صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2892
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا فَقَالَ: "حَسِّ" وَقَالَ: "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, قَالَ: حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر 1، قال: حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ متخوض فيما شاءت نفسه في مال اللہِ وَمَالِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
سیّدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺہمارے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا آپ کو وہ گرم محسوس ہوا تو فرمایا: حس (یعنی''اوئی") آپ نے ارشاد فرمایا: اگر ابن آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: حس(یعنی''اوئی") اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے۔ حس (یعنی''اوئی") (متن حدیث): پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا۔ اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔
حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا ← حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر ← "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, ← "حَسِّ" ← أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا ← خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 2892
