو، تو اس کے دین کے حساب سے ہی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور آدمی مسلسل آزمائش کا شکار ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آزمائش انسان کو ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتایعنی اس کے سب گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں)

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2901

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2902

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ" ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ1 فَانْتَهَى إِلَى أَبَى سيف وهو ينفخ في كيره والبيت ممتلىء دُخَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ فَأَمْسَكَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَهُوَ يَكِيدُ2 بِنَفْسِهِ بين يدي رسول الله وَعَيْنَاهُ تَدْمَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا وَإِنَّا بِكَ يا إبراهيم لمحزونون" 3. [66:3]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میرے ہاں گزشتہ رات بچے کی پیدائش ہوئی ہے میں نے اپنے جد امجد کے نام پر اس کا نام ابراہیم رکھا ہے( راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ کے ایک سنار کی بیوی کے سپرد کیا۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے جس وقت آپ ابو سیف کے گھر پہنچے وہ اس وقت اپنی بھٹی میں آگ لگا رہا تھا۔ پور ا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا میں نبی اکرم ﷺ کے آگے تیزی سے چلتا ہوا گیا اور میں نے بتایا: اے بو سیف! نبی اکرم ﷺ تشریف لا رہے ہیں، تو وہ رک گیا پھر نبی اکرم ﷺ نے بچے کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے کہا۔راوی بیان کرتےہیں: اس کےبعد میں نے دیکھا کہ وہ بچہ حضور اکرم ﷺ کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور نبی اکرم ﷺ کی انکھو ں سے آنسو جاری تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آنکھوں سے جاری ہی، دل غمگین ہے اور ہم وہی کہتے ہیں ، جس سے ہمارا پروردگا راضی ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2902

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2903

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عن بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِرِيحٍ طَيْبَةٍ فَقَالَ: "يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ " قَالَ: هَذِهِ رِيحُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا بَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ بِنْتَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى1 مِنْ يَدَهَا فَقَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ: أَبِي؟ قَالَتْ: بَلْ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ قالت: وإن لك ربا غير أبي؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، اللہُ ، قَالَتْ ، فَاُخْبِرُ بِذٰلِکَ اَبِیْ ، قَالَتْ: نَعَمْ ، فَاَخْبَرْتُہُ ، فَاَرْسَلَ اِلَیْھَا فَقَالَ: اَلَکَ رَبٌّ غَیْرِی؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللہُ ، فَاَمَرَ بِنُقْرَۃٍ مِنْ نُحَاسٍ ، فَاُحقمِیَتْ ، فَقَالَتْ لَہٗ: اِنَّ لِی اِلَیْکَ حَاجَۃً قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: فَجَعَلَ یُلْقِی وَلَدَھَا وَاحَدً وَاحِدًا ، حَتّٰی انْتَھَوْا اِلٰی وَلَدٍ لََا رَضِیْعٍ ، فَقَالَ: یَا اُمَّتَاہُ اثْبُتِی فَاِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: معراج کی رات نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سےہوا، تو آپ نے دریافت کیا: اے جبرائیل!یہ خوشبو کس چیز کی ہے ، تو انہوں نے بتایا: یہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی اسی دوران اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے(کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) بسم اللہ کہا فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیا میرے والد: ا س عورت نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیامیرے باپ کے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں اللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میں یہ بات اپنے والد کو بتا دوں۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتا دی فرعون نے اس عورت کو بلوا یا او ر اس سے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے، تو فرعون نے سیسہ پگھلانے کا حکم دیا اسے پگھلادیا گیا اس عورت نے اس سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے اس نے جواب دیا: ٹھیک ہے۔نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: پھر وہ اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے(آگ میں) ڈالتا رہا یہاں تک کے اس کے دودھ پیتے بچے کی باری آئی، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان!آپ ثابت قد م رہیے گا آپ حق پر ہیں۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ بِوَاسِطَ

Hadith 2903

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr